میں اور تم گر’’ہم‘‘ ہوجائیں…

ہماری سوچ اتنی گھٹیا ہوگئی ہے اورہم ایمان سے اتنے دورہوگئے ہیں کہ ہم جوکچھ بھی کررہے ہیں وہی صحیح سمجھ رہے ہیں۔

مظہر قادری

چنوبھائی کہتے ہیں: جب کسی قوم میں برائیاں اس حدتک بڑھ جاتی ہیں کہ اس کے نابودہوجانے کا امکان پیدا ہوجاتاہے توا س قہر سے سبق حاصل کرکے وہ قوم اپنا سدھا رکرلیتی ہے ۔آج ہماری قوم میں بھی اسلام سے دوری کی وجہہ سے ہرقسم کی برائی سرائیت کرگئی ہے ۔اب ہماری قوم کے لئے شراب ،گانجہ،جوا ،عیاشی ،مارپیٹ غندہ گردی ،قتل وغارت گیری ایک عام بات ہوگئی ہے ۔

جس قوم سے ساری دنیا ڈرتی تھی ،آج وہ دنیا کی ہرقوم سے ڈر رہی ہے ۔جہالت ،جھوٹی شان ،انا پرستی ، دوسروں کی ٹانگ کھینچنا ،زرپرستی وغیرہ وغیرہ،غرض کہ ہربرائی میں ہم ملوث ہوگئے ہیں ۔ساری دنیا کی قومیں اپنے دماغ سے ترقی کررہی ہیں لیکن ہم صرف زبان بازی میں آگے ہیں اورصرف جذبات سے سوچتے ہیں ۔ہم اپنوں کو گرا نے کا کوئی موقع کھونا نہیں چاہ رہے ہیں۔

دنیا کس طرف جارہی ہے ہم کس طرف جارہے ہیں ۔قوم کے نام نہادرہنما بس صرف اپنی بڑائی کا ڈنکا پیٹ رہے ہیں ۔ہرکوئی ایک نیا راستہ دکھاکرقوم کو بھٹکارہاہے ۔پہلے زمانے کے مسلمانوںکے لئے اماں باوا جو سکھاتے وہی اسلا م رہتاتھا اوراس پر وہ سختی سے عمل کرتے تھے اورآنے والی نسلوںکو بھی اس کی تربیت دیتے تھے اورسچے مسلمان ر ہتے تھے۔

متعلقہ

لیکن اب اتنے نام نہادملا پیداہوگئے ہیں کہ ہرکوئی اسلام کی ہربات کو اپنے اپنے طریقے سے تاویلات دے کر اپنی سستی شہرت حاصل کرنے کے لئے ایک عام مسلمان کے دماغ کوپراگندہ کر رہاہے ،ہرکوئی میری بات سنو کہہ رہاہے ۔پہلے کم معلومات تھے،ایمان پختہ تھا لیکن اب میڈیامیں اپنی سستی شہرت حاصل کرنے کے لئے ہرکوئی ایک چیز کو مختلف طریقوںسے بیان کر کے عام ذہن کوConfuseکر رہاہے ۔انگریزی کی ایک مشہورکہاوت ہے کہ Education is man’s going forward from cocksure ignorance to thoughtful uncertainty.یعنی ہماری تعلیمات اب حتمی لاعلمی سے مشکوک علمی میں بدل گئی ہے۔اب ہمیں حرام ،حلال کا فرق نہیں سمجھ میں آرہاہے ۔

ہماری سوچ اتنی گھٹیا ہوگئی ہے اورہم ایمان سے اتنے دورہوگئے ہیں کہ ہم جوکچھ بھی کررہے ہیں وہی صحیح سمجھ رہے ہیں۔شراب حرام ہے ہم شراب پی رہے ہیں ،زِنا حرام ہے ہم زِنا کررہے ہیں ،سود حرام ہے اورآج ہم میں سے کچھ کا وہ پیشہ ہوگیا ہے ۔عورتوںپر ظلم حرام ہے لیکن ہم اپنے گھروںکا ماحول دیکھ سکتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں برائی اس حدتک سرائیت کرگئی ہے کہ وہ اب ہم کو برائی نہیں دکھ رہی ہے بلکہ فیشن اورتقاضہ وقت نظرآرہاہے ۔آج ایمان کا صحیح درس دینے والا مخبوط الحواس نظرآرہاہے ۔ہرآدمی اپنی سوچ کے حساب سے اپنے ایمان کی دواینٹ کی مسجد بنارہاہے ۔بدقسمتی سے اب اسلام آفاقی مذہب سے زیادہ ذاتی مذہب بن گیا ہے کہ حسب ضرورت بنایا جا رہاہے۔

