حقیقی خوشی کیا ہے؟…اس رازکو جانیے

مشاہدے کا علم بتاتا ہے کہ انسان چاہے کتنی ہی قیمتی چیز خرید لے وہ اُس سے مستقل خوش نہیں رہ سکتا اور وقت کے ساتھ انسان کا اُس سے دھیان ہٹتا چلا جاتا ہے اور وہ دُوسری چیزوں کی طرف متوجہ ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

جیب میں پیسہ آتا ہے تو انسان سمجھتا ہے کہ اُسے خوشی مل گئی ہے لیکن پیسہ اگر جیب میں پڑا ہے تو سوائے کاغذ کے ٹکڑوں کے اور کُچھ نہیں لہٰذا انسان اُسے خرچ کرنے کے لیے بازار کا رُخ کرتا ہے اور اپنی من پسند چیزیں خریدتا ہے اور پھر ان چیزوں کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔

مشاہدے کا علم بتاتا ہے کہ انسان چاہے کتنی ہی قیمتی چیز خرید لے وہ اُس سے مستقل خوش نہیں رہ سکتا اور وقت کے ساتھ انسان کا اُس سے دھیان ہٹتا چلا جاتا ہے اور وہ دُوسری چیزوں کی طرف متوجہ ہونا شروع ہو جاتا ہے۔دولت سے خریدی گئی قیمتی اشیا انسان کو مستقل خوش نہیں رکھ سکتی جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ان اشیا سے وقتی خوشی ملتی ہے اور وقت بیعت جانے کے بعد انسان ان اشیا کو نظر انداز کر دیتا ہے اور آہستہ آہستہ اُس کا دل خریدی ہُوئی قیمتی چیزوں سے بیزار ہوتا چلا جاتا ہے۔

ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ سچی خوشی کا تعلق اُن کاموں سے ہوتا ہے جنہیں ہم اختیار کر لیتے ہیں اور پھر ہمارا دل بار بار اُن کی طرف جاتا ہے، اس مضمون میں ہم اس کام کوشامل کر رہے ہیں جو ہمیں حقیقت میں سچی خُوشی دے سکتا ہے۔

ایک ٹیلی فونک انٹرویو میں ریڈیو انائونسر نے اپنے مہمان سے جو ایک عرب پتی شخص تھا، پوچھا ’’ زندگی میںسب سے زیادہ خوشی آپ کو کس چیز میں محسوس ہوئی؟ ‘‘وہ کروڑپتی شخص بولا: میںزندگی میںخوشیوں کے چار مراحل سے گزرا ہوں اورآخر میں مجھے حقیقی خوشی کا مطلب سمجھ میںآیا۔

متعلقہ

سب سے پہلا مرحلہ تھا مال اور اسباب جمع کرنے میں مجھے وہ خوشی نہیںملی جو مجھے مطلوب تھی۔ پھردوسرا مرحلہ آیا قیمتی سامان اور اشیاء جمع کرنے کا لیکن مجھے محسوس ہوا کہ اس چیز کا اثر بھی وقتی ہے اور قیمتی چیزوں کی چمک بھی زیادہ دیر تک برقرار نہیںرہتی۔پھر تیسرا مرحلہ آیا بڑے بڑے پروجیکٹ حاصل کرنے کا۔ جیسے فٹ بال ٹیم خریدنا، کسی ٹورسٹ ریزارٹ وغیرہ کو خریدنا۔ لیکن یہاں بھی مجھے وہ خوشی نہیں ملی جس کا میںتصور کرتاتھا۔ چوتھی مرتبہ ایسا ہوا کہ میرے ایک دوست نے مجھ سے کہا کہ میں کچھ معذور بچوں کیلئے وہیل چیر س خریدنے میںحصہ لوں۔

دوست کی بات پر میں نے فوراً وہیل چیئر ز خرید کر دے دیں۔ لیکن دوست کا اصرار تھا کہ میںاس کے ساتھ جاکر اپنے ہاتھ سے وہ وہیل چیئر ان بچوں کے حوالے کروں۔ میںتیار ہوگیا اوراس کے ساتھ گیا۔ وہاں میں نے ان بچوں کو اپنے ہاتھوں سے وہ کرسیاں دیں۔ میں نے ان بچوں کے چہروں پر خوشی کی عجیب چمک دیکھی۔ میں نے دیکھا کہ وہ سب کرسیوںپر بیٹھ ادھر ادھر گھوم رہے ہیں اور جی بھر کے مزہ کررہے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتاتھا کہ وہ کسی پکنک اسپاٹ پرآئے ہوئے ہیں۔لیکن مجھے حقیقی خوشی کااحساس تب ہوا جب میںوہاں سے جانے لگا اوران بچوں میںسے ایک نے میرے پیر پکڑلیے… میںنے نرمی کے ساتھ اپنے پیر چھڑانے کی کوشش کی لیکن وہ بچہ میرے چہرے کی طرف بغور دیکھتاہوا میرے پیروں کو مضبوطی سے پکڑے رہا۔

میں نے جھک کر اس بچے سے پوچھا : کیا آپ کو کچھ اور چاہیے؟

اس نے جو جواب مجھے دیا اس نے نہ صرف مجھے حقیقی خوشی سے روشناس کرایا بلکہ میری زندگی کو پوری طرح بدل کررکھ دیا۔ اس بچے نے کہا: میں آپ کے چہرے کے نقوش اپنے ذہن میں بٹھانا چاہتاہوں تاکہ جب جنت میںآپ سے ملوں تو آپ کو پہچان سکوں اورایک باراپنے رب کے سامنے بھی آپ کا شکریہ ادا کرسکوں۔

٭٭٭

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.