مخلوط تعلیم – ایک جائزہ

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

یہ بات بہت سنجیدگی سے سوچنے کی ہے کہ تعلیم کا مخلوط نظام کس حد تک قابل قبول ہے ؟ مخلوط تعلیم کے مسئلہ میں دو پہلو قابل توجہ ہیں ، اول یہ کہ کیا لڑکوں اور لڑکیوں کا نصابِ تعلیم ایک ہی ہونا چاہئے یا جُدا گانہ ؟ دوسرے لڑکوں اور لڑکیوں کی تعلیم ایک ساتھ ہونی چاہئے ، یا الگ الگ ؟ جہاں تک نصاب تعلیم کی بات ہے تو کچھ اُمور ضرور ایسے ہیں جو دونوں کے درمیان مشترک ہیں

ان کا نصاب لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے یکساں ہو سکتا ہے ، جیسے زبان و ادب ، تاریخ ، جنرل نالج ، جغرافیہ ، ریاضی ، جنرل سائنس اور سوشل سائنس وغیرہ ؛ لیکن کچھ مضامین اور تعلیمی میدان ایسے ضرور ہیں جن میں لڑکے اور لڑکیوں میں فرق کرنا ہوگا ، مثلاً : انجینئرنگ کے بہت سے شعبے ، عسکری تعلیم ، ٹیکنیکل تعلیم کی یقیناً لڑکیوں کو ضرورت نہیں ، میڈیکل تعلیم میں ایک اچھا خاصا حصہ خاص خواتین سے متعلق ہے اور اس لئے زمانۂ قدیم ہی سے ’’ امراض نسواں ‘‘ طب کا مستقل موضوع رہا ہے

یہ لڑکیوں کے لئے نہایت اہم ہے ، لڑکیوں کی تعلیم میں اُمورِ خانہ داری کی تربیت ضرور شامل ہونی چاہئے ، سلائی ، کڑھائی ، پکوان ، بچوں کی پرورش کے اُصول اور اس طرح کے مضامین ضرور شریک ہونے چاہئیں ، اس سے نہ صرف گھریلو زندگی میں لڑکیاں زیادہ بہتر رول ادا کر سکتی ہیں ؛ بلکہ ازدواجی زندگی کی خوشگواری ، خاندان میں ہر دلعزیزی اور مشکل اور غیر متوقع حالات میں آپ اپنی کفالت کے لئے یہ آج بھی بہترین وسائل ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کے لئے ان کے حسبِ حال آداب معاشرت کی تعلیم نہایت اہم ہے ؛ کیوں کہ ایک لڑکی اگر بہتر بیوی اور بہتر ماں نہ بن سکے تو سماج کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ، اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں سے علاحدہ خواتین کی تعلیم و تذکیر کے لئے ہفتہ میں ایک دن مستقل طور پر متعین فرما دیا تھا، جس میں خواتین جمع ہوتیں اور آپؐ ان کو ان کے حسبِ حال نصیحتیں فرماتے اور ہدایات دیتے ،( بخاری : کتاب العلم، حدیث نمبر : ۱۰۱)

آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ خواتین کی دل بہلائی کے لئے بہترین مشغلہ دھاگے کاتنا ہے ؛

(کنزل العمال، حدیث نمبر: ۴۰۶۱۱، باب اللھو واللعب والغنی)

  کیوں کہ اس زمانہ میں دھاگے کاتنا ایک گھریلو صنعت تھی اور آج سے پچاس سال پہلے تک بھی بہت سے گھرانوں کا اسی پر گذران تھا ۔ غور کیجئے کہ جب قدرت نے مردوں اور عورتوں میں تخلیقی اعتبار سے فرق رکھا ہے ، اعضاء کی ساخت میں فرق ، رنگ و روپ میں فرق ، جسمانی قُویٰ میں فرق ، مزاج و مذاق میں فرق اور پسند و ناپسند میں فرق ، پھر قدرتی طور پر افزائش نسل اور اولاد کی تربیت میں دونوں کے کردار مختلف ، تو کیوں کر ممکن ہے۔

