’’ہم بھی چپ رہیں گے توبولے گا کون‘‘

شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی اس پر دوسرے ریاستوں سے آئے ہوئے لوگوں کا یہاں سکونت پذیرہوجانا ہماری تہذیب وتمدن کو ٹکڑوں میں بانٹ رہا ہے۔ اس میں دراڑیں ڈال رہا ہے، یہ دراڑیں ہمارے معاشرے میں کہاں کہاں پڑرہی ہیں، اگرہم یہ کہنے لگیں تو شائد یہ مناسب نہیں ہوگا چونکہ یہ ایسا دور ہے جس میں ناجائز رشتوں پر سیرئلس بنانے کی ماہر ایکتا کپور کو پدم شری ایوارڈ سے نوازا جاتا ہے جو ہندوستانی تہذیب پرمغربی تہذیب کو فوقیت دینے کا فن بخوبی جانتی ہے۔

محمد اسمٰعیل واجد
9866702650

’’چارمینار‘‘ شہر حیدرآباد کا دل جس کی شہرت دنیا بھر میںپھیلی ہوئی ہے، 430 سالہ یہ قدیم وتاریخی عمارت جو بانی شہر قلی قطب شاہ کی یادگار نشانی ہے۔ چارمینار اپنی بلندی وخوبصورتی کیلئے دنیا بھر میں جتنی شہرت رکھتا ہے، اتنی ہی شہرت اس شہر کی تہذیب وتمدن نے بنائی… چاہے وہ پیار محبت بھائی چارہ، رہن سہن رکھ رکھائو کی بات ہو،گنگا جمنی تہذیب میں اس شہر کا کوئی ثانی نہیں، ہمارے شہر کی مرغوب غذائیں بھی دنیا بھر میں اپنی علیحدہ شناخت لئے ہوئے مقبول ہیں۔ چاہے وہ کٹھی دال ہویا حیدرآبادی کھچڑی کھٹا قیمہ ہو، حیدرآبادی بریانی تو دنیا بھر میں چارمینار کے بلند میناروں کی طرح مقبول عام ہے۔

لیکن یہاںافسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ پچھلے دودہوں سے زائدعرصہ سے جیسے جیسے شہر کی آبادی بڑھتی جارہی ہے کل تک جہاں ویراں جنگل تھے اب وہاں گھنی آبادیاں بس گئیں اور شہر میں دوسری ریاستوں سے آئے ہوئے لوگ آباد ہوگئے ۔ کل تک ہمارے ہاںدکنی بولی ، بولی اورسنی جاتی تھی اب اس شہرمیں شاہراہوں پر کنڑ، مراٹھی، بنگالی، بہاری، ٹامل اور اترپردیش کی مقامی بولیاں سماعت سے ٹکرانا روزانہ کا معمول بن گیا ہے۔ افسوس صد افسوس اس بات کابھی ہے کہ دوسری ریاستوں سے آئے ہوئے افراد ہماری تہذیب وتمدن پر اپنے اثرات دکھانے کی کوششوں میں مصروف دکھائی دینے لگے ہیں۔ خاص طور پر غذائی اشیاء پر اپنی چھاپ چھوڑنے میںوہ کامیاب دکھائی دے رہے ہیں ۔ہمارے شہر کے بعض حصوں میں بنگالی کھانوں کے طرز کی ہوٹلیں بھی کھل گئی ہیں…

اڈلی ،دوسے کو ہمارے شہر کے بہت سے خاندانوں نے اپنی مرغوب غذا میں اس قدرت شدت سے اپنا لیا ہے کہ ان کا ناشتہ دوسہ سے یا اڈلی سے ہی ہوتا ہے۔ بسا اوقات حالات یہ دکھائی دیتے ہیں کہ اڈلی دوسہ کی ریسٹورنٹ میں بیٹھنے کی جگہ نہیں ملتی، دوسرے معنوں میں غور کیاجائے تو لگتا ہے کہ اڈلی دوسہ کی مقبولیت میں خواتین کا بڑاہاتھ ہے۔ خاص طور پر ایسی خواتین جن کیلئے صبح کا ناشتہ بنانا ،بڑا صبر آزماکام ہوتاہے ۔ ہمارا اشارہ ان خواتین کی طرف ہے جو گھریلو کام کاج میںٹال مٹول کرتی ہیں… یہ چھوٹی سی مثال یہ ثابت کرتی ہے کہ کیسے تہذیب کا ٹکرائو ہورہا ہے کیسے تہذیبوں میںلکیریں کھینچ رہی ہیں؟ کیسے ہم اپنی ڈگر بھولتے جارہے ہیں؟ تہذیبوں کا یہ ٹکرائو کھلے عام نظرآنے لگا ہے جس پر مشہور شاعر شکیل اعظمی کایہ شعر یاد آتا ہے؎

