مصر کے ڈکٹیٹر کا ایک اور سیاہ کارنامہ

پبلک پراسیکیوشن نے غیر ملکی تنظیموں یعنی فلسطینیوں کی حریت پسند تنظیم حماس اور لبنانی تنظیم حزب اللہ کیلیے جاسوسی کے جرائم کے ثبوت سامنے لاتے ہوئے محمود عزت کو سزا سنائی۔

قاہرہ: مصر میں سپریم اسٹیٹ سیکیورٹی کریمنل کورٹ نے اخوان المسلمون کے قائم مقام مرشد عام محمود عزت کو غیر ملکی تنظیموں کے ساتھ تعاون کے الزام میں فرد جرم عائد کرتے ہوئے عمر قید کی سزا سنادی۔

پبلک پراسیکیوشن نے غیر ملکی تنظیموں یعنی فلسطینیوں کی حریت پسند تنظیم حماس اور لبنانی تنظیم حزب اللہ کیلیے جاسوسی کے جرائم کے ثبوت سامنے لاتے ہوئے محمود عزت کو سزا سنائی۔

پبلک پراسیکیوشن نے محمود عزت پر الزام لگایا کہ انہوں نے اہم دفاعی راز دوسرے ملک کو دیے۔ مصر کے مفاد کے خلاف کام کرنے والے گروپوں کے ساتھ تعاون کیا، دہشت گردی کے لیے فنڈنگ کی، غزہ کے علاقے میں عسکری تربیت حاصل کرنے والوں کی سرپرستی اور مدد کی۔

تاکہ ان کی معاونت سے اخوان المسلمون کی بین الاقوامی تنظیم کو مضبوط بنایا جائے اور مصر کی سلامتی، استحکام اور خود مختاری کو نقصان پہنچایا جاسکے۔

گزشتہ سیشن میں اپنی درخواست میں پبلک پراسیکیوشن نیالزام عائد کیا تھا کہ محمود عزت جنوری 2011 میں اخوان کے منصوبوں کے لیے تنظیمی طور پر ذمہ دار تھے۔

اس دوران انہوں نے اخوان کارکنوں کو ریاست کے خلاف نفسیاتی جنگ،افواہیں پھیلانے، آتشیں اسلحے کے استعمال اور املاک پر دھاوے بولنے کی تربیت دی گئی۔استغاثہ نے کہا کہ محمود عزت اخوان المسلمون کے فیصلوں کا ماسٹر مائنڈ ہے۔ کیونکہ اس نے اخوان کے ساتھ مل کر مصر میں حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی۔

ذریعہ
ایجنسیز

تبصرہ کریں

Back to top button