جامن: معدہ، آنتوں اور تلی کے امراض کا شافی علاج ہے

شوگر کے مریضوں کیلئے غذائی اور دوائی اثرات رکھنے والا پھل ۔اس کی گٹھلی کا سفوف پرانے دستوں کا مجرب علاج

قربان جائیں قدرت کے، جس نے اس کائنات ارزی میں رنگ برنگ پھل پیدا فرما کر انہیں ہمارے لئے جاذب نظر بنایا۔ ان قدرتی پھلوں کے اندر بھی قدرت نے اپنی حکمت کاملہ سمو دی ہے۔ پرانے سائنس دان اطباء کرام نے تحقیق اور جستجو کی تو پتہ چلا کہ قدرت کی بنائی ہوئی یہ ان گنت نعمتیں کسی طرح بھی افادیت کے لحاظ سے حضرت انسان کے لئے کم نہیں ہیں۔ ان قدرتی پھلوں کا ہر ایک جزو اس کی حکمت عملی کا قدرتی نمونہ ہے۔

ان بے شمار درختوں سے پیدا ہونے والے پھلوں کے پھول ، پھل، پتے اور چھلکا سب ہی فوائد کا ان گنت مجموعہ ہے اور ہم لوگ کسی نہ کسی صورت میں ان سے غذائی اور دوائی دونوں قسم کے فوائد یکساں حاصل کرتے ہیں۔

قدرت نے جہاں مختلف موسموں میں مختلف قسم کی سبزیاں ہمارے لئے پیدا کی ہیں۔ وہاں قدرت نے ہم پر احسان عظیم فرماتے ہوئے رنگا رنگ قسم کے خوش ذائقہ پھل بھی پیدا فرما دیئے ہیں۔

جامن موسم برسات کی ایک خاص سوغات ہے۔ موسم برسات کا سلسلہ شروع ہوتے ہی گلیوں اور بازاروں میں چھابڑیوں والے حضرات ’’جموں را کالے‘‘ کی آوازیں لگاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ بچے، بوڑھے، جوان، مردوزن بڑے شوق سے اس کے پُر لطف ذائقے کے پیش نظر اسے بڑی رغبت سے کھاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے ہمارے اکثر گھروں میں جامن کا پودا لگانے کا رواج ہے۔ شہروں اور دیہات میں تو اس کے درخت جابجا لگے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جامن کا درخت کافی قد آور ہوتا ہے، جس کی چھاؤں تلے دیہات میں عام لوگ بیٹھے نظر آتے ہیں۔

برسات کے موسم میں استعمال ہونے والے پھلوں میں آم کے بعد سب سے زیادہ استعمال ہونے والا پھل جامن ہی ہے۔ ہمارے گھروں میں جامن کے سرکے کے استعمال بھی بڑے شوق سے کئی لوگ کرتے ہیں۔ جامن کا پھل میٹھا اور ترشی مائل ہوتا ہے۔ لوگ اسے عام طور پر جموں اور جامن کے نام سے پکارتے ہیں ۔ اس کا مزاج سرد خشک ہے۔ جدید سائنس کی تحقیق کے مطابق آدھ سیر جامن کے پھل میں ایک وقت کے کھانے کے برابر غذایت پائی جاتی ہے۔

ہمارے سائنس دان حکماء نے تو صدیوں پہلے اس قدرتی اور شفائی اثرات سے مالا مال پھل کو بطور غدا اور دوا کھانے کا رواج دیا تھا۔ انہوں نے اس کے پھل، پھول، چھلکے، گٹھلی اور پتوں کی ایک گھریلو دوا کے طور پر نشاندہی فرمائی۔ برسات کے موسم میں خون میں تیزابیت بڑھ جانے کی وجہ سے عام لوگوں میں پھوڑے، پھنسیوں اور پت پک جانے کی شکایات ہوا کرتی ہیں۔ اسی نقطہ نظر سے قدرت نے خون کے جوش کو ٹھنڈا کرنے اور تیزابیت رفع کرنے کے لئے جامن جیسے کثیر الفوائد دوائی پھل کو پیدا فرمایا ہے۔

آج قارئین کرام کی خدمت میں جامن کے بے شمار غذائی اور دوائی افعال کو سامنے رکھتے ہوئے اس کے شفا بخش کرشمات پیش کئے جا رہے ہیں۔ یہ پھل معدہ، آنتوں اور تلی کو طاقت دیتا ہے۔ جن حضرات کا معدہ کمزور ہونے کی وجہ سے بدہضمی اور منہ سے پانی بھر بھر آنے کی شکایت ہو اور اجابت پتلی اور دن میں دو تین بار آتی ہو، ایسے مریضوں کے لئے جامن کے پھل 100گرام کا ناشتہ چند یوم کرنے سے بفضل تعالیٰ معدہ کو طاقت ملتی اور بدہضمی دور ہو کر اجابت صحیح طور پر آتی ہے۔

بعض بھائیوں کو بواسیر کا خون کثرت سے آتا ہے اور سخت بے چینی محسوس ہوتی ہے اور طبیعیت دن بدن نڈھال ہوتی جاتی ہے۔ ایسے مریضوں کے لئے اس پھل کے مفت میں ملنے والے پتے کسی معجزہ نما اثرات دوائی سے کم نہیں ہیں۔

