غوثِ اردو: ڈاکٹر محمد غوث

یہ بات بھی درست ہے کہ ”تقسیم ہند“ نے ہندوستانی مسلمانوں پر اپنے دیر پا اثرات مرتب کیے مسلمانوں کاوہ خوش حال طبقہ جو کبھی اردو تہذیب وتمدن کا نمائندہ ہوا کرتا تھا اس سے دور ہوگیا۔

ڈاکٹرجہانگیر احساس

ابتدائے آفرینش سے زبانیں آپسی ربط اور ما فی الضمیر کے مؤثر ذرائع رہی ہیں جب انسانی تہذیب وتمدن نے اپنے ارتقاء کی منزل کو چھولیا تو زبانیں بھی ملک علاقوں اور چھوٹے چھوٹے خطے، قصبات اور قریوں میں منقسم ہوگئیں شاید یہیں سے انسانوں کے درمیان لسانی بنیادوں پر شناخت قائم ہوئی۔ یہاں اس بات کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جائے کہ زبانیں یوں ہی وجود میں نہیں آتیں جب کئی بولیاں کسی بڑی بولی میں ضم ہوتی ہیں۔

کئی علاقوں کی تہذیب اور اس سے جڑے تہذیبی عناصر جب یکجا ہوجاتے ہیں تو ایک نمائندہ زبان وقت اور حالات کی مناسب سے اپنے ابتدائی ہیولے کو پالیتی ہے بعد میں اس کے بولنے والے اور اس کو برتنے والے اس کو مزید نکھارنے اور اس کے قواعد صرف ونحو کے ساتھ اس کے رسم خط کو وضع کرتے ہیں۔ یہ بات قابل غور ہے کہ دنیا میں جتنی بھی زبانیں بولی جاتی ہیں ان کے ابجد کا آخر بنیاد گزار کون ہے۔

اس کا حتمی جواب میں سمجھتا ہوں ہمارے پاس نہیں ہے۔ ہم صرف یہی بتا سکتے ہیں کہ فلاں زبان فلاں علاقہ سے تعلق رکھتی ہے یا اس سے بڑھ کر قدیم لسانی قبیلوں میں اس کی بنیاد کو تلاش کیا جاتا ہے جو صحیح تو ہے مگر سوال اپنی جگہ برقرار رہے گاکہ قدیم لسانی قبیلوں کے سرچشمے سے کہاں پھوٹے ……!!

متعلقہ

ہر زبان مذکورہ خطوط پر عالم وجو دمیں آئی ہے اردو زبان کی تاریخ کا مطالعہ بھی ہمیں یہی نشاندہی کرواتا ہے کہ جب مختلف علاقوں کے لوگ ایک جگہ اپنی ضرورتوں کی مناسبت سے جمع ہوئے تو ان کے درمیان ابتداء میں کئی بولیوں نے افزائش کی پھر آہستہ آہستہ ایک مرکزی بولی کو فروغ حاصل ہوا تب کہیں جا کر اردو کا ابتدائی ہیولیٰ تیار ہوا۔ پھر اس کے رسم خط کو قدمانے وضع کیا جو ابتداء میں خط نسخ میں لکھا جاتا رہا مگر بعد میں اس کو مزید مؤثر اور سہل بنانے کے لیے خط نستعلیق کو اختیار کیا گیا جو اردو کے مزاج ومذاق کے مطابق سلیس اور رواں ثابت ہوا۔ تب سے لے کر آج تک یہی خط اردو کا قالب بنا ہوا ہے اور آئندہ بھی یہی رہنے کے امکانات ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ وقت اور حالات بھی کسی زبان کے فروغ وترویج میں اتنا ہی مؤثر کر دارادا کرتے ہیں جتناکہ حکومتوں کی توسیع اور فتوحات میں مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ اس جہاں رنگ وبو میں اردو کی داستان بھی کچھ اس طرح رقم ہوئی ہے۔ بر صغیر میں مسلم فاتحین سے پہلے عرب تجار ملا بار سے ہندوستان کی سرحد میں داخل ہوئے۔ بھلے ہی اس کا مقصد تجارت رہا ہو مگر آپسی اختلاط نے لسانی اور تہذیبی سطح پر اپنا اثر دکھانا شروع کردیا تھا پھر مسلم فتوحات نے یکے بعد دیگرے بر صغیر میں وسعت اختیار کی غرض ……!! کشمیر سے کنیا کماری‘ بنگال سے لے کر افغانستان کی سرحدوں تک کم وبیش 800 سال اپنی حکمرانی کے ڈنکے بجائے۔

