معصوم بھکاری، وہ پھول جو کھلتے ہی مرجھا جاتے ہیں…

شہر کے مصروف ترین ٹریفک سگنلس پر جیسے ہی’’ سرخ‘‘ سگنل روشن ہوتا ہے،یہ بھکاری اپنی زندگی کو ’’ہری‘‘ کرنے کے لیے مختلف سواریوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں،جن میں سے بیشتر بچے ہوتے ہیں۔

حمید عادلؔ:9849856178

بچپن انسان سے بھلے ہی کھوجائے لیکن انسان اگر پچپن کا بھی ہوجائے تو بچپن کی یادیں اس کے دل و دماغ میں تازہ رہتی ہیں…ماضی میںبچپن کی کہانیاں بچوںکو بہت کچھ سکھا جاتی تھیں چنانچہ جب بچے جوان ہوتے تو وہی کہانیاں زندگی کی تلخ راہوں میں کسی نہ کسی طرح ان کی مدد گار ہوا کرتی تھیں ، آج بچپن کی وہ کہانیاں نہیں رہیں ،لہٰذا جوانیاں تباہ ہونے لگی ہیں۔

کچھ نہیں چاہیے تجھ سے اے عمر رواں
میرا بچپن، میرے جگنو، میری گڑیا لا دے

بچپن دراصل ہر انسانی زندگی کی بنیاد ہوا کرتا ہے اور اگر بنیاد ہی کمزور ہو تو پھرانسانی وجود ساری زندگی لڑکھڑاتا رہ جاتا ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے سروں پر والدین کا سایہ رہا، جن کا بچپن تنگدستی ، مجبوری اور فاقہ کشی میں نہیں کٹااور جن کا بچپن کسی کے آگے ہاتھ پھیلاتے نہیں گزرا۔آج خیرات مانگنے کے اس وسیع کاروبار میں خواتین حتیٰ کہ لڑکیاں بھی مردوں کے شانہ بشانہ چل رہی ہیں۔چنانچہ بھکاری شہرکے اہم ترین مقامات پر ایک عام آدمی کا چلنا پھرنا دوبھر کرکے اپنا دامن بھرلیتے ہیں۔

متعلقہ

بھیک مانگنا کسی بھی طرح سے اسلام کا پسندیدہ عمل نہیں ہے ، رسول اکرمؐ نے فرمایا:کسی بھی آدمی کے لیے بھیک مانگنے سے کہیں بہتر ہے کہ وہ جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر اپنی کمر پر لادے او ربیچ کر اپنے گھر کا گزارہ کرے۔ ساتھ ہی وہ تین حالات بھی بیان فرما دئیے کہ جن میں لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلا کر سوال کیا جا سکتا ہے، ایک وہ آدمی جس کے مال کو کسی ناگہانی آفت نے آلیا ہو، دوسرا وہ شخص جس نے قرض لیا ہو لیکن وہ مفلسی کی وجہ سے اس کو ادا کرنے کی سکت نہ رکھتا ہو ،اور تیسرا وہ آدمی جس کی غربت کے بارے میں اس کی قوم قبیلے کے تین معتبر آدمی شہادت دے دیں کہ واقعتًا یہ آدمی حاجت مند ہے لیکن افسوس! آج بھیک کلچر ،ناسورکی طرح پھیلتا ہی جارہا ہے۔

دبئی میں بھیک مانگنا جرم ہے لیکن بھیک مانگنے والے مانگنے کے مختلف طریقے ڈھونڈ ہی لیتے ہیں۔ سنا ہے کہ یہاں اچانک کوئی شاندار لگژری کار کسی راہ چلتے آدمی کے قریب آکررکتی ہے اور اس کا ڈرائیور اپنی منزل ، اپنے ملک واپس پہنچنے کے لئے مدد کے طور پر پٹرول خریدنے کے لئے پیسے طلب کرتا ہے۔مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس قسم کے واقعات میں ہرگزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ایسے ہی جیسے حیدرآباد میں کچھ لوگ اپنے آبائی مقام کو جانے کے لیے مختلف عنوانات کے تحت مالی تعاون طلب کیا کرتے ہیں ۔بیشتر لوگوں نے اسے باقاعدہ روپیہ کمانے کا آسان سا نسخہ سمجھ لیا ہے۔یہاں ہمیں بھیک مانگنے والوں سے متعلق کسی مزاحیہ شاعرکے کہے گئے اشعاریاد آ ر ہے ہیں ، ملاحظہ فرمائیں:

ہوں رول ماڈل دوستو، سب سے امیر ہوں
فکرِ معاش کیوں ہو؟ میں عادی فقیر ہوں
ہر اِک سے مانگتا ہوں، ہوتا نہیں خجل
مْجھ سا کہاں سے لاؤگے یارو پروفیشنل
بچوں کو میں نے دی ہے ٹریننگ بہت جْدا
بازار میں لگاتے ہیں، کیا خْوب وہ صدا
کہتے ہیں ‘‘دے خْدا کے لیے، ہم یتیم ہیں
دیتے ہیں جو یْتامیٰ کو، بندے عظیم ہیں‘‘
بیوی میری الگ سے بہت بھیک پاتی ہے
جب خْود کو نیک بخت کبھی بیوہ بتاتی ہے
الغرض، بھیک مانگنا، اِک آرٹ، خاص ہے
گھر کا ہر ایک فرد کیا پبلک شناس ہے
پہلے کسی بھی شخص کی نفسیات دیکھیے
پھر بعد میں ملنے والی خیرات دیکھیے
پنج وقتہ سْوئے مسجد میرا لازمی گْزر
ہاں بس ذرا نماز سے کرتا ہوں میں حذر
لوگوں کو صدقہ، خیرات کی رغبت دِلاتا ہوں
ترغیبِ نیکی پہ یونہی ثواب پاتا ہوں
سگنل پہ، پلیٹ فارم پہ، فْٹ پاتھ پہ جناب
کس جا کہ ہم فقیر نہیں ہوتے دستیاب؟
شاپنگ کوئی کرے تو ہمیں پائے گا وہیں
کس جا اور کس گلی میں فْقراء بھلا نہیں
صدقہ کی مَد میں جتنی ہیں آیہ قْرآن میں
رٹّو طوطے کی طرح، جاری زبان میں
مانا اسی قْرآن میں کسبِ حلال ہے
جائے میری نگاہ اْدھر، امرِ مْحال ہے
دِن رات مانگنے میں ہوں مصرْوف اس طرح
تیسری دْنیا کے ہیں حکمران جس طرح

آج بھیک مانگنا محض پیشہ نہیں بلکہ انڈسٹری کی شکل اختیار کرگیا ہے اورجو خود ساختہ بھکاری سب سے عمدہ اداکاری کے جوہر پیش کرتا ہے ایوارڈ کے طور پر کثیر رقم اسی کی جھولی میں آتی ہے۔چنانچہ مشکوک حیدرآبادی اکثر و بیشتربھکاریوں سے متعلق شکوک و شبہات میں مبتلارہتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ بہت سے لوگوں کے لیے یہ بغیر کچھ کیے پیسے حاصل کرنے کا آسان طریقہ بن چکاہے۔اگر انہیں یوں ہی پیسے دیے جاتے رہے تو بھلا وہ کام کیوں کریں گے؟ زیادہ تر بھکاری تربیت یافتہ اور پیشہ ور ہوتے ہیں اور اچھی خاصی کمائی کرلیتے ہیں۔اتنی کمائی کہ اگر ا ن کی آمدنی ، بینک بیالنس اور جائیداد کے تعلق سے انہیں خیرات دینے والا جان لے تو پھر وہ خودان سے مالی تعاون طلب کرلے… سنتے ہیں کہ کئی بھکاری سود پر قرض بھی مہیا کرتے ہیں ، ایسے بھکاری بھی ہیں جو ہوٹلوں میں کھاتے اور ہوٹلوں میں ہی سوجاتے ہیں۔ یاد رہے کہ پچھلے دنوں دبئی میں ایک بھکاری کو پانچ ستارہ ہوٹل سے گرفتار کیا گیا تھا۔کئی خبریں ایسی بھی موصول ہوئیں جس میں بھکاری کے انتقال کے بعد معلوم ہوا کہ بینک میں اس کی لاکھوں بلکہ کروڑوں کی مالیت ہے۔ہندوستان کے بڑے بڑے شہروں میں بھیک مانگنے پر پابندی ہے لیکن بھکاریوں کی تعداد آئے دن بڑھتی ہی جارہی ہے۔پابندی توعوامی جگہوں پرگٹکھے اور سگریٹ نوشی پر بھی ہے لیکن لوگ کہاںاس کو خاطر میں لاتے ہیں۔

شہر کے مصروف ترین ٹریفک سگنلس پر جیسے ہی’’ سرخ‘‘ سگنل روشن ہوتا ہے،یہ بھکاری اپنی زندگی کو ’’ہری‘‘ کرنے کے لیے مختلف سواریوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں،جن میں سے بیشتر بچے ہوتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پچاس ساٹھ ہزار سے زائد کم سن بھکاری دونوں شہروں میں پائے جاتے ہیں۔ کبھی ان بھکاریوں کے وجود میں آنے کی اہم وجہ غربت ہوا کرتی تھی لیکن آج کل اسے پیشے کا روپ دیدیا گیا ہے۔ پھٹی پھٹی آنکھوں کے ساتھ اپنے پھٹے پھٹے وجودکو پھٹے پھٹے کپڑوں میں سمیٹے ہوئے انہیںصرف اپنا ایک ہاتھ آگے بڑھانا ہوتا ہے اور پھر پھٹی پھٹی لکیروں والے ہاتھ میں کوئی نہ کوئی بندہ کبھی کرارا تو کبھی پھٹا پھٹانوٹ تھماجاتا ہے۔

یہاں اس بات کا تذکرہ بیجا نہ ہوگا کہ بچوں کا اچانک گم ہوجانا یوں ہی نہیں ہوتا،عموماً بھکاریوں کی مافیا گروہ اس کے پیچھے کارفرما ہوتی ہے۔حد تو یہ کہ مافیا گروہ قدرتی طورپر معذور بچوں کو بھی نہیں بخشتا اور انہیں بھی اٹھا لیتا ہے ۔ کہتے ہیں کہ ان کی شکل و صورت کوکچھ اس طرح بگاڑ دیا جاتا ہے کہ ان کے والدین تک انہیںپہچان نہ سکیں۔آج کے اس مشینی دور میں کسے اتنی فرصت ہے کہ وہ ان بچوں سے دریافت کرے کہ بیٹے! آپ یہاں تک کیسے پہنچے؟

پو لیس کے اعداد وشمار کے مطابق ہر سال ہندوستان بھر میں ہزاروں بچے غائب ہوجاتے ہیں، کچھ واپس آجاتے ہیں لیکن ایک چوتھائی کا پتا نہیں چلتا۔یہ بھی سنا ہے کہ درحقیقت غائب ہونے والے بچوں کی تعداد ایک ملین سالانہ ہے۔ان معصوم بچوں سے منشیات کی تجارت، مجرمانہ سرگرمیاں اور جنسی استحصال جیسے مسائل جڑے ہوئے ہیں، یہاں تک کہ ان کے اعضاء کی تجارت بھی ہوتی ہے۔ بچوں سے بھیک منگوانے والے گروہ انہیں پیٹ بھر کھانا نہیں دیتے تاکہ وہ راہ گیروں کے سامنے مسلسل روئیں اور راہ گیررحم کھاکر انہیں بھیک دے دیں…

اس دنیا میںایسا کون پتھر دل انسان ہے جو بچوں سے پیار نہیں کرتا ،بلکہ بچوں کو دیکھ کر تو ہر پتھر دل شخص بھی موم ہوجاتا ہے ۔ بھیک مانگنے والے بچوں کے والدین اور مافیا گروہ اسی انسانی رحم دلی کا بڑی بے رحمی سے فائدہ اٹھاتے ہیں …یہ تو ہوئی مافیا کی بات،بعض موقعوں پر بچوں کے والدین بھی ان کے بھیک مانگنے کے پیچھے کارفرما ہوتے ہیں۔ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ بھیک مانگنے والے زیادہ تر بچے باقاعدہ منظم مافیا گینگ کی سرپرستی میںکام کرتے ہیں۔ شہر کے کسی بھی مقام پر یہ بچے روزانہ دو سو سے پانچ سو روپیوںکے درمیان لوگوں سے رقم بٹورنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں جن میں سے ایک خاص فیصد ان کے ’’ سرپرست‘‘( مافیا گینگ ) کے حصے میں چلا جاتا ہے۔

ایک رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان میں سب سے زیادہ تعداد میں بھکاری پائے جاتے ہیں ، جن میں بچوں کی کثیر تعداد ہے ۔اس جانب بین الاقوامی تنظیموں نے حکومت ہند کی کئی سال قبل توجہ مبذول کروائی تھی،لیکن حکومت کو اتنی فرصت کہاں کہ وہ ان غریب بچوں کی طرف نظر اٹھا کر بھی دیکھے۔ بیشتر نیتا تواس قدرمصروف ہوا کرتے ہیں کہ انہیں سرکاری خزانے سے رقم اڑاتے اڑاتے پانچ سال کب گزر گئے پتا ہی نہیں چلتا۔کچھ برس قبل حکومت نے ایسے بے سہارا بچوں کے لیے خصوصی اسکیم کا اعلان کیا تھا لیکن یہ اعلان محض اعلان ہی بن کر رہ گیا۔اس اسکیم کے تحت کہا گیا تھا کہ بھیک مانگنے والے بچوں کی بہتر طورپر نگہداشت کرتے ہوئے انہیں زیور تعلیم سے آراستہ کیا جائے گا ۔جس طرح حکومت کی ہر فلاحی اسکیم کسی نہ کسی طرح سرد خانے کی نذر ہوکر رہ جاتی ہے ٹھیک اسی طرح یہ اسکیم بھی ٹائیں ٹائیں فش ہوکر رہ گئی کیوںکہ کچھ نیتاغربت کے معاملے میں ان بچوں سے بھی دو قدم آگے نظر آتے ہیں،جو عوامی خزانے سے بڑی ڈھٹائی سے جب چاہیں جتنی چاہیں رقم اڑا لیتے ہیںجبکہ یہ معصوم بھکاری کسی کی جیب میں ہاتھ ڈالا نہیں کرتے، وہ بیچارےتوصرف ہاتھ پھیلانا جانتے ہیں۔

٭٭٭

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.