آپ کے لیے کیا بہتر ہے؟

مثل مشہور ہے کہ ’’ وقت پر کھانا وقت پر سونا‘‘ تو اس میں کسی شبے کی گنجائش نہیں۔کھانا ہمیشہ وقت پر کھائیں اور اسی معمول پر قائم رہیں ۔ ہر روز ایک ہی وقت پر کھانا کھانے سے وزن کنٹرول میں رہتا ہے کیونکہ آپ کا نظام ہضم اس معمول کا عادی ہوجاتا ہے ۔

زندگی کے بیشتر معاملات ایسے ہیں کہ جنہیں ہم ایک لگے بندھے معمول کے مطابق انجام دیتے ہیں لیکن وہ جو علامہ اقبالؒ فرما گئے ہیں کہ :

اچھا ہے دل کے پاس رہے پاسبان ِ عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے

تو آپ کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ علامہ اقبالؒ کا یہ شعر حقیقت سے انتہائی قریب تر ہے ، کیونکہ اب تو جدید ترین تحقیق سے بھی یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ زندگی کے کچھ معاملات ایسے ہیں کہ جن کی انجام دہی کے لیے اپنے معمول پر کاربند رہنا ہی بہتر ہوتا ہے جب کہ کچھ کام ایسے بھی ہیں جنہیں کبھی کبھار معمول سے ہٹ کر انجام دینا کارگر ثابت ہوتا ہے ۔ یہاں آپ کے لیے کچھ مثالیں پیش خدمت ہیں جن کے لیے آزمائش شرط ہے ۔

سونے سے پہلے آپ کا معمول کیا ہے؟

تحقیق کے مطابق جو افراد سونے سے پہلے کسی خاص معمول کے پابند ہوتے ہیں ، وہ ان لوگوں سے پہلے نیند کی آغوش میں پہنچ جاتے ہیں جو کسی خاص معمول پر کاربند نہیں رہتے، لہٰذا نیند کے معاملے میں اپنے معمول پر قائم رہیں اور کوئی نیا تجربہ کرنے سے گریز کریں ۔

ماہرین کے کہنے کے مطابق ٹکنالوجی کی ترقی کے سبب ہمارے طرززندگی میں جو تبدیلیاں آئی ہیں ، انہی کے باعث نیند کی کمی اور نیند نہ آنے جیسے مسائل بڑھتے جارہے ہیں ۔

اب خواتین رات گئے تک تیز روشنی کیے ٹی وی پروگرام دیکھنے کے لیے یا کمپیوٹر آن کیے بیٹھی رہتی ہیں جس کے نتیجے میں دماغ کو نیند کے سگنلس پہنچنے بند ہوجاتے ہیں ۔پھر جب آپ سونے کے لیے لیٹتی ہیں تو نیند اڑ چکی ہوتی ہے جب کہ اچھی نیند کے لیے ضروری ہے کہ رات کا کھانا جلد کھاکر اپنے تمام کاموں کو سمیٹ لیں اور ذہن کو کسی کام میں الجھانے کے بجائے اسے پرسکون رکھیں ۔

اس طرح دماغ کو خود بہ خود پہنچنے والے سگنلس اسے نیند کا پیغام دینے لگتے ہیں ۔ آپ کا سونے سے پہلے کا طے شدہ معمول انہی سگنلس کا کام دے سکتا ہے ۔ لہٰذا تین باتوں کو اپنا معمول بنا لیں ۔ سونے سے پہلے غسل کریں ، دانت صاف کریں اور پھر کوئی کتاب پڑھیں ۔ آپ دیکھیں گی کہ نیند کی پری کس طرح آپ پر مہربان ہوتی ہے ۔

کیاآپ کھانا وقت پر کھاتی ہیں ؟

مثل مشہور ہے کہ ’’ وقت پر کھانا وقت پر سونا‘‘ تو اس میں کسی شبے کی گنجائش نہیں۔کھانا ہمیشہ وقت پر کھائیں اور اسی معمول پر قائم رہیں ۔ ہر روز ایک ہی وقت پر کھانا کھانے سے وزن کنٹرول میں رہتا ہے کیونکہ آپ کا نظام ہضم اس معمول کا عادی ہوجاتا ہے ۔ جدید ریسرچ سے یہ بات ثابت ہوئی کہ کھانا کھانے کا وقت اس بات کے مقابلے میں زیادہ اہمیت رکھتا ہے کہ آپ نے کیا کھایا۔

یہی باقاعدگی آپ کے میٹابولزم کی شرح میں اضافے کا سبب ہوتی ہے اور دو کھانوں کے وقفے کے دوران جسم کی اضافی چکنائی بھی استعمال ہوجاتی ہے ، جس سے آپ کی فٹنس برقرار رہتی ہے ۔

