اَکرم نقاش کی نظم نگاری

اکرم نقاش کے پاس بہت کچھ رومانس کی دنیا سے ہے اور بہت کچھ بلکہ بہت زیادہ سنجیدگی کے جہان سے ہے جس کو وہ بیان کرتے ہوئے اپنے پورے وجود کے ساتھ ایستادہ رہتے ہیں، چہرا کچھ نہیں کہتا۔ وہ قاری کے چہرے میں ضم ہوجاتاہے۔

مضمون نگار: محمد یوسف رحیم بیدری، بید ر

پروفیسر کوثر مظہری کے مطابق انیسویں صدی کے نمائندہ نظم نگار شعرأ میں الطاف حسین حالی، محمد حسین آزاد، اسماعیل میرٹھی، اکبر الہ آبادی، شبلی، سرور جہان آبادی، محمد اقبال، عظمت اللہ خان، چکبست، جوش ملیح آبادی، حفیظ جالندھری، اختر شیرانی، جمیل مظہری، احسان دانش اہم ہیں۔ ترقی پسند ادبی تحریک اور اس کے نظم نگار شعرا ئمیں مخدوم محی الدین، فیض احمد فیض، اسرار الحق مجاز، علی سردار جعفری، اختر الایمان، کیفی اعظمی، ساحر لدھیانوی اور سلام مچھلی شہری قابل ذکر ہیں۔

اسی طرح حلقہ ارباب ذوق اور اس کے نظم نگار شعرأ میں ن۔م راشد،میرا جی، یوسف ظفر، قیوم نظر، مختار صدیقی، ضیا جالندھری خاص ہیں (بحوالہ ”جدید نظم: حالی سے میرا جی تک“)اگر تعمیری ادب کے نظم گوشعراء کی بات کریں تو ہمارا خیال ہے کہ ان میں عامرعثمانی، نعیم صدیقی، ماہرالقادری، مائل خیرآبادی، حفیظ تائب، عزیز بگھروی،انتظار نعیم،فرازؔسلطانپوری، رؤف خیر، ابوالبیان حما د، مسعود جاوید ہاشمی،متین اچلپوری اور دیگر کے نام لئے جاسکتے ہیں۔

بھارت کی ریاست کرناٹک کے جن شعراء نے نظم کے میدان میں طبع آزمائی کی اور جو معروف نام ہیں ان میں حمیدالماس، رحمن جامیؔ، حضرت رشید احمد رشید ؔ،محمد حسین فطرت بھٹکلی،اشرف علی سعودیؔ، تنہا ؔتماپوری ،صابرؔفخرالدین،جبار جمیل،حامد اکمل، خالدسعید،ریاض احمد خمارؔ،سلیمان خمارؔ،حافظ کرناٹکی، ماجد داغی، میرؔبیدری،ناطق علی پوری، یٰسین راہی، ذاکرہ شبنم، نثاراحمد کلیم، ریحانہ بیگم ریحانہ ؔ، ڈاکٹر انجم شکیل احمد انجم ؔ، کانام نامی اسم گرامی شامل ہے۔چندنام وہ ہیں جو اردونظم کے افق پر تابندہ ستارے کی مانند ابھر کر سامنے آئے ہیں ان میں محمود ایاز، شائستہ یوسف، خلیل مامون، ساجد حمید، اور اکرم نقاش شامل ہیں۔ آج ہم اکرم نقاش کی نظم نگاری سے متعلق گفتگو کریں گے۔

متعلقہ

علامہ اقبال نے کہاتھا”مرے مولیٰ مجھے صاحب جنوں کر“اسی کا ایک ہلکا سا ہیولیٰ اکرم نقاش کی نظم ”دیارِ بے مکیں“ میں ملتاہے۔ نظم کے اہم الفاظ ہیں۔ دیار، جنوں، رہ گذار، قدم، سمت، کشش، طاعتِ جنوں، مکیں، کھنڈر، چیختی خاموشیاں، خیمہ زن،خرد اور زنجیر۔”دیارِ بے مکیں“ کا شاعرمجنوں بن چکاہے۔ اورنظم ہماری زمین اور ہماری خواہشات کی اجڑی حویلیوں سے آباد ہے۔ جو کچھ ہم نے کھویا ہے اسی کو پانے کی للک اور شعورانہ ہمک کااندازہ کیاجاسکتاہے۔