متعلقہ

کیسے ٹکڑوں میں اسے کرلوں قبول
جو مرا سارے کا سارا تھا کبھی

شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی اس پر دوسرے ریاستوں سے آئے ہوئے لوگوں کا یہاں سکونت پذیرہوجانا ہماری تہذیب وتمدن کو ٹکڑوں میں بانٹ رہا ہے۔ اس میں دراڑیں ڈال رہا ہے، یہ دراڑیں ہمارے معاشرے میں کہاں کہاں پڑرہی ہیں، اگرہم یہ کہنے لگیں تو شائد یہ مناسب نہیں ہوگا چونکہ یہ ایسا دور ہے جس میں ناجائز رشتوں پر سیرئلس بنانے کی ماہر ایکتا کپور کو پدم شری ایوارڈ سے نوازا جاتا ہے جو ہندوستانی تہذیب پرمغربی تہذیب کو فوقیت دینے کا فن بخوبی جانتی ہے۔ ہماری حیدرآبادی تہذیب میں بھی اب کچھ ایسے ہی ابتدائی رنگ دکھائی دینے لگے ہیں جس کے خلاف آواز اٹھانا ہر شہری کا اولین فریضہ ہے ۔

کچھ عرصہ قبل ہم نے اپنے اسی کالم میں ’’ارتداد کی زد میں بنت حوا‘‘ کے عنوان سے ایک کالم تحریر کیا تھا جس میںشہر کے بگڑتے ماحول پر اور ہمارے معاشرے کی لڑکیوں کا ’’ارتداد ‘‘ کی طرف مائل ہونے کی جانب قارئین کی توجہ مبذول کروائی تھی… آج کا عنوان بھی کچھ جدا ضرور ہے ، مگر معاشرے کو اس میں بھی آئینہ دکھایا گیا تھا اوراس مضمون میں بھی ہم آئینہ دکھانے کی کوشش کررہے ہیں چونکہ ماحول دن بہ دن زہرآلود ہوتاجارہا ہے ، تباہیوں کے سامان ہمارے سامنے ڈالے جارہے ہیں معاشرے کو پراگندہ اورزہرآلود کرنے کی کوششیں جاری ہیں مشہور شاعر اقبال اشہر کے اس شعر کی طرح:

پھر یہ کہاگیا کہ آپ شوق سے سانس لیجئے
پہلے ہوائے شہر میں زہر ملا دیا گیا

تعجب خیز بات یہ ہے کہ معاشرے کو نقصان پہنچانے پرانے شہر کی فضائوں کو زہرآلودکرنے کاکام کوئی اور نہیں بلکہ حکومتی سطح پر یہ کام بڑے خوبصورت ڈھنگ سے شہر کے دل چارمینار سے شروع کیاگیا ہے جس کا عنوان’’ سنڈے فنڈے‘‘ایک شام چارمینار کے نام ، اس پروگرام سے بانی شہر قلی قطب شاہ کی روح کانپ گئی ہوگی۔ 430 سال گزرجانے کے بعد میری اس یادگار عالیشان عمارت جو دنیا کے کونے کونے میںمشہور ہے یہاں پر کیسے حیاء سوز مناظر دیکھنے میں آرہے ہیںو

