محمد زبیر 14 دن کی عدالتی تحویل میں

زیبر کے خلاف ہندو شیر سینا کے ضلع صدر بھگوان شرن کی شکایت پر گذشتہ یکم جون کو مقدمہ درج کیا گیا تھا۔اس میں ان پر تین ہندوسنتوں(یتی نرسنگھانند سروستی، بجرنگ منی اور آنند سوروپ) کو 'نفرت پھیلانے والا' کہنے کا الزام ہے۔

ہاتھرس: اترپردیش کے ضلع ہاتھرس کی ایک عدالت نے جمعرات کو فیکٹ فائنڈنگ ویب پورٹل’آلٹ نیوز’ کے کو۔فاونڈر محمد زیبر کو 14دنوں کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلانے اور دوسروں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے و دیگر مجرمانہ دفعات میں درج مقدمے میں زیبر کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ ہاتھر کے چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ(سی جے ایم) کی عدالت نے حال ہی میں زبیر کے خلاف وارنٹ جاری کیا تھا۔

بتا دیں کہ اترپردیش حکومت نے سیتا پور، لکھیم پور کھیری، غازی آباد، مظفر نگر اور ہاتھرس میں زبیر کے خلاف درج چھ معاملوں کی جانچ کے لئے آئی جی ڈاکٹر پریتندر سنگھ کی قیادت میں دو رکنی خصوصی جانچ ٹیم(ایس آئی ٹی)کی تشکیل کی ہے۔

اس سے پہلے سپریم کورٹ نے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے الزام میں سیتا پور ضلع میں زبیرکے خلاف درج ایک معاملے میں اس کی عبوری ضمانت اگلے حکم تک بڑھا دیا تھا۔

 زیبر کے خلاف ہندو شیر سینا کے ضلع صدر بھگوان شرن کی شکایت پر گذشتہ یکم جون کو مقدمہ درج کیا گیا تھا۔اس میں ان پر تین ہندوسنتوں(یتی نرسنگھانند سروستی، بجرنگ منی اور آنند سوروپ) کو ‘نفرت پھیلانے والا’ کہنے کا الزام ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button