سماج میں دونوں کے فرائض اور ذمہ داریاں الگ الگ نہ ہوں اور جب ذمہ داریاں علاحدہ ہیں ، تو ضرور ہے کہ اسی نسبت سے دونوں کے تعلیمی اور تربیتی نصاب اور مضامین میں بھی ایک دوسرے سے مختلف ہوں ، اگر اس فرق کو ملحوظ نہ رکھا جائے تو یہ کسی بھی معاشرہ کے لئے نہایت ہی مہلک اور مضرت رساں ہے، علامہ اقبالؒ نے خوب کہا ہے :

جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن

کہتے ہیں اُسی علم کو اربابِ نظر موت

بیگانہ رہے دِیں سے اگر مدرسۂ زن

ہے عشق و محبت کے لئے عِلم و ہنر موت

خواتین کو بھی چاہئے کہ وہ تعلیم کے لئے وہ میدان تلاش کریں ، جو سماج میں ان کے کردار سے مطابقت رکھتا ہے اور تعلیم کے وہ شعبے جو ان کے لئے موزوں نہیں ، ان میں ان کا داخل ہونا بے سود ہے اور آئندہ اس شعبہ میں ملازمت سماج کے لئے اور خود ان کے لئے مہلک اور نقصان دہ ، اس لئے قرآن مجید نے ایک اُصول بتا دیا ہے کہ مرد اور عورت اپنے اپنے دائرہ میں رہتے ہوئے جد وجہد کریں۔

اپنے دائرہ سے ہٹ کر دوسرے کے دائرہ عمل میں قدم رکھنے کی کوشش نہ کریں ، ارشاد ہے:

وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلُ اﷲِ بِہٖ بَعْضَکُمْ عَلٰیْ بَعْضٍ، لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِمَّا اکْتَسَبُوْا وَلِلنِّسَاءِ نَصِیْبٌ مِمَّا اکْتَسَبْنَ وَاسْئَلُوْا اﷲَ مِنْ فَضْلِہٖ ، اِنَّ اﷲَ کَانَ بِکُلِّ شَیْیٍٔ عَلِیْمًا ۔ (النساء:۳۲)

اللہ تعالیٰ نے تم میں سے ایک کو دوسرے پر جو فضیلت عطا کی ہے ، اس کے بارے میں رشک میں مبتلا نہ ہو ، مردوں کے لئے ان کے اعمال میں حصہ ہے اور عورتوں کے لئے ان کے اعمال میں اور اللہ تعالیٰ سے اسی کا فضل و کرم مانگتے رہو ، بے شک اللہ ہر چیز سے واقف ہیں۔ یہ آیت در اصل معاشرتی زندگی کے آداب کے سلسلے میں آب زر سے لکھے جانے کے لائق ہے کہ قدرت نے سماج کو اختلاف اور رنگا رنگی پر پیدا کیا ہے۔

کسی بات میں مردوں کو فوقیت حاصل ہے تو کسی معاملہ میں وہ عورتوں کا محتاج اور دست نگر ہے ، قدرت نے جس کو جو کام سپرد کیا ہے ، اس کے لئے وہی موزوں ہے ؛ کیوں کہ خالق سے بڑھ کر کوئی مخلوق کی فطرت و صلاحیت اور ضرورت سے واقف نہیں ہو سکتا ، یہ مغرب کی خود غرضی اور بے رحمی ہے کہ اس نے عورتوں سے ’’حق مادری ‘‘ بھی وصول کیا اور ’’فرائض پدری‘‘ میں بھی اس کو شریک ہونے پر مجبور کیا اور چوںکہ مرد اپنی ذمہ داری کا بوجھ بھی اس کے کاندھوں پر رکھنا چاہتا تھا۔

اس لئے اس نے ایسا نظامِ تعلیم وضع کیا ، جس میں عورتوں کو مرد بنانے کی صلاحیت ہو، پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے خوب ارشاد فرمایا ، کہ تین افراد وہ ہیں جو جنت میں کبھی داخل نہ ہوں  گے ، ان تین میں سے ایک کا ذِکر کرتے ہوئے فرمایا : 