ایسے مریض جن کو پرانی پیچس ہو جانے کی وجہ سے آنتیں کمزور ہو جاتی اور آنتوں میں زخم ہو جاتے ہیں۔ ایسے مریضوں کو اجابت بار بار آتی اور درد کے ساتھ آتی ہے اور زیادہ زور لگانے سے بعض اوقات آؤں یا خون بھی آتا ہے۔ بعض مریضوں کو تو غذا کے غیر متہضم ٹکڑے بھی خارج ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے غذا جزو بدن نہیں بنتی اوراس وجہ سے مریض دن بدن کمزور ہوتا جاتا ہے۔

ایسے پریشان حال مریضوں کے لئے گھریلو دوا کا نسخہ حاضر خدمت ہے۔ (جامن کی گٹھلی، اناردانہ اور ہرڑ سیاہ) برابر ہم وزن تھوِڑے گھی یا بادام روغن میں بریان کر کے اس کو کوٹ چھان کر اس کا سفوف تیار کر کے یہ سفوف صبح و شام تین تین ماشے ناشتے یعنی چائے والی آدھی چمچی لسی دہی یا تازہ پانی کے ساتھ کھانے سے مریضوں کو چند ہی یوم میں افاقہ ہوتے دیکھا گیا ہے۔

ایسے مریضوں کو انڈہ، مرغ، مچھلی، سرخ مرچ، بڑا گوشت اور میدے والی چیزوں سے مکمل پرہیز رکھنا چاہئے۔ اگر کسی مریض کو پاخانے کے ساتھ خون آنا شروع ہو جائے تو یہی سفوف صبح و شام ایک ایک چمچی چائے والی، دہی میں حسب منشا ملا کر کھانے سے دو خوراکوں ہی میں بفضل تعالیٰ خون رک جاتا ہے۔

اگر معدہ میں تیزابیت کی وجہ سے منہ پک جائے تو جامن کے نرم پتوں کو پانی میں جوش دے کر اس کا جوشاندہ سا بنا کر اس کی کُلیاں کرنے سے فائدہ ہوتا ہے۔ دیہی گھرانوں میں جامن کے سرکہ کا بھی بڑا رواج ہے۔ لوگ گھروں ہی میں اس کا سرکہ تیار کر کے بڑے شوق سے اسے استعمال کرتے ہیں۔

جامن کا سرکہ ایسے مریض جن کی تلی بڑھ جائے، بھوک بند ہو جائے، چہرے کا رنگ سیاہی مائل ہو جائے۔ بدہضمی اور کھٹے ڈکار آتے ہوں۔ ایسے حضرات کھانا کھانے کے بعد جامن کا سرکہ ایک سے تین چائے والی چمچیاں پی لیا کریں۔ تو چند ہی یوم میں بڑھی ہوئی تلی کے مرض میں افاقہ محسوس ہوگا۔ ایسے مریضوں کو غذا ہلکی اور سبزیوں کا استعمال زیادہ سے زیادہ کرنا چاہئے۔

آج کل معاشرے میں اکثر افراد ماسخورہ (پائیوریا) جیسی خطرناک بیماری میں بڑی تیزی سے مبتلا ہو رہے ہیں۔ ایسے مریضوں کے مسوڑھوں میں سے خون بکثرت آتا اور مسوڑھوں میں زخم ہونے کے علاوہ ان کی رنگت بالکل بدل جاتی ہے۔ ایسے مریضوں کو کھانے پینے میں بھی تکلیف ہوتی ہے۔

ایسی صورت میں نہایت ہی بے ضرر اور کم خرچ اجزاء پر مشتمل منجن کا یہ نسخہ کئی ایک پائیوریا کے مریضوں کو استعمال کرواکے شفایاب ہوتے دیکھا ہے۔ جامن کی گٹھلی خشک شدہ، کیکر کے سک کا برادہ 20-20 گرام، نمک سیاہ10 گرام اور عقر قرما 5 گرام ان اشیاء کو باریک پیس کر منجن تیار کر کے صبح و شام دانتوں اور مسوڑھوں پر ملنے سے ایک ہفتے میں خون اور پیپ آنا بند ہوجاتا اور دانتوں میں چمک پیدا ہوتی ہے۔

جامن جیسا کم خرچ، خوش ذائقہ اور شفائی اثرات سے بھرپور پھل ذیابیطس (شوگر) کے مریضوں کے لئے نہ صرف دوا کا کام دیتا ہے، بلکہ غذا کا بھی کام دیتا ہے۔ شوگر کے مریضوں کو روزانہ صبح و شام 100 گرام تازہ جامن کھانا چاہئے۔ شوگر پیشاب میں آتی ہو یا بلڈشوگر ہو، ایسے حالات میں جامن کی گٹھلی، خشک کریلا، تخم حرمل اور ہلدی برابر وزن ان چاروں چیزوں کو کوٹ کر ان کا سفوف تیار کرلیں۔

یہ سفوف صبح و شام چائے والی آدھی سے ایک چمچی چند یوم پانی کے ساتھ استعمال کرنے سے شوگر کنٹرول ہو جاتی ہے۔ ایسے مریضوں کو جامن کے پتے اور لوکاٹ کے پتے پانی میں بھگو کر یہ پانی دن میں دو تین مرتبہ پی لینا چاہئے۔ اس سے بھی افاقہ ہوگا۔

٭٭٭

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.