آئینہ جھوٹ بولتا ہی نہیں …

ایک صاحب فون پر اپنی شریک حیات سے محو گفتگو تھے...’’سنو ریحانہ !بات سنو میری، رجسٹری میں ہمارے مکان کا رقبہ کم لکھا ہوا ہے ۔‘‘ موصوف خود تو چیخ چیخ کر بات کرہی رہے تھے ، اس پر ستم یہ کہ انہوں نے اسپیکر آن کررکھاتھا...

حمید عادل

پچھلے دنوں بسمت (مہاراشٹرا) کی ایک شادی کی تقریب میں شرکت کا موقع ملا…اس مثالی تقریب کے مہمان بن کر ہمیں احساس ہوا کہ کاش ہمارے ہاں بھی اسی سادگی کے ساتھ شادیاں انجام پاتیں… اس پر رونق اور یادگارتقریب کی خاص بات یہ تھی کہ جب ایک بار دسترخوان بچھایا گیا تو پھر کسی قسم کا کوئی بریک نہیں لیا گیا… مہمان آتے رہے ، کھاتے رہے اور جاتے رہے … اس طرح کے نظم میں بھگدڑ کا خدشہ قطعی نہیں ہوتا اور مہمانوں کی عزت نفس بھی مجروح نہیں ہوتی… اس پر خلوص میزبانی سے مہمان کا نہ صرف پیٹ بلکہ اس کا دل بھی بھر جاتا ہے …

بسمت (مہاراشٹرا) جانے کے لیے ہم نے 8:25والی جئے پور ایکسپریس پکڑی ،تاکہ سفر آسان ہو…چونکہ ہم بسوں میں انگریزی میں ہرروز Suffer ہوتے رہتے ہیں، اس لیے اردو میں دور کا ’’سفر ‘‘کم ہی نصیب ہوتا ہے … ہم کچھExtrovert تو کچھ Introvert واقع ہوئے ہیں… ہم نے اپنے مزاج کی مناسبت سے جنرل کمپارٹمنٹ کی بجائے ریزرویشن کو ترجیح دی تاکہ بھیڑ بھاڑ کا سامنانہ ہو …لیکن اسے شومئی قسمت کہیں یا شامت اعمال کے یہاں بھی ہمیں سکون میسر نہ ہوا، رات دیر گئے تک مسافرین کا آپس میں چونچیں لڑانا جاری رہا ،کوئی سل فون پر باتیں کررہا ہے تو کوئی پرانے تو کوئی نئے فلمی نغمے سن رہا ہے… اور ہمارا یہ حال تھا کہ ہم چین سے سوپارہے تھے اور نہ ہی جاگ پارہے تھے …کیوں کہ ہمیںٹرین رات تین بجے بسمت چھوڑنے والی تھی…چنانچہ یہ خوف ہردم ہمارے اعصاب پر طاری تھا کہ خواب غفلت کی بدولت ’’جانا تھا جاپان پہنچ گئے چین‘‘ کے مصداق ہم کہیں اور نہ پہنچ جائیں …

ایک خاتون جو بڑی مہذب نظر آرہی تھیں ، انہوں نے ٹھیک ساڑے نو بجے یو ٹیوب پر اپنی کوئی پسندیدہ فلم دیکھنی شروع کی …ہمارا گمان تھا کہ رات بارہ بجے کے آس پاس فلم ختم ہوجائے گی تو محترمہ بھی سو جائیں گی لیکن جیسے ہی فلم ختم ہوئی انہوں نے دوسری فلم دیکھنی شروع کردی…آواز زیادہ نہ تھی لیکن اتنی ضرور تھی کہ ہماری نیند حرام کرسکے…

متعلقہ

ہم غیر معمولی دور اندیشی اور چالاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹرین کے اسٹارٹ لینے سے قبل ہی اپنے لوور برتھ پر لمبی تان کر سوگئے تھے،تا کہ کوئی مسافرہمارے برتھ پر بیٹھ کر گپیں ہانکنے کی حماقت نہ کرسکے… ہماری یہ حکمت عملی تو کامیاب رہی لیکن ہمارے سامنے والے صاحب ہماری طرح لیٹے نہیں تو ان کے برتھ پر دو مسافروں نے براجمان ہوکر ’’ ڈیلنگ آفس‘‘ کھول لیا …اِس وقت ہندوستانی معیاری وقت کے مطابق رات کے گیارہ بج چکے تھے،ہمیں بڑا تعجب ہوا کہ کوئی بھی مسافرگفتگو کے نام پر کی جانے والی ان کی چیخ و پکارپر اعتراض نہیں کررہا تھا، سو ہم بھی چادر کے اندر چپ چاپ پڑے ان کی کاروباری باتیں سن رہے تھے …دریں اثنا ہماری ناک کی سیدھ میں سورہی خاتون ،اٹھ بیٹھیں اور درشت لہجے میں ان سے پوچھا ’’ آپ لوگوں کے برتھ کہاں ہیں؟ان ہٹے کٹے نوجوانوں نے بتایا کہ دوسری جانب ان کے اپر برتھ ہیں ۔ خاتون نے لہجے کی سختی کو قائم رکھتے ہوئے کہا: جائیے ، وہاں جائیے… یہاں سبھی لوگ سورہے ہیں …خاتون کی گرج کا اثر یہ ہوا کہ وہ لوگ وہاں سے کھسکے تو نہیں البتہ ان کی آواز کمزور پڑ گئی اور پھرکچھ دیر بعد وہ وہاں سے چلے گئے …

ہم نے اطمینان کا سانس لیا تو ہمارے روبرو موجود صاحب ، اپنے گھر کا نمبر ڈائیل کرکے شروع ہوگئے… جن کی آوازمیں اتنی گرج تھی کہ بنا فون کے بھی ان کی آواز ان کے گھر والوں تک پہنچ سکتی تھی …خدا خدا کرکے فون پر باتوں کا سلسلہ ختم ہوا تو انہوں نے ٹفن باکس کھول لیا…لقمے کے نام پرجب بھی وہ اسٹیل کا چمچ اپنے منہ میں ٹھونستے تویوں محسوس ہوتا جیسے وہ اسے بھی کھاجانے کاارادہ رکھتے ہیں …دانتوں سے اسٹیل کا چمچ ٹکراتے ہی ایسی کرخت آواز پیدا ہوتی کہ ہم لرز جاتے…

ایک خاتون فون پر اپنے کسی قریبی مگر فریبی رشتے داریا شناسائی سے مخاطب تھیں،گفتگو کے دوران وہ بار بار سوال کرتیں ’’ تو پیسے کب دیتا بول‘‘ ان کی باتوں سے صاف ظاہر تھا کہ قرض لینے والے نے ان کی راتوں کی نیند اڑارکھی ہے ۔ چنانچہ وہ کہہ رہی تھیں ’’ تو نے میرا سل نمبر بلاک کردیا ، بار بارفون کرتی ہوں ،کوئی رسپانس ہی نہیں آتا… جھوٹ مت بول، تو نے میرا موبائل نمبر بلاک کررکھا ہے ، تیرے کو فون کر کر کے تھک گئی میں اوراب میں نے دوسرے نمبر سے فون کیا تو تو نے فون ریسیو کرلیا…غالباً دوسری جانب سے کہا گیا کہ میں نے آپ کا سل نمبر بلاک نہیں کیا ہے ، اتفاقاً ایسا ہوا ہوگا،یقین نہیںتو آپ اسی نمبر سے فون کرکے دیکھ لیں …سادہ لوح خاتون نے کہا ’’ٹھیک ہے ،کرتی ہوں فون۔‘‘ اور پھر خاتون نے اپنے پرانے نمبر سے فون کیاتوانہیں کوئی رسپانس نہیں ملا، خاتون نے گھبرا کر اس سل نمبر سے کال کیا جس کے ذریعے ابھی ابھی بات ہوئی تھی لیکن اس موبائل نمبر پر بھی خاموشی تھی … خاتون بے ساختہ بڑبڑائیں ’’ کم ظرف نے اب اس موبائل نمبرکو بھی بلا ک کردیا ہے۔‘‘

ایک صاحب فون پر اپنی شریک حیات سے محو گفتگو تھے…’’سنو ریحانہ !بات سنو میری، رجسٹری میں ہمارے مکان کا رقبہ کم لکھا ہوا ہے ۔‘‘ موصوف خود تو چیخ چیخ کر بات کرہی رہے تھے ، اس پر ستم یہ کہ انہوں نے اسپیکر آن کررکھاتھا…دوسری طرف سے بیگم کہنے لگیں ’’ روڈ کی زمین پرقبضہ کیے تھے نا تم،رجسٹری میں کہاں سے آئیں گی وہ زمین‘‘ ادھرسے شوہر نامدار کہہ رہے تھے ’’ ہاو جی ریحانہ ! قبضہ کرامیں مگر بہت بڑا فرق آرا ، رجسٹری میں اور ہماری موجودہ زمین میں ۔‘‘ دوسری طرف سے بیگم گرجیں ’ ’ زندگی گزر گئی مگر تم دیوانے کے دیوانے رہ گئے ، کوئی کام سلیقہ سے کرنا نئیں آتا، میں تم کو کِتّے بار بولی رجسٹری کرالو ، رجسٹری کرالو،سنے توناں میری بات …ہمارے پڑوسی کو دیکھو ، قبضہ کرتے ہی رجسٹری کروا لیے تھے انوں۔‘‘ یہ صاحب لگے ممیانے ’’ کیا کروں حالات ایسے تھے ریحانہ …‘‘ ریحانہ نے بات کاٹ کر کہا ’’ حالات؟ کیسے حالات جی ،دماغ نئیں ہے سو کاماں کرتے ، حالات کتے حالات ۔‘‘اب شوہرصاحب بھی پٹری سے اتر گئے، اب تک جو بڑے پیار سے’’ ریحانہ، ریحانہ ‘‘کہے جا رہے تھے ،تم سے ’’تو‘‘ پر آگئے ’’ تو ُامی کو فون دے‘‘اُدھربیگم تڑخیں ’’ امی کو کئی کو، میرے سے بات کرو ،ویسے کہاں ہے اب تم؟‘‘’’ کاما ریڈی سے نکلی ٹرین ، راستے میں ہوں ، کچھ گھنٹوں میں رہتوں ریلوے اسٹیشن پے۔‘‘’’تم وہیں پر رکو،میں آتیوں… تم پاگل ہوگئے، اب خاموش ہوجاؤ ۔‘‘ بیگم کا غصہ دیکھ کرشوہر صاحب دوبارہ بڑے ملائم لہجے میں مخاطب ہوئے ’’نئیں جی ریحانہ …میں یہ بول روں …‘‘ لیکن اچانک انہیں احساس ہوا کہ بیگم نے فون پر باتوں کا سلسلہ منقطع کردیا ہے تو وہ بھی چپ ہوگئے …ہم نے کنکھیوں سے دیکھا تو پتا چلا کہ گھڑی میں گیارہ تو ان کے چہرے پر بارہ بج رہے ہیں۔

پھر وہ مبارک گھڑی آئی جب سارے مسافر سو گئے ، اس کے باوجود کمپارٹمنٹ میںبہت دیر تک اور بہت دور تک ’’ واٹر باٹل، واٹر باٹل‘‘ اور’’ ویج بریانی، ویج بریانی‘‘ کی صدائیں گونجتی رہیں ۔رات تقریباً ڈیڑھ بجے سارے مسافر سوچکے تھے، لیکن آوازیں بند نہیں ہوئی تھیں…اب موقع تھا خراٹوں کا اور ہمیں کھلے کانوں اور پھٹی آنکھوں کے ساتھ یہ فیصلہ کرنا تھا کہ کس کا خراٹا سب سے دم دار ہے؟ ہم نے گہرے مشاہدے کے بعد Upper Berth پر سورہے ایک صاحب کے خراٹے کو کمپارٹمنٹ کے ’’ سب سے دم دار خراٹے‘‘ کے اعزاز سے نوازا…جن کے خراٹوں کی آواز سے ٹرین کی چھت پناہ مانگ رہی تھی۔

سارے مسافرین خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے تھے اور ہم اپنی مینڈک جیسی آنکھیں گھما گھما کر سوچ بچارکررہے تھے کہ ٹرین کا ایگزٹ ڈور کھلتا کیسے ہے ؟ کیوں کہ پورے 35سال بعد ہم ٹرین میں سوار ہوئے تھے…بار بار ایک غیبی آواز ہمیں متنبہ کررہی تھی ’’ اے حمید عادل! اگر دروازہ کھولنے میںتو نے تاخیرکردی تویاد رکھ توکہیں کا نہیں رہے گا …‘‘اس خیال کے آتے ہی ہم برتھ سے اٹھے اور چلتی ٹرین میں ایگزٹ ڈور کھولنے ہی والے تھے کہ ہماری نظر انتباہ پر پڑی جس پر لکھا تھا ’’ چلتی ٹرین میں دروازہ نہ کھولیں …ہم نے فوری اپنا ارادہ ترک کردیا کہ کیا پتا ڈور کھولتے ہی ہم ہوا کے دوش پر سوار ہوکر دور نکل جائیں…لیکن جیسے ہی کسی اسٹیشن پر ٹرین نے ایک منٹ کے لیے توقف کیا ،ہم دوڑے دوڑے ایگزٹ ڈور کے قریب پہنچے اوراسے کھولنے کی کامیاب کوشش کر ڈالی… ایگزٹ ڈور کھول کراور پھر اسے بند کرکے ہمیں اتنی ہی خوشی میسرہوئی جتنی خوشی ہم ہندوستانیوں کو ورلڈ کپ جیت کر ہوتی ہے!

جب ہم رات تین بجے بسمت ریلوے اسٹیشن پہنچے تو ہر سو سناٹا تھا،مسافر کوئی نہ تھا البتہ تین پولیس جوان تھے …انہوں نے ہمیں دیکھا تو آواز دی ’’ آپ کہیں تو ہم آپ کو بستی تک پہنچا دیں، ہم وہیں جارہے ہیں ۔‘‘ ہم نے کہا ’’ جی شکریہ سر!میرے دوست آرہے ہیں ۔‘‘دریں اثنا یہ خیال جانے کہاں سے واردہوگیا کہ یہ لوگ ہمیں مطلوبہ مقام کی بجائے سیدھے پولیس اسٹیشن لے جائیں گے اور اپنے سینئر کے روبرو ہمیں پیش کرتے ہوئے کہیں گے ’’ سر! جس دہشت گرد کی ہمیں برسوں سے تلاش تھی،اسے آج ہم نے دبوچ لیا۔‘‘

خیر! یہ تو خیالی پلاؤ تھا لیکن ہم پولیس کی انسان دوستی سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے…اگرہر پولیس والا ایسا انسان دوست اور ایمانداربن جائے تو پھر جرائم پیشہ افرادکا نام و نشان مٹ جائے …لیکن اگر ایسا ہوا تو پھر محکمہ پولیس کا وجودخطرے میں پڑ سکتا ہے …غالباً یہی وجہ ہے کہ ہماری فرض شناس پولیس جرائم کو روکنے میں ٹال مٹول سے کام لیتی ہے …

شادی کی تقریب میں شرکت کے بعد ہم بسمت سے ناندیڑ، ناندیڑ سے بلولی ،بلولی سے بودھن، بودھن سے نظام آباد، نظام آباد سے سکندرآباد اور سکندرآباد سے حیدرآبادپہنچے …بلولی تابودھن سفر کے دوران گڑھوں سے پر ایساکچا راستہ ملا کہ بس ہچکولے کھانے لگی ، ہچکولے کیا تھے، زلزلے کے جھٹکے تھے، جن کی شدت کا یہ عالم تھا کہ ایک بڑے میاں اچھل کر دوسرے مسافر کی گود میں بیٹھ گئے …بس کا پرزہ پرزہ چیخیں مار رہا تھا ،نشستیں لرز رہی تھیں اور بس سے ایسی ایسی خوفناک آوازیں بلند ہورہی تھیں ڈراونی فلموں کے خوفناک مناظر ایک کے بعد دیگرے ہماری نگاہوں میں گھوم گئے. . بس بری طرح سے جھوم رہی تھی، بس جھوم رہی تھی تو مسافرین بھی شربت غالب پیئے بغیر جھوم رہے تھے،جھومنا کچھ ایسا خطرناک تھا کہ مسافرین کی کھوپڑیاں آپس میں ٹکرانے کے درپے تھیں…ایک صاحب دوسرے صاحب سے مخاطب تھے ’’اگر کسی کا ہاضمہ خراب ہو تو وہ روزربلولی تا بودھن سفرکرلے، قبض کی شکایت جاتی رہے گی …

ہم ایک ضروری بات کا ذکر کرنا ہی بھول گئے … جب ہم بسمت جاتے ہوئے ٹرین کے واش روم میں داخل ہوئے تو وہاں ایک بڑا سا آئینہ دیکھ کرایسے بدکے کہ بنا ہلکے ہوئے ہی الٹے پیر باہر آگئے … باہر آکر ہم سوچنے لگے کہ یہ بھی کوئی جگہ ہے مسافرین کوآئینہ دکھانے کی …آئینہ کی موجودگی سے یہ تاثر پیدا ہورہا تھا جیسے واش روم میں کوئی ہمارا ہی روپ دھار کر ہماری نگرانی کررہا ہے …ہم نے دیکھا کہ واش روم کے باہر واش بیسن ہے اور اس کے سر پرمختصر سا آئینہ آویزاں ہے،جو کافی تھا عکس دیکھنے کے لیے… واش روم میں آدمی محض ہلکا ہونے کے لیے جاتا ہے ،وہاں کسی لمبے چوڑے آئینے کی بھلاکیا ضرورت ؟ رہی بات آئینہ دکھانے کی تو آج سب سے زیادہ ضرورت حکومت کو آئینہ دکھانے کی ہے …جس نے اپنے غلط فیصلوں سے عام آدمی کا جینا دوبھر کردیا ہے ۔

چاہے سونے کے فریم میں جڑ دو
آئینہ جھوٹ بولتا ہی نہیں
کرشن بہاری نور

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.