خالص شہد کا دعویٰ کرنے والے کتنے سچ!

کیا بازار میں دستیاب مختلف برانڈس کے شہد، خالص معیار پر کھرا اترتے ہیں؟ یہ ایک اہم سوال ہے چونکہ بہت سی کمپنیاں یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کا شہد خالص ہے اور جنگلات سے حاصل کردہ ہے۔

جھلکیاں
  • کیا بازار میں دستیاب مختلف برانڈس کے شہد، خالص معیار پر کھرا اترتے ہیں؟
  • بھارتی بازاروں میں دستیاب شہد کے بارے میں کمپنیاں جو دعویٰ کرتی ہیں وہ صد فیصد درست نہیں  ہے۔
  • شہد میں جو اجزاء عموماً ملائے جاتے ہیں جس سے شہد کا خالص پن ختم ہوجاتا ہے۔

حیدرآباد: آئیے اس کے بارے میں سوچیں کہ، رنگ خود ہی موہ لیتا ہے۔ گوکہ عرق  گل،خوش  ذائقہ شیریں سنہری شربت میں تبدیل ہوگیا ہے مگر شہدکی خالصیت کوپرکھنے کے لئے  دلکش رنگ اور مہک ہی کافی نہیں ہے۔

شہد اپنی خالص شکل میں طبی فوائد کے اعتبار سے طاقت کا سرچشمہ ہے۔ یہ السر اور کینسر سے مقابلہ کرنے سے لے کر کھانسی اور زخموں کا علاج کرنے کی خوبیوں سے بھی مزین ہے مگر شہد میں ملاوٹ کے مضمرات کیا ہیں اس کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔

کیا بازار میں دستیاب مختلف برانڈس کے شہد، خالص معیار پر کھرا اترتے ہیں؟ یہ ایک اہم سوال ہے چونکہ بہت سی کمپنیاں یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کا شہد خالص ہے اور جنگلات سے حاصل کردہ ہے۔ کچھ مقامی کمپنیاں ایسی بھی ہیں جو یہ چالنج تک کرتی ہیں کہ ان کے شہد میں ملاوٹ ثابت کرنے پر وہ ہزاروں روپے بطور انعام دیں گی۔

بھارتی بازاروں میں دستیاب شہد کے بارے میں کمپنیاں جو دعویٰ کرتی ہیں وہ صد فیصد درست نہیں  ہے۔ شہد میں ملاوٹ کا سلسلہ زمانہ قدیم سے چلا آرہا ہے۔ کچھ بددیانت تاجرین، دولت بٹورنے کے لئے شہد میں سستے اجزاء شامل کرکے مارکٹ میں اونچے داموں پر فروخت کرتے ہیں۔شہد کی مکھیاں پھولوں سے رس جمع کرتی ہیں اور اور اس رس کو مکھیوں میں پیدا ہونے والے انزائمس کی مدد سے اسے شہد میں تبدیل کرتی ہیں۔

ہمیں شہد کی جو حتمی شکل حاصل ہوتی ہے وہ شہد کے چھتے کے اندروسیع تر انزائمٹک ری ایکشنس کی وجہ سے بنتی ہے۔ شہد میں ملاوٹ کے باعث کئی طبی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں، خاص کر ذیابیطس۔

شہد میں جو اجزاء عموماً ملائے جاتے ہیں جس سے شہد کا خالص پن ختم ہوجاتا ہے اور اسے ملاوٹی بنادیتا ہے وہ گلوکوز، ڈیکسٹروز، مولاسس، شکر کا پانی، شہد کی مختلف اقسام اجزائے ترکیبی، شیلف لائف‘قیمت اور پیاکنگ کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہیں۔ شہد%20-%17 پانی، %80-%76 گلوکوز اور فرکٹوز، پولّین، ویاکس اور معدنی نمکیات پر مشتمل ہوتا ہے۔

اس کے اجزائے ترکیبی، رنگ اور بو کا انحصار ان پھولوں پر ہوتا ہے جن کا عرق شہد کی مکھیاں چوستی ہیں۔ جب شہد میں C4 Sugars کے بہت زیادہ اجزاء ہوتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ شہد کے نمونہ میں نیشکر یا نشاستہ سے بنی ہوئی شکر کی آمیزش ہوتی ہے۔ شہد میں ملی شکر کی مقدار زیادہ استعمال کرنے سے خون میں شکر کی مقدار بڑھ جاتی ہے جس سے ذیابیطس کا خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔

فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈس اتھاریٹی آف انڈیا کے پیمانہ کے مطابق شہد میں C4 Sugar کا تناسب %7 سے زیادہ نہیں ہونا چاہئے۔اگر شہد میں آمیزش کی گئی ہو تو یہ تناسب بڑھا ہوا پایا جاتا ہے۔

مقامی طور پر بھی بہت سی کمپنیاں ہیں جن کا شہد مارکٹ میں دستیاب ہیں اور کچھ لوگ ہیں جو بغیر کسی برانڈلیبل کے شہد فروخت کرتے ہیں اور ان کا یہ دعویٰ ہوتا ہے کہ ان کا شہد خالص ہے۔

شہد کے خالص ہونے کو ثابت کرنے کے لئے وہ مختلف طریقے بتاتے ہیں مگر ان سب میں بڑی مہارت سے ملائی گئی شکر یا دوسری چیزوں کا پتہ چلانا مشکل ہی ہوتا ہے۔ کمپنیاں یہ بھی دعویٰ کرتی ہیں کہ ان کے شہد کو کسی بھی لیباریٹری میں جانچ کروالی جائے اور ان کے شہد میں ملاوٹ ثابت ہوجائے تو وہ منہ مانگی رقم دینے کو تیار ہیں۔

دراصل شہد کے خالص ہونے کے لئے عموماً جو ٹسٹ کئے جاتے ہیں ان کے ذریعہ بڑی مہارت سے کی گئی ملاوٹ کا پتہ چلانا آسان نہیں ہوتا ہے اس کے لئے چند مخصوص ٹسٹ کئے جاتے ہیں جن کی سہولت عام لیبارٹیز میں دستیاب نہیں ہے۔ اس لئے بہتر ہے کہ غیر معروف کمپنیوں یا برانڈ کے شہد خریدنے کی بجائے مستند کمپنیوں کا شہد ہی خریدا جائے۔

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.