اپنی بیٹی کو تنہا نہ ہونے دیں…

جن گھروں میں بیٹے کو ترجیح دی جاتی ہے، وہاں بیٹیوں میں احساس محرومی پیدا ہوجاتا ہے

بیٹی قدرت کا انمول تحفہ اور رحمت ہوتی ہے جن گھروں میں بیٹیاں ہوتی ہیں وہاں کے ماحول میں ایک انوکھی رونق اور چہل پہل ہوتی ہے ۔ ہر طرف خوشی کا دور دورہ نظر آتا ہے ۔ بیٹی بیٹوں کی نسبت زیادہ حساس ہوتی ہے ، اسی لیے دو گھر والوں کا زیادہ خیال رکھتی ہے ۔

ان کی ذرا سی پریشانی پر پریشان ہوجاتی ہے مگر افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ہمارے اسلامی معاشرے میں آج بھی دور جاہلیت کی جھلک نظر آتی ہے جس کی بنا پر خدا کی رحمت بیٹی کو زحمت اور بوجھ سمجھا جاتا ہے ۔ والدین سمجھ بھی نہیں پاتے اور چھوٹی چھوٹی نا انصافیوں کے مرتکب ہوجاتے ہیں جو بیٹیوں کو تنہا کرنے کا سبب بنتی ہیں ۔

زیادہ تر والدین بیٹیوں کی نفسیات سے آگاہ نہیں ہوتے اور روایتی انداز پرورش کو اپناتے ہوئے نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی گڑیاؤں کو خود سے دور کرلیتے ہیں ۔ بیٹیاں فطرتاً ہی نرم دل اور حساس طبیعت کی مالک ہوتی ہیں ۔ وہ ارد گرد ہونے والے معاملات کا اثر ضرور لیتی ہیں ۔ جن گھروں میں بیٹے کو بیٹی پر ترجیح دی جاتی ہے وہاں بیٹیوں میں احساس محرومی پیدا ہوجاتا ہے ۔

والدین جب بیٹے کو آرام سے بیٹھنے اور بیٹی کو اس کے لیے کھانا یا پانی لانے کا حکم دیتے ہیں تو بیٹی اس تفریق کوضرور محسوس کرتی ہے ۔ غریب گھرانوں میں تو بیٹی کو تعلیم سے محروم رکھ کر بھی اس کی حق تلفی کی جاتی ہے۔ والدین بیٹے کے روشن مستقبل کی باتیں کرتے ہیں ، اسے آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں لیکن بیٹی کے حوالے سے صرف یہی بات ہوتی ہے کہ اس کی شادی کے لیے جہیز کیسے تیار کیا جائے ؟ یہ گفتگو بیٹی میں یہ احساس بڑھاتی ہے کہ وہ والدین کے لیے بوجھ ہے ۔ یہ سوچ اندر ہی اندر بیٹی کو کمزور کردیتی ہے ۔

متعلقہ

بیٹوں سے زیادہ بیٹیوں کو والدین کی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ بیٹیاں جذباتی طبیعت کی مالک ہوتی ہیں، خوشی پر وہ کھکھلا اٹھتی ہیں اور دکھ پر چور چور ہوجاتی ہیں۔ جن بیٹیوں کو اپنے مسائل اور کیفیات ماں کو بتانے کا موقع نہیں ملتا وہ یا تو تنہائی کا شکار رہتی ہیں یا پھر گھر سے باہر سہارے تلاش کرتی ہیں، بیٹی کو یوں گمراہ ہونے کا موقع بھی والدین کی غفلت سے ملتا ہے ۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین بیٹیوں کو بھی بھرپور محبت اور تحفظ فراہم کریں ۔ ایسا وہ بیٹیوں کے ساتھ دوستانہ رویہ روا رکھ کر کرسکتے ہیں ۔ ماں جب بیٹی کی سہیلی بن جاتی ہے تو بیٹی اپنی ہر بات ہر مسئلہ اور ہر کیفیت ماں کے ساتھ بانٹتی ہے ۔ اسے کسی غیر سے رہنمائی کی ضرورت نہیں پڑتی۔بیٹی کو ہلکے پھلکے انداز میں معلومات دیتے رہنا چاہیے ۔

مختلف واقعات کا ذکر کرتے ہوئے اس کی رہنمائی کرنی چاہیے ۔ کچھ گھرانوں میں بیٹیوں کے لیے ان کی شادی ایک بڑا مسئلہ بن جاتی ہے ۔ والدین ا س بات کی تکرار کرتے رہتے ہیں کہ اچھا رشتہ نہیں مل رہا ، لڑکی کا قد چھوٹاہے ، رنگت سانولی ہے ۔ والدین تو اپنی پریشانی کا اظہار کررہے ہوتے ہیں لیکن یہ بات بیٹی کو جذباتی طور پر زخمی کردیتی ہے ۔

اس سے زیادہ جذباتی اذیت کا سامنا اس وقت ہوتا ہے جب اسے کسی رشتے سے انکار کرنے پر اپنے ہی گھر والوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے حالانکہ والدین بیٹے کے لیے اس امر کی مرضی کی بہو تلاش کرتے ہیں ۔والدین کو چاہیے کہ اپنے آنگن کی ان کلیوں کی دیکھ بھال بہت محتاط انداز میں کریں ، انہیں بھرپور محبت اور اپنائیت کا احساس دلائیں تاکہ ان کی شخصیت میں کوئی کمی باقی نہ رہے اور وہ ہر طرح کے ماحول سے مطابقت او رہر چیلنج کا سامنا کرسکے۔

٭٭٭

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.