تربیت اور نئی نسل

مجھے آج کی نسل سے ملنے کا اتفاق ہوا تو پتہ چلا کہ جس طرح ہماری روز مرہ کی ضروریات کی چیزوں کے دام بڑھ گئے ہیں ،اسی طرح نئی نسل کے اقدار بھی بدل گئے ہیں۔

آج ہم نئی نسل کو وہ نہیں دے رہے ہیں جو کل ہم کو ہمارے بزرگوں نے دیا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ آج کی نئی نسل ہماری زبان ، ہماری تہذیب سے قطعی نا واقف ہے۔ وہ صرف سمجھتے ہیں کہ کمپیوٹر کا زمانہ ہے ، کمپیوٹر تہذیب ہے ۔ اگر کچھ معلوم نہیں ہے تو کمپیوٹر پر دیکھ لیں گے مگر تہذیب اور زبان تو سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی ہے ۔

ہمارے بچپن میں ہمارے محلے کے بزرگ جو مختلف مذہبوں کے ہوتے، ہمیں اپنے اپنے مذہب کے تعلق سے معلومات دیے ، ان کے مذہب کی اچھی اچھی باتیں ہم کو بتائیں۔ ہمارے بزرگ بھی ان بزرگوں سے ملنے اور ان کے پاس جانے سے روکتے نہیں تھے۔ گرونانک کے بارے میںہمیںگھر کے قریب کے گردوارے میں رہنے والے مہنت نے بتایا تھا ۔ وہ روز کڑہاو پرساد دیتے تھے اوریہی لالچ ہم کو ان تک لے جاتا تھا۔

وہ ہمیں حضرت شیخ فریدؒ کے بارے میں ان کے لکھے ہوئے اقوال جو گرو گرنتھ میں ہیں ، سناتے تھے اورگرونانک کا ذکر کرتے تھے ۔ اس طرح ہم سکھ مذہب کے تعلق سے کڑہاو پرساد کھا کر جان گئے ، جتنا میٹھا کڑہاو پرساد تھا اتنی ہی میٹھی ان کی باتیں تھیں۔ اسلام کے بارے میں تو پڑوس کی عورتیں جو دادی کی دوست ہوتی تھیں یا پھر ایسے بزرگ جو گھر والوں سے قریب تھے ،بتایا کرتے تھے۔

اکثر ایسا بھی ہوتا تھا کہ ہم پڑوس میں بچوں سے کھیلنے جاتے تودھوپ میں پھرنے سے روک کر پڑوسی بزرگ ہم کو بقرعید کے بارے میں بتاتے تھے ۔ ہم کو قربانی کا مطلب سمجھاتے تھے ۔ رمضان کا مہینہ ہو یا میلاد کا یا پھرمحرم کاہو ، وہ ہمیں اہل بیت کے بارے میں بتلاتے تھے ۔ہم قصے کہانیوں کے طورپر سچ سچ اور اچھی اچھی باتیں سنتے تھے ، سنتے سنتے کبھی کبھی سو بھی جاتے تھے ۔ گرمیوں میں دھوپ سے بچانے اور بارش میں پانی سے بچانے وہ ہمیں پیاری پیاری باتیں بتایا کرتے تھے، اس طرح ہمیں ڈسپلن میں رکھا جاتا تھا۔

متعلقہ

مجھے آج کی نسل سے ملنے کا اتفاق ہوا تو پتہ چلا کہ جس طرح ہماری روز مرہ کی ضروریات کی چیزوں کے دام بڑھ گئے ہیں ،اسی طرح نئی نسل کے اقدار بھی بدل گئے ہیں۔اس بات کا پتہ یوں چلا کہ ہم ہمارے پڑوسیوں کو ماموں ، چچا، خالو ، مامی ، چاچی، خالہ کہہ کر پکارتے تھے ۔ بچوں نے رشتے مختصر کردیے ، انکل اور آنٹی کہہ کر ۔ جب قریبی رشتے ہی بدل گئے ہیں تو نئے رشتے، نئی باتیں صرف کمپیوٹر سے رشتے میں ہی ہیں ۔

مجھے افسوس تو اس بات کا ہے کہ ہمارے شہر میں کبھی عثمانیہ یونیورسٹی ایک ایسی یونیورسٹی تھی جو اردو ذریعہ تعلیم کا بہترین ذریعہ تھی اور اس کے فرزندوں نے کافی نام کمایا ہے مگراس کا کردار ہم نے مسخ ہونے دیا پھر اردو یونیورسٹی کا مطالبہ کیا اور حکومت نے اس کو پورا بھی کردیا۔ مگر نئی نسل جس کے لیے یونیورسٹی بنائی گئی ، ان کی اردو سن کر ہمیں بے انتہا افسوس ہوا۔ آپ بھی کچھ نمونے پڑھ لیجیے:

جناب ذوالفقار صاحب آپ کو پتہ ہے آپ کے نام کے معنی کیا ہیں ؟

ہاں جناب! بہت اچھی طرح سے ، یہ زلف کا وقار یعنی سر کے بالوں کی عزت ہے۔ کیوں کہ بال سرپر اگتے ہیں اور سر کا وقار ہیں اس لیے یہ زلف کا وقار ہیں ۔