اَلرَّجُلَۃُ مِنَ النِّسَاءِ ( سنن ابی داؤد : ۶۱۰۱)

 یعنی ’’عورتوں میں سے مرد ‘‘ دریافت کیا گیا ، عورتوں میںمرد سے کون لوگ مراد ہیں ؟ فرمایا : وہ عورتیں جو مردوں کی مماثلت اختیار کریں:

 والمتشبہات من النساء بالرجال (بخاری، حدیث نمبر : ۵۸۸۵)

غالباً جو عورتیں تعلیم وتربیت اور پھر اس کے بعد عملی زندگی میں مردوں کی صف میں کھڑا ہونا چاہتی ہیں ، وہ اسی حدیث کا مصداق ہیں ۔مخلوط تعلیم کا دوسرا پہلو لڑکوں اور لڑکیوں کی مشترک درس گاہ اور مشترک تعلیم ہے ، ابتدائی عمر جس میں صنفی جذبات سے بچے عاری ہوتے ہیں اور ان میں ایسے احساسات نہیں پیدا ہوتے ، مخلوط تعلیم کی گنجائش ہے، آٹھ ، نو سال کی عمر اور پرائمری کی سطح تک مشترک تعلیمی نظام رکھا جاسکتا ہے۔

اسی لئے اسلام نے بے شعور بچوں کو غیر محرم عورتوں کے پاس آنے جانے کی اجازت دی ہے ، اور قرآن مجید نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے ؛ (النور: ۵۸) لیکن جب بچوں میں جنسی شعور بیدار ہونے لگے اور ایک حد تک صنفی جذبات کی پہچان پیدا ہو جائے، توایک ساتھ ان کی تعلیم آگ اور بارود کو ایک جگہ جمع کرنے کے مترادف ہے۔

اسلام کا نقطۂ نظر اس سلسلہ میں بالکل واضح اور بے غبار ہے کہ ایک مرد کا غیر محرم عورت پر نظر ڈالنا کسی طرح روا نہیں، حج کے ایام ہیں، فضل بن عباس رضی اﷲ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اونٹنی پر سوار ہیں ، قبیلۂ بنو خثعم کی ایک لڑکی ایک شرعی مسئلہ دریافت کرنے کے لئے حضرت کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور فضل بن عباسؓ کی نظر ایک لمحہ اس لڑکی پر جم جاتی ہے۔

آپؐ نے فوراً حضرت فضل بن عباس رضی اﷲ عنہما کا چہرہ موڑ دیا ، جب حج کے پاکیزہ ماحول اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے تربیت یافتہ صحابہؓ و صحابیاتؓ کے بارے میں بھی آپؐ نے یہ احتیاط برتی تو اوروں کا کیا ذکر ؟ چنانچہ آپؐ نے فرمایا کہ نگاہ شیطان کے تیروں میں سے ایک تیر ہے؛کیوں کہ اصل میں ساری بُرائیوں کی جڑ یہی بدنگاہی ہے۔

نگاہ ہی سے سارے فتنے جاگتے ہیں، جب بار بار نگاہیں چار ہوتی ہیں ، تو جرأت بڑھتی ہے ، زبان کو گفتگو کا حوصلہ ہوتا ہے۔ پھر دست ہوس آگے بڑھتا ہے، ملاقاتیں ہوتی ہیں اور آخر شرم و حیا کے سارے ہی حجابات اُٹھ جاتے ہیں ، اس لئے نظر کی فتنہ سامانی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ، بالخصوص ایسی صورت میں کہ چست اور دیدہ زیب یونیفارم ہوں اور نہ صرف چہرہ و رخسار ؛ بلکہ بے لباس ٹانگیں بھی نگاہ ہوس کو دعوت نظارہ دیتی ہوں۔

