مرکزی وزیر کے لڑکے آشیش مشرا کی ضمانت منسوخ

سپریم کورٹ نے مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجئے مشرا کے بیٹے اور لکھیم پور کھیری تشدد معاملہ کے اہم ملزم آشیش مشرا کو الہ آباد ہائی کورٹ سے ملی ضمانت پیر کو منسوخ کرتے ہوئے اسے (آشیش کو) ایک ہفتہ کے اندر خودسپردگی کرنے کا حکم دیا۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجئے مشرا کے بیٹے اور لکھیم پور کھیری تشدد معاملہ کے اہم ملزم آشیش مشرا کو الہ آباد ہائی کورٹ سے ملی ضمانت پیر کو منسوخ کرتے ہوئے اسے (آشیش کو) ایک ہفتہ کے اندر خودسپردگی کرنے کا حکم دیا۔

چیف جسٹس این وی رمن،جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس ہیما کوہلی کی بنچ نے آشیش کی ضمانت منسوخ کرنے اور اسے خودسپردگی کرنے کا حکم دینے کے ساتھ ہی الہ آباد ہائی کورٹ سے کہا کہ وہ نئے سرے سے غورکرے کہ اسے ضمانت دی جانی چاہئے یا نہیں۔

بنچ نے ضمانت منسوخ کرنے کا حکم پاس کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے کئی غیر متعلقہ حقائق پر غور کیا اور جلدبازی میں اپنا فیصلہ کیا۔متاثرین کو بادی النظر میں ملزم کی ضمانت عرضی کی مخالفت کرنے کے لئے مناسب وقت دئے بغیر ہی اپنا حکم پاس کردیا۔بنچ نے متعلقہ فریقوں کی دلیلیں سننے کے بعد 4 اپریل کو اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔

واضح رہے کہ اترپردیش کے لکھیم پور کھیری میں 3 اکتوبر کو اترپردیش کے ڈپٹی چیف منسٹر کیشو پرساد موریہ کے ایک پروگرام کی مخالفت کرنے کے دوران تشدد کے واقعات پیش آئے تھے۔اس تشدد میں مرکز کے اس وقت کے تین زرعی قوانین (اب منسوخ کردیئے گئے) کے خلاف لمبے وقت سے تحریک چلارہے 4 کسانوں سمیت 8 لوگوں کی موت ہوگئی تھی۔

معاملہ کے اہم ملزم آشیش کو الہ آباد ہائی کورٹ نے 10 فروری کو ضمانت دی تھی۔پولیس نے آشیش کو 9 اکتوبر کو گرفتارکیا تھا۔متوفی کسانوں کے لواحقین اور دیگر نے ضمانت کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ ان درخواستوں کی سماعت کے دوران جن میں ضمانت کی منسوخی کی درخواست کی گئی تھی‘ بنچ نے ضمانت کی ”بنیاد“پر کئی سوالات اٹھائے تھے۔

سپریم کورٹ کی طرف سے قائم کردہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے اتر پردیش حکومت سے آشیش کی ضمانت کے خلاف اپیل کرنے کی سفارش کی تھی لیکن حکومت نے اسے نظر انداز کر دیا۔ ایس آئی ٹی نے 30 مارچ کو سپریم کورٹ کو بتایا کہ اس نے ریاستی حکومت سے اہم ملزم کی ضمانت کے خلاف اپیل دائر کرنے کی سفارش کی ہے۔

اصل ملزم آشیش کی ضمانت کی مخالفت کرنے والے درخواست گزاروں نے گواہوں کو ڈرانے دھمکانے اور شواہد سے چھیڑ چھاڑ کے اندیشے بھی ظاہر کئے تھے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ ایس آئی ٹی نے گواہوں کو دھمکیاں ملنے کے خدشہ کے پیش نظر آشیش کی ضمانت کے خلاف اپیل کی سفارش کی تھی لیکن ریاستی حکومت نے تمام گواہوں کو پولیس تحفظ فراہم کرنے کا دعویٰ کرنے والے ایس آئی ٹی کے نظریہ سے اتفاق نہیں کیا۔

تبصرہ کریں

Back to top button