مشاعرہ کی کامیابی کا ضامن ”ڈنر“

زکریا سلطان۔ ریاض

لفظ ”ڈنر“ اپنے اندر بے انتہا کشش رکھتا ہے ۔ ڈنر کا نام سنتے ہی منہ میں پانی آنے لگتا ہے ، ڈنر کئی بگڑے کام بنادیتا ہے۔ڈنر ڈپلومیسی ایک اچھی پالیسی ہے ۔ کسی بات پر جل کر کباب بنے ہوئے لوگوں کی بھی مچھلی کباب کا نام سن کررال ٹپکنے لگتی ہے اور وہ محفل میںشرکت کرنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔اگر آپ اپنے مشاعروں کو کامیاب بنانا چاہتے ہوںتو ڈنر کا اہتمام و انصرام ضرور کیجئے، یہ فارمولاآپ کے مشاعرہ کی کامیابی کا ضامن ہوگا ، اگر ممکن ہو تو دو چار گلف ریٹرن یا میڈ اِن گلف شعراءکو بھی بلا لیجئے، اس سے مشاعرہ کی شان بڑھ جاتی ہے اور سامعین کی تعداد بھی ۔اور ہاں! کسی ایسے بزرگ کہنہ مشق شاعر کو صدارت سونپئے جن کے زلف بکھرے ہوئے اور شیروانی کے بٹن کھلے ہوں، اگرمنہ میں پان اور گریبان چاک ہو تو سونے پہ سہاگہ! ایسے استاد شاعر کو لوگ ہاتھوں ہاتھ لیں گے کیوں کہ آج کل ان کا شمار نایاب چیزوں ( اینٹیک)میں ہونے لگا ہے، جن کا ملنا کافی محال ہوگیا ہے، آپ اگر چراغ لے کر بھی ڈھونڈیں گے تو پا نہیں سکیں گے۔ آ جکل کے شعراءتو ٹی شرٹ اور جینس میں ملبوس رہتے ہیں، چہرے پر ایک نمبر یا زیرو نمبر کی مشین لگواکر سیلون سے سیدھے مشاعرہ گاہ پہنچتے ہیں ،متعدد مشاعروں میں شرکت کے بعد بھی سر کے بال اگر سلامت ہوں تو ان پر کریم لگائی جاتی ہے ، اور اگر فارغ البال ہوں تو سر پر کیپ چڑھالیتے ہیں۔ ایک کام دو کاج۔بھوکا پیاسا شاعر کاٹنے کو دوڑتا ہے، اگر پیٹ بھرا ہو تو خوشگوار موڈ میں کلام بھی خوب سے خوب تر سناتا اور سامعین کو خوب محظوظ کرتا ہے، بددلی سے پڑھے گئے مشاعرے نمک سے خالی سالن کی طرح پھیکے ہوتے ہیں۔پروگرام میں ایک یا دو مزاحیہ شاعروں کو بھی ضرور رکھیے، وہ کھانے کی تھالی میں اچار پاپڑ اور پیاز لیمو کی طرح ہوتے ہیں ۔ ایسا نہیںہے کہ صرف ننگے بھوکے ہی ڈنر میں گر پڑ کر جاتے ہیں بلکہ کھاتے پیتے لوگوں کا بھی ڈنر کا نام سن کر جی خوش ہوجاتا ہے اوروہ دعوتوں میں ڈٹ کر کھاتے ہیں ،آ ج کل کی دعوتوں میں بسا اوقات مہذب لوگ منہ تکتے رہ جاتے ہیں اوردوسرے یار لوگ خوب چوئے چھکے مار کر آرام سے نکل جاتے ہیں، اس سلسلہ میں مجھے حضرتِ خوامخواہ کا وہ قصہ یاد آرہا ہے جس میں انہیں شادی کی ایک تقریب میںکھانے کی میز پر اپنے بازو بیٹھے ہوئے شخص سے دو عدد بوٹیاں اس وعدہ اور شرط کے ساتھ اُدھار لینا پڑا تھا کہ وہ اسے ولیمہ کے دن واپس کردیں گے!!!