مذہبی اور اخلاقی نقطۂ نظر سے تو شاید ہی کوئی سلیم الفطرت انسان اس بات سے انکار کر سکے کہ یہ اختلاط اخلاق کے لئے تباہ کن ہے ؛ لیکن علاوہ اس کے تعلیمی اور انتظامی لحاظ سے بھی اس کی مضرتیں دن و رات سامنے آتی ہیں ، چھیڑ چھاڑ اور فقرہ بازی اب ایسی درس گاہوں کے معمولات میں ہیں ، اس سے درس گاہ کا ماحول بے وقار اور غیر مامون ہو جاتا ہے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ ’’ طلبۂ عزیز ‘‘ کے ساتھ ساتھ بعض اوقات ’’ اساتذۂ گرامی قدر ‘‘ بھی اس حمام میں اُتر جاتے ہیں اور پھر پولیس کیس بھی بنتا ہے ، اغواء کے واقعات بھی پیش آتے ہیں ، وقتی محبت میں فرار اور بعد میں ندامت کی خبریں اخبارات کی زینت بنتی ہیں اور کتنی ہی ناگفتنی پیش آتی ہے ۔یہ مخلوط تعلیم کا انتظامی پہلو ہے۔

اب خالص تعلیمی نقطۂ نظر سے دیکھئے ، تعلیم در اصل دوباتوں کا نام ہے، جس مضمون کا درس ہو رہا ہے ، اسے پوری طرح سمجھنا اور ذہن کی گرفت میں لانا ، دوسرے اس مضمون کو اپنے حافظہ اور یاد داشت میں محفوظ رکھنا ، ان دونوں باتوں کے لئے ضروری ہے کہ طالب علم پوری طرح اپنے مقصد میں منہمک اور یکسو ہو اور یکسوئی کے لئے دوباتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

ایک یہ کہ جو پڑھ رہا ہے یا سُن رہا ہے اس کی طرف پوری توجہ ، دوسرے ہر طرح کے خوف و خطر اور اندیشوں سے اس کے ذہن و دماغ کا محفوظ اور مامون ہونا ، اب اول تو بہ تقاضۂ سن و سال یہ مخلوط بیٹھک لڑکوں اور لڑکیوں کی توجہ کو منتشر کرتی رہتی ہے ، دوسرے شریف لڑکیاں اوباش لڑکوں کی طرف سے ایک طرح کے اندیشہ سے دو چار رہتی ہیں، اور سہمی سہمی درس گاہ میں اپنا وقت گذارتی ہیں ، ایسے ماحول میں تعلیم و تعلم کا کام پوری یکسوئی، توجہ اور اِنہماک کے ساتھ کیوں کر انجام پاسکتا ہے ؟؟ کیوں کہ :

رُسوا کیا اس دَور کو جلوت کی ہوس نے

روشن ہے ہوس آئینۂ دل ہے مکدر

بڑھ جاتا ہے جب ذوقِ نظر اپنی حدوں سے

ہوجاتے ہیں افکار پراگندہ و ابتر

میرا خیال ہے کہ اگر کوئی ادارہ یا شخص ان طلبہ و طالبات کا سروے کرے جو جداگانہ نظام میں تعلیم حاصل کرتے ہیں اور ان کا جو مخلوط درس گاہوں میں زیر تعلیم رہے ہیں، تو غالباً تعلیمی اعتبار سے وہ لڑکے اور لڑکیاں زیادہ کامیاب ہوں گے جنھوں نے پہلی قسم کی درس گاہوں میں تعلیم پائی ہے۔

اگر ہم نے موجودہ حالات میں جب کہ ٹی وی نے معاشرہ کو بگاڑنے کے لئے صور قیامت پھونک رکھا ہے اور بیرونی کمپنیوں کی آمد نے رہی سہی کسر پوری کر دی ہے اور ایک زبر دست یلغار ہے جو مشرقی تہذیب و ثقافت پر پوری قوت سے جاری و ساری ہے، جداگانہ نظامِ تعلیم نہ اختیار کریں، لڑکیو ںکے لئے علیحدہ اسکول کا صحیح بندو بست اور اعلیٰ فنی تعلیم کے ادارے قائم نہ کریں اور ان کے حسب ِحال نصاب نہ مقرر کریں، تو ہمارے لئے اپنی سماجی اورمذہبی قدروں کا تحفظ ممکن نہ ہوگا اور مغرب کی غیرسنجیدہ نقالی ہمیں کہیں کا نہ رکھے گی ۔

   ٭٭٭

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button