بہت زیادہ بیٹھنے والے افراد میں موت کا خطرہ زیادہ

ایک امریکی تحقیق کے مطابق ٹی وی کے سامنے زیادہ وقت گزارنے سے دل کی بیماریوں، ذیابیطس اور موت کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ ایک امریکی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جو افراد زیادہ ٹی وی دیکھتے ہیں ان میں ذیا بیطس، عارضہ قلب حتیٰ کے موت تک کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

ایک نئی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ جو لوگ زیادہ دیر تک بیٹھ کر کام کرتے ہیں یا ٹی وی کے سامنے وقت گزارتے ہیں ان میں موت کا خطرہ ان افراد کی نسبت بڑھ جاتا ہے جو دن میں کم گھنٹے ایسی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں۔ یہ تحقیق آسٹریلیا کے سائنس دانوں نے تین برس کے عرصے تک کی ہے اور اس کے نتائج آرکائیوز آف انٹرنل میڈیسن نامی جریدے میں شائع ہوئے ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ کچھ وقت ہلکی پھلکی سے معتدل جسمانی سرگرمی میں گزارنے سے طویل المدتی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ Hidde van der Ploeg اس تحقیق کی مرکزی مصنفہ ہیں جن کا تعلق یونیورسٹی آف سڈنی سے ہے۔ ان کا کہنا ہے: ’’جب ہم لوگوں کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ انہیں کتنی جسمانی سرگرمی کرنی چاہیے، تو ہمیں انہیں یہ بتانے کی بھی ضرورت ہے کہ وہ اس وقت میں کمی لائیں جو وہ ہر روز بیٹھ کر گزارتے ہیں۔‘‘

یہ تحقیق 2006 سے 2008 کے درمیان نیو ساؤتھ ویلز کے 45 برس اور اس سے زائد عمر کے دو لاکھ سے زائد افراد پر کی گئی۔ تحقیق سے پتا چلا کہ جو لوگ دن میں کم از کم گیارہ گھنٹے بیٹھ کر گزارتے ہیں ان میں مرنے کا امکان ان افراد کی نسبت 40 فیصد بڑھ جاتا ہے جو دن میں چار گھنٹوں سے بھی کم وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں۔

تحقیق میں حصہ لینے والے افراد سے ان کے تمباکو نوشی کرنے یا نہ کرنے، ورزش کے رجحان اور دن میں بیٹھ کر گزارنے والے وقت سے متعلق سوالات بھی پوچھے گئے۔ تحقیقی ٹیم نے اس کے بعد تین برسوں تک آسٹریلیا کے شرح اموات کے ریکارڈ سے ان افراد کی صورت حال کو دیکھا۔ اس دوران ان میں سے 5,400 افراد یا دو سے تین فیصد انتقال کر گئے۔ Hidde van der Ploeg نے کہا کہ بہت زیادہ بیٹھنے سے خون کی شریانیں اور میٹابولزم کا عمل متاثر ہوتا ہے، خون میں چربی کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور کولیسٹرول کی، صحت کے لیے بہتر سطح کم ہو جاتی ہے۔

انہوں نے کہا: ’’کھڑے رہنے یا چلنے کی صورت میں ٹانگوں کے عضلات مسلسل کام کرتے رہتے ہیں جس سے خون میں گلوکوز اور چربی کی مقدار کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ بیٹھے رہنے کی صورت میں یہ عمل نہیں ہوتا کیونکہ عضلات اس وقت غیر فعال ہوتے ہیں۔‘‘ یہ تحقیق اس سے ملتے جلتے دیگر مطالعات سے مطابقت رکھتی ہے۔

کینیڈا کے چلڈرنز ہاسپٹل آف ایسٹرن اونٹاریو میں فربہی اور جسمانی سرگرمیوں پر تحقیق کرنے والے Mark Tremblay کا کہنا ہے: ’’چاہے آپ کی عمر کچھ بھی ہو، بیٹھے رہنے یا ٹی وی اسکرینوں کے سامنے ڈھیر ہو جانے سے آپ کی صحت پر مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔‘‘ محققین کا ماننا ہے کہ زیادہ دیر تک بیٹھ کر کام کرنے والے افراد کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ وقفوں وقفوں سے اٹھ جایا کریں تا کہ بیٹھنے کے تسلسل کا خاتمہ کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ انہیں پانی کافی مقدار میں پینا چاہیے اور جسم کو کھولنے کی مشقیں کرنی چاہیں۔

زیادہ ٹی وی دیکھنا موت کی وجہ

ایک امریکی تحقیق کے مطابق ٹی وی کے سامنے زیادہ وقت گزارنے سے دل کی بیماریوں، ذیابیطس اور موت کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ ایک امریکی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جو افراد زیادہ ٹی وی دیکھتے ہیں ان میں ذیا بیطس، عارضہ قلب حتیٰ کے موت تک کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

ہارورڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ کی تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ روزانہ محض دو گھنٹے ٹی وی دیکھنے سے بھی صحت پر برا اثر پڑتا ہے۔ تحقیقی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی شہری ہر روز عمومی طور پر پانچ گھنٹے ٹی وی کے سامنے گزارتے ہیں، جب کہ آسٹریلوی اور یورپی باشندے ساڑھے تین سے چار گھنٹے یومیہ ٹی وی دیکھتے ہیں۔ تحقیقی کمیٹی کے سربراہ فرانک ہو کا کہنا ہے کہ ان کا پیغام بالکل واضح ہے، ’ٹی وی دیکھنے میں کمی سے ذیا بیطس اور دل کی بیماریوں میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔

جو لوگ ٹی وی کے سامنے بیٹھے رہتے ہیں وہ نہ صرف یہ کہ کم ورزش کرتے ہیں بلکہ وہ مضر صحت غذا کا استعمال بھی زیادہ کرتے ہیں۔ ان سب چیزوں سے بیماریوں کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔‘ یہ اس نوعیت کی پہلی تحقیق نہیں ہے۔ زیادہ ٹی وی دیکھنے، موٹاپے اور فشار خون سے متعلق تحقیقیات بھی وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہی ہیں۔ مذکورہ تحقیق جرنل آف امیریکن میڈیکل ایسوسی ایشن میں چھپی ہے۔

اس تحقیق کے لیے سات سے دس سال تک دو لاکھ افراد کا مطالعہ کیا گیا۔ اس میں جن افراد کا مطالعہ کیا گیا وہ پہلے سے کسی بیماری کا شکار نہیں تھے۔ تحقیق کے مطابق یہ بات تو درست ہے کہ ٹی وی دیکھنے سے خطرناک بیماریاں جنم لے سکتی ہیں تاہم یہ طے نہیں ہے کہ محض زیادہ ٹی وی دیکھنے ہی سے یہ بیماریاں ہوتی ہیں۔

٭٭٭

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.