بر صغیر میں یہ عہد سلطانی ادبی، ثقافتی، تمدنی اعتبار سے تاریخ کا وہ روشن باب رہا ہے جس کی نظیر کہیں دیکھنے کو نہیں ملتی۔ اردو زبان بھی اسی عہد کی پیداوار ہے ابتداء سے لے کر ارتقاء تک اس زبان نے کئی نشیب وفراز دیکھے۔ چاہے وہ سیاسی ہوں یا ظلم وجبر کی انتہا رہی ہو۔ اپنی آنکھوں کے نہاں خانے میں تاریخ ہند کو کسی زباننے اتنا محفوظ نہیں کیا جتنا کہ اس نے کیا۔ اس زبان پر وہ وقت بھی آیا کہ جو لوگ اسے برسوں سے اپنے سروں پر بٹھائے ہوئے تھے۔ کہنے لگے کہ آخر یہ کس کی زبان ہے۔

تقسیم ہند نے جہاں لوگوں کے لسانی رویوں کو تبدیل کردیا وہیں جو زبان صدیوں تک مشترکہ تہذیب وثقافت کی نمائندہ رہی اسے یک لخت ”مسلمانی“ بنادیا گیا کچھ تو مسلم قائدین کی نا عاقبت اندیشی کی وجہ سے اور کچھ شدت پسند ہندو نظریات نے اس کا بیڑا غرق کردیا ورنہ کیا مجال کہ کوئی زبان اتنے وسیع وعریض علاقہ میں بولی اور لکھی جائے اسے محض 70،75 سالوں میں محدود کردیا جائے۔ اس کے پیچھے مجرمانہ ذہنیت برسوں سے کام کر رہی تھی اور اسے کامیابی آخر کار مل ہی گئی۔

یہ بات بھی درست ہے کہ ”تقسیم ہند“ نے ہندوستانی مسلمانوں پر اپنے دیر پا اثرات مرتب کیے مسلمانوں کاوہ خوش حال طبقہ جو کبھی اردو تہذیب وتمدن کا نمائندہ ہوا کرتا تھا اس سے دور ہوگیا۔ آج ہندوستان میں اردو صرف سطح غربت سے نیچے ز ندگی گزارنے والوں کی زبن بن کر رہ گئی ہے۔ متوسط طبقہ بھی اب اس سے کوسوں دور ہوگیا ہے۔ان آزمائش سے پر حالات میں ریاستی ومرکزی حکومت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ملک کی دوسری بڑی اکثریت کی زبان‘ تہذیب وثقافت کی حفاظت کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ اسی کا نتیجہ رہا کہ آج پورے ہندوستان کی کم وبیش ریاستوں میں اردو اکیڈیمیز قائم ہیں۔

اس طرح مرکزی وزارت فروغ انسانی وسائل کے تحت ”قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان“ پورے ملک میں اردو کی ترقی واشاعت کے لیے گزشتہ کئی سال سے کوشاں ہے۔ اگر مذکورہ اداروں کو دیا نتدار عہدیدار میسر ہوجائیں تو اردو کے فروغ میں یہ متحرک کر دار ادا کرسکتے ہیں۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ ریاست تلنگانہ کی اردو اکیڈیمی کو ان دنوں ایک فعال ڈائریکٹر‘ سکریٹری نصیب ہوا۔ دنیا جنہیں ڈاکٹر محمد غوث کے نام سے جانتی ہے۔ مضمون کے آغاز میں طویل تمہید کے ذریعہ یہی بتانا مقصود تھا کہ آج ہم جس اردو زبان کو حقارت بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں وہ ہمارے اجداد کے برسوں کی کاوشوں کا نتیجہ رہی۔ بلکہ یہ ایک امانت ہے جو ہمیں سونپی گئی۔

پاکستان میں بے شک اردو کو مقتدرہ زبان کا درجہ دیا گیا ہے مگر وہاں کی اردو پر پنچایت کا اثر غالب ہے۔ اردو بہر حال ہند کی پیداوار ہے۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اس کے فروغ اور حفاظت کے لیے مؤثر اقدامات اور تدابیر اختیار کیے جائیں۔ بات چل رہی تھی ”غوثِ اردو:ڈاکٹر محمد غوث“ کی تخلیقی صلاحیتیں‘ فہم وادراک اور زمانہ کے نباض۔ ان صفات سے لیس ہیں ڈاکٹر محمد غوث۔ حکومتیں تو ادارے قائم کرتی ہیں مگر ان کو کامیابی کے ساتھ اپنے مقررہ اہداف تک پہونچانے میں فرض شناس عہدیدار ہی کلیدی کر دار ادا کرتے ہیں۔

