اردو مشاعرے

اس مضمون کے مطالعہ سے ہمیں جو بات سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے‘ وہ مشاعروں کا تہذیبی ماحول ہے۔ کہنہ مشق اور قادر الکلام شعراء کے مابین شعری نوک جھونک اور ادبی چشمکیں ہوتی تھیں‘ مگر کسی کی پگڑی نہیں اچھالی جاتی تھی‘ کسی کا گریباں چاک نہیں کیا جاتا تھا۔

علیم صبا نویدی

اردو مشاعرے ہماری اپنی تہذیب کا سرمایہ ہی نہیں بلکہ تہذیب کے مسکراتے گنگنانے جگمگاتے نقوش ہیں۔ ان سے ادبی ذوق میں اضافہ ہوتا ہے اور وجدان کی پیاس لمحاتی طورپر سیراب ہوجاتی ہے۔ اردو ادب کی تاریخ میں مشاعروں کا ذکر کہیں کہیں ملتا ہے۔ محمد حسین آزاد ؔ نے بھی اس تعلق سے کچھ باتیں ”آب حیات“ میں نمائش پیش کی ہیں۔ اردو ادب میں مشاعروں کی کوئی مبسوط تاریخ ہمارے سامنے نہیں ہے۔ جس سے یہ اندازہ ہوسکے کہ ”اردو کا پہلا مشاعرہ“ کون سا تھا اورکہاں ہوا؟ اور کس نے اس کی بنیاد رکھی اور اردو کے مختلف ادوار میں اس کی نوعیت کیا تھی؟

یہ بات سب پر واضح ہے کہ قدیم دور کے مشاعرے موجودہ دور کے تفریحی، تمثیلی اور ہنگامی مشاعروں سے مختلف ضرور تھے۔ ان کی ایک نمایاں جھلک مرزا فرحت اللہ بیگ کے ”دلی کا یاد گار مشاعرہ“ میں ملتی ہے۔

اس مضمون کے مطالعہ سے ہمیں جو بات سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے‘ وہ مشاعروں کا تہذیبی ماحول ہے۔ کہنہ مشق اور قادر الکلام شعراء کے مابین شعری نوک جھونک اور ادبی چشمکیں ہوتی تھیں‘ مگر کسی کی پگڑی نہیں اچھالی جاتی تھی‘ کسی کا گریباں چاک نہیں کیا جاتا تھا۔

متعلقہ

گویا کہ اس طرح کی شعری نشستوں میں حفظ مراتب کا خاص لحاظ رکھا جاتا تھا اور شعراء حضرات کے فن صلاحیت اور ان کی نکتہ رسی کے پیش نظر ہمیں ایک خاص رکھ رکھاؤ اور شکوہ کا پتہ چلتا ہے۔

مشاعرے میں غیر شاعر کو شریک ہونے کی مطلق اجازت نہیں تھی۔ پہلے سے یہ خیال رکھا جاتا تھا کہ سامع کی علمی اور ادبی استعداد کیا ہے آیا وہ اس قابل بھی ہے کہ وہ ارباب فن اور اساتذۂ سخن کے درمیان بیٹھ سکے، بڑے سے بڑا رئیس، امیر الامراء نواب اور شہزادوں کی یہ حالت تھی کہ جب کوئی سخنور اپنا کلام سناتا ہے تو ان کے ہونٹوں پر خاموشی کی مہر ثبت ہوجاتی۔ خسروان ملک ِ سخن کا رعب دبدبہ وقار وشان وشوکت ان کے دلوں پر مسلط ہوجاتی۔ قدیم شعری محفلیں صحیح معنوں میں ادب اور پاکیزہ اخلاقی قدروں کی حامل ہوتی تھیں۔ مشاعرے گویا شاعر کی استعداد کی کسوٹی تھی۔

ہر شعر کو زبان وفن کے معیار پرپرکھا جاتا تھا۔ تخئیل کی بلندی اور فکر کی گہرائی دیکھی جاتی تھی، محاوروں اور صنائع وبدائع کا استعمال کہاں تک صحیح ہے دیکھا جاتا تھا۔ یہی ایک بات تھی کہ نو آموز اور مبتدی شعراء کو اساتذۂ فن کے آگے زانو ادب تہ کرنے پر مجبور کردیتی تھی۔ زبان وفن کی معمولی سی غلطی بھی رسوائی کا باعث بن جاتی تھی۔ شعراء غزل یا نظم اکثر تحت اللفظ میں سناتے تھے۔ ایک ایک لفظ میں اکی شخصیت کا بھرپور عکس ہوتا تھا۔ تحسین کا یہ اندازہ کہ محفل میں چند ہی نفوس ایسے ہوتے تھے جنہیں لب کشائی کی جرأت ہوتی تھی۔ مشاعرہ کا انعقاد در اصل ایک بلند اور عظیم مقصد کے تحت ہوتا تھا۔

تجارت اور سستی شہرت کی پرچھائیاں تک اس کو نہیں چھوتی تھیں۔ منتظمین مشاعرہ بذات خود خاص صلاحیت‘ اہلیت کے مالک ہوتے اور شعر وادب کا صحیح ذوق رکھتے تھے لیکن آج! ……وہی مشاعرے غلط قسم کے لوگوں اور نا اہلوں کے ہاتھ میں بری طرح پھنس کر آہستہ آہستہ دم توڑتے جارہے ہیں بلکہ لوک ناچ، ڈرامہ اور موسیقی کے سانچے میں ڈھلتے جارہے ہیں۔ حالاں کہ ان فنون ِ لطیفہ (لوک ناچ‘ ڈرامہ اور موسیقی) کی عظمت وافادیت مسلم ہے اور ان کا اپنا ایک الگ مقام ہے۔

