مشرقی روایات کہاں کھوگئیں!؟

بچے سانجھے سمجھے جاتے لہٰذا کسی غلط کام پر خاندان ہی نہیں محلے علاقہ کے بڑے بزرگ بھی ڈانٹ ڈپٹ حتیٰ کہ مارپیٹ بھی کرتے تو والدین کے ماتھے پر بل تک نہ آتا۔

کوئی بھی معاشرہ اپنے جغرافیائی حالات کے تناظر میں پنپنے والی روایات اورقوانین کی بنیاد پر ہی نمو پاتا ہے۔مشرق ہو یا مغرب ہر خطے کی اپنی روایات ہوتی ہیں جو صدیوں کا سفر طے کرنے کے بعد ایک معاشرتی ڈھانچہ تشکیل دیتی ہیں اوراس میں رہنے والے اگر ان روایات سے انحراف کریںتووہ اجنبیت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یوں تو دنیا میںگزشتہ دو تین دہائیوں میںتیزی سے تبدیلیاں آئی ہیں جنہوں نے ہر معاشرے پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔

خصوصاً مشرق میں جدیدیت کی لہرنے بہت سی ایسی روایات چھین لی ہیں جو کبھی مشرقی معاشرے کا حسن اور خاصا سمجھی جاتی تھیں۔ ایک دور تھا جب رشتہ داروں سے میل ملاپ اوردوستیاں تعلق نبھانا زندگی کا سب سے اہم جزوتھا۔ والدین کسی بھی گھرانے کا سب سے اہم ستون اور باعث رحمت وبرکت سمجھے جاتے اور انہیں جومقام حاصل تھا اس کا شاید عشرعشیربھی آج حاصل نہیں…

بچے سانجھے سمجھے جاتے لہٰذا کسی غلط کام پر خاندان ہی نہیں محلے علاقہ کے بڑے بزرگ بھی ڈانٹ ڈپٹ حتیٰ کہ مارپیٹ بھی کرتے تو والدین کے ماتھے پر بل تک نہ آتا۔ ہر گلی میں ایک جگہ ایسی ضرور ہوتی جہاں علاقے کے بزرگ اکٹھے بیٹھ کر محفلیں سجاتے اور اسی بیٹھک میں محلہ کے ہر گھر پر نظررکھنا اوراس کی حفاظت کرنا گویا ان کے فرائض منصبی میںشامل تھا۔

محلے کی شادی اور فوتگی پر ہر گھر میں یوں خوشی اورغم پایا جاتا جیسے اسی گھر کا معاملہ ہو۔ کسی گھر میں مہمانوں کی آمد پر باقی محلے کے لوگ رشک کرتے اور ان مہمانوں کو اپنے گھرآنے کیلئے میزبانوں کی منت سماجت کرتے دکھائی دیتے۔ کسی گھر میںکچھ بھی پکتاتوہمسایوں کا حصہ ضرور شامل کیا جاتا۔ ایک وقت میںتمیز ،حیا اورپردہ مشرقی معاشرے کے ماتھے کا جھومر تھا… شعرء ادب اورموسیقی دلوں کی دھڑکن تھی…

آج جدیدیت کا شکار ہونے کے بعد ایسے بے شمار عیوب ہماری زندگی میںشامل ہوچکے ہیں جن کا چند سال پہلے تک تذکرہ کرنا بھی قریب ناممکنات میںشامل تھا۔ بہرحال اب بھی خال خال پرانے روایتی مناظر دیکھنے کو مل تو جاتے ہیں۔ مگر بطور معاشرہ ہم صدیوں میں جڑیں پکڑنے والی روایات کو اکھاڑ کر جدت پسندی کے سرپٹ دوڑتے گھوڑے کے سموں تلے روند چکے ہیں۔ میںایک ایسے معاشرتی رویہ کی جانب توجہ مبذول کروانا چاہتاہوں جوخوبصورت اور رومانٹک جذبے سے جڑا تھا۔

ایک دور میںخواتین کا اپنے شوہر کا نام لینا اتنا معیوب سمجھا جاتا تھا جتنا کسی کے متعلق غیر پارلیمانی الفاظ استعمال کرنا۔ بیویاں اپنے شوہر کا نام لینے کی بجائے میاںصاحب ، سرتاج ،کسی بچے یا بچی کا ابا کہہ کر پکارتی تھیں۔ خاوند کی عدم موجودگی میں بھی بیوی ’’ ان ‘‘ کی بات یا ’’انہوں‘‘ نے کہا کے جملے استعمال کرتیں جس سے سب سمجھ جاتے کہ ’’ان ‘‘ سے مراد خاتون کے شوہر نامدار ہیں۔ سینکڑوں کے مجمع میں بیوی ’’بات سنیں جی‘‘ کی آواز لگاتی تو اس کا مجازی خداجان جاتا کہ خاتون خانہ اسی سے مخاطب ہے۔

بہت سی خواتین اپنے خاوندوں کا نام لینے کی بجائے اس کی ذات یا برادری کے نام پکارتیں جیسے چوہدری صاحب، بٹ صاحب، خاں صاحب، سردار صاحب وغیرہ۔ اپنے خاوند کا نام لینے سے بچنے کیلئے خواتین نے سوسو طریقے ایجاد کررکھے تھے۔ یہ روایت اتنی مضبوط تھی کہ خاندان کے لڑکے لڑکیاں نئی نویلی دلہن کو شوہر کے نام لینے کا چیلنج دیتے جو ہمیشہ ہی دلہن ہار جاتی ۔آج بھی چھوٹے شہروں میںزیادہ تر بیویاںخاوند کانام لینے سے احتراز ہی کرتی ہیں۔

اس روایت کے حوالے سے خواتین بھی مختلف آراء رکھتی ہیں۔ اس روایت کے حق میں خواتین کا کہنا ہے کہ میاں بیوی کا رشتہ جتنا محبت کے جذبے میں گندھا ہوتا ہے اتنا ہی نازک بھی ہے۔ مرد ہمیشہ اپنی بیوی سے محبت کے ساتھ ساتھ عزت اوراحترام کا بھی متمنی ہوتاہے۔ احتراماً بیوی کی جانب سے نام نہ لینے کی روایت میاں بیوی میںاحترام کا جذبہ پیدا کرتی ہے اور خاوند جسے اپنے خاندان کیلئے روزانہ گھر سے باہر مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اسے گھر میں اس روایت کی وجہ سے عزت کا احساس ملتا ہے جس کے بعد وہ بھی بیوی کو اسی طرح محبت اور احترام دینے کی کوشش کرتا ہے…

٭٭٭

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button