اکبرالہ آبادی کی طنز و مزاح نگاری پرایک نظر

ادبی اور فنی اعتبار سے اکبر کی طنز و مزاحیہ شاعری خاص اہمیت کی حامل ہے اور اس نوعیت کی شاعری کے دور رس اثرات اس قدر نما یاں ہیں کہ آج بھی اس نوع کی شاعری کا ذوق رکھنے والے اکثر و بیشتر انہی کے چراغ سے اپنے دئے روشن کرتے ہیں ۔

سید محبوب قادری

اکبر مشرقی تہذیب و تمدن کے اعلی قدروں ، یہاں کی عفت و عصمت کی پاک ہوا کی ، بڑوں کی عزت اور چھوٹوں پر شفقت کی ، محبت و بھائی چارگی کی، امن و امان کی ، ایثار و قربانی کی ،ہمالیہ کی عظمت اور اس کی بے پناہ خوب صورتی کی ،یہاںکے عید و تہوار کی ملی جولی خوشوں کی ، پردے کی اہمیت اور سندور کے وقار کی ،مقدس مقامات کی قدرو اہتمام کی ،اہمیت و افادیت سے اچھی طرح واقف تھے ۔

ادبی اور فنی اعتبار سے اکبر کی طنز و مزاحیہ شاعری خاص اہمیت کی حامل ہے اور اس نوعیت کی شاعری کے دور رس اثرات اس قدر نما یاں ہیں کہ آج بھی اس نوع کی شاعری کا ذوق رکھنے والے اکثر و بیشتر انہی کے چراغ سے اپنے دئے روشن کرتے ہیں ۔

ِاکبر کی شاعری کا اہم موضوع تہذیبوں میں باہم ٹکرائو سے پید ا ہونے والی مضحک صورت حال ہے ، اسکے علاوہ مذہبی زوال ، رہنمایان قوم کے قول و فعل میں تضاد ، ملا و محتسب اور شیخ و برہمن کی کج رویوں ، سیاست کی ریشہ دوانیوں ، سماج کی بے راہ روی لڑکیاں جو نئی تہذیب کی راہ کی مسافر ہیں اپنے گھرا ور اس کے نام ووقار کو مجروح کر نے ، سماج کی بے راہ روی ، ریا کاری ، مکاری ، لسانی تعصبات اور ایسے ہی گمراہ کاموں میں مصروف نظر آرہیں ہیں۔

متعلقہ

فنی اعتبار سے اکبر کی شاعری کو اکثر نا قدین نے بزلہ سنجی یعنی WIT کی شاعری کہا ہے ۔چناچہ وزیر آغا اس بارے میں تحریر کرتے ہیں
’’ اکبر کی شاعری کو عام طور پر بزلہ سنجی یا وٹ کی شاعری کہا گیاہے ،اور وہ اس لئے کہ بیشتر موقعوں پر انہوںنے تمثیل اور معنی آفرینی کے بجائے صرف لفظی شعبدہ بازی سے مزا پیدا کرنے کی سعی کی ہے ۔‘‘( اردو ادب میں طنز و مزاح ، وزیر آغا ، ص 120)اکبر کی لفظی شعبدہ بازی یہ ہے کہ الفاظ میں بگاڑ ، رعایت لفظی ، تـــضمین ، تصرف ، محاورں کو اس خفیف سی تبدیلی کرتے ہیںکہ قاری کھل کر ہنسنے پر مجبور ہوجاتاہے ، اسی طریقہ کارکو بزلہ سنجی یا پھر wit کہا جاتاہے ۔

اکبر الہ آبادی کی نظر میں جب کوئی بھی فرد مغربی تہذیب کو اپناتے دیکھا جاتا تو وہ اس کے بارے میں یہ نہیں سوچتے کہ اس کی سماج میں کیاعزت و احترام ہے اس کا مقام و مرتبہ کیا ہے اور وہ اس بات کی بھی کوئی پرواہ نہیں کرتے ہیں کہ آیا وہ کس مذہب کا پیر و کار ہے ، بغیر کسی مروت کے ملا و پوجاری ، شیخ و برہمن ، مرد و عورت ، لڑکا و لڑکی ہر ایک کو اپنی طنز و مزاح کے ضد میں لے لتے ہیں ۔
سرسید کے مغربی تہذیب کے اپنانے کی وجہ سے انہوںنے نہ مقام و مرتبہ دیکھا نہ تعلیم کھل کر خوب خوب مزاق اڑاتے ہوکہتے ہیں ۔