”باب فضل کاانتظار“ نظم میں نغمگی کم کم ہے۔ لیکن اس نظم کوپڑھتے ہوئے فیض ؔ کالحن کہیں نہ کہیں سے کانوں میں رس گھولتاہے۔ مثلاً

مرے خدا! یہ تہی دست بے اماں بندے
تری پناہ کے طالب
اُٹھائے طوق مظالم کے
باروحشت کے
کھڑے ہیں

میں یہ کہہ رہاہوں کہ فیضؔ کالحن خود بخود چلاآتاہے جبکہ اکرم نقاش کی نظمیں فیض ؔ سے شاید ہی متاثر ہوں۔ اکرم نقاش نے اپنی نظموں میں خود کو برتنے کی شعوری کوشش کی ہے۔ اس لئے وہ فیض ؔ کے کوچے میں نظر نہیں آسکتے۔”موسم اب تیری زباں ہیں بولتے“عنوان کے عین مطابق آزاد نظم ہے بلکہ بیشتر نظمیں اکرم نقاش نے آزادہی کہی ہیں۔ اورہمارا موضوع ان کی آزاد نظمیں ہے۔

نظم ”وقت“ میں شاعر نے اپنی دسترس سے باہر گوہر ِ نایاب کی بات کی ہے بلکہ اس کو عنقاکہاہے۔ شاعر جانے کتنی آرزوؤں، تمناؤں اورمثالی زندگیوں کو جی رہاہے لیکن اس کاحاصل کچھ نہیں ہے۔ ایک بے کراں اندھاسفر ہے۔ وقت مقدر ہے لیکن وہ گوہر نایاب عنقا۔ زندگی کو آرزوؤں کے ساتھ جینا عذاب ہے۔ جو کچھ مل جائے جتنا کچھ مل جائے اس کی خوشی کو محسوس کرنے کایاراہم میں نہیں کیونکہ ہم نے ایسا کوئی سبق سیکھا نہیں ہے۔”تقلیب“ اسم بامسمیٰ نظم ہے۔ اور اس آزادنظم کاآخری مصرع پوری طاقت سے سامنے آتاہے اورقاری کے ذہن ودل پر چھاجاتاہے۔

مصرع کچھ یوں ہے”کیوں دید ہے اوڑھے ہوئے حیرانیاں…“اکرم نقاش اپنے تجربہ کو اشاروں، کنایوں کی زبان میں ظاہرکرنے کے ہنر سے واقف ہیں۔ معاف کیجئے گا ظاہر کرنا نہیں چھپادینے کاہنر رکھتے ہیں۔ انھوں نے اپنی نظموں کو زندگی کی طرح آشکار نہیں کیاہے۔دوڑتے بھاگتے لمحوں کومحسوس کیاہے۔اور ان سے نظموں کی ایک خوشبودار پرفسوں مالا بنائی ہے۔لفظ لفظ ایسے پروئے ہیں جیسے کوئی گلفروش اپنی حیات کے لئے پھول پروکر ہار بنانے کی تگ ودومیں شب وروز لگارہتاہے۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ شاعر اپنے اصولوں سے بندھاہے اور اس نے زندگی کاتجربہ شاعری کے حوالے سے کیاہے۔ نظم ”لمس“ ایک رومان پرور نظم ہے۔ پڑھتے اور سنتے ہوئے بھی اچھی لگتی ہے۔

الفاظ کے انتخاب اور اسلوب نے اس کو رومان پرور بنانے میں کلیدی رول ادا کیاہے۔ لمس کی یاد کو خوبصورت اور دلنشین پیرایہئ اظہار دیاگیاہے۔ ”سراب“ مختصر نظم ہے لیکن لطف دے جاتی ہے۔ حسرتوں کاسجنا اور جستجوکے پاؤں جیسی تراکیب نے نظم کے پیرہن کو دلکش اور دلربابنا دیاہے۔ نظم ”بے جہتی“ کالطف درحقیقت شاعرمزاج شخص ہی لے سکتاہے۔ کچھ نظمیں اتنی نرم ونازک اور پھول کی پتیوں جیسی ہوتی ہیں کہ اس کی تفہیم بے فیض اوراس کے مفہوم کوکھولنا دراصل نظم کوضائع کرنے کے مترادف ہوتاہے جس میں نظم ”بے جہتی“ بھی شامل ہے۔