ایک زمانہ تھا جب دعوتوں میں مہمانوں کو کھانے کے لیے ڈائننگ ہال کی طرف چلنے کے لیے باربار دعوت دی جاتی اور ادب سے آواز لگائی جاتی تھی کہ آئیے تشریف لائیے تب لوگ دھیرے دھیرے ایک ایک کرکے پورے وقار اور شائستگی کے ساتھ آگے بڑھتے تھے، اب تو میزبان کو ڈاننگ ہال کے باب الداخلہ پر میز کرسیاں لگا ر راستہ بلاک کرتے ہوئے ٹوٹ پڑنے والے مہمانوں کے سیلاب کو روکنا پڑتا ہے کہ ابھی کھانے کے میز لگ رہے ہیں،تھوڑا انتظار کیجئے، لوگ ڈاننگ ہال کے راستہ میں کھڑے ہوجاتے ہیں یا پھر اس کے بالکل قریب کرسیوں پر بیٹھ کر ٹیبل پر قبضہ جمانے کی منصوبہ بندی کرتے رہتے ہیں۔ڈائننگ ٹیبل پر عام آدمی کا کرسی حاصل کرنا ایوان میں کسی لیڈر کے کرسی حاصل کرنے سے کم نہیں ہے، اس کے لیے خاصی محنت مشقت کرنی پڑتی ہے ، ایک مرتبہ کرسی کے حصول کے لیے ہمیں تین راﺅنڈ تک انتظار کرنا پڑا اور تیسرے راﺅنڈ میں ہمیں اللہ اللہ کرکے کھانے کی میز پرجگہ ملی، نوبت یہ آگئی تھی کہ کچھ دیر اور ہوتی تو شاید ہمیں لوگ نوشہ کی طرح گود میں اٹھا کر لے جاتے یا پھر ہم چار لوگوں کے کندھوں پر سوار ہوکر شادی خانہ سے بڑی شانِ بے نیازی سے نکلتے۔ ہاں اگر آپ پیر و مرشد، لیڈر یا کوئی بڑی چیز ہیں تو فکرکرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہوتی آپ کے مرید اور آپکے چمچے آپ کی پوری پوری خوشدلی کے ساتھ خدمت کرتے ہیں اور بر وقت آپ کے لیے کرسی محفوظ کردی جاتی ہے، بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ کھانے کے بعد آپ کے ہاتھ بھی بغیر کسی زحمت کے ٹیبل پر ہی نیم گرم لیمو پانی سے دھلا دئیے جاتے ہیں۔
عید کے دوسرے دن ہماری بیگم بکرے کی بہت تعریف کر رہی تھیں، کہنے لگیں کہ گوشت بہت ملائم تھا اور گوشت میںبُو بھی نہیں تھی ، ہم نے کہا ہاں بھئی جیسی صورت ویسی سیرت کے مصداق بکرا بڑا شریف اورنیک صفت تھا ، اسی لیے اس کے جسم میں بدبو نہیں تھی، لگتا ہے سودی چارے سے پرہیز کرتا تھا ورنہ لوگ عموماً شکایت کرتے ہیںکہ منڈ بکرا تھا، گوشت گلا نہیں، کافی دیر تک پکانا پڑا، اُدھر بکرے کے ساتھ ساتھ خاتون خانہ بھی اونٹتی اور کڑھتی رہتی ہیں ،مگر ہمارا بکرا تو واقعی لا جواب تھا۔ قربانی سے پہلے اس کی آنکھوں سے ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے وہ اپنے ساتھی بکروں کی طرف دیکھ کرکہہ رہا ہو ”کر چلے ہم فدا جان و تن ساتھیو“ پھر اہل خانہ کی طرف دیکھ کر کہنے لگا ”اب تمہارے حوالے مٹن ساقیو!“ بڑا نیک اور صالح تھا خدا کرے کہ اس کی نسل سے بھی ایسے ہی نیک بکرے نکلا کریں۔
بڑے مشاعروں میں ڈنر رکھانا یقینا ایک مشکل کام ہے، کم از کم متوسط اور چھوٹے نجی مشاعرے اپنے گھر کے ہال میں ڈنر کے ساتھ منعقد کیجئے۔ اب تو لوگ زیارت اور چہلم میں بھی بریانی اور میٹھا رکھ رہے ہیں کیوں کہ ڈنر کے بغیر ان تقریبات کا مزہ نہیں آتا اور مہمانوں کی تعداد بہت کم ہوتی ہے۔ لہٰذا مشاعروں میں کم از کم ڈنرضرور رکھیے ۔ ڈنر کی یہ ترکیب مشاعرہ کی کامیابی کی ضامن ہوگی اور سامعین بھی لطف اندوز ہوں گے۔

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button