برطانوی شہزادی لیڈی ڈیانا

لیڈی ڈیانا پر بننے والی فلم میں ادکارہ اسٹیورٹ کو دیکھ کر ایسے لگتا ہے جیسے وہ بطور شہزادی اپنے آپ اوراپنے اختیارات پر غورکررہی ہو... فلم میںوہ اپنے ملک کیلئے سوچتی ہوئی بھی نظرآتی ہے۔ اس فلم میں شہزادہ چارلس کو اس کی حوصلہ افزائی کرتاہوا بھی دکھایا گیاہے۔

کروڑوں دلوں کی دھڑکن بننے والی برطانوی شہزادی لیڈی ڈیانا کی زندگی پر اب ایک اور فلم ’’اسپینسر‘‘کے نام سے بن چکی ہے۔ جو ستمبر میںوینس فلم میلے میں نما ئش کیلئے پیش کی جانی تھی مگر اس کی نمائش 5 نومبر کو ہوئی۔اس فلم کو2022ء میں شہزادی ڈیانا کی25ویںبرسی کے موقع پر ریلیز کئے جانے کا امکان ظاہر کیاجارہا تھا۔ آسکر انعام یافتہ چلی کے فلم ساز پابلولارین کی اس فلم میں ڈیانا کا کردار30 سالہ اداکارہ کرسٹین اسٹیورٹ نے ادا کیاہے ۔

گزشتہ سال جب اس فلم کی شوٹنگ شروع ہونے والی تھی تو کرسٹن سٹیورٹ کو ملے جلے ردعمل کا سامنا کرنا پڑاتھا۔ جہاں اس کے کچھ مداحو ں نے کاسٹنگ کے انتخاب کو عجیب کہاتھا تو کچھ لوگوں نے اس کردار کے انتخاب پرحیرانی کااظہار بھی کیاتھا کہ فلم بنانے والوں نے کسی برطانوی اداکارہ کا انتخاب کیوں نہیں کیا؟ تاہم زیادہ تعداد ان مداحوں کی تھی ، جنہوں نے اسٹیورٹ کو اس کردار کیلئے بہترین قرار دیاتھا۔ فلم کانام لیڈی ڈیانا کے شاہی نا م اسپینسر پررکھاگیا۔ فلم کی کہانی اسٹیون نائٹ نے لکھی ہے۔

’’اسپینسر ‘‘ میں شہزادی ڈیانا کی جانب سے شہزادہ چارلس سے علیحدگی اختیار کرنے اور شاہی زندگی کو ٹھکرانے کے فیصلے کو دکھایاہے۔ فلم میں کرسٹین اسٹیورٹ کے ہمراہ جیک فاردنگ نے شہزادہ چارلس کا کردار ادا کیا ہے۔ فلم کی کاسٹ میںٹیموتھی اسمال ،سیلی ہاکنز،اورسین بارس بھی شامل ہیں۔’’ اسپینسر‘‘ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اس کے فلم ساز نے بتایا کہ اس فلم میںدکھایا گیا ہے کہ کوئی بھی خاتون جب ضد پر آتی ہے تو وہ شہزادیوں جیسی زندگی کو بھی بدل دیتی ہے اور ملکہ بننے سے بھی انکار کرسکتی ہے۔

اس فلم میں بھی ایسی خاتون جو فیصلہ کرتی ہے کہ وہ یہ ہے کہ وہ ماضی کی وہی عورت کے روپ میںرہے گی جو شہزادہ چارلس سے ملنے سے پہلے تھی۔ فلم ساز نے کہا کہ اسپینسر میںدکھایا گیا ہے کہ کس طرح لیڈی ڈیانا کروڑوںدلوں پر راج کرنے اورشاہی زندگی گزارنے کے باوجود شاہانہ زندگی سے الگ ہونے کا فیصلہ کرتی ہے۔ فلم میںلیڈی ڈیانا کودوکم عمر بچوں شہزادہ ولیم اورہیری کی ماں کے طورپر بھی دکھایاگیا ہے۔

لیڈی ڈیانا پر بننے والی فلم میں ادکارہ اسٹیورٹ کو دیکھ کر ایسے لگتا ہے جیسے وہ بطور شہزادی اپنے آپ اوراپنے اختیارات پر غورکررہی ہو… فلم میںوہ اپنے ملک کیلئے سوچتی ہوئی بھی نظرآتی ہے۔ اس فلم میں شہزادہ چارلس کو اس کی