پروفیسر بیگ احساس سے ایک انٹرویو

ساہتیہ اکیڈیمی نے ان کی تصنیف دخمہ کو ایوارڈ سے سرفراز کیا اور اردو اکیڈیمی تلنگانہ نے انہیں مخدوم ایوارڈ سے نوازا۔ تدریس، تنقید، تحقیق اور فکشن کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔

جھلکیاں
  • میں اپنے والدین کا سب سے چھوٹا اور اکلوتا لڑکا ہوں جو سات لڑکیوں کے بعد پیدا ہوا۔ ظاہر ہے بہت ہی لاڈ و پیار سے پرورش ہوئی۔
  • جب ایم اے کررہا تھا تو ڈاکٹر زینت ساجدہ، ڈاکٹر مغنی تبسم، ڈاکٹر حفیظ قتیل اور ڈاکٹر یوسف سرمست وغیرہ اساتذہ میں شامل تھے۔
  • پی ایچ ڈی کی تکمیل سے قبل ہی ڈاکٹر زینت ساجدہ کے دور صدارت میں 1984ء میں بحیثیت لکچرار تقرر ہوگیا۔

مضمون نگار: محبوب خان اصغر

اردو فکشن، تحقیق و تنقید اور تدریس کے حوالے سے عصر حاضر کی مشہور علمی و ادبی شخصیت پروفیسر بیگ احساس ادبی منظرنامے میں بہت ہی نمایاں ہیں۔ ان کے تین افسانوں کے مجموعے خوشہ گندم، حنظل اور دخمہ ادبی حلقوں میں بہت مقبول ہوئے۔ کشن چندر پر پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا اور تنقیدی مضامین پر مشتمل کتاب ’’شور جہاں‘‘ کے خالق ہیں۔ صدر شعبہ اردو جامعہ عثمانیہ و یونیورسٹی آف حیدرآباد رہے۔

ساہتیہ اکیڈیمی نے ان کی تصنیف دخمہ کو ایوارڈ سے سرفراز کیا اور اردو اکیڈیمی تلنگانہ نے انہیں مخدوم ایوارڈ سے نوازا۔ تدریس، تنقید، تحقیق اور فکشن کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔

محبوب خان اصغر: اپنی ابتدائی زندگی اور حصول تعلیم کے متعلق کچھ بتائیے؟

بیگ احساس: میں اپنے والدین کا سب سے چھوٹا اور اکلوتا لڑکا ہوں جو سات لڑکیوں کے بعد پیدا ہوا۔ ظاہر ہے بہت ہی لاڈ و پیار سے پرورش ہوئی۔ والد صاحب محکمہ کروڑ گیری میں مہتمم تھے۔ جب میں عمر کے آٹھویں برس میں تھا، دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے والد صاحب کا اچانک انتقال ہوگیا۔

متعلقہ

پھر تو سب کچھ بدل گیا۔ بڑی بہنوں نے پوری کوشش کی کہ مجھے یتیمی کا احساس نہ ہونے پائے۔لیکن حقیقت تو حقیقت ہوتی ہے۔ میٹرک کرنے کے بعد میں نے تعلیم جاری رکھنے کی بجائے ملازمت کرنے کو ترجیح دی۔ آخرکار 21 برس کی عمر میں اپنے بہنوائی کی مدد سے اگریکلچرل یونیورسٹی میں باقاعدہ ملازم ہوگیا۔ اس زمانے میں ایوننگ کالج ملازمت کرنے والوں کے لیے کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم نہ تھا۔

ایوننگ کالج سے تعلیم جاری رکھی۔ 1976 میں بی۔اے اور 1979 میں ایم اے (اردو) میں امتیازی کامیابی حاصل کی۔ یونیورسٹی آف حیدرآباد میں شعبہ اردو قائم ہوا۔ پی ایچ ڈی میں داخلوں کا اعلان ہوا تو وہاں داخلہ لیا۔ نامور محقق پروفیسر گیان چند جین کے زیر نگرانی پی ایچ ڈی کا مقالہ ’’کرشن چندر: شخصیت اور فن‘‘لکھا۔ پروفیسر محمد حسن اور پروفیسر گوپی چندنارنگ ممتحن مقرر ہوئے۔ نظریاتی اختلاف کے باوجود دونوں نے مقالے کو سراہا۔