ہم سے رہا نہ گیا ہم نے کہا بیٹا کیا کہہ رہے ہو ؟ ذوالفقار حضرت علیؓ کی تلوار کا نام ہے ۔ پھر ہم نے بتایا کہ یہ تلوار بہت خاص تھی۔ بچوں نے ہمیں ایسے دیکھا جیسے اس بات کے جاننے سے کیا فائدہ ہوگا۔

بہت سے بچوں کو کثرت اور کسرت کا فر ق نہیں معلوم ۔ وہ کسرت کا مطلب جانتے ہیں مگر کثرت سے ناواقف ہیں ۔

ایک صاحب نے ہم زلف کے معنی بتائے تھے کہ ہم زلف وہ ہوتا ہے جو اپنے دوست کی محبوبہ سے شادی کرلیتا ہے ، اس کے بعد دوست اور وہ ہم زلف ہوجاتے ہیں ۔

اس طرح کے کئی الفاظ ہیں، ہماری اردو یونیورسٹی میں ایک سروے کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اساتذہ اکثر انگریزی سے ناواقف اور اردو سے نابلد ہیں ۔ اس طرح انگریزی الفاظ کا داخلہ ہماری زبان میں ہوجاتا ہے اور اردو کے الفاظ پس پردہ ہوجاتے ہیں ۔ ایسی تبدیلیاں تو ہر زبان میں ہوتی رہتی ہیں مگر ہم بالکل ہی الفاظ کے معنی بدل دیں تو ہماری تہذیب کا کباڑہ ہوجائے گا ۔یونیورسٹی پر یونیورسٹیوں کے قیام سے جمال الدین صاحب کی یاد تازہ ہوگئی ہے جنہوں نے اپنے مکان کی تعمیر کے سلسلے میں کہا تھا کہ مکان کی بنیاد پر زیادہ پیسہ خرچ ہورہا ہے ۔ سیدھے سیدھے پہلی منزل تیار کرلی جائے!

تو صاحب یونیورسٹی پر یونیورسٹی کا قیام عمل میں آرہاہے مگر ابتدائی تعلیم میں ہم انگریزوں اور نظام کے دور سے بھی پیچھے ہیں ۔ ہماری ترقی کا عالم یہ ہے کہ گاؤں کی تہذیب جس میں بزرگوں کا احترام ہوتا تھا ، اب امریکہ سے برابری کرنے لگی ہے اور لڑکا لڑکی اپنے ماں باپ سے بھی بے ادبی سے بات کرتے ہیں تو لوگ اس کو بچوں کی بلند اخلاقی کہتے ہیں کہ امریکہ میں تو بچے ماں باپ سے دوستوں کی طرح بات کرتے ہیں ۔

بچوں سے دوستوں کی طرح ہمارے ماں باپ بھی بات کرتے تھے ۔ان کا صرف ایک طریقہ ہوتا تھا کہ وہ ہم سے آپ کہہ کر مخاطب ہوتے تھے تاکہ ہم بھی ان کو آپ کہیں ۔ مگر انگریزی زبان میں تو صرف یو "YOU” ہے تو آپ والی تہذیب کہاں ہوگی ؟ ایک ہی لفظ سے کام چل جاتا ہے ۔

آئے دن اخبارات میں بڑے لوگوں کے بچوں کے چوری میں ملوث ہونے کے واقعات اور حادثات میں مرنے کی خبریں پڑھتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ ہمارے والدین نے تو ہمیں ایک خاص عمر میںمختلف اشیاء کے استعمال کی اجازت دی تھی۔

مجھے یوسف الدین صاحب صدر شعبہ Religion and culture( مذہب و ثقافت )کی یاد آتی ہے ۔ یہ نوائطہ خانوادہ سے تھے،وہ مجھے بہن کہتے تھے کیونکہ وہ میرے ولدکو ماموں کہتے تھے اور کہتے تھے میرے والد کے پاس ایک سائیکل تھی جس سے انہوں نے سائیکل چلانا سیکھا تھا اور کبھی کبھی مدرسہ میں اس کو چلا کر مشق کرلیا کرتے تھے۔

یہ بات اس لیے یاد آئی کیونکہ یوسف بھائی کی جائیدادیں شہر میں مختلف جگہ تھیں اوران کے والدین ان کو کار بھی خرید کر دے سکتے تھے مگر ان کو سائیکل بھی نہیں دلائی گئی کیونکہ ان کی عمر کا خیال کیا گیا تھا ۔ آج قانوناً کسی بھی سواری کو چلانے کے لیے عمر مختص کی گئی ہے مگر بچے ماں باپ کی دولت کامظاہرہ کرنے کے لیے بارہ تیرہ سال کی عمر میں ہی موٹر کار، اسکوٹر اور کمپیوٹر کا استعمال کررہے ہیں اور ان سب باتوں سے آگاہ ہورہے ہیں جن کی ان کو ضرورت ہی نہیں اور ان سب باتوں سے نابلد ہیں، جن کے بارے میں ان کی معلومات ضروری ہیں !

٭٭٭

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.