خان لطیف خان، ایک رجحان ساز شخصیت

ایڈیٹر انچیف روزنامہ ”منصف“ جناب محمد عبدالجلیل نے خان لطیف محمد خان کی پہلی برسی کے موقع پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے صحافتی و تعلیمی مشن کو اسی جذبہ سے جاری رکھا جائے گا۔

عبدالرحمن خان

جناب خان لطیف محمد خان ایک ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے۔ ان کا دل ہمیشہ ملت کے لئے تڑپتا تھا۔ وہ قوم کو تعلیم یافتہ خوشحال اور دیگر برادران وطن کے ہم پلہ دیکھنا چاہتے تھے۔ ان کی ہر کوشش ان مقاصد کے حصول کے لئے صرف ہوئی۔ انہوں نے قوم کی قابل رحم حالت سے حکمرانوں اور سیاسی جماعتوں کو واقف کرانے کے لئے پیشہ صحافت اختیار کیا۔ وزنامہ ”منصف“ کو اس وقت حاصل کیا جب اردو صحافت اور صحافیوں کا کوئی پرسان حال نہیں تھا۔ آج ان کی پہلی برسی ہے۔ جناب خان لطیف محمد خان کو اس جہان فانی کو خیرباد کہے ایک سال کا عرصہ گذرچکا ہے مگر آج بھی ہرگز ایسا محسوس نہیں ہوتا ہے کہ وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں۔

ان کی خوش مزاجی، نرم لہجہ میں گفتگو اور جذبہ خدمت خلق کو دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ ان میں قوم سے ہمدردی کا کتنا احساس تھا۔ جنا ب خان لطیف محمد خان ایک کامیاب بزنس میان تھے۔ وہ چاہتے تو بہت سارے نفع بخش کاروبار میں اپنا سرمایہ مشغول کرسکتے تھے، مگر انہوں نے پیشہ صحافت اور تعلیم کے فروغ کو اختیار کیا۔ روزنامہ منصف کو حاصل کرنے کے بعد اسے نئے زمانہ کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے بین الاقوامی معیار کے اخبارات کی صف میں کھڑا کردیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے روزنامہ منصف اردو صحافت کے اعلی معیار کی علامت بن گیا اور اس کو مکمل اخبار ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ اس طرح روزنامہ منصف عوام کی پہلی پسند بن کر ابھرا۔ بچے، خواتین، نوجوان اور بزرگ بڑی بے چینی سے اخبار کا انتظار کرنے لگے۔ دوسری طرف جناب خان لطیف خان نے وہ کارنامہ انجام دیا جس کے بارے میں کبھی سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا۔ انہوں نے کسمپرسی کا شکار اردو صحافت کو نہ صرف سنبھالا بلکہ اسے ایک نیا مقام عطا کیا۔ پہلی بار کوئی اردو اخبار ملٹی کلر میں شائع کیا گیا۔ پہلی بار اردو میں سائنس و ٹکنالوجی او رکیریئر گائیڈنس سے متعلق سپلیمنٹ شائع کئے گئے۔

پہلی بار اردو صحافی کو انگریزی و تلگو اخبارات کے صحیفہ نگاروں کے برابر تنخواہیں دی جانے لگیں۔ اردو اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور رائے کو سرکاری اور سیاسی سطح پر اہمیت دی جانے لگی۔ گویا اردو صحافت میں نیا انقلاب آگیا۔ جناب خان لطیف محمد خان کی خدمات صرف صحافت تک محدود نہیں رہیں۔ انہوں نے سلطان العلوم ایجوکیشن سوسائٹی سے وابستگی اختیار کرتے ہوئے حیدرآباد میں تعلیمی انقلاب لایا۔ وہ اس سوسائٹی کی صدارت پر 23سال تک فائز رہتے ہوئے مسلم نوجوانوں کو عصری تعلیم سے آراستہ کرنے کی فکر میں رہے۔ ان کی بصیرت کے باعث سلطان العلوم ایجوکیشن سوسائٹی مختلف پروفیشنل کورسس کے کالجوں کا بہترین مرکز بن کر سامنے آئی۔ جہاں سے اب تک لاکھوں نوجوان، انجینئرنگ، بزنس مینجمنٹ، فارمیسی، لاء، بی ایڈ میں اعلیٰ ڈگریاں حاصل کرتے ہوئے قوم و ملت کا نام روشن کرچکے ہیں اور ملک و قوم کے لئے قابل فخر اثاثہ بن کر ابھرے ہیں۔ جناب خاں لطیف محمد خاں نے ملت کے نونہالوں کو زیر تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے اپنے آبائی مکان کو تک سوسائٹی کے لئے بطور عطیہ دے دیا۔ آج سلطان العلوم ایجوکیشن سوسائٹی کے تحت کے جی تا پی جی تعلیمی اداروں کا جال بچھا ہوا ہے جو یقینا جناب خان لطیف محمد خان کی کاوشوں کا مرہون منت ہے۔ جناب خان لطیف خان کا ایک اور کارنامہ مسلمانوں کے لئے تعلیم و روزگار میں پانچ فیصد تحفظات کے حصول کے لئے نامور وکلاء کی خدمات اپنے خرچ پر حاصل کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں پیروی کرنا تھا۔ جس میں اللہ کے فضل و کرم اور نبی اکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقہ میں مسلمانوں کو کامیابی حاصل ہوئی، جس کے ثمرات سے آج بھی مسلمان فیض یاب ہورہے ہیں۔

جناب خان لطیف محمد خان خواتین کو بھی خودکفیل اور خوشحال دیکھنا چاہتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ وہ مہنگائی کے دور میں مالی طور پر خود کفیل ہوجائیں تو قوم کے معاشی اور تعلیمی حالات میں نمایاں فرق آجائے گا۔ اس لئے انہوں نے خواتین کے لئے ووکیشنل سنٹرس قائم کئے جہاں خواتین کو مختلف فنون میں تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ سکندرآباد کوآپریٹو اربن بینک بھی قائم کیا۔ اِن کا مقصد ملت کے ہونہار افراد کو قرض فراہم کرتے ہوئے خود روزگار کے لئے مدد فراہم کرنا تھا اور اس مشن پر آج بھی اسی جذبہ سے عمل جاری ہے۔ بہر کیف جناب خان لطیف محمد خاں کی کمی ہمیشہ محسوس کی جائے گی۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ مرحوم کے اعمال کو شرف قبولیت بخشے۔ کروٹ کروٹ نیکیاں عطا کرے۔ قبر کو نور سے منور کردے اور انہیں یوم محشر صالحین میں اٹھائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاء فرمائے، آمین۔ جناب خان لطیف محمد خان کی شخصیت کوا س شعر کے ذریعہ بخوبی بیان کیا جاسکتا ہے ؎
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
ایڈیٹر انچیف روزنامہ ”منصف“ جناب محمد عبدالجلیل نے خان لطیف محمد خان کی پہلی برسی کے موقع پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے صحافتی و تعلیمی مشن کو اسی جذبہ سے جاری رکھا جائے گا۔
روزنامہ ”منصف“ بدستور مسلمانوں کو آواز بنارہے گا اور سلطان العلوم ایجوکیشن سوسائٹی کے تحت تعلیمی ادارہ جات پھلتے پھولتے رہیں گے۔

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.