حلال رزق کا مطلب کسان سے پوچھو

کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے ٹوئٹ کیا ’’تحریک فوری واپس نہیں ہوگی، ہم اس دن کا انتظار کریں گے جب زرعی قوانین کو پارلیمنٹ کے ذریعے منسوخ کیا جائے گا۔‘‘

حمید عادل

جمعہ کی صبح مودی جی سے جو سنا اسے سن کرکانوں پر یقین نہیں آیا… وہ جب بھی ٹی وی پرنمودارہوتے ہیں ،دل دھک سے دھڑک جاتا ہے ، ڈر سا ہونے لگتا ہے کہ پتا نہیں اب کیا قیامت برپا ہونے والی ہے … لیکن اس بار ہماری توقعات کے برخلاف جو اعلان انہوں نے کیا اسے سن کر ہمارے کان ہی نہیں دل بھی خوش ہوگیا …وزیر اعظم نریندر مودی نے تینوں زرعی قوانین کی واپسی کا اعلان کر تودیا لیکن کسان اپنی تحریک کو جلدبازی میں واپس لینے کے موڈ میں قطعی نہیں ہیں۔ کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے ٹوئٹ کیا ’’تحریک فوری واپس نہیں ہوگی، ہم اس دن کا انتظار کریں گے جب زرعی قوانین کو پارلیمنٹ کے ذریعے منسوخ کیا جائے گا۔‘‘

مودی حکومت پہلی بار کسی احتجاج کے آگے ڈھیر ہوئی ہے…ورنہ ہو یہ رہا تھا کہ حکومت جوبات کہہ دے وہ پتھر کی لکیر بن جاتی اور عوام جمہوری ملک میں تانا شاہی کے ستم جھیلنے پر مجبور تھے…چند دن قبل ہی وزیر زراعت نے دو ٹوک انداز میں کہہ دیا تھا کہ زرعی قوانین کو واپس لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا… سمجھ میں نہیں آتا کیسے وزیر زراعت ہیںکہ اتنی سی بات بھی نہیں جانتے کہ سوال کے اس طرح پیدا نہ ہونے سے کئی ایک سوال پیدا ہوجاتے ہیں…مثلا ً ایک سوال جو ہماری کھوپڑی میں آیا، وہ یہ تھا کہ کیا اب حکومت کو انتخابات میں ہار کا بھی خوف نہیں رہا؟

کسانوں کو کبھی غدارکہا گیا تو کبھی دہشت گرد … حد تو اس وقت ہوگئی جب پرامن احتجاج کرنے والے کسانوں کو گاڑی سے روندا گیا … اس واقعے نے ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی اور حکومت کو بیک فٹ پر کھڑا کر دیا۔بی جے پی پنجاب، اتر پردیش اور اتراکھنڈ میں آنے والے انتخابات میں مضبوط علاقائی جماعتوں کے روبرو ہوگی اور بی جے پی حکومت جانتی ہے کہ ناراض کسانوں کی بدولت انتخابات جیتنے کے امکانات کو نقصان پہنچے گا…چنانچہ مودی جی نے زرعی قوانین کی واپسی کا ماسٹر اسٹروک لگا دیا…

متعلقہ

کسانوں کو کھاد تک میسر نہیں ہے اور وہ بیچارے کھادکے حصول کے لیے پولیس کے ڈنڈے کھارہے ہیں لیکن مودی جی کہتے ہیں کہ ہماری حکومت کسانوں کی فلاح و بہبود اور ان کی خدمت کے لیے پر عزم ہے ۔گزشتہ چند مہینوں میں حکومت کے ساتھ بات چیت کے کئی دور ناکام ہوئے …حکومت نے کسانوں کے ہاتھوں میں یہ لالی پاپ تھمانے کی بھرپور کوشش کی کہ زرعی قوانین کو دو سال کے لیے ملتوی کردیا جائے گا لیکن کسانوں نے سخت سردیوں اور گرمیوں کے مہینوں، حتیٰ کہ مہلک کووڈ لہر کے دوران بھی اپنا احتجاج جاری رکھا …یوم جمہوریہ کے موقع پر ان کے پرامن احتجاج کو رسوا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی ۔ 26 جنوری کے دن کسانوں کی پولیس کے ساتھ زبردست جھڑپ بلکہ جنگ ہوئی اوراس وقت ایسا ضرور محسوس ہوا تھا کہ اب یہ احتجاج دم توڑ دے گا لیکن راکیش ٹکیت کی آنسو بھری اپیل نے کسانوں کو دوبارہ ایسا متحد کردیا کہ ملک کو مذہب کے نام پر تقسیم کرنے والوںکو ٹھنڈے پسینے آنا شروع ہوگئے کیوں کہ لوگ مذہب کو بھول کر کسانوں کا ساتھ دینے کے لیے آگے بڑھ رہے تھے ۔

