پرکشش مصنوعی زیورات

کپڑوں کی خریداری کے بعد خواتین کی اولین ترجیح

ہماء غفار:

خواتین صرف میک اپ پر ہی توجہ نہیں دیتیں بلکہ زیورات کے جدید ترین ماڈلز پہننے کو بھی اولین ترجیح دیتی ہیں یہی وجہ ہے کہ زیورات میں خواتین کی دلچسپی غیر معمولی ہوتی ہے۔امیر ہو کہ غریب ہر خاتون زیور پہننے کی خواہش رکھتی ہے مگر چند خواتین حالات کی مجبوری سے طلائی و نقرئی اور پلاٹینم جیولری پہننے سے قاصر رہ جاتی ہیں۔لیڈیز کی زیب و زینت میں زیورات کو اول مقام حاصل ہے۔البتہ وقت کی تبدیلی کے ساتھ زیورات کی دھات اور ان کی بناوٹ کے علاوہ اسٹائل میں بھی فرق آنے لگا ہے تاہم خواتین،خوبصورت نظر آنے کیلئے زیورات ضرور پہنتی ہیں خواہ وہ سونے،چاندی کے ہوں یا پھر پلاسٹک،ہاتھی دانت یا پھر مصنوعی جیولری ہی کیوں نہ ہو۔سب سے منفرد اور جدا نظر آنے کیلئے صنف نازک میں ایک مسابقتی جذبہ پایا جاتا ہے ،اس لئے وہ جیولری کے جدید ڈیزائن کی خواہشمند و طلب گار رہتی ہیں۔

شادی بیاہ ہو یا عید و تہوار،ملبوسات کی خریداری کے بعد جیولری کے انتخاب کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ہوش ربا مہنگائی کے باعث طلائی و نقرئی زیورات کے استعمال میں کمی ضرور آئی ہے مگر مصنوعی اور ہاتھی دانت کے بنے زیورات کا چلن عام ہوتا جا رہا ہے۔یہ زیورات ہر رنگ اور ڈیزائن میں بہ آسانی دستیاب رہتے ہیں۔ سونے اور پلاٹینم کے زیورات میں قیمتی پتھروں کے استعمال کا فیشن بھی عام ہوتا جا رہا ہے۔گلے کا ہار، آویزے،مانگ ٹیکہ اور گلے کے علاوہ انگوٹھی کے زیور میں بھی یاقوت،زمرد،نیلم کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ان پتھروں سے چاندی کے زیورات کی قدر بڑھ جاتی ہے اور زیورات کے پہننے سے خواتین کے حسن میں چار چاند لگ جاتے ہیں۔

مصنوعی جیولری کے فیشن رجحانات میں چھوٹے ٹاپس،کفلنگ ٹاپس،بالیاں،جبکہ مصری اور ترکش بالیوں کا فیشن عام ہے، نیپالی، ترکش،سری لنکناور مصری جیولری خریدنے کا رجحان زیادہ ہے جبکہ مقامی جیولری بھی دستیاب ہے۔

متعلقہ

دھاگے،ربن،اور پینٹ سے تیار کی گئی جیولری 100 سے 500 روپیوںکے درمیان میں ملتی ہیں،خواتین کی بڑی تعداد مصنوعی زیورات خریدتی ہے،جبکہ بیشتر چاندی کے زیورات خریدنا پسند کرتی ہیں کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ مصنوعی جیولری خریدنا پیسہ ضائع کرنے کے مترادف ہے، چاندی کی جیولری کی کچھ مالیت ہوتی ہے اور یہ برسوں استعمال میں رہتی ہے کیونکہ اسے پالش کرایا جا سکتا ہے۔

مصنوعی زیورات کی تیاری کو گھریلو صنعت کا درجہ حاصل ہے۔ حیدرآبادکے علاوہ دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں بھی گھروں میں خواتین اور چھوٹے کارخانوں میں مرد کاریگر انتہائی نفیس اور خوبصورت جیولری تیار کر رہے ہیں۔جن میں چاندی، تانبے و دیگر دھاتوں سے تیار شدہ سیٹ سونے کے زیورات کے مشابہ معلوم ہوتے ہیں۔سونے کے زیورات سے مماثلت رکھنے والے مصنوعی زیورات کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہو جاتا ہے، چھوٹے درجے پر قائم مصنوعی زیورات کے کارخانوں میں 95 فیصد آئٹمز سونے کے زیورات سے مشابہت رکھنے والے مصنوعی زیورات تیار کیے جاتے ہیں۔ چین کے مصنوعی زیورات بھی اپنا مقام بنا رہے ہیں۔

شاپنگ سینٹرز میں جیولری کے اسٹالز لگائے جاتے ہیں جن میں چاندی تانبے و دیگر کم قیمت دھاتوں کے علاوہ پلاسٹک اور کپڑے سے تیار کردہ مصنوعی جیولری رکھی جاتی ہے،ان اسٹالز میں مقامی سطح پر تیار ہونے والی جیولری سیٹس،لاکٹ سیٹ،بریسلیٹ،نیکلس، انگوٹھیاں ، بندے،بالیاں،چین،کڑے،پازیب،چوڑیوںکے علاوہ دیگر مصنوعات فروخت کی جاتی ہیں۔

بعض خواتین ملبوسات کے اعتبار سے نگینوں سے مزین جیولری آرڈرز پر تیار کرواتی ہیں،دفاتر میں کام کرنے والی ورکنگ ویمن بھاری بھرکم جیولری کے بجائے ہلکی پھلکی جیولری کی خریداری کو ترجیح دیتی ہیں اور ان میں سے بیشتر ورکنگ لیڈیز غیر ملکی آرٹیفیشل جیولری کی خریداری کو ترجیح دیتی ہیں…

کسی تہوار کے موقع پر طالبات اور لڑکیوں کی بڑی تعداد اپنے دوستوں کو مصنوعی زیورات تحفے میں دیتی ہیں جس کیلئے وہ پارٹی سیٹس،گفٹ سیٹ،کنگن،بریسلیٹ،انگوٹھیاں،بندے اور کڑوں کی زیادہ خریداری کرتی ہیں،واضح رہے کہ پلاسٹک سے تیار ہونے والی مصنوعی جیولری خوشنما ہونے کے ساتھ کم قیمت بھی ہوتی ہیں جنہیں خواتین زیادہ پسند کرتی ہیں جو جلدی امراض اور الرجی سے بچاؤ چاہتی ہیں۔

٭٭٭

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.