میں نے مذکورہ صفات کو غوث صاحب میں بدرجہئ اتم پایا۔ قلیل سی مدت میں کئی سالوں سے تعطل کا شکار کاموں کو انہوں نے جناب محمد رحیم الدین انصاری صدر نشین اکیڈیمی ہذا کی سرپرستی میں تکمیل کے مراحل سے ہمکنار کیا۔ ایسے بہت سے نئے پراجکٹس کی شروعات ہوئی جس سے اہل اردو میں یہ سوچ پیدا ہوئی کہ آج بھی سرکاری عہدیداروں میں اردو کے تئیں جذبات موجود ہیں۔ باوجود لاک ڈاؤن کے موصوف نے اپنی ذمہ داری سے رو گردانی نہیں کی۔

اردو اکیڈیمی کے ویب سائیٹ کے آغاز سے لے کر اردو سر ٹیفکیٹ کورس‘ اکیڈیمی کی اسکیمات کے لیے رہنمایانہ خطوط پر مبنی کمیٹی‘ اکیڈیمی کے یو ٹیوب چیانل‘اردو لرنگ ایپ‘ اکیڈیمی ہذا کے ملازمین کے لیے دو روزہ تربیتی پروگرام‘ قلی قطب شاہ یاد گار لیکچر‘ میر عثمان علی خان آصف سابع یاد گار لکچر‘ ڈاکٹر عمر خالدی کی کتابوں کا اردو ترجمہ‘ فروغ اردو سے متعلق کتاب‘ عثمانیہ یونی ور سٹی‘ حیدرآباد سنٹرل یونی ورسٹی اور مولانا آزاد نیشنل اردو یو نی ورسٹی کے انٹرنس ٹسٹ کی کوچنگ‘ عہد قطب شاہی سے لے کر موجود تلنگانہ پر مبنی کتاب کی اشاعت‘ تلنگانہ اقلیتی اقامتی ایجوکیشنل ادارہ جاتی سوسائٹی کے اشتراک سے جشن اردو، گورنمنٹ ڈگری کالجوں کے لیے نصاب کتب کی اشاعت وتقسیم، اردو ریسرچ سنٹر، اردو مسکن کو اب ڈیٹ کرنا، پانچ مختلف موضوعات پر مشتمل تحقیقی پراجکٹس کا آغاز، نیٹ انٹرنس ٹسٹ کے لیے کتاب کی تیاری، تحریک تلنگانہ سے متعلق تصنیف، ریاست کے اردو ادیبوں اور شاعروں پر مشتمل ڈائریکٹری کی اشاعت، اساتذہ کے لیے پانچ روزہ تربیتی پروگرام‘ ریاست کے ریسرچ اسکالرس کے لیے پانچ روزہ تربیتی پروگرام۔

اس کے علاوہ اردو صحافیوں کے لیے تین روزہ تربیتی پروگرام یہ ایسے ا ہداف ہیں جنہیں ڈاکٹر محمد غوث نے حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ مذکورہ پراجکٹس میں سے کئی ایک مکمل ہوچکے ہیں اور کئی ایک پر کام جاری ہے۔ ڈاکٹر محمد غوث کی علمی وادبی میدان میں مستعدی کا بین ثبوت 18 /اگست کو منعقد ہوا قومی ویبنار ہے ”عصر حاضر میں اردو زبان وادب کا فروغ: مسائل وامکانات“ کے زیر عنوان منعقدہ اس ویبنار میں اردو کی ترقی وترویج، روزگار کے مواقع، مسائل وامکانات، عملی اقدامات، اردو تحقیق، اردو تدریس، فروغ اردو میں خواتین کا کردار، کتاب شناسی ومطالعہئ کتب کی اہمیت، انٹر نیٹ اور سوشیل میڈیا میں اردو کا فروغ، الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ اردو کی ترقی، تلنگانہ میں اردو کا ماضی حال اور مستقبل، اردو صحافت وغیرہ عناوین پر مغز مقالے پیش کیے گئے۔

کورونا وباء نے جہاں پوری دنیا کے کاروبار کو ٹھپ کرکے رکھ دیا ہے ان حالات میں اردو اکیڈیمی کا یہ اقدام قابل صد آفریں ہے۔ مختصر سے وقت میں انہوں نے قومی ویبنار کی ترتیب وتہذیب سے لے کر تکنیکی انتظام وانصراف میں جس مستعدی کا مظاہرہ کیا۔ وہ تحسینی کلمات کے مستحق قرار پاتے ہیں۔

فیس بک اور یوٹیوب پر پوری دنیا میں سیکڑوں کی تعداد میں محبان اردو نے نہ صرف مذکورہ ویبنارکا براہ راست مشاہدہ کیا بلکہ موجودہ حالات میں کسی حکومتی ادارے کی جانب سے اتنے کامیاب ویبنار کے انعقاد پر مبارک بادیاں پیش کیں۔ اپنے مفید مشوروں سے نوازا اور ان مقالہ جات کو کتابی شکل دینے کی درخواست کی‘غرض اس ویبنار کے ذریعہ ڈاکٹر صاحب نے ثابت کردیا کہ اگر اخلاص ہو تو کوئی بھی کام مشکل نہیں۔