مگر ان تمام کی ایک جا آمیزش نے مشاعروں کو مضحکہ خیز اور وحشتناک بنادیا ہے۔ مولانا محمد حسین آزاد لکھتے ہیں کہ دور قدیم میں صرف مومن خان مومن ؔ اپنی غزل ترنم‘ سے پڑھتے تھے۔ ترنم مشاعروں کے لیے اسی حد تک ٹھیک ہے کہ اس میں موسیقی کا عنصر غالب نہ ہو۔

ایک خاص آہنگ جو غزل کے مسحور کن لہجے کو واضح کرے، ورنہ مشاعرے اور قوالی میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا۔ آج تو اسی شاعر کو مشاعرے میں کامیاب ترین سمجھا جاتا ہے، جس کی آواز میں کھنک اور پیش کرنے کے انداز میں ادا کاری ہو اور پھر مشاعرے میں ایسے بدتمیز، ناشائستہ لوگ کلام سننے کے لیے آتے ہیں جو ناچ گانے کے رسیا، اور سستی قسم کے موسیقی کے دلدادہ اور شعر کے فنی نزاکتوں اور ادب کے نشیب وفراز سے بالکل نابلد ہوتے ہیں۔ اس نااہلی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ معمولی راگ الاپنے والا اور نوحہ خوانی کا خوگر بڑے شاعر کی حیثیت سے آگے بڑھتے بڑھتے، اکابرین ِ ادب کی صف میں کھڑا ہوجاتا ہے۔

آج کل شعرو ادب کی محفلوں میں ایسے شعراء سے ایسی اخلاق سوز حرکتیں سرزد ہوتی ہیں، جن سے علم وفن کا شیرازہ بکھرتا جارہا ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ پیشہ ور شاعروں کے پاس جن کا ذریعہئ معاش محض مشاعرے پڑھنا ہوتا ہے اور جن کی جھولی میضں پندرہ بیس غزلیں ہوتی ہیں۔ ہر مشاعرہ میں جن کی جگالی ہوتی رہتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ایسے شعراء کا خود ان کے وطن میں کوئی قدر دان نہیں ہوتا۔ لیکن جب وہ کسی بیرونی مقام میں پہنچ جاتے ہیں تو وہاں اقلیم شاعری کے شہنشاہ بن جاتے ہیں۔

اکثر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ جب کوئی مقامی شاعر جو واقعی باصلاحیت ہے (اور جس کی تخلیقات نئی ہوش مندی کی ضامن ہوتی ہیں) کلام سناتا ہے تو مہمان شاعر عمداً یا شرارتاً دوسروں سے گفتگو میں محو رہتے ہیں یا اپنے مخصوص وجود کو مشاعرہ گاہ سے باہر لے جاتے ہیں۔

آج کل مشاعروں میں بے سر ترنم اور بھونڈی نرت کی وجہ سے ادب کی معتبر ہستیوں کی فنی اور ادبی عظمتیں مجروم ہوتی جارہی ہیں۔ ہندوستان گیر سطح پر جو شان دار مشاعرے منعقد ہورہے ہیں اور ان میں جو ہوٹنگ کا سلسلہ چل نکلا ہے اس سے یہ احساس ہوتا ہے کہ دو تین صدی گزر نے کے بعد بھی عوام میں سخن فہمی کی صلاحیت پیدا نہیں ہوئی ہے۔ وہی غزل پسند کی جاتی ہے، جس میں سطحی جذبات واحساسات اور بے جان خیالات کو موزوں الفاظ میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہو۔

اشاریت اور رمزیت کے حامل اشعار جو فکر وشعر کو جھنجھوڑ تے ہیں، مشاعرے میں بہت کم کامیاب ہوتے ہیں۔ ہوٹنگ کے طوفان میں ان کی سانسیں اکھڑ جاتی ہیں۔ شاعر کو مطلع سننے کے بعد فوراً بٹھا دیا جاتا ہے۔ اب دو ہی صورتیں باقی رہ جاتی ہیں۔

یا مشاعروں میں صرف ان مترنم اور پیشہ ور شعراء کو مدعو کریں جو اداکاری کے گر سے واقفیت رکھتے ہوں تاکہ مشاعرے تجارتی نقطہئ نظر سے کامیاب ہوں اور عوام کے شائستہ ذوق کی بھی تسکین ہوجائے یا صحیح معنوں میں ادب کی خدمت مقصود ہے تو پیشہ ور شعراء کو یکلخت مشاعروں کی شرکت سے روک دیں اور اچھے شعراء کو مدعو کرکے عوام کے ذوق کو بلند کریں۔

اسی طرح کے باوقار مشاعرے ہوتے رہیں تو عوام میں اچھے شعر کو قبول کرنے اور معیاری غزلوں کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا ہوجائے گی۔
مشاعرے میں ہوٹنگ کی مکدر فضا کو پیدا کرنے اور عوام کے ذوق کو بگاڑنے میں منتظمین ِ مشاعرہ کا اہم رول ہوتا ہے۔ اگر آئندہ بھی مشاعروں کا یہی رنگ رہا تو ان کی افادیت اور بلند مقصدیت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوکر رہ جائے گی۔

٭٭٭

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.