مدھیہ پردیش میں بجرنگ دل کارکنوں کی غنڈہ گردی

سوشل میڈیا پر یہ الزامات عاید کئے جانے کے بعدکہ انتظامیہ نے8طلبہ کا مذہب تبدیل کرایاہے‘ ضلع ودیشہ کے گنج بسودا ٹاؤن میں سینٹ جوزف اسکول کونشانہ بنایاگیا۔

ودیشہ(مدھیہ پردیش)۔: دائیں بازوکے گروپ بجرنگ دل کے کارکن اورسینکڑوں مقامی افراد کوآج مدھیہ پردیش کے ایک اسکول میں زبردستی گھستے ہوئے اورعمارت پر سنگباری کرتے ہوئے دیکھاگیا۔ انہوں نے عیسائی مشنری ادارہ کی جانب سے طلبہ کے مذہب کی تبدیلی کاالزام عاید کیا۔ تشدد کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب 12ویں جماعت کے طلبہ ریاضی کا امتحان دے رہے تھے۔

سوشل میڈیا پر یہ الزامات عاید کئے جانے کے بعدکہ انتظامیہ نے8طلبہ کا مذہب تبدیل کرایاہے‘ ضلع ودیشہ کے گنج بسودا ٹاؤن میں سینٹ جوزف اسکول کونشانہ بنایاگیا۔

سیل فون فوٹیج سے ظاہر ہواکہ عمارت کے باہرایک بڑا ہجوم جمع ہے جواسکول انتظامیہ کے خلاف نعرہ بازی کررہاہے۔ پولیس کوہجوم کومنتشر کرنے کی کوشش کرتے دیکھاگیا۔

طلبہ اوروہاں موجود اسکول کا عملہ بال بال بچا۔ ایک طالب علم نے کھڑکیوں پرہجوم کی سنگباری کی دہشت کی یاد تازہ کرتے ہوئے کہاکہ ہماری توجہ بٹ گئی تھی۔

ہم چاہتے ہیں امتحان دوبارہ منعقد کیاجائے۔ اسکول کے منیجر برادرانٹونی نے دعویٰ کیاہے کہ انہیں مقامی میڈیاکے ذریعہ ایک دن پہلے ہی حملہ کے بارے میں اطلاع مل گئی تھی جس کے بارے میں انہوں نے پولیس اورریاستی انتظامیہ کومطلع کردیاتھا۔

انہوں نے پولیس پر مناسب سکیورٹی انتظامات نہ کرنے کاالزام عائد کیا۔ انہوں نے مذہب تبدیل کرانے کے دعوؤں کوبھی مسترد کردیا اورکہاکہ شکایت میں دیئے گئے نام کسی بھی طالب علم کے نام سے میل نہیں کھاتے۔ مقامی بجرنگ دل یونٹ کے لیڈر نتیش اگروال نے مبینہ تبدیلی مذہب کی جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہاکہ اگر اسکول ملوث پایاجائے تو اسے منہدم کردیاجاناچاہئے۔

ذریعہ
ایجنسیز

تبصرہ کریں

Back to top button