یہاں اس بات کا ذکر بھی بے محل نہ ہوگا کہ تلنگانہ اسٹیٹ اردو اکیڈیمی کی جانب سے سمینار‘ ورکشاپ‘ سمپوزیم وغیرہ اب تک دیکھنے اور سننے میں نہیں آئے۔ ڈاکٹر غوث نے علمی وادبی سطح پر اب اس کی شروعات کردی ہے۔ بے شک مشاعرے ہماری تہذیب کا حصہ ہیں۔ مگر سمینار‘ ورکشاپ وسمپوزیم کے ذریعہ جہاں اردو زبان وادب‘ تحقیق وتنقید، تدریسی مسائل، صحافت کی رفتار وسمت وغیرہ کو خالص علمی وادبی سطح پر سمجھا جاسکتا ہے وہیں اس سے ریاست میں ایک علمی ماحول پر وان چڑھتا ہے۔ نوجوان طبقہ میں لکھنے کا رجحان فروغ پاتا ہے اور کئی نئے قلم کار‘ ناقد اور محقق منظر عام پر آسکتے ہیں۔ ضرورت ہے نوجوان اردو طبقہ کی ہمت افزائی کی۔ ڈاکٹر صاحب چوں کہ بنیادی طور پر ایک استاذ ہے وہ بہترجانتے ہیں کہ کسی بھی زبان کا مستقبل اس کا نوجوان طبقہ ہوتا ہے اگر اسے نظر انداز کیا جائے تو جوان اسکالر مایوسی کا شکار ہوسکتے ہیں۔

انہی عوامل کو مد نظر رکھتے ہوئے وہ نوجوان اسکالر کو زیادہ سے زیادہ فوقیت دے رہے ہیں۔ ایک دو روہ بھی تھا جب اسی خطہئ ارضی پر ڈاکٹر سید محی الدین قادری زو رؔجیسے محب دکن اور دکنیات نے ادارہ جاتی سطح پر نوجوانوں کی ایسی کھیپ تیار کی تھی کہ تحقیق‘ تنقید‘ شاعری سے لے کر پیشہئ تدریس غرض ہر میدان میں زور ؔ صاحب کے شاگرد نظر آتے تھے۔ اسے بھی وقت اور حالات کی بد بختی کہیے کہ پھر ان کے بعد آج تک ”ارض دکن“ کو ایسا مخلص وبے یارہنما نصیب نہیں ہوا۔ جس نے دکنی فن پاروں کی نہ صرف باز یافت کی بلکہ دکن کے قریے قریے، گاؤں گاؤں گھوم کر قلمی مخطوطات کو یکجا کیا۔

دکن کی کھوئی ہوئی عظمت رفتہ کو بحال کیا اور ثابت کردیا کہ دکن آج بھی ہیروں کی کان ہے۔ اس میں سیکڑوں کی تعداد میں زمانہ حال میں نا ترا شیدہ ہیرے موجود ہیں بس ذرا انہیں جوہری کی ضرورت ہے۔ فراخ دلی، علمی بصیرت اس سے بڑھ کر اپنی زمین، بولی، تہذیب وثقافت کو جب کسی علاقہ کے لوگ نظر انداز کردیتے ہیں تو ان پر دیگر علاقوں کے نظریات کا غلبہ طاری ہوجاتا ہے اس طرح وہ اپنی اصل سے دور ہوجاتے ہیں۔ بدقسمی سے آج ”علاقہئ دکن“ بھی ایسے ہی حالت کا شکار ہوگیا ہے۔ مجھے قوی یقین ہے کہ ڈاکٹر محمد غوث، علمی وادبی سطح پر ڈاکٹر زور کے نقش قدم پر چلیں گے۔

آج تلنگانہ اسٹیٹ اردو اکیڈیمی کو پہلے سے زیادہ متحرک ہونے کی ضرورت ہے کیوں کہ دن بہ دن اردو کا دائرہ سمٹتا جارہا ہے۔ان حالات میں نوجوان طبقہ‘ اردو اداروں اور ان کی کارکردگیوں سے مایوس ہوچکا ہے۔ غنیمت ہے کہ ڈاکٹر صاحب جیسی مخلص شخصیت ایک مقتدر عہدہ پر فائز ہے جو ایک نئے عزم وحوصلہ کے ساتھ کچھ کر گزرنے کا جذبہ رکھتی ہیں۔

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.