مرید دھر ہو ئے وضع مغربی کرلی
نئے جنم کی تمنا میں خود کشی کرلی

اکبر کی نظر جب معاشرہ کی ان آزاد خیال خواتین جو خود کو روشن خیال تصور کرتے ہوئے ہندوستانی تہذیب و تمدن کو قدیم اور دقیانوس اور اس کے پاسبانو ں کو قدامت پسند اور دقیانوسی کہتے ہوئے ان پر طنز کرتی ہیں ایسی خواتین پراکبر طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ

بے پردہ کل جو آئیںنظر چندببیاں
اکبر زمین میں غیرت قومی سے گڑ گیا
پوچھا جو ان سے آپ کا پردہ وہ کیاہوا
کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کے پڑگیا

اکبر کی نظر جب ہندوستان کے ان لو گوں پرتڑتی ہے جو اپنے مذہب کو بھلا کر اپنے مذہبی اصل واصول کے خلاف اناپ شناپ کہتے ہیں تو ان کا دل بھر آتا ہے اور سوچنے لگتے ہیں کیا یہ وہی لو گ ہیں جو کل تک اپنے مذہب پر جان قربان کرکو تیار تھے اور آج ان کی یہ حالت کہ وہ اپنے ہی مذہب پر انگلی اٹائے اور ۔۔۔۔ان پر طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ

کہاں کے مسلم کہاں کے ہندو بھلائی ہیں سب نے اگلی رسمیں
عقیدے سب کے ہیں تین تیرہ گیارہویں ہے نہ اشٹمی ہے

نئی تہذیب کے آنے سے قبل شادیاں بلوغت کے بعد ہوتی تھیں لیکن نئی تہذیب نے اس میں ایک اور چیزمغربی تعلیم کا اضافہ کردیا ہے۔جب تک اس میں کامیابی نہیں ملے گی اس وقت تک شادی کی کوئی صورت نظر نہیں آتی دیکھی تو اس پر اکبر نے مزاح کیا ۔

بے پا س کے تو ساس کی بھی اب نہیں ہے آس
موقوف شادیاں بھی ہیں اب امتحان پر

اکبرنے ان مذہبی رہنمائو ں کو بھی طنز کا نشانہ بنایا جو اسلام اور اصل اسلامی تعلیمات پر باطل کے سوالات کی یلغار کرتے ہوئے قوم و ملت کے ناواقف لو گوں کومکرو فریب الٹی سیدھی باتیں کہہ کر انہیں گمراہ اور بے دین کیا جانے لگا اور مذہبی رہنما ہے کہ اس پر خاموشی اختیا ر کیئے ہوئے ہیں تو ان پر طنز کیا کہ

شیخ تثلیث کی تردید کرتے نہیں کچھ
گھر میں بیٹھے ہوئے والتین پڑا کرتے ہیں

اکبر نے ملک کی ان لڑکیوں کودیکھا جو مغریبی تعلیم کے نشے میں مست اور اپنے سروں کو بالکل کھلا رکھ کر زیبائش وزینت کا نمونہ پیش کرتی ہیں ان سے کہا کہ اسلام خواتین کو اس طرح کھلا گھومنے کی اجازت نہیں دیتا ہے بلکہ عورت کے بال بھی عورت ہوتے ہیں اس سوال پر اکبر کی طرف سے جواب ملاحظہ ہو

ہم ریش دکھاتے ہیں کہ اسلام کو دیکھو
مس زلف دکھا تی ہے کہ اس لام کو دیکھو

اصغر مہدی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ کلکتہ یونیورسٹی میں جلسہ تقسیم اسناد ہوا تو اس میں اس وقت کے گورنر جنر لارکرزن نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’ ہندوستانی قوم بہت جھوٹ بولتی ہے ‘ ا ن کی اس بات پر ہندوستانی اخباروں نے احتجاج کیا اور کافی دنوں اس پر بحث و مباحثہ ہو تا رہا ۔اکبر نے لارڑ کرزن کو اپنی زبان میں جواب دیا۔

بے ڈھپ یہ جھوٹ سچ کی چھڑی بحث ہند میں
سچ کہتے ہیں جو جھوٹ کہیں ہم تو رو سیاہ
جھوٹے سہی پرآپ تو ہم پر ہیں حکمراں
جھوٹے ہیں ہم تو آپ ہیں جھوٹوں کے بادشاہ

غرض اکبر ایک سچا ہندوستانی ہے جس کی تمام ترکوشش کا مرکز و محور یہاں کی بے مثل و مثال قیمتی تہذیب ہے وہ اس تہذیب کو آنے والے کل تک پہوجانا چاہتے ہیں اور یہ بات یقینی ہے کہ جب تک اکبر کا کلام رہے گا اکبر کا یہ پیغام جاری وساری رہے گا ۔

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.