کہاں کھوگیا وہ بچپن، جس میں زندگی مُسکراتی تھی

شام کے وقت ٹیوشن سے واپسی پرمحلّے کی دُکان سے پاپڑ،انڈا جیلی، پیزا جیلی، املی اور ٹافیاں خریدتے ہوئے گھر لوٹنا۔ پھر گھر کےایک کمرے سے نکل کر دوسرے کمرے میں جا کر مہمان بن جانا اور کھلونوں کے برتنوں میں چیزیں رکھ کر پارٹی کرنا۔

ثمین جنید

بچپن، کتنا حسین و جمیل ، کس قدر خُوب صُورت ہوتا ہے۔ پیار، خلوص، خوشیاں، مٹھاس،لڑائیاں، روٹھنا منانا، ہنسی مذاق، کھلونے، غبارے، لطیفےاور قہقہے… ہائے، کتنا اچھا تھا وہ وقت جب زندگی صرف کھانے پینے، پڑھنے لکھنے، سونے جاگنےاور کھیل کود ہی کا نام تھی۔ اُف! ہم سارے بچّے مل کے ’’کھو کھو،ریڈی اسٹڈی گو،اونچ نیچ ، ٹیچرٹیچر، ہاتھی کی سونڈ، جن جن، چور پولیس ، چُھپن چُھپائی، برف پانی، بادشاہ کا وزیر کون ‘‘ اور نہ جانے کیا کچھ کھیلا کرتے تھے۔

ریت کے گھروندے، کاغذ کی کشتیاں بنانا، بارش میں دیر تک بھیگتے رہنا ، پتنگیں اُڑانااور ہوائی جہاز کو تا حدِّ نگاہ تکتے رہنا… امّی کی ہائی ہیلز پہن کر پورے گھر میں ٹک ٹک کرنا، اُن کے دوپٹےکی ساڑی بنانا اور اکثر اُلٹے جوتے پہن کر بھاگتے ہوئے گر جانا ۔ داداکی عینک، ماما کاپرس، دوپٹا اور جوتے پہن کر، اسکیل اور رجسٹر ہاتھ میں لے کر ٹیچر بن جانا۔

کہاں کھوگیا وہ بچپن، جس میں زندگی مُسکراتی تھی

کبھی ڈاکٹر ،ڈاکٹر کھیلتے ہوئے کاغذ کی پُڑیوں میں نمک اور چینی ڈال کر بطور دوادینا۔ اپنےٹیڈی بیئر کو ٹرالی میں لٹا کراُسے ا سٹریچر تصوّر کرنااور پردے کے پیچھے لے جا کر انجیکشن لگانا۔ عید کے دِنوں میں سہیلیوں کو عید کارڈز دینا، جن پر’’ڈبّے میں ڈبّا، ڈبے میں کیک…میری سہیلی لاکھوں میں ایک‘‘لکھنا تو جیسے فرض ہوتا۔ سال گرہ پر ایک دوسرے کو تحائف میں کلرز، مارکرز، کلرنگ باکس، اسٹیکرز،چوڑیاں اور ٹاپس دینا۔

چُھپن چُھپائی کھیلتے ہوئے ایسے کونوں کُھدروں میں چُھپ جانا کہ دام دینے والےکے لیے ڈھونڈنا محال ہو جاتا اور جب اپنی باری آتی تو گنتی کے دوران آنکھوں پر ہاتھ رکھے کن انکھیوں سے دیکھناکہ پتا تو چلے کون کس طرف جا رہاہے۔ پھر بار بار آواز دیتے رہتے’’ آجائوں، آجائوں؟‘‘ اور یوں آواز کے تعاقب میں چُھپنے والے کو پکڑنا۔آہ!! کیا سہانے دن تھے۔

شام کے وقت ٹیوشن سے واپسی پرمحلّے کی دُکان سے پاپڑ،انڈا جیلی، پیزا جیلی، املی اور ٹافیاں خریدتے ہوئے گھر لوٹنا۔ پھر گھر کےایک کمرے سے نکل کر دوسرے کمرے میں جا کر مہمان بن جانا اور کھلونوں کے برتنوں میں چیزیں رکھ کر پارٹی کرنا۔ ہمیں یاد ہے کہ جب نانی کے گھرہم سب کزنز کی پلاٹون اکٹھی ہوتی تو نانا ابّو سیر کروانے پارک لے جاتے اور ہماری لاکھ شرارتوں کے باوجود بھی کبھی نہ ڈانٹتے۔ اے کاش! ہم کبھی بڑے ہی نہ ہوتے، وہ بچپن کبھی ختم ہی نہ ہوتا، وہ سنہرا دَور کبھی گزرتا ہی نہیں کہ جس کا ہر پَل خوشیوں، مسکراہٹوں ، شرارتوں ، زندگی سے بھر پور تھا۔ چلو یادوں کے سنگ اُسی دَور میں لَوٹ چلیں کہ جس کا کوئی مول نہیں۔

اب تو رشتوں میں گہرےفاصلے آچُکے ہیں،ذرا ذرا سی بات پر خونی رشتے تک توڑ دئیے جاتے ہیں۔ سگے بہن، بھائی سالوں ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے، شکل تک نہیں دیکھتے۔محلّے کی رونقیں تو جیسے قصّۂ پارینہ ہوئیں۔ وہ پریوں کی کہانیاں سُنانے والی نانیاں، دادیاں منوں مٹّی تلے جاسوئیں۔ اب توہم بس ایک روبوٹِک زندگی گزار رہے ہیں، جہاں مصروفیات کے باعث کسی کے پاس ایک دوسرے سے بات کرنے کابھی وقت نہیں۔ کوئی ناراض ہو جائے تو انا آڑے آجاتی ہے ، موبائل کی دنیا نے رشتوں کو کہیں بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ایک گھر میں موجود ہو کر بھی سب ایک دوسرے سے بے گانے ہیں اور کبھی اکٹھے مل بیٹھنے کا موقع مل بھی جائے تو یہ قیمتی وقت بھی ہر ہاتھ میں موجود موبائل کی ٹک ٹک ہی کی نذر ہو جاتا ہے۔

٭٭٭

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.