مسجد الاقصیٰ میں یہودی مسلمانوں کے بھیس میں داخل ہورہے ہیں

دائیں بازو کے انتہاپسند اسرائیلی صیہونیوں کے ایک چھوٹے گروپ کا موریس رکن ہے جس نے الاقصی مسجد کمپاونڈمیں غیر مسلموں کی عبادت پر امتناع سے گریز کے لیے اپنا حلیہ مسلم جیسا بنالیا اور دوران عبادت مصلیان کی صفوں میں شامل ہوگیا۔

مقبوضہ مشرقی یروشلم:اسرائیلی یہودی جہد کار رافیل موریس کو الاقصیٰ مسجد کمپاونڈ میں عبادت کے لیے غیر مجاز طور پر داخل ہونے سے قبل بہت تیاری کرنی پڑی۔ 26 سالہ یہودی نے اپنے صیہونی ملبوسات کو توب سے تبدیل کردیا جبکہ فلسطینی روایتی طور پر اسے پہنتے ہیں۔

اس کے علاوہ اس نے یہودیوں کی روایتی ٹوپی کو بھی تبدیل کردیا۔ اس نے اپنے بالوں کو بھی ٹوپی کے نیچے چھپا لیا اور ساتھ ہی ساتھ چند عربی الفاظ بھی دہرائے تاکہ اپنی یاد داشت کو تازہ کیاجائے۔ دائیں بازو کے انتہاپسند اسرائیلی صیہونیوں کے ایک چھوٹے گروپ کا موریس رکن ہے جس نے الاقصی مسجد کمپاونڈمیں غیر مسلموں کی عبادت پر امتناع سے گریز کے لیے اپنا حلیہ مسلم جیسا بنالیا اور دوران عبادت مصلیان کی صفوں میں شامل ہوگیا۔

 1967 میں اسرائیل نے مشرقی یروشلم پر قبضہ کیا جبکہ اردن نے اس کے موجودہ نازک موقف کو برقرار رکھنے سے اتفاق کیاجو اس شہر میں اسلامی مقامات کا محافظ ہے۔ اس کے ذریعہ صرف مسلمانوں کو الاقصی میں اور یہودی کو مغربی دیوار کے قریب عبادت کی اجازت دی گئی ہے۔ الاقصی کمپاونڈ یا حرم الشریف اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔

 اس میں الاقصی مسجد گنبد صخرہ بھی شامل ہے جہاں سے مسلمان باور کرتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺکو معراج کی سعادت حاصل ہوئی تھی۔ یہودیوں کاعقیدہ ہے کہ بائبل میں اس یہودی عبادت گاہ کا تذکرہ کیاگیاہے کہ وہ اسی مقا م پر تھی جبکہ وہ لوگ اسے حرم شریف یاٹمپل ماونٹ کہتے ہیں۔

موریس اور اس کی بیوی نے 9سال قبل اپنی تنظیم ”Returning To The Mount “قائم کی تھی جس کامقصد یہودیوں کے مسلم عبادت گاروں میں چوری چھپے شامل ہوتے ہوئے الاقصی مسجد کے کمپاونڈ میں عبادت کے لیے یہودیوں کی حوصلہ افزائی ہے۔ وہ باور کرتے ہیں کہ ان کے اس اقدام سے وہاں پر مکمل صیہونی اقتدار اعلی اور گنبد صخرہ کے مقام پر صیہونی عبادت گاہ کی تعمیر را ہ ہموار ہوگی۔

ذریعہ
منصف ویب ڈیسک

تبصرہ کریں

Back to top button