ملکہ برطانیہ الزبتھ : دنیا کی عہد ساز ملکہ

جب پچانوے سالہ ملکہ برطانیہ الزبتھ دوئم نے اپنی گاڑی خود چلائی تو دنیا حیران رہ گئی۔

ملکہ برطانیہ الزبتھ دوئم نے یکم نومبر2021ء کو جب صحت یاب ہونے کے بعد خود اپنی گاڑی ڈرائیو کی تو گاڑی چلاتے ہوئے ان کی تصاویر پوری دنیا کی توجہ بن گئی تھیں۔ ان تصاویر کو شاہی فوٹو گرافر نے اس وقت عکس بند کیا ، جب95 سالہ ملکہ برطانیہ ( ملکہ الزبتھ 21 اپریل 1926کو پیدا ہوئیں )ونڈسرکیسل اسٹیٹ میںگاڑی چلارہی تھیں۔ ان تصاویر میںبرطانیہ کی ملکہ الزبتھ کو گاڑی کے ٹائر کے پیچھے اسکارف اور دھوپ کا چشمہ پہنے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس سے قبل برطانیہ کے ڈاکٹرز نے ملکہ کو دو ہفتے مکمل آرام کرنے کا مشورہ دیا تھا جبکہ انہیں کوویڈ 19 سے متعلق کوئی خطرہ بھی نہیںتھا۔ یہ مشورہ آئرلینڈ کے سفر پر جانے کیلئے تیاری کررہی تھیں مگر تیاریوں کے آخری لمحات میں انہیں اس سفر سے دستبردار ہونا پڑا اوریوں وہ سفر پرجانے کے بجائے اسپتال میںداخل ہوگئی تھیں۔ جہاں ان کے مختلف میڈیکل ٹیسٹ بھی کئے گئے تھے۔

کیونکہ ملکہ برطانیہ کی طبیعت عین موقع پرناساز ہوگئی تھی۔ یوں برسوں بعد ملکہ کو اس طبی مشورے کے بعد ایک رات کیلئے ہسپتال میںرہنا پڑا اوراس طبی مشورے کی بنیاد پر انہیںطے شدہ دورئہ شمالی آئر لینڈ منسوخ کرنا پڑتاتھا۔یاد رہے ملکہ برطانیہ چندد ن کیلئے آرام کرنے کا یہ طبی مشورہ خاصی ہچکچاہٹ کے بعد مانا تھا۔ اس پر شاہی محل کی جانب سے بیان سامنے آیا تھا کہ ملکہ برطانیہ شمالی آئرلینڈ کا دورہ ملتوی ہونے پر مایوس ہیں۔ ملکہ برطانیہ نے شمالی آئرلینڈ کے دورے کے دوران کئی طے شدہ پروگرامز میں شرکت کرنا تھی۔ اس بیان میں ملکہ کی طرف سے شمالی آئرلینڈ کی عوام کیلئے نیک خواہشات کااظہار کیاگیا تھا اور مستقبل میںآئرلینڈ کے دورے کے حوالے سے امید بھی ظاہر کی گئی تھی۔

بکنگھم پیلس کے مطابق وہ محل سے باہر نکلنے پر اس لیے مجبور ہوئی تھیں کہ انہیں اقوام متحدہ کے موسمیاتی تبدیلی کے سربراہی اجلاسCOP26 کے افتتاحی موقع پر استقبالیہ میںشرکت کرنا تھی۔ کوویڈ کی وباء کے دنوں میں بھی اپنی مضبوط قوت ارادی کی مالک ملکہ برطانیہ صحت کے مسائل کے باوجود ویڈیولنک کے ذریعے متعدد ورچوئل پروگرامز کے سامعین اورناظرین تک اپنی بات پہنچاتی رہی ہیں۔ اس پر برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن نے کہاتھا ’’ میں نے ملکہ سے گزشتہ ہفتے بات کی تھی، میں یہ کہہ سکتاہوں کہ وہ ‘‘ بہت اچھی فارم میں ہیں۔‘‘بکنگھم پیلس نے مزید کہا ہے کہ ریاست کی سربراہ ہونے کے ناطے ملکہ برطانیہ کی طرف سے جنگ میں لڑتے ہوئے ہلاک ہونے والوں کے اعزاز میں ایک یادگاری تقریب میں شرکت کا پختہ ارادہ رکھتی ہیں۔ گوکہ ڈاکٹر وںنے انہیں کم از کم اگلے دو ہفتوں تک مزید آرام کرنے کیلئے کہا ہے۔

ڈاکٹروں نے یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ ملکہ فی الوقت کچھ دیر کیلئے ڈیسک پر مبنی ڈیوٹی انجام دینا چاہیںتو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ جب کہ اس دوران وہ بروز ہفتہ13 نومبر کو ایک یادگاری میلے میںشرکت سے قاصر ہوںگی۔ اس پر ملکہ نے افسوس کیا ہے۔ ملکہ برطانیہ کے حوالے سے عالمی سطح پر یہ خبر بھی خاصی دلچسپی سے سنی گئی تھی کہ انہوں نے دنیا کی معمر ترین ملکہ کا اعزاز حاصل کرنے کے باوجود عمر رسیدہ افراد کو دیا جانے والا اعزاز ’’اولڈ آف دی ایئر‘‘ لینے سے معذرت کرلی ہے۔

متعلقہ

سادگی پسند ملکہ

کہا جاتا ہے کہ ملکہ برطانیہ صرف کفایت شعارہی نہیں بلکہ وہ ماحول دوست بھی ہیں۔ ان کے متعلق جو یہ کہاجاتا ہے کہ وہ رات دیر گئے تک محفل میں جلنے والی لائیٹوں کو خود بند کرنے میں کوئی عار محسوس نہیںکرتیں، اس بارے میں ان کا موقف ہوتا ہے کہ بجلی کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ اسی طرح انہوں نے جب یہ اعلان کیا کہ وہ جانوروں کی کھال سے بناہوا لباس نہیںپہنیں گی، تواس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ بہت سے ایسے جانور پکڑلیے جاتے ہیں جن کی کھال یا بالوں کا لباس بناکر فروخت کیاجاتا ہے جبکہ دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ایسے جانوروں کی نسل دن بدن کم ہورہی ہے۔

ملکہ کے اس جذبے نے ان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف جنگ میں ایک اہم آواز بنادیا ہے۔ اگرچہ ملکہ عوامی تقریبات میںشرکت کیلئے نیا لباس پہنتی ہیں لیکن ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ایک سے زیادہ مرتبہ اسی حلیے میں نظرنہ آئیں۔ اب انہوں نے ’’سمور‘‘ کی بجائے مصنوعی فروالے ملبوسات کو ترجیح دیناشروع کردیا ہے۔ ملکہ جو بھی لباس پہنتی ہیں، اگرچے اس کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے اوراس انداز میں وقفہ دیا جاتا ہے کہ انہی لوگوں کے سامنے وہ لباس دوبار سے زیادہ نہ پہناجائے۔

انٹرنیشنل میڈیا نے تو یہ بھی لکھا ہے کہ یوں لگتا ہے کہ باقی لوگوں کی طرح ملکہ برطانیہ بھی موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے سے نمٹنے کیلئے عملی اقدامات نہ اٹھائے جانے پر مایوس ہیں۔ کیونکہ اس کے بعد ویلز کی پارلیمنٹ کے افتتاحی اجلاس کے موقع پر ملکہ کی براہ راست کوریج کے دوران انہوں نے برملا کہاتھا ’’ مجھے ایسے لوگ جھنجھلا دیتے ہیں جو باتیں تو بہت کرتے ہیں مگر عمل نہیں کرتے‘‘ ملکہ نے اپنی جاگیر میں متعدد ماحول دوست تبدیلیاں کیں ہیں، مثلاً بکنگھم محل میںشہد کی مکھیوں کے چار چھتے موجود ہیں، جو محل کیلئے شہد تیار کرتے ہیں ۔ اسی طرح ملکہ نے توانائی کی بچت بھی انتظام کررکھا ہے۔

ملکہ اپنی روزمرہ زندگی کیلئے ہمیشہ سے سادہ اندازکو پسند کرتی ہیں۔ کہاجاتا ہے کہ یورپ کے مالیاتی بحران اور دوسری عالمی جنگ کے بعد ملکہ تمام زندگی پیسے بچانے سے متعلق مسائل سے آگاہ رہتی ہیں۔ بجلی کے استعما ل میں کمی لانے کیلئے ملکہ کے گھروں میں توانائی بچانے والی ایل ای ڈی روشنیاں آزمائشی طور پر استعمال کی جارہی ہیں ، جو86 فیصد کم بجلی استعمال کرتی ہیں ۔ ملکہ کی جاگیر کو گرم رکھنے کیلئے اسے قومی گرڈ سے منسلک نہیں کیاگیا۔ اس کی بجائے بکھگم محل اورونڈسرکاسل میںحرارت اور بجلی کے حصول سمیت قدرتی گیس کو بجلی میں تبدیل کرنے کیلئے مشترکہ پلانٹ اور بوائلر استعمال کئے جاتے ہیں۔ ونڈسرکال 30 فیصد بجلی ہائیڈرو الیکٹر ٹربائز سے حاصل کرتا ہے جو رومنی ویئر کے مقام پر دریائے ٹیمز پر نصب ہیں۔

ملکہ کے باغات میں جنگلی حیات کو پنپنے کاموقع دیا جاتاہے ،اس لیے محل کے باغات بڑی احتیا ط کے ساتھ تیار کئےجاتے ہیں تاکہ وہ مختلف قسم کے کیڑے مکوڑوں کاقدرتی مسکن بن سکیں ۔ لکڑی کے بڑے بڑے ڈھیروں کومحل کی زمین کے اردگرد جماکیا گیا جہاں بھنورے اور مکڑیاں رہتی ہیں۔ باغات کی انتظامیہ کے مطابق مردہ درختوں اوردرختوں کے زمین میں رہ جانے والے حصے کو چھوڑ دیاجاتا ہے۔ اس طرح حشرات الارض کوانڈے دینے اور لاروے پیدا کرنے کا موقع ملتا ہے۔ باغات میںدس فیصد زمین پر اونچی گھاس ہے، وہاں320 اقسام کے جنگلی پھولوں کی بہار ہوتی ہے۔ محل میں جنگی پھولوں کو افزائش اورکسی مداخلت کے بغیر برقرار رکھنے کاہر حربہ اپنایا جاتا ہے۔

ملکہ نے حال ہی میں نئے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے لوگوںسے کہا کہ وہ اگلے سال یعنی ملکہ کی پلاٹینم جوبلی تقریب سے پہلے پہلے جس قدر ہوسکے درخت لگائیں۔ اس ضمن میںسرکاری سطح پر عوام کو تجربہ کار مالیوں کی معاونت فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا گیاتھا۔ اس منصوبے کیلئے ملکہ نے وڈلینڈ ٹرسٹ کے ساتھ شراکت داری کی ہے جو ملک بھر میں اسکولوں سمیت مختلف کیمونٹیز کو30 لاکھ سے زیادہ پودے عطیہ کرے گا۔

٭٭٭

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.