پرانے شہر کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے…

بچپن میں ہمارے محلہ میں ایک گراونڈ تھا جہاں محلہ کے بچے کھیل کود لیا کرتے تھے۔ کبڈی کے میچس کرکٹ ٹورنمنٹس ، گلی ڈنڈا وغیرہ وغیرہ گویا یہ گراونڈ محلہ کے بچوں کا کھیل کود کا ایک مرکز تھا۔

محمد اسمٰعیل واجد

قدیم محاورہ ہے ’’پڑھیں گے لکھیں گے تو ہوں گے نواب، کھیلیں گے کودیں گے تو ہوں گے خراب‘‘ جیسا کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہر چیز بدل رہی ہے اسی مناسبت سے اب قدیم محاوروں پر تکیہ نہیں کیا جاسکتا …موجودہ دور میں بچوں اور نوجوانوں کیلئے تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیل کود بھی نہ صرف صحت کیلئے بلکہ درخشاں مستقل کی جانب انہیںلے جاسکتا ہے ۔ایسی چند مثالیں ہمارے شہر میں ہی موجود ہے کہ کس طرح کھیل کے میدان نے نہ صرف ان کے مستقبل کو درخشاں کیا بلکہ بین الاقوامی سطح پر ان کو شہرت اور دولت سے نوازا ۔

ہمیں سمجھ میں نہیں آتا کہ ہم یہاں آخر کس کس کاذکر کریں دوچار شخصیتیں تو ہمارے شہر کی ساری دنیامیں بڑی معروف ہیں جیسے کرکٹ میں محمد اظہر الدین جو ہمارے شہر کے ہی میدانوں سے ابتداء کی اورپھرا نڈین کرکٹ ٹیم میں شامل ہوئے اور عالمی ریکارڈ بنائے اوردیکھتے ہی دیکھتے وہ انڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان بن گئے اورایک کامیاب کپتان ثابت ہوئے ایک اورحیدرآبادی کرکٹ کھلاڑی ارشد ایوب کرکٹ کی دنیا میں عالمی سطح پر شہرت حاصل کی تھی۔

موجودہ دور میں ایک اورشخصیت قدیم محاورہ کے برعکس ایک نئی مثال بنائی اور ہمارے شہر کی گلیوں اور میدانوں میں کھیل کود کر کرکٹ کی دنیا میں عالمی شہرت حاصل کرنے والے کھلاڑی محمد سراج ہے جن کی صلاحیتوں پرآج نہ صرف سارے شہر کو بلکہ ہندوستان کو نازہے۔ ایک اورٹینس کھلاڑی ثانیہ مرزا جن کی صلاحیتوں پر شہر حیدرآباد اتراتا ہے جس نے ٹینس کی دنیا میں مقبولیت کی نئی بلندیوں کو چھوا۔ اور بھی کھیل کی دنیا کی بہت سی شخصیتیں ہیں جو ہمارے شہر کی ہی ہیں جو اپنی محنت اور کاوشوں سے عالمی شہرت حاصل کی جن کی شہرت کو دیکھ کر مشہور شاعر بشیر بدرؔ کا یہ شعریاد آتا ہے

متعلقہ

ہم بھی دریا ہیں ہمیں اپنا ہنر معلوم ہے
جس طرف بھی چل پڑیں گے راستہ ہوجائے گا

لیکن کھیل کود کے میدان میں راستے کیسے نکلیں گے؟ یہی سوال موجودہ دور کا سب سے اہم سوال ہے… ریاستی حکومت کے پاس شائد ہی کوئی ایسی اسکیم ہو جو کھیل کود کوفروغ دے۔ پرانے شہر میں توحکومت کی کونسی اسکیم کب آئی اور اس کے کیا فوائد ہیں، یہ شاید چند شہریوں کو ہی پتہ ہوتا ہے ،اس کے فوائد اٹھانا تودور کی بات ہے۔

بنیادی بات یہ ہے کہ پرانے شہر میں کھیل کود کے میدانوں کی بے انتہا کمی ہے جو تھے ان میںسے بیشتر پر لینڈگرابرس نے قبضہ کردیا۔ ہمارے بچپن میں ہمارے محلہ میں ایک گراونڈ تھا جہاں محلہ کے بچے کھیل کود لیا کرتے تھے۔ کبڈی کے میچس کرکٹ ٹورنمنٹس ، گلی ڈنڈا وغیرہ وغیرہ گویا یہ گراونڈ محلہ کے بچوں کا کھیل کود کا ایک مرکز تھا۔

اس گرائونڈ کے ایک جانب پتھر کی ایک سیل نصب تھی جس پر اردو میں تحریر تھا ’’علاقہ بلدیہ‘‘ اس گراونڈ پر لینڈگرابرس کی نیت بدل گئی بچوں کے کھیل کود پر روک ٹوک کی باتیں ہونے لگیں اس کے بعد راتوں رات علاقہ بلدیہ جس پتھر پر تحریر تھا اسے زمین کھود کراکھاڑدیا گیا اورآہستہ آہستہ منصوبہ بند طریقے سے یہ بچوں کے کھیلنے کا گراونڈ مکان میں بدل گیا۔ یہ تقریباً چار دہے قبل کی بات ہے یہ تو ایک قدیم واقعہ ہے، ایسے بے شمارواقعات پرانے شہر میں رونما ہوئے جن میں املی بن گرلز ہائی اسکول کا گراونڈ بھی تھا گرائونڈ توکہیں گمشدہ ہوگیا اب یہاں آبادی ہے۔

ذہن پر بوجھ ڈالیں تو ایسے واقعات کاایک تسلسل یاد آجائے لیکن کہاجاتا ہے ’’گڑھے مردے اکھاڑنے سے کیا فائدہ‘‘ شاید یہ ایک حقیقت بھی ہولیکن ماضی کو فراموش بھی نہیں کیا جاسکتا ۔بچپن کی بات ہے جب ہم مغلپورہ نمبر1پرائمری اسکول کے طالب علم ہوا کرتے تھے اورصبح کی اولین ساعتوں میںہم اپنے بڑے بھائی محترم کا ہاتھ تھامے ہرے بھرے مغلپورہ چمن سے ہوکر کچھ پل ہی سہی تازگی کی ہوالیتے ہوئے اسکول جایا کرتے تھے۔

باشعور ہوئے مغلپورہ پلے گرائونڈ کے حالات بدلنے لگے، یہاں کے ہرے بھرے کیاریوں کو مرجھاتے دیکھا ،کھیل کود کے ماحول میں بھی کمی آنے لگی… آہستہ آہستہ یہ پلے گرائونڈ سیاسی یا مذہبی جلسوں کا منظر پیش کرنے لگا اور پھر اس مقام پر سیاسی رنجشوں کے واقعات بھی پیش آنے لگے ایک دہے سے زائد عرصہ تک اس پلے گرائونڈ پر ایسے ہی حالات رہے…

چند سالوں کے بعد فیصلہ کیاگیا کہ مغلپورہ پلے گرائونڈ کو مغلپورہ اسپورٹس کا مپلکس میں تبدیل کیاجائے تاکہ پرانے شہر کے نوجوانوں میں اسپورٹس کا شوق بڑھے اور وہ مختلف کھیلوں کی طر ف راغب ہوں اس نظریے کے تحت تین منزلہ مغلپورہ اسپورٹس کامپلکس تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا۔

2017ء میںوزیر بلدی نظم ونسق کے ٹی راما راو نے مغلپورہ اسپورٹس کامپلکس کی تین منزلہ بلڈنگ کا افتتاح کیا یہاں17 مختلف کھیلوں کے انتظامات کئے گئے تھے۔ فٹبال،ہاکی،والی بال، اسکیٹنگ، یوگااور سوئمنگ پل(تیراکی) بھی تھی پرانے شہر کے نوجوان خوش تھے کہ چلو حکومت نے یہاں نوجوانوں کے کھیل کود کے جذبے کو ابھارنے کیلئے قدم تو اٹھایا ،پھر آہستہ آہستہ حکومت کی دلچسپی مغلپورہ اسپورٹس کامپلکس میں کم دکھائی دینے لگی۔

پچھلے تقریباً دو سال سے کووڈ کے نام پرسوئمنگ پل بندکردیا گیا اور دوسری کھیل کود کی مصروفیات نہیں کے برابر ہوگئیں۔ اب یہاں مغلپورہ اسپورٹس کامپلکس میں محکمہ بلدیہ کے دفاتراور پولیس بیارکس کام کررہے ہیں۔ کامپلکس میں گندگی، بیاڈمینٹن اورٹینس کی جالیاں اب کپڑے سکھانے کا کام کررہی ہیں، بیشتر جگہوں پر کچہرے کے ڈھیر کے مناظر دکھائی دیتے ہیں، چھت پر شراب کی بوتلیں اور خمار بازی کاثبوت دیتے ہوئے۔

یہاں پتوں کے کارڈس بکھرے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک ہال میں پکوان کے انتظامات ہیں،گیس سلنڈرس، پکوان کے برتن بکھرے پڑے ہیں ان حالات میں کوئی یہ مطالبہ کرے کہ یہاں کوچ کی جائیدادیں مخلوعہ ہیں ان پر حکومت تقرر کرے تو بھلا اس سے بچکانی بات اورکیا ہوگی؟ مذکورہ اسپورٹس کامپلکس کے ان پیچیدہ حالات پر حضرت سعید شہیدیؔ کا یہ شعر یادآتا ہے؎

دعا کرو کے ہمیشہ رہے پھلا پھولا
کسی درخت کے سائے میں گرقیام کرو

یوں تو پرانا شہر مسائل سے بھرا پڑا ہے، اس کے سر میں جتنے بال اس سے کہیں زیادہ مسائل ہیں ۔ بلدی ، آبرسانی، برقی مسائل روز کا معمول ہے اوران مسائل کے شاید شہری عادی بھی ہوگئے ہیں ۔ پرانا شہر جس کی آبادی میں دن بہ دن اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے کل تک جوویرانے تھے وہاں آبادیاں پھیل گئیں۔

زمین کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں، کھیل کود کے جہاں میدان تھے ان کا حشر کیاہوا؟ یہ کہنے کی ضرورت نہیں… ایسی ہی حکومت یا بلدیہ کی غفلتوں نے پرانے شہر میں نوجوانوں کے کھیل کود کی سرگرمیوں کو ایک مسئلہ بنادیا …

مغلپورہ اسپورٹس کامپلکس پرانے شہر کے نوجوانوں کو کھیل کود اور صحت کو برقرار رکھنے میں حکومت کاایک اہم قدم تھا لیکن افسوس حکومت ہی یہاں بلدیہ کے دفاتر، پولیس بیارکس بناکر یہاں کی اسپورٹس سرگرمیوں کو ختم کرنا چاہ رہی ہے تو یہ پرانے شہر کے نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی…

ہوناتویہ چاہیے تھا کہ حکومت اسپورٹس کی سرگرمیوں کو پرانے شہر میں فروغ دیتی،کیونکہ یہاں کہ نوجوانوں میںصلاحیتیں ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو ابھارا جائے، کیاپتا کل ان میں سے بھی کوئی کسی شعبے میں بین الاقوامی شہرت حاصل کرلے۔

٭٭٭

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.