عبور اور ’’ اوبور‘‘

کل ایک واٹس مسیج نگاہوں سے گزرا، لکھا تھا ’’ انگریزی مجھے پسند نہیں ، لیکن اردو پر بہت ’’ اُبور‘‘ ہے ‘‘ ہم تاڑکے درخت پر چڑھے بغیر ہی تاڑ گئے کہ یہ ’’ ابور‘ ‘ تو ’’ عبور‘‘ کی خرابی ہے ...

حمید عادلّ

کل ایک واٹس مسیج نگاہوں سے گزرا، لکھا تھا ’’ انگریزی مجھے پسند نہیں ، لیکن اردو پر بہت ’’ اُبور‘‘ ہے ‘‘ ہم تاڑکے درخت پر چڑھے بغیر ہی تاڑ گئے کہ یہ ’’ ابور‘ ‘ تو ’’ عبور‘‘ کی خرابی ہے … مذکورہ مسیج چمن بیگ کو دکھاکر اردو کی بگڑتی ہوئی صورت پرہم بگڑے تو چمن کا جواب تھا ’’یہ نئے زمانے کی اردو ہے بابو، اردو کو جب تک ہم آسان نہیں بنائیں گے ، اردو کی طرف کون راغب ہوگا؟‘‘ اور پھر ہماری طرف مخصوص انداز میںاشارہ کرتے ہوئے کہنے لگے ’’ تم جیسے لوگوں نے ہی اردو کا بیڑہ غرق کیا ہوا ہے …ارے بھائی ! زمانہ بدل گیا ہے ، ’’ بیت الخلا ‘‘ اب ’’ واش روم‘‘بن چکا ہے اور تم ہو کہ ’’ عبور‘‘ ’’ ع‘‘ ہی سے لکھنے پر تلے ہوئے ہو.. اگرکسی نے الف سے ’’اُبور‘‘ لکھا بھی ہے تو اس نے اردوہی لکھا نا، انگریزی میں تو نہیں لکھا…‘‘

ہم چمن بیگ کی باتوں کا بھلا کیا جواب دیتے ….وہ ٹھہرے چمن آدمی…ہمیں یاد آرہا ہے افضل گنج کے قریب ایک چھوٹا سا چمن تھا، بس کنڈکٹر بس روک کر آوازیں لگاتا ’’ہے کوئی چمن، چمن ، چمن ، چمن… ‘‘ اب وہ چمن تو نہیں رہا البتہ چمن بیگ ضرور رہ گئے ہیں جو اپنی چمن ٹائپ باتوں سے ہمارے دماغ کا دہی بنایا کرتے ہیں …

فی زمانہ شہر کی سڑکیں ’’عبور‘‘ کرنا ، نئی زندگی پانے کے مترادف ہوتا ہے …سڑک کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے پر پہنچ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم نے بہت بڑا سنگ میل عبور کرلیا … شہر میں فٹ پاتھ ڈھونڈے سے نہیں ملتے اور جہاں نظر آتے ہیں وہاں سے گزرنا پلِ صراط پر چلنے کی گویامشق ہوا کرتی ہے۔ جب کہ فٹ اووربرجوں پر بھکاریوں اورنشے کی لت میں مبتلا عناصر کا قبضہ ہوجاتاہے تومصروف شاہراہوں کے بیشتر دکاندار تقریباً نصف سڑک پر قبضہ جما لیتے ہیں ۔گلی محلوں میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ اپنی سہولت کی خاطر گزرگاہوں پر فٹ کے حساب سے قبضہ کر کے سیڑھیاں نکال لی گئی ہیںیا شام کے وقت حالاتِ حاضرہ پر گرما گرم بحث و مباحثے کی خاطر چبوترا بنا لیا گیاہے…مختلف سواریوں کودوڑتا بھاگتا دیکھ کر لگتا ہے کہ شہر میں پیدل چلنے والوں کے حقوق سرے سے ہیں ہی نہیں… بنا گیر کی موٹر سائیکلیں تو گویا زمینی راکٹ ہیں جو کب آپ کی ٹانگوں کے بیچ سے گزر جائیں کچھ نہیں کہا جاسکتا …

متعلقہ

عبور کر نہ سکے ہم حدیں ہی ایسی تھیں
قدم قدم پہ یہاں مشکلیں ہی ایسی تھیں
انور شعور

