مزائل واقعہ کی مکمل تحقیقات ضروری۔ چین کا مشورہ

چین نے پیر کے دن کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کو بعجلت ممکنہ بات چیت کرنی چاہئے۔ انہیں ہندوستان سے ایک مزائل کی حالیہ ”حادثاتی فائرنگ“ کی مکمل تحقیقات شروع کرنی چاہئے۔ یہ مزائل پاکستانی صوبہ پنجاب میں گرا تھا۔

بیجنگ: چین نے پیر کے دن کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کو بعجلت ممکنہ بات چیت کرنی چاہئے۔ انہیں ہندوستان سے ایک مزائل کی حالیہ ”حادثاتی فائرنگ“ کی مکمل تحقیقات شروع کرنی چاہئے۔ یہ مزائل پاکستانی صوبہ پنجاب میں گرا تھا۔

چینی وزارت ِ خارجہ کے ترجمان نے بیجنگ میں میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستان اور ہندوستان دونوں جنوبی ایشیا کے اہم ممالک ہیں اور ان پر علاقائی سلامتی و استحکام کی مشترکہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

ایک پاکستانی صحافی نے ہندوستانی مزائل کی ”حادثاتی فائرنگ“ پر چین کا ردعمل جاننا چاہا تو اسے جواب ملا کہ ہمارے پاس متعلقہ جانکاری نہیں ہے۔

چینی وزارت ِ خارجہ کے ترجمان نے کہاکہ ہمارا دونوں ممالک سے یہ کہنا ہے کہ وہ بعجلت ممکنہ بات چیت کریں اور اس واقعہ کی مکمل تحقیقات کریں۔

جمعہ کے دن حکومت ِ ہند نے کہا تھا کہ اس کا ایک مزائل حادثاتی طورپر فائر ہوکر پاکستان کے اندر جاگرا جس پر اسے افسوس ہے۔ مرمت کے دوران فنی خرابی کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا۔

ہندوستان کی وزارت ِ دفاع نے کہاکہ حکومت نے اس واقعہ کا سخت نوٹ لیا ہے۔ کورٹ آف انکوائری کا حکم دیا جاچکا ہے۔

ہندوستان سے داغاگیا تیز رفتار مزائل پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوکر صوبہ ئ پنجاب کے ضلع خانیوال کے علاقہ میاں چنو کے قریب گرا تھا۔ ہفتہ کے دن پاکستانی دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ وہ ”حادثاتی فائرنگ“ پر ہندوستان کی ”سادہ وضاحت“ سے مطمئن نہیں ہے۔

اس نے مشترکہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا تاکہ حقائق سامنے آئیں۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے ہندوستانی ناظم الامور کو طلب کرکے پاکستانی فضائی حدود کی ”بلااشتعال“ خلاف ورزی پر سخت احتجاج درج کرایا تھا۔

اس نے کہا تھا کہ ایسے ”غیرذمہ دارانہ واقعات“ سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان ایر سیفٹی کا خیال نہیں رکھتا۔ پاکستان نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اس واقعہ کا سخت نوٹ لے۔

پاکستانی مشیر قومی سلامتی معید یوسف نے کہا تھا کہ اس واقعہ نے نیوکلیر اسلحہ کی حفاظت کے معاملہ میں ہندوستان کی اہلیت کو مشتبہ کردیا ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button