اکرم نقاش کی نظموں کے مرکزی لفظیات، سیہ رات،روشنی، سحر، افسوں، گلاب، جگنو، مہک، فلک، اڑان، خوشبو، رنگ، باب، ساعت، با م ودر، دریچے،وغیرہ ہیں بلکہ یہی کچھ الفاظ ان کی نظمیہ شاعری کاہتھیار ہیں۔ ایک اور نظم ہے ”باب دید وسماع“ ہرسطر میں دوتین الفاظ پروئے گئے ہیں۔ کسی سطر میں زیادہ سے زیادہ چار الفاظ رکھ کربات مکمل کرنے اور نظمانے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ ’باب دید‘ اور’باب سماع‘ تصوفانہ بھی ہوسکتا ہے۔ لیکن شاعر کایہ عمل خود محبوبانہ ہونے کی گواہی دے رہاہے یاپھر ہم میں ہی کوئی کمی ہے کہ سماع اور دید سے محروم ٹہرے ہوئے ہیں، لاحول ولا قوۃ۔
جناب نقاش کی نظموں میں طوالت نہیں ہے۔

وہ طوالت کلام کی متحمل ہوسکتی ہیں لیکن اچانک ہی ایک ایساموڑ آتاہے جہاں وہ”جتنی جسامت اور جس قامت کی ہوتی ہیں“ اچانک انھیں آگے بڑھنے سے روکنے کے لئے کمال ِبے نیازی کے ساتھ ایک آئینہ رکھ دیاجاتاہے۔ آزمائش کی اس گھڑی میں وہ نظمیں آئینہ کے روبرو بھی بھلی معلوم ہوتی ہیں۔ ”اندیشہ“ ایک ایسی ہی مظلوم نظم ہے۔ جو طوالت اختیار سکتی تھی لیکن اچانک ہی ٹھٹک کر کھڑی رہ جاتی ہے تو معنی خیز اور پر لطف لگنے لگتی ہے۔اچانک بریک لگانے یاایک لے کوختم کر دئے جانے کا یہ فن خطرناک ہے، ایسی دودھاری تلوار کو چلانا اکرم نقاش جیسے باہو بلی شاعر کے حصہ میں آیاہے۔

رات سے دوستی کا حق اداکرنااور اس سے لطفِ حق کشید کرنا صرف صوفیاء کے بس کی بات ہے۔ یاپھرایسے جیالوں کی بات ہے جو دن بھر رزق حلال اور دین حنیف کے لئے سرگرم ہوکر رات کو مصلیٰ پر جاکھڑے ہوتے ہیں۔وہی رات شاعر کے ہم قدم اور ہم سانس ہے اوراس کی دوست بنی ہوئی ہے۔”صحرا کی بوندیں“ نظم نام سے ظاہر نہیں ہوتی۔

اس کو پڑھنا اور سوچنا پڑتاہے زندگی کی طرح کیونکہ یہ ایک برتی ہوئی وہ زندگی ہے جوکسی نہ کسی کامقدر ہے۔ نظم ”جادو“ جادو سے زیادہ مسرت کو اُجالتی ہے، وہ مسرت جو کچھ پانے میں پوشیدہ ہے۔انسان ایک عمر کے بعد بھی بچوں جیسی مسرتوں سے ہمکنار ہونا چاہتاہے۔یعنی بچہ کہیں نہ کہیں چھپاہے کہ پانے کی مسرت محسوس کرتاہے۔ نظم”روشنی ہر گام کردے“میں خواہش کااظہار ہے۔ اور یہ اظہار بے دریغ نہیں بلکہ صبح، دوپہر، شب، بے خودی اور سانسوں کی تسبیح کی مالا کوپیش کرتے ہوئے اسی دیوانگی کے نام لمحہ اوروارفتگی کردینے کا اظہار ِ عارفانہ ہے۔

پروفیسر گوپی چند نارنگ نے ”جدید نظم کی شعریات اور کہانی کاتفاعل“ میں لکھاہے ”جدید نظم کی سب سے بڑی پہچان اس کاارتکازہے۔ نیز ایجاز، اختصار، تہہ داری اور جامعیت“ آگے لکھاہے ”جدید نظم کے لسانی حربے رمزیت، ایمائیت، ابہام، اشارہ، کنایہ، مجاز مرسل، استعارہ، علامت اور پیکریت ہیں“اکرم نقاش کی نظمیں بھی جدید ہیں۔ کسی نقادکی اور خصوصاً گوپی چند نارنگ کے بتائے اصولوں پر ان نظموں کاپورا اترنا ضروری نہیں ہے۔ دراصل اکرم نقاش کی نظمیں دھیمی دھیمی روشنی میں ہلکورے لیتی رہتی ہیں۔ شب سے اور شب کی سیاہی سے انہیں نسبت اور انسیت خاص ہے۔

جب ساراعالم دن بھرکی محنتوں، کلفتوں اور عوارض جاں کوختم کرکے وقوف کرنے لگتاہے، رات اپنے مہرباں قدم جب آہستہ آہستہ باہر نکالتی ہے، غالباًشاعر کے ہاں نظموں کانزول ہوتاہے لیکن شاعر کی زندگی رات سے منوراور تعبیرشدہ ہے۔ اکرم نقاش کی کچھ آزادنظموں کے عنوان خود کو گنگناتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں جن میں ”ادھر کچھ دن ہوئے“”کب سے تمہیں دیکھ رہاہوں“جیسے عناوین شامل ہیں۔ نظم پڑھتے ہوئے قاری امیجری سے حظ اٹھاتاہے۔ اور خود کو بھول جاتاہے۔ منظرنامے سے کٹ کر پس منظر میں چلاجانا شاعر کاوہ سحر ہے جو سب پر طاری ہوئے بنا نہیں رہتا۔

اکرم نقاش کے پاس بہت کچھ رومانس کی دنیا سے ہے اور بہت کچھ بلکہ بہت زیادہ سنجیدگی کے جہان سے ہے جس کو وہ بیان کرتے ہوئے اپنے پورے وجود کے ساتھ ایستادہ رہتے ہیں، چہرا کچھ نہیں کہتا۔ وہ قاری کے چہرے میں ضم ہوجاتاہے۔ یہ بھی درست ہے کہ ان نظموں کاکینوس وسیع نہیں ہے لیکن یہ نظمیں رومان پرور اور زندگی کے لمحات کو بہتر بنانے لائق ضرور ہیں۔ ان نظموں سے ہٹ کر ”کچھ نظمیں تمہارے نام“ کے عنوان سے تین چار سطری نظمیں بھی کہی ہیں۔ لطف اٹھائیں۔

۱۔ اندھے گونگے سایوں میں
الجھارہتاہے تو
اورتری آنکھوں کے آگے آئینہ بھی نہیں
۲۔ موسم ایک سے کب ہوتے ہیں
لیکن
دل کاایک ہی موسم
۳۔ چاند زمیں پر اُترے کیوں
صحرامیں گل آئیں کہاں
جادویہ دیکھاہے
دل نے آنکھوں نے..!!!

اس تیسری نظم کی بابت کہناپڑتاہے کہ واقعی دل میں چاند اُتر ا اور آنکھوں نے اپنے صحر امیں گل کھلارکھے۔

اکرم نقاش کے پاس کہنے کے لئے بہت کچھ ہے۔ ان کے اندرون میں وہ بالغ لڑکا چھپا ہے جس کو معلوم ہے کہ زندگی کی ذمہ داریاں کیاہوتی ہیں لیکن وہ لڑکا بین کرتی زندگی اور دھاڑیں مارتی اُداس دھوپ کے بجائے……رات کی چیختی خاموشی میں جاگتااور خود کو ڈولائے رکھتاہے اورچونکہ ٹین ایجر ہے اسلئے خواب بھی دیکھتاہے۔ خدا کرے اس لڑکے کے خواب پورے ہوں اور وہ زندگی کے کشمیرو فلسطین سے آنکھیں چار کرے کہ وقت کا تقاضا یہی ہے جب کہ بقول شاعر”وقت ہی مقدر ہے“۔

٭

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.