اب ہم صرف نام کے مسلمان رہ گئے ہیں ، ہمارے قابل رہنما جھوٹی شہرت کے لئے وقت بے وقت شوشے چھوڑکر مسلمانوںکادائرہ حیات روز بروز تنگ کرتے جارہے ہیں ۔آج ہم یہ نہیں سوچ رہے ہیں کہ ہمارے دشمن ہم کو ورغلاکر ہمارے منہ سے غیر غلط باتیں نکلواکر پھر ہمیں گھیر کر کس طرح رسواکررہے ہیں ۔جس طرح چاروںطرف سے جنگل میں ہاکاکرکے شیرکو گھیر کر ماراجاتاہے ،آج ہماری قوم کے ساتھ بھی یہی حکمت عملی کی جارہی ہے اورہمیںطیش دلاکر پھروبال کھڑا کیا جارہاہے۔

ہم ہرروز اخبا رکی یہ سرخی دیکھتے ہیں کہ بھائی نے بھائی کا یابیوی نے میاں کا یاشوہر نے بیوی کا قتل کردیا ،اوردوسرے دن کی سرخی رہتی کہ قاتل گرفتارہوگیا اورسزابھی ہوگئی ،یہ سب اتنی تیز ی سے ہوتاکہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے ۔ ہماری اس حرکت سے اپنے ہی قوم کے آدمی کی ایک طرف جان چلی جاتی اور دوسری طرف سارے لوگ جو اس میں ملو ث رہتے ،فوری جیل میں ڈال دیے جاتے ہیں،بہت آسانی سے ہم اپنی قوم کو کم کرتے جارہے ہیں ۔ایسا دوسروںکے ساتھ نہیں ہوتا۔

آپ کا کوئی فائدہ ہونے کا مقدمہ فوری حل نہیں ہوتالیکن نقصان ہونے کا مقدمہ فوری حل ہوجاتا ۔اب شاید وہ دن دورنہیں کہ ہمارے جرم کی اطلاع دودن میں چھپنے کے بجائے ایک ہی دن میں ابھی جرم کیا اورابھی گرفتارہوا اورجیل ہوگئی پڑھنے کوملے … ایک مسلمان صرف اپنے بھائی دوسرے مسلمان ہی کو دھوکا دے کریابیوقوف بناکر لوٹ رہاہے اوراس پر کئے گئے بھروسے کا ناجائز فائدہ اٹھارہاہے۔

ہم غیر قوم کے آدمی کو نہیں لوٹ سکتے کیوںکہ وہ آپ پر نہ توبھروسہ کرتا ہے اورنہ ہی آپ کو نزدیک آنے دیتا ہے۔ ہمارے اخلاق ،کرداراورحرکتیں اتنی گرگئی ہیں کہ ہم غیر قوم کے لئے شجرممنوعہ ہوگئے ہیں ۔یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ جوقوم امین کے نام سے مشہورتھی وہ دھوکے بازوںکی فہرست میں شامل ہوگئی ہے ۔پہلے ہم سرفروش تھے لیکن اب ضمیر فروش ہوگئے ہیں۔

مسلمان کی شان اس کی سادہ ز ندگی تھی لیکن ہم پرتعیش زندگی کی حرص میں اپنا دین اوردنیا دونوںبر بادکررہے ہیں ،جس قوم کے کردا رپر دوسری قومیں مثالیں دیا کرتی تھیں آج اس قوم پر لوگ انگلیاں اٹھارہے ہیں ۔اب بھی وقت ہے کہ ہم سنبھل جائیں،اپنی ماضی کی مذہبی عظمتوںکو پھر جلابخشیں ،اپنا کردارسدھاریں ،اپنے اس کردار کو واپس لائیں جس کے سامنے دنیا کی ہربڑی سے بڑی غیرقوم کی گردنیں جھک جاتی تھیں۔

صرف نام کے مسلمان نہیں بلکہ سچے مسلمان بنیں اور وہ لوگ سچے مسلمان تھے تبھی ساری دنیا میں اپنے کردا رسے پھیلا تھا ۔ ہماری قوم کی بقا اسی میں ہے کہ ہم جو آج مختلف مسلکوںجیسے سنی ،شیعہ ،دیوبندی ،تبلیغی ،جماعتی ،اہل حدیث وغیرہ وغیرہ سے اوپر اٹھ کر پہلے کی طرح اگراپنے آپ کو صرف ملت اسلامِ واحد سمجھیں اورتواورمیں کے فرق کو مٹاکر ’’ہم ‘‘بن جائیں توپھر ہم ہرجگہ ماضی کی طرح سرخروہوجائیں گے ۔۔۔

٭٭٭

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.