آپ بھلے ہی زیبرا کراسنگ پر کھڑے ہوں، کوئی سواراپنی سواری کی رفتارکم نہیں کرے گا…اگران حالات میںہم نے سڑک عبور کرنے کی حماقت کی تو پھر ’’ڈبل بے‘‘کی ڈگری سے نوازے جاتے ہیں… ہم جب پہلی بار مذکورہ ’’ڈگری‘‘ سے نوازے گئے تو ہمیں بڑا غصہ آیا، جی میں آیا کہ تلگو فلموں کے جانبازہیرو کی طرح لپک کر سوار کو دبوچ لیںاور اپنا ڈھائی کلو کاوزنی بیاگ سوار کے سر پر دے ماریں اور اس وقت تک اسے دھوتے رہیں جب تک کہ وہ ہم سے معافی نہ مانگ لے لیکن پھر سوچا یہ سب تلگو فلموں میں اچھا لگتا ہے…اب ہمارا یہ حال ہے کہ سڑک عبور کرتے ہوئے ہمیں کوئی ’’ڈبل بے ‘‘ کی ڈگری سے نوازتا ہے تو ہم یہ سوچ کر مسکرا دیتے ہیں کہ اس ڈگری کا صحیح حقدار توڈگری سے نوازنے والا خود ہے…

آج کل ایسے لوگوں کی کمی نہیں جنہیں اپنے کام پرتو کوئی عبور نہیں ہوتا مگرکاریگر کہلاتے ہیں…

باتھ روم میں ٹھنڈے اور گرم پانی کے نلکے سے مسلسل پانی ٹپک رہا تھا…ہم پھول بانو کے حکم پر عمدہ قسم کا سٹ خرید لائے اور محلے کے ایک پلمبر کو کام پر لگاکر دفتر چلے گئے…وہ ظالم صبح دس بجے سے تین بجے تک ٹونٹی کھولتا رہا فٹ کرتا رہا…پھول بانو پریشان کہ آخر ٹونٹی لگانے کے لیے اتنا وقت کیوں ہورہا ہے ؟ زچ ہوکر انہوں نے پلمبر سے کہہ دیا کہ آپ سے یہ کام ممکن نظر نہیں آتا، ہم کسی اور سے یہ کام لے لیں گے…پلمبر نے کہا ’’ اماں! میں لاتا ہوں اپنے استاد کو ،وہ فٹافٹ کام کردیں گے… پھول بانو نے بادل نخواستہ حامی بھر دی…دوسرے دن استاد اور شاگرد نے ٹھنڈے اور گرم پانی کی ٹونٹیاںفٹ کردیں تو ہمیں دونوں کوالگ الگ معاوضہ دینا پڑا۔دو دن چین سے گزرے تھے کہ گرم پانی کی ٹونٹی سے پہلے پانی ٹپکتا رہا پھر اس کے بعدخود ٹونٹی ٹپک گئی … باتھ روم جل تھل ہونے لگا تو ہم دوڑ کر چھت پر پہنچ گئے اور پانی کے مین کنکشن کو بند کردیا …پھر ایک بار پلمبر کو بلانا پڑا، اس نے آکریہ دکھ بھری خبر سنائی کہ پہلے کے پلمبر نے ٹونٹی فٹ کرنے کی کوشش میں اس کے اندرونی پارٹس توڑ دیے ہیں، نئے پارٹس خریدکر اسے دوبارہ فٹ کردیا گیا … تیسرے دن ایک اور غضب ہوا،ٹھنڈے پانی کی ٹونٹی ٹوٹ کر گرگئی…اب تو پھول بانو ، پھولن دیوی بن گئیں اور ہمیں کوسنے لگیں کہ ہم گھر کے معمولی مسئلے کو تک حل کرنے کے قابل نہیں ہیں …ہم پانی پانی ہوئے سو ہوئے ہمیں پانی الگ بھرنا پڑا…تیسری بار پلمبر کو بلاگیا، اس نے حالات کودیکھتے ہوئے اعلان کردیا کہ ’’ اب کی بار 800سرکار!‘‘ہم بے چوں و چرا معاوضے کے لیے راضی ہوگئے …اس طرح جو کام دو ہزارروپیوں میں نمٹ جاتا، اس کے لیے ہمیں تین ہزار روپئے خرچ کرنے پڑے…محض اس لیے کہ ہم نے جس پلمبر کومنتخب کیا تھا وہ اپنے کام میں عبور نہیں رکھتا تھا…کبھی کبھی ایسے بدترین حالات سے ملک کے عوام کو بھی گزرنا پڑتا ہے ۔