ہ بھی حکومت کی سرپرستی میںخود چارمینار بھی اپنے وجود پر شرمندہ ہوگا چونکہ430 سال کے طویل عرصہ میں اسے اپنے وجود پر اتنی بڑی شرمندگی نہیںاٹھانی پڑی تھی جتنی اب وہ جھیل رہا ہے چارمینارکو چند سال پہلے اس وقت شدید شرمندگی اٹھانی پڑی تھی جب ایک بھائی بہن نے اس پر چڑھ کر خودکشی کی تھی چارمینار کو اس وقت بھی شرمندگی اٹھانی پڑی تھی جب ایک نوجوان لڑکی نے اس کی کمانوں سے کود کر خودکشی کرلی تھی، ان حادثات نے چارمینار کے دل کو اتنی تکلیف نہیں پہنچائی جتنی تکلیف اسے حکومت کے مرتب کردہ پروگرام ’’ایک شام چارمینار کے نام‘‘ سے پہنچ رہی ہوگی۔ چونکہ اس پروگرام کے اعلان سے ہی علماء ومشائخین مخالفت کررہے ہیں چونکہ انہیں اس بات کا شدید خدشہ تھا کہ پرانا شہر جہاں مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہے، اس پروگرام سے معاشرے میںبگاڑ پیداہوگا۔ علماء ومشائخین کو جو خدشہ تھاوہ سچ ثابت ہورہا ہے پرانے شہر کے غیور مسلمان حکومت کے اس اقدام سے مذکورہ پروگرام پر برہم ہیں، ماڈرن تہذیب وثقافت کے نام پرخواتین یہاں جمع ہورہی ہیں ان میں برقعہ پوش خواتین بھی ہیں جوغیر محرم مرد سے مائک لے کر گانے گارہی ہیں، رقص کررہی ہیں، عجب بے حیائی کے جلوے یہاں عام ہورہے ہیں۔

بے حیائی کی ایک شام میں تہذیب کو اس قدر پامال کیاجارہا ہے جسے دیکھ کر باشعور لوگ اپنی آنکھیں بند کرنے پر مجبور ہوجائیں…کل تک ایسا نظارہ عابڈس پر دکھائی دیتا تھا جہاں غیر قوم کے مرد ہماری برقعہ پوش خواتین کے ہاتھ ، ہاتھ میںلے کر مہندی لگاتے تھے… اب یہ نظارہ چارمینار اورمکہ مسجد کے درمیان دکھائی دے رہا ہے- اس دم بخود کرنے والے نظارے کو دیکھ کراس بات کا اندازہ لگانے میںدیر نہیں لگتی کہ حکومتی سطح پر پرانے شہر کے غیور مسلمانوں کے خلاف کوئی سازش تو رچی نہیںجارہی ہے؟ کہ کسی قوم کو کمزور کرنا ہے تو پہلے اس سے اس کی تہذیب وتمدن چھین لو… کل تک ایسی سازشوں میں یہودیوں کا ہاتھ دکھائی دیتاتھا لیکن جب سے ملک میں ہندوتواکی لہر چل رہی ہے تب سے مسلمانوں پر نئے نئے قسم کے حملے ہورہے ہیں جس کی ایک موٹی مثال چارمینارسے لگا ایک چھوٹاسا مندر آج اس کی صورتحال کیا ہے بلکہ یہ کہاجائے تو شاید غلط نہ ہوگا کہ قومی سطح پر اس مندر کو اہمیت دی جارہی ہے ہندوستان بھر کی مقبول شخصیتیں اس مندر کے درشن کیلئے آرہی ہیں یہ ایک علیحدہ مسئلہ ہے… بات نکلے گی توبہت دور تک جائیگی جیسا ۔ ہم تو اپنے معاشرے سے التجا کرسکتے ہیں کہ وہ ’’ ایک شام چارمینار کے نام‘‘ جیسے بیہودہ پروگرام کاحصہ نہ بنے جو ہماری نوخیز نسل کو گمراہی کے راستے پرلے جانے کی ایک کھلی سازش ہے۔ خاص طور پر پردہ نشین خواتین اس حیاء سوز پروگرام سے اجتناب کریں، ہمارے علماء ومشائخین نے پہلے ہی اس شام کی مخالفت کردی تھی ،ہمارا کام تو آگاہ کرنا ہے کہنا ہے کسی نامعلوم شاعر کے اس شعر کی طرح؎

ظلم کے سائے میں زبان کھولے گا کون
ہم بھی چپ رہیںگے تو بولے گا کون

٭٭٭

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.