’’مودی ‘‘ باغ و بہار شخصیت کا نام ہے، سنا ہے کہ جب ٹی وی پر آتے ہیں تو دو لاکھ کی گھڑی، سوا لاکھ کا پین ان کے ساتھ ہوتا ہے، کرتا پاجامہ اور جیکٹ کی قیمت کا فی الحال اندازہ نہیں لگایا جاسکا ہے …دیش آگے بڑھے یا نہ بڑھے ، مودی جی کی ڈاڑھی مسلسل بڑھتی رہی …آج تک ہندوستان کے کسی وزیر اعظم کی ڈاڑھی مودی جی سے زیادہ لمبی، گھنی اور سفید نہیں رہی… اپنے کارناموں سے نہ سہی مودی جی سب سے زیادہ لمبی ، گھنی اور سفید ڈاڑھی کے لیے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔کہنے والوں نے یہاں تک کہہ ڈالا کہ اگر آج معروف صحافی اور کالم نگار خشونت سنگھ زندہ ہوتے تو وہ داڑھی بڑھانے کے بارے میں کوئی نہ کوئی لطیفہ ضرور سناتے… ایک لطیفہ یہ بھی ہو سکتا تھا کہ ‘ایک شخص کا رومال کہیں کھو گیا تو اسے بہت صدمہ ہوا اور اس نے اس کی تلافی کے لیے اپنی داڑھی کو شیو کرانا بند کر دیا۔ ایک دن بہت لمبی داڑھی والے ایک بزرگ کا ان کے سامنے سے گزر ہوا تو انھوں نے دوڑ کر ان کا دامن پکڑکر رونا شروع کر دیا۔ بزرگ بھی پریشان ہوئے اور ان کے ساتھی بھی۔ سب نے پوچھا کہ آپ اتنا کیوں رو رہے ہیں۔ تو اس شخص نے کہا کہ میرا رومال گم ہوا تو میری داڑھی اتنی بڑھ گئی آپ کی تو ضرور چادر گم ہو گئی ہوگی۔‘‘

اب آپ ہم سے عجب خواب کی گجب کہانی بھی سن لیجیے… خواب کچھ یوں ہے …ہم کسی گاؤں کے کھیت کھلیانوںسے گزر رہے ہیں ،ایک کسان زور زور سے فلم ’’ اپکار‘‘ کاسریلا نغمہ ’’ میرے دیش کی دھرتی، سونا اگلے، اگلے ہیرے موتی‘‘ گنگنا رہا ہے …ہمیں آواز جانی پہچانی معلوم ہوئی …ہمیں اشتیاق ہوا کہ ہم اس جفا کش کسان سے ملیں… قریب گئے تو ہم نے دیکھا کہ ہمارے سامنے مودی جی کھڑے ہیں…ہم نے کہا :مودی جی کل تک آپ کسانوں کو خاطر میں نہیں لارہے تھے اور آج خود کسان بن گئے ؟‘‘

مودی جی نے فلم ’’شعلے ‘‘کا مکالمہ ٹھاکر صاحب ( سنجیو کمار)کی طرز پر کہنا شروع کردیا ’’یہ دیش یگ یگ سے کسانوں کا دیش رہا ہے ، جب جب دیش پر مصیبت آئی ہے ماں قسم ہم کسانوں نے اپنی درانتیوں کو پگھلا کر تلواریں بنائی ہیں ۔‘‘

’’واہ کیا ڈائیلاگ مارا ہے مودی جی آپ نے ؟یہ جان کر بڑی خوشی ہوئی کہ آپ کو کسانوں کی اہمیت کا اندازہ ہوگیا…لیکن وہ کیا تھا مودی جی! جب آپ نے کسانوں کو آندولن جیوی کہا تھا..‘‘

.کہنے لگے ’’ وہ ایک سیاسی جملہ بلکہ حملہ تھا، کسانوںکی تحریک کو کمزور کرنے کے لیے۔‘‘

’’اچھا ! …ایک بات بتائیے۔‘‘

’’ پوچھو‘‘

’’ کیایہ سچ ہے کہ آپ کو جو پہلا سیاسی عہدہ ملا وہ،کسی آندولن کی ہی دین تھا …

’’ بالکل سچ سناہے ۔‘‘مودی جی ڈاڑھی ہی ڈاڑھی میں مسکرا اٹھے بلکہ کھلکھلا اٹھے ،انہوں نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا ’’یہ اس وقت کی بات ہے جب میںنے 1974ء میںگجرات کے نو نرمان آندولن میں حصہ لیا تھا اور نوجوانوں سے بڑے پیمانے پرسڑکوں پر اترنے کی اپیل کی تھی ۔اسی آندولن کی وجہ سے مجھ کو میری سیاسی زندگی میں پہلا عہدہ ملا تھا، مجھے 1975ء میں لوک سنگھرش سمیتی کا جنرل سکریٹری بنایا گیا تھا …اس وقت میں نے نوجوانوں سے چیخ چیخ کر کہا تھا آندولن آپ کا حق ہے !‘‘