کیا آپ ایک جیسے برتنوں میں کھاتی ہیں؟

اگرآپ روزانہ ایک ہی جیسے یا چند مخصوص برتنوں میں کھانا کھانے کی عادی ہیں تو اس معمول میں تبدیلی لانا بہتر ہے ۔جدید ریسرچ کے مطابق اگر ایسی پلیٹ میں کھانا کھایا جائے جس کا رنگ کھانے کی رنگت کے بالکل برعکس ہو تو کھانے کی کم مقدار سے ہی ہماری تشفی ہوجاتی ہے ۔

اسی طرز کی ایک او ر ریسرچ سے یہ بات ثابت ہوئی کہ کراکری کے رنگ کھانوں کے ذائقے پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں ۔ مثلاً اسٹرا بیری سے بنا ہوا میٹھا سفید برتنوں میں زیادہ مزیدار محسوس ہوتا ہے ۔چاکلیٹ کا ذائقہ اور نج کلر کے برتنوں میں زیادہ کریمی محسوس ہوتا ہے اور پوپ کارن اگر نیلے رنگ کے پیالے میں پیش کیے جائیں تو کھانے میں زیادہ خستہ و نمکین لگتے ہیں ۔ ایسا کیوں ہوتا ہے ؟

اس کی اصل وجہ تو معلوم نہیں ہوسکی۔تاہم وقتاً فوقتاً برتنوں کی تبدیلی اور کھانے کی مطابقت سے برتنوں کا انتخاب آپ کے موڈ پر اچھے اثرات مرتب کرتا ہے ۔ یہی نہیں بلکہ کھانے کی کم مقدار سے آپ کا پیٹ بھر جاتا ہے ۔

آپ برش کرتے ہوئےکونسا ہاتھ استعمال کرتی ہیں ؟

اگر آپ داہنے ہاتھ سے کام کرنے کی عادی ہیں اور اسی ہاتھ سے دانت برش کرتی ہیں تو اس معاملے میں اپنے معمول سے ہٹنا آپ کے لیے سود مند ثابت ہوسکتا ہے ۔ لہٰذا بائیں ہاتھ سے برش کریں ، اس عمل سے آپ کے دماغ کو تقویت حاصل ہوگی کیونکہ اس طرح وہ اعصاب حرکت میں آئیں گے جو اس کام کے عادی نہیں ہیں ۔ مزید یہ کہ آپ کے تحمل و برداشت میں بھی اضافہ ہوگا ۔

ایک حالیہ اسٹیڈی سے یہ بات ثابت ہوئی کہ جن افراد نے اپنی عادت کے برخلاف دانت بر ش کرنے کی پریکٹس کی، وہ دو ہفتوں کے بعد خاصے پرسکون اور تحمل مزاج ہوگئے ، کیونکہ عادت کے خلاف اپنا دوسرا ہاتھ استعمال کرنے سے آپ میں سیلف کنٹرول پیدا ہوجاتا ہے ۔

ٹی وی پرکیا دیکھنا پسند کرتی ہیں ؟

بیشتر خواتین ٹی وی دیکھنے کی شوقین ہوتی ہیں اور اس معاملے میں بھی خاصی بدنام ہیں کہ اکثر و بیشتر دوبارہ نشر ہونے والے ٹی وی پروگرامس بھی اسی ذوق و شوق سے دیکھتی پائی جاتی ہیں لیکن گھبرائیے نہیں کہ آپ کے اس شوق پر کوئی پابندی عائد نہ ہوجائے بلکہ اب نئی تحقیق کے نتیجے میں یہ ثابت ہوچکا ہے کہ ایک مصروف اور تھکا دینے والا دن گزارنے کے بعد اپنے پسندیدہ ٹی وی شوز دوبارہ دیکھا آپ کے لیے سودمند ثابت ہوتا ہے ۔

اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ دوبارہ کوئی ڈراما دیکھنے کے سبب آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ آگے کیا ہونے والا ہے ۔ لہٰذا آپ کے اعصاب پر بوجھ نہیں پڑتا اور آپ پرسکون رہتی ہیں ۔ تاہم ایسا نہیں ہے کہ یہ تحریر پڑھنے کے بعد آپ تمام کاموں کو چھوڑ چھاڑ کر ٹی وی کے سامنے ہی نشست جما لیں بلکہ ماہرین اور اپنے شاعر مشرق کے فرمان کے مطابق دل کا کہا مانیں ضرور، لیکن کبھی کبھی !

٭٭٭

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.