مسلم برادری کے ووٹ دلت برادری کے ساتھ مل جاتے تو یوپی کے نتائج بنگال جیسے ہوتے: مایاوتی

مایاوتی نے کہا کہ بی جے پی کی انتہائی جارحانہ مسلم مخالف انتخابی مہم کی وجہ سے مسلم سماج نے یکطرفہ طور پر اپنا ووٹ ایس پی کو دیا اور پھر دوسرے بی جے پی مخالف ہندو لوگ بھی بی ایس پی میں شامل نہیں ہوئے۔

لکھنؤ: بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی صدر مایاوتی نے اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات میں شکست کو قبول کرتے ہوئے کہا کہ اگر مسلم برادری کے ووٹ دلت برادری کے ساتھ مل جاتے تومغربی بنگال جیسے انتخابی نتائج یہاں دہرائے جاسکتے تھے اسمبلی انتخابات کے نتائج پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مایاوتی نے جمعہ کو کہا کہ انتخابات کے دوران عوام میں بی ایس پی کو بی جے پی کی بی ٹیم ہونے کا منصوبہ بند پروپیگنڈہ کیا گیا اور کہا گیا کہ بی ایس پی کم طاقت سے الیکشن لڑ رہی ہے، جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے کیونکہ بی ایس پی کی بی جے پی کے ساتھ لڑائی سیاسی ہونے کے ساتھ ساتھ نظریاتی اور انتخابی بھی تھی۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی انتہائی جارحانہ مسلم مخالف انتخابی مہم کی وجہ سے مسلم سماج نے یکطرفہ طور پر اپنا ووٹ ایس پی کو دیا اور پھر دوسرے بی جے پی مخالف ہندو لوگ بھی بی ایس پی میں شامل نہیں ہوئے۔ اگر یہ سب لوگ ان افواہوں کا شکار نہ ہوتے تو یوپی کا انتخابی نتیجہ ویسا نہ ہوتا جیسا ہوا ہے اور اب وقت گزرنے کے بعد یہ لوگ دوبارہ پچھتائیں گے۔

بی ایس پی صدر نے کہا کہ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اگر مسلم کمیونٹی کا ووٹ دلت برادری میں ضم ہو جاتا، جیسا کہ بنگال کے انتخابات میں ٹی ایم سی کے ساتھ مل کر بی جے پی کو شکست دے کر کرشماتی نتیجہ دیا، تو وہی نتیجہ یہاں بھی دہرایا جاتا۔

انہوں نے کارکنوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے لوگ توقع کے خلاف آنے والے نتائج سے پریشان اور مایوس نہ ہوں بلکہ صحیح وجوہات کو سمجھ کر اور ان سے بہت سے سبق سیکھ کر اب ہمیں اپنی پارٹی اور تحریک کو زندہ کرنا چاہیے۔ ہمیں آگے بڑھنا ہے اور بعد میں اقتدار میں آنا ہے، تب ہی یہاں سے غریب، لاچار، ناخوش، مصیبت زدہ اور کمزور طبقے کے لوگ مستفید ہو سکتے ہیں۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button