’’ یعنی آپ آندولن میں حصہ لیں توآپ کا حق اور دوسرے حق کے لیے سڑکوں پر نکل آئیں تو ’’ آندولن جیوی‘‘ بن جاتے ہیں …یہ تو سراسر نا انصافی ہے مودی جی!‘‘

ہمارا سوال سن کر مودی جی سٹپٹا گئے، کہنے لگے : ’’دیکھو عادل! میں پہلے ہی بہت پریشان ہوں،مجھے اپنی غلطیوں کا بہت کم احساس ہوتا ہے ،پہلی بار مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا اور پہلی بار میں نے کھلے عام معافی بھی چاہی لیکن میں یہ دیکھ کر حیران ہوں کہ کسانوں کو میری بات پر ذرا سا بھی اعتبار نہیں …وہ آج بھی ڈٹے ہوئے ہیں… ان کے اس طرز عمل سے میں اپنی بے انتہا توہین محسوس کررہاہوں… اب تم مجھ سے الٹے سیدھے سوال کرکے مزیدپریشان نہ کرو…چلو اب تم نکلو یہاں سے …

اورمودی جی ’’ میرے دیش کی دھرتی سونا اگلے، اگلے ہیرے موتی…‘‘کا سحر انگیز نغمہ دوبارہ گنگناتے ہوئے اپنے کام میںمصروف ہوگئے ….جیسے کسانوں کا دل جیتنے کا انہوں نے تہیہ کررکھا ہو۔

کسان احتجاج تقریباً ایک سال تک جاری رہا ،بہادرکسانوں نے اسی بھاشا میں حکومت کو جواب دیا جس بھاشا میں وہ بات سمجھتی ہے ۔دوسری جانب سال بھر گودی میڈیا نے کسانوں پر گالیاں اورپولیس نے پانی کے فوارے اورڈنڈے برسائے لیکن پھر بھی وہ کسانوں کا حوصلہ نہ توڑ سکے … ایساسخت رویہ اختیار کیا گیا جیسے کسان ہمارے دوست نہیں، دشمن ملک کی فوج ہیں ، جنہیں طاقت کا استعمال کرکے تہس نہس کردینے میں ہی ملک کی بھلائی ہے ۔گودی میڈیا کے قابل اینکرس نے تو جیسے کسانوں کو رسوا کرنے کا ٹھیکا لے رکھا تھا …افسوس! بی جے پی حکومت کا ہر پینترا ناکام ہوا۔ہندوستان کی تاریخ میں کسان احتجاج ایسا انوکھااحتجاج ہے جو کسی سیاسی جماعت کی سرپرستی کے بغیر اتنا زیادہ کامیاب ہوا…

کسان سمجھ گئے تھے کہ زرعی قوانین بڑی کمپنیوں کے فائدے کے لیے ہیں لیکن مودی جی کہتے رہے کہ یہ کسان بھائیوں کی بھلائی کے لیے ہیں ۔ارے بھئی جب کسان ہی ان قوانین سے خوش نہیں توپھر ان پر جبراًتھوپنے کی اس قدرضد کیوں کی کہ آج معافی چاہنے کی نوبت آگئی!

راہول بابا کو بھلے ہی مودی ’’ پپو‘‘ کہہ کر ان کا مذاق اڑائیں لیکن انہوں نے بہت پہلے کسانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہہ دیا تھا کہ میری یہ بات یاد رکھنا کہ حکومت کو ایک دن زرعی قوانین کو واپس لینے پر مجبور ہونا پڑے گا۔راہول گاندھی نے ٹوئٹر پر لکھا: ’’ملک کے انداتا نے ستیہ گرہ سے تکبر کا سر جھکا دیا، ناانصافی کے خلاف یہ جیت مبارک ہو! جے ہند، جے ہند کا کسان!‘‘

کسانوں کے کامیاب احتجاج نے ہندوستانیوں کو یہ پیام دیا ہے کہ جمہوری ملک میں کسی بھی سیاہ قانون کے خلاف احتجاج کرنا، ہر ہندوستانی کا حق ہے اور اگر ہمت سے ڈٹے رہیں تو حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پرمجبور کیا جاسکتا ہے …کاش ! حکومت کسانوں سے ٹکرانے کی بجائے عادل رشید کے اس شعر کو سمجھ پاتی :

حلال رزق کا مطلب کسان سے پوچھو
پسینہ بن کے بدن سے لہو نکلتا ہے

۰۰۰٭٭٭۰۰۰

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.