ہمارے بیشتر سیاست داں، سیاسی معاملات میں ’’ع ‘‘ سے نہیں ’’ الف‘‘ سے ’’ اوبور‘‘ رکھتے ہیں … گھرچلا نے کے تک قابل نہیں،دیش کوچلانے نکل پڑتے ہیں …ہم انہیں خیالات میں غلطاں و پیچاں کب نیند کی آغوش میں پہنچ گئے ہمیں پتہ ہی نہ چلا… دریں اثنا ہمیں محسوس ہوا جیسے ہمیں کوئی ڈنڈا مار رہا ہے ، ہم ہڑبڑا کا اٹھ بیٹھے کہ کہیں یہ پولیس کا ڈنڈا تو نہیں ، جو زیادہ ترنہتے اور بے گناہوں پربرستا ہے … لیکن ہم نے دیکھا کہ گاندھی جی ڈنڈا پکڑے ہمارے روبرو کھڑے ہیں … انہیں دیکھتے ہی ہم نے نعرہ مارا ’’ ہیپی برتھ ڈے ٹو یو‘‘ ہمارے نعرے پر گاندھی جی بگڑے ’’کسی کی تعلیمات کو چھوڑ کر اس کاجنم دن منانے سے کیاحاصل؟‘‘ انہوں نے کرسی پر براجمان ہوتے ہوئے سلسلہ کلام جاری رکھا ’’ آج دیش بڑے برے حالات سے گزررہا ہے …سوچا کہ تم سے کچھ باتیں شیئر کروں. .. ‘‘

’’ یہ تو اعزاز ہے ہمارے لیے … ‘‘ہم منمنائے ۔

’’یہ کس قدر شرمناک بات ہے کہ امریکی نائب صدر کملا ہیرس ، وزیراعظم مودی کو نصیحت کررہی ہیں کہ جمہوری اقدار کو بھارت کبھی نہ چھوڑے … جب کہ صدر امریکہ جو بائیڈن ، وزیراعظم ہند کو یہ کہتے نظر آئے ’’دنیا اگلے ہفتے مہاتما گاندھی کی سالگرہ منائے گی…یہ ہم ہرگز فراموش نہ کریں کہ ان کے عدم تشدد اور رواداری کے پیغام کی کل سے کہیں زیادہ آج ضرورت ہے۔‘‘وزیراعظم مودی کی موجودگی میں جو بائیڈن آخرایسی باتیں کیوں کر رہے ہیں ؟‘‘گاندھی جی نے قدرے توقف سے کہا ’’ مجھے یہ دیکھ کر بڑا دکھ ہوا کہ دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک کے وزیراعظم جب امریکہ پہنچتے ہیں تو وہاں کسی معروف سیاسی شخصیت کی جانب سے ان کا استقبال تک نہیں ہوا اور نہ ہی ہندوستان لوٹنے پران کا کوئی کابینی رفیق ایرپورٹ پر موجودتھا…حدتو یہ کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں مودی نے جو تقریر کی اسے خالی کرسیوں نے سنا اور جتنے لوگ بھی وہاں موجود تھے انہوں نے کسی بھی موقع پر تالیاں تک نہیں بجائیں… ہندوستان کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا تھاکہ ہندوستانی وزیراعظم مخاطب ہو اور ہال خالی ہو اور کوئی تالی بھی نہ بجائی گئی ہو…اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود گودی میڈیا وزیراعظم ہندکے کامیاب دورے کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملاتا ہے۔‘‘ گاندھی جی ایسے فر فر کہے جارہے تھے، جیسے یہ سب ان کی نگاہوں کے آگے ہورہا ہو۔

’’ گاندھی جی! ہم کچھ کہیں؟‘‘

’’ امریکی میڈیا وزیراعظم ہند پر چراغ پا ہے کہ ان کے کہنے پر ہی جو بائیڈن نے میڈیا کو سوالات کرنے کا موقع نہیں دیااور ہندوستانی میڈیا کو امریکی میڈیا سے بہتر گردانا، جب کہ آزادی سے کام انجام دینے کے معاملے میں ہندوستانی میڈیا کا 142واں مقام ہے ۔‘‘

’’ جانتا ہوں ،یہ بھی تو ہماری توہین ہی ہوئی ناں کہ ہندوستانی میڈیا اپنے حکمرانوں سے کوئی سوال ہی نہیں کرتا… جب کہ نو مہینوں میں جو بائیڈن نے 140 مرتبہ میڈیا کے سوالات کے جوابات دیے اور مودی کو وزیراعظم بنے سات سال ہوچکے ہیں ،اس کے باوجود ایک بار بھی ہندوستانی میڈیا کو وہ موقع نصیب نہیں ہواجب وہ اپنے من کی بات کرسکیں۔‘‘

’’ جی گاندھی جی!آپ جب اتنا سب جانتے ہیں تو یہ بھی جانتے ہوں کہ ڈونالڈ ٹرمپ ،مودی کے گہرے دوستوں میں شمار کیے جاتے ہیں ،پر مودی پر طنزکرنے کا انہوں نے بھی کوئی موقع نہیں گنوایاتھا… ایک موقع پر مودی سے وہ راست طورپر پوچھ بیٹھے تھے ’’آپ ایسے رپورٹرس کہاں سے لے آئے ، کاش ایسے رپورٹرس میرے پاس ہوتے جو مجھ سے سوال نہ کرتے۔‘‘ اس قدر گہرے طنز کو مودی نہ صرف چپ چاپ جھیل گئے بلکہ ٹرمپ کے ساتھ وہ بھی کھلکھلا کر ہنس پڑے تھے…‘‘

گاندھی جی ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ گویا ہوئے ’’خود پر ہنسنے والوں کے تعلق سے بھلا میں کیا کہہ سکتا ہوں …ٹرمپ نے وہ طنز یوں ہی نہیں کیا تھا،جب وہ صدر تھے اس وقت سی این این کے جم کاسٹر نے ٹرمپ سے چبھتے ہوئے سوالات کی جھڑی لگا کران کی بولتی بند کردی تھی …ہندوستانی میڈیاکی ناک اس وقت کٹ گئی جب ’’آج تک‘‘ کی رپورٹر انجنا اوم کشیپ نے اقوام متحدہ میں ہندوستان کی فرسٹ سکریٹری سنہا دوبے کی پاکستان سے متعلق کی گئی تقریر پر انٹرویو لینے کا فیصلہ کیا۔ تاہم سنہا دوبے نے انجان بن کر انجنا اوم کشیپ کو باہر کا راستہ دکھادیااور انجنا کے پاس ’’بڑے بے آبرو ہوکر تیرے کوچے سے ہم نکلے‘‘کا ورد کرنے کے سوا اور کوئی راستہ نہ تھا… جس طرح انجنا اوم کشیپ کو باہر کا راستہ دکھایا گیا عین ممکن ہے ایسے حکمرانوںکو عوام باہر کا راستہ دکھائیں جو بہتر انداز میں ملک چلانے پر عبورنہ رکھتے ہوں …‘‘

’’ عبور‘‘ ہم چیخ اٹھے ’’گاندھی جی! ہم اس ہفتے اسی عنوان کے تحت کالم لکھ رہے ہیں …اگرآپ ’’عبور‘‘ پر اپنے زرین خیالات کا اظہار کریں تو بڑی نوازش ہوگی۔‘‘ گاندھی جی نے ہماری جانب دیکھتے ہوئے کہا ’’زندگی گزارنے کے لیے بے شمار رکاوٹوں کو’’ عبور‘‘ کرنا پڑتا ہے، جی جی کر مرنا اور مرمر کر جینا پڑتا ہے… اگرکوئی سمندر عبور کرنے کی چاہ رکھتاہے تو پہلے اس میں ساحل چھوڑنے کا حوصلہ چاہیے ۔‘‘

ہم نے اس شد ت سے ’’ واہ ، واہ‘‘ کا نعرہ مارا کہ بدک کر خودہی جاگ گئے اور گاندھی جی کے کہے کوبار باردہرانے لگے …

دوستو! کسی کام پر ’’ع ‘‘ سے ’’ عبور‘‘ حاصل کرنے کے لیے ’’ع‘‘ سے ’’عقل‘‘ چاہیے جب کہ ’’ ا‘‘ سے ’’ اوبور ‘‘ حاصل کرنے والوں کی نذر ہم یہ شعر کرتے ہیں، جس میں ’’ ا‘‘ سے کسی خاص چیز کا ذکر کیا گیا ہے :

برباد گلستاں کرنے کو بس ایک ہی ’’ اُلّو‘‘ کافی تھا
ہر شاخ پہ ’’ اُلّو‘‘ بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا
شوق بہرائچی

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.