1985ء میں یونیورسٹی کے پہلے کانوکیشن میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ 1993 ء میں یہ مقالہ شائع ہوسکا۔ پروفیسر گوپی چند نارنگ نے اس کو کرشن چندر پر لکھا گیا بنیاد گزار مقالہ قرار دیا۔ نامور محقق جناب رشید حسن خاں کے ہاتھوں اس کی رسم اجرا ہوئی۔ انہوں نے بھی مقالے کی تعریف کی۔

س: تخلیقی سفر کب اور کیسے شروع ہوا ؟

ج: والد صاحب رسالہ ’’نظام المشائخ‘‘ پابندی سے منگواتے تھے۔ جس میں ایک اصلاحی ناول قسط وار شائع ہوتا تھا۔ لائبریری سے روزانہ ایک ناول منگواکر ہماری بہن باآواز بلند سناتی تھیں۔ ’’شمع‘‘ ’’افشاں‘‘ ’’انور‘‘ انہیں کی زبانی سنیں۔ صادق حسین سردھنوی کے تمام ناول بشمول ’’آفتاب عالم‘‘ سنے۔

گھر میں ’نور‘ اور ’کھلونا‘ منگوائے جاتے تھے۔ لائبریری میں ’گھسیٹا کی بھتنا شاہی‘ جیسی چھوٹی چھوٹی کتابیں پڑھیں۔ ’چڑیوں کی الف لیلیٰ‘، ’الٹا درخت‘ ’’کھلونا‘‘ میں قسط وار شائع ہوتے تھے۔ چھٹی جماعت سے جاسوسی دنیا، رومانی دنیا اور شمع کا چسکا لگا۔ جب بھی تمام خالہ زاد بہن بھائی مل کر بیٹھتے کتابوں اور رسائل کی باتیں ہوا کرتیں۔ اخباروں میں ’’بچوں کا صفحہ‘‘ کے لیے کہا نیاں بھیجا کرتا۔ جو کبھی شائع ہوتیں کبھی واپس کردی جاتیں۔

میری ایک خالہ زاد بہن جو نہ ناول پڑھتی تھیں اور نہ ہماری گفتگو میں حصہ لیتی تھیں، بی۔اے کرنے کے بعد ’’خاتون مشرق‘‘ میں افسانے لکھنے لگیں تو بڑی شرم محسوس ہوئی۔ ایک افسانہ ’’سراب‘‘ لکھ کر ماہنامہ ’بانو‘ کو بھیجا۔ جو شائع ہوگیا۔ معاوضہ بھی ملا۔ اس کے بعد ’بانو‘ میں کچھ افسانے لکھے۔ بیسویں صدی، شمع، بانو، روبی میں بھی افسانے شائع ہونے لگے۔

س: پہلا افسانہ کون سا تھا؟

ج: پہلا افسانہ ’’سراب‘‘ ہی تھا۔ لیکن وہ ابتدائی کوشش تھی۔ اس افسانے کو میں نے اپنے پہلے افسانوی مجموعے میں شامل بھی نہیں کیا۔ لیکن افسانوں کی وجہ سے ادبی حلقوں میں پہچانا جانے لگا۔ بعد میں ادبی رسائل میں افسانے بھیجے ’’اندھیری دھوپ‘‘ وہ پہلا افسانہ ہے جو ماہنامہ ’’کتاب‘‘ میں شائع ہوا۔

’’خوشۂ گندم‘‘ تحریک میں شائع ہوا۔ شہر کی ادبی انجمنوں میں بلایا جانے لگا۔ ادیبوں شاعروں سے متعارف ہوا۔ ایک انجمن ’’معمار ادب‘‘ کے نام سے بنائی جس کے صدر مشہور مزاح نگار جناب نریندر لوتھر آئی اے ایس تھے، نائب صدور جناب عابد علی خاں (ایڈیٹر سیاست) جناب رحمت علی (ممبر پارلیمنٹ) مشہور افسانہ نگار اقبال متین اور جناب ویدپرکاش وساج (میئر بلدیہ) تھے۔ دوسرے نوجوان ساتھی مختلف عہدوں پر تھے اور میں جنرل سکریٹری رہا۔

شہر میں اس انجمن کا کافی چرچا رہا۔ ہر مکتب فکر کے ادیبوں و شاعروں کو مدعو کیا جاتا۔ جب میں تعلیم کی طرف متوجہ ہوگیا اور لوتھر صاحب نے اپنا تبادلہ آگرہ کروالیا تو انجمن کی سرگرمیاں ختم ہوگئیں۔

س: مقالے کی تکمیل کے دوران آپ کو اس عہد کے بڑے بڑے افسانہ نگاروں کو پڑھنے کا موقع ملا ہوگا۔ اپنے تجربات اور احساسات بیان کیجیے۔

ج: جب ایم اے کررہا تھا تو ڈاکٹر زینت ساجدہ، ڈاکٹر مغنی تبسم، ڈاکٹر حفیظ قتیل اور ڈاکٹر یوسف سرمست وغیرہ اساتذہ میں شامل تھے۔ اسی زمانے میں ڈاکٹر زینت ساجدہ کی حوصلہ افزائی سے پہلا افسانوی مجموعہ ’’خوشہ گندم‘‘ اردو اکیڈمی کے مالی تعاون سے شائع ہوا۔

یونیورسٹی آف حیدرآباد آیا تو یہاں پروفیسر گیان چند جیسے محقق اور ڈاکٹر سید مجاور حسین رضوی (ابن سعید) جیسے اساتذہ ملے۔ کرشن چندر پر تحقیق کے دوران ادبی پس منظر والا باب لکھنے کے لیے افسانے کا بالا ستیعاب مطالعہ کیا۔ ایک طرف روایت سے آگہی حاصل ہوئی دوسری طرف علامت اور استعارے کی اہمیت کا بھی اندازہ ہوا۔

س: جدید ادب کی جانب آپ کی رغبت کی وجہ کیا ہے ؟

ج: پی ایچ ڈی کی تکمیل سے قبل ہی ڈاکٹر زینت ساجدہ کے دور صدارت میں 1984 ء میں بحیثیت لکچرار تقرر ہوگیا۔ پروفیسر مغنی تبسم حیدرآباد لٹریری فورم (حلف) کے صدر تھے اور پروفیسر غیاث متین جنرل سکریٹری۔ دونوں نے اصرار کیا کہ ’حلف‘ کا ممبر بن جائوں۔ حلف جدید ادیبوں اور شاعروں کی انجمن تھی۔

اس وقت کا غالب رجحان یہی تھا۔ حیدرآباد کے ادیبوں اور شاعروں نے کبھی انتہاپسندی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ تمام اچھے ادیب و شاعر حلف کے رکن تھے۔ اردو انگریزی کے دانشور بھی اس سے وابستہ تھے۔ میں ایک لمے عرصے تک اس کا جنرل سکریٹری رہا۔

ہمارے جدید نقادوں نے حیدرآباد کے فن کاروں کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ ویسی توجہ نہیں دی جس کے وہ مستحق تھے۔ بعد میں ’شب خون‘ کا انتخاب شائع ہوا تو اس میں حیدرآباد کے کئی فن کار شامل نہیں تھے۔ میں نے تو خیر کبھی ’شب خون‘ میں شائع ہونے کی کوشش نہیں کی۔

س: ترقی پسند تحریک کے زوال پذیر ہونے کی وجہ کیا ہے ؟

ج: اس پر کافی لکھا جاچکا ہے۔ سب سے پہلے حیدرآباد کے رسالے ’صبا‘ میں ’سخن گسترانہ بات‘ لکھ کر وحید اختر نے ہی ترقی پسند تحریک پر سوال قائم کیے تھے۔ اب تو ترقی پسند تحریک کی مخالفت میں ابھرنے والے رجحان جدیدیت کو بھی زوال آگیا۔ ہر تحریک اور رجحان اپنا رول پورا کرکے ختم ہوجاتے ہیں ان کے مثبت پہلو روایت کا حصہ بن کر باقی رہ جاتے ہیں۔

س: پھر موجودہ عہد کو آپ کس رجحان اور تحریک سے وابستہ سمجھتے ہیں؟

ج: مابعد جدیدیت کے بعد تو کوئی نیا نظریہ وجود میں نہیں آیا۔

س: مابعد جدیدیت کیا ہے۔ اس کا عمل ادب میں کس طرح موجود ہے ؟

ج: مابعد جدیدیت ایک صورت حال ہے۔ ادب، آرٹ، اور فکر کے نئے رویوں کے لیے اس اصطلاح کا استعمال کیا جاتا ہے۔ موجودہ دور کسی ایک نظریۂ ادب کا نہیں نظریے ہائے ادب کا ہے۔ ساختیات، پس ساختیات، قاری اساس تنقید، روتشکیل، تانیثیت، نئی تاریخیت، بچھڑے ہوئے طبقات کا ادب سب اسی زمانے میں سامنے آئے۔ ایک عرصے سے نہ ویسی شاعری کی جارہی ہے اور نہ افسانہ لکھا جارہا ہے۔

جیسا جدیدیت کے دور میں لکھا گیا۔ مابعد جدیدیت مقامیت، ثقافتی تشخص، تکثیریت، دبے کچلے عوام، نسوانی آزادی اور جڑوں کی تلاش پر زور دیتی ہے۔ ناول کا دور واپس آیا صرف 2000 سے 2016ء تک 55 سے زیادہ ناول لکھے گئے۔ جامعات میں بھی تانیثیت، دلت ادب اور ثقافتی حوالوں سے کام ہورہا ہے۔ تنقید بھی لکھی گئی۔ تھیوری پر بھی مضامین شائع ہوئے۔ ایک کھلی فضا کا احساس ہوا۔

لیکن اب پھر منظر نامہ بدل رہا ہے۔ حاشیے سے جو مرکز میں آرہے تھے وہ پھر سے حاشیے پر ڈھکیل دیئے گئے۔عالمی منظر نامہ بھی تبدیل ہورہا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے دنیا میں پھر سے ڈکٹیٹر شپ کا دور آنے والا ہے۔

س: آپ کے صرف تین افسانوی مجموعے منظر عام پر آئے کم لکھنے کی کیا وجہ ہے ؟

ج: میرا تھیسس ’’کرشن چندر شخصیت اور فن‘‘، تنقیدی مضامین کا مجموعہ ’’شورِ جہاں‘‘ بھی شائع ہوئے۔ چار برس تک عثمانیہ یونیورسٹی میں اور چھ برس تک یونیورسٹی آف حیدرآباد میں صدر شعبہ اردو رہا۔ ان دنوں عثمانیہ یونیورسٹی میں 18 سے زیادہ تدریسی عملہ تھا۔ تین پی۔ جی سنیٹر تھے۔ افسوس اس عظیم یونیورسٹی میں اب صرف دو پروفیسر اور دو لکچرار رہ گئے ہیں۔ ایک لکچرار صدر شعبہ اردو ہے۔

جب تک کوئی کہانی مجھے لکھنے پر مجبور نہیں کرتی میں نہیں لکھتا۔ میں خود کو دہرانے سے گریز کرتا ہوں۔ موضوعات کے تنوع کا نقادوں نے بھی اعتراف کیا۔ شاید کرشن چندر پر کام کرنے کی وجہ سے بھی بسیار نویسی سے گریز کیا۔ بسیار نویسی نے ایک اچھے افسانہ نگار کا قد گھٹا دیا۔ منٹو زیادہ دن زندہ رہتے تو شاید ان کا بھی یہی حشر ہوتا۔

س: شعر و حکمت بہت ہی ضخیم رسالہ تھا، دوجلدوں میں شائع ہوا کرتا تھا۔ گوشے بھی شائع کئے جاتے تھے۔ آپ کا کوئی گوشہ شائع ہوا؟

ج: صلاح الدین پرویز نے بھی مجھ سے یہی سوال کیا تھا۔ میں نے کہا کہ میں گوشوں کا قائل نہیں ہوں۔ مغنی تبسم اور شہریار صاحب سے میری کتنی قربت تھی سبھی جانتے ہیں۔ منع کرنے کے باوجود صلاح الدین پرویز نے استعارہ میں ’’بابِ بیگ احساس‘‘ کے عنوان سے ایک گوشہ شائع کیا۔

ساجد رشید نے بھی ’نیا ورق‘ میں ہمیشہ مجھے بڑی محبت سے شائع کیا۔ دونوں جلد ہی ہم سے بچھڑگئے۔ ’استعارہ‘ کے بند ہونے کا افسوس ہے ’نیا ورق‘ ساجد رشید کے صاحب زادے اور ان کے دوستوں نے جاری رکھا لیکن ساجد رشید کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ ’’شعر و حکمت‘‘بھی مغنی صاحب اور شہریار صاحب کے انتقال کے بعد بند ہوگیا۔

س: اتنا کم لکھنے کے باوجود آپ اکثر نقادوں کی فہرست میں شامل ہیں‘ اس کی کیا وجہ ہے؟

ج: 1980ء کے بعد میرا نام لیا جانے لگا۔ میری کہانیوں کے حوالے دیے جانے لگے۔ نئے اسکالرز متوجہ ہوئے۔ میں نے خود کو جدیدیت کی انتہاپسندی سے بھی دور رکھا اور بے رس اکہرے بیانیہ سے بھی…! جو بھی لکھا بہت سوچ سمجھ کر لکھا۔

س: آپ اپنے افسانوں کے نام اتنے مشکل کیوں رکھتے ہیں جیسے ’’خوشہ گندم‘‘ ’’حنظل‘‘ اور اب ’’دَخمہ‘‘!!

ج: محض اتفاق ہے کوئی شعوری کوشش نہیں ہے۔ بقول مجتبیٰ حسین ’’بیگ احساس نے کم از کم دو مرتبہ مجھ جیسے ضعیف آدمی کو ڈکشنری دیکھنے پر مجبور کیا‘‘ میں نے افسانوں کے وہی عنوان رکھے جو مناسب تھے۔ کم سے کم اردو کا قاری ان الفاظ کے معنی تو تلاش کرے گا۔

س: تنقید کی طرف متوجہ ہونے کی وجہ ؟

ج: جدیدیت کے دور میں بے معنی افسانوں کی تشریح کرکے ایسے فن کاروں کے سرپر عظمت کا تاج رکھ دیا گیا جو کسی کی سمجھ میں نہیں آتے تھے۔ جو بہت جلد خاموش بھی ہوگئے۔ جن میں لکھنے کی صلاحیت تھی۔ انہوں نے خود کو بدلتے ہوئے وقت کے مطابق ڈھال لیا۔ تخلیق کار کی شہرت اور مقام نقاد کے رحم وکرم پر ہوگئے تھے۔نئے لکھنے والوں سے کہا گیا کہ اپنے نقاد خود پیدا کرو۔

ایک وجہ پیشہ تدریس سے وابستگی بھی ہے۔ سمیناروں میں شرکت اور اسکالرز کو گائیڈ کرنے کے لیے بھی تنقید سے دلچسپی پیدا ہوئی۔ مغنی تبسم صاحب، گوپی چند نارنگ صاحب کی رہنمائی۔ وارث علوی صاحب اور شمیم حنفی صاحب کے تنقیدی رویے نے بھی متاثر کیا۔ اب تو باضابطہ نئے نقادوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے اور اچھی تنقید لکھی جارہی ہے۔ ان دنوں میرے علاوہ اور تخلیقی فنکاروں نے بھی تنقید کی طرف توجہ کی تھی۔

س: موجودہ دور میں بے پناہ ناول لکھے جارہے ہیں۔ کیا آپ بھی ناول لکھیں گے؟ موجودہ ناولوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟

ج: اگر جی چاہے گا تو ضرور لکھوں گا۔ بہت سے اچھے ناول لکھے گئے لیکن آج بھی ہماری سب بڑی ناول نگار قرۃ العین حیدر ہیں۔ ان کے فن پر لکھنے کی ہمت ہمارا کوئی نقاد نہ کرسکا یا حق ادا نہ کرسکا۔ قرۃ العین حیدر کے فن تک پہنچنے کے لیے ہماری تنقید کے پر جلتے ہیں۔ بعض ناول نگاروں کے ناولوں پر بہت لکھا گیا لیکن وہ عظیم نہ بن سکے۔

س: افسانے کا موجودہ منظر نامہ … نئے لکھنے والوں سے کیا توقع رکھتے ہیں ؟

ج: بے شمار نئے لکھنے والے آئے ہیں۔ لیکن پاپولر رسائل بند ہوجانے کی وجہ سے بڑا نقصان ہوا۔ اب پاپولر لکھنے والوں اور سنجیدہ لکھنے والوں کے درمیان فرق ہی مٹ گیا۔ اب تمام فن کار صف اول کے لکھنے والے ہیں۔ ایسے میں شناخت بنانا مشکل ہے۔ فیس بک پر افسانہ فورم چل رہے ہیں۔

جو پاپولر رسائل کا نعم البدل ہیں۔ ان افسانوں پر سنجیدہ تنقید نہیں ہوتی نہ اس کی گنجائش ہوتی ہے۔ فوری ردعمل ہوتا ہے۔ جس میں کوشش ہوتی ہے کہ آبگینوں کو ٹھیس نہ لگے۔ اکثر فن کاروں کے ہاں ’’کاتا اور لے دوڑی‘‘ والا عمل ہے۔ افسانچے اور مشہور افسانوں کے متن پر افسانے لکھنے کا بھی چلن ہے لیکن یہ ہماری روایت کا حصہ نہیں بن سکے۔

س: ایک استاد کی ذمہ داری کیا ہوتی ہے ؟

ج: طالب علموں میں ادبی ذوق پیدا کرنا۔ ادب کی سمت ورفتار سے واقف کروانا۔ ان کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانا۔ ایسے مضامین کو دلچسپ بناکر پڑھانا جن سے طالب علم جی چراتے ہیں۔ پڑھاتے وقت اپنی پسند ناپسند کو ترجیح نہ دینا۔ طالب علم کو لگے کہ اس کی معلومات میں اضافہ ہوا ہے۔ کلاس کے باہر بھی ان کی تربیت کرنا۔ ایسے تعصبات کو بالائے طاق رکھ کر ادب کے نئے رجحانات سے باخبر کرنا۔

س: آپ ادبی صحافت سے کب اور کیوں وابستہ ہوئے۔ موجودہ رسائل کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

ج: جن دونوں پی۔ایچ ڈی کررہا تھا ملازمت سے رخصت لینی پڑی۔ اس لیے ایک فلمی رسالے ’’فلمی تصویر‘‘ میں کام کرنے لگا۔ اس کے ادبی حصے کو ترتیب دینے کی ذمہ داری سنبھالی۔ 1998ء میں پروفیسر مغنی تبسم نے ’’سب رس‘‘ کا معاون مدیر بنایا۔

مغنی صاحب نے بیماری کے بعد ادارہ آنا چھوڑدیا اور بطور معتمد ادارہ مستعفی ہوگئے تو 2010ء سے ’سب رس‘ کی ادارت سنبھالی۔ ’سب رس‘ کو نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا۔ ضحامت میں اضافہ کیا جس کے نتیجے میں اشاعت میں بے پناہ اضافہ ہوا۔

ادبی رسائل میں صرف سرکاری اداروں سے ماہنامے شائع ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ شاعر، سب رس، شگوفہ، بیباک، سہیل اور انشاء ہیں۔ سہ ماہی رسائل نکلتے ہیں۔ جن کی تعداد میں کمی و بیشی ہوتی رہتی ہے۔

س: بے حد مشکور ہوں کہ عدیم الفرصتی کے باوجود آپ نے مجھے وقت دیا۔

بہت بہت شکریہ!

………………

توقیت نامہ
نام : محمد بیگ
قلمی نام : بیگ احساس
پیدائش : 10؍ اگست 1984ء
تعلیم: ایم اے (عثمانیہ ) پی ایچ ڈی (یونیورسٹی آف حیدرآباد)
مصروفیات :پروفیسر و صدر شعبہ اردو، عثمانیہ یونیورسٹی
پروفیسر و صدر شعبہ اردو،یونیورسٹی آف حیدرآباد
تصانیف
۱) افسانے :خوشہ گندم، حنظل
۲) تحقیق :کرشن چندر، شخصیت اور فن
۳) تنقید :شورِ جہاں
۴) تعلیم بالغان:بوجھ کیوں بنوں،
مرزا غالب
۵) مونو گراف:شاذ تمکنت
۶) ترتیب :دکنی فرہنگ
۷)انگریزی ترجمہ Twilight of the Mind
(بیگ احساس کی منتخب کہانیاں)
۸) ادارت :سب رس۔ اقبال ریویو
………………
۹) اعزازات :بیسٹ ٹیچر ایوارڈ 2002ء آندھراپردیش اردو اکیڈیمی
کارنامہ حیات ایوارڈ 2009ء آندھراپردیش اردو اکیڈیمی
۱۰) بیرون ملک:پاکستان، لندن اور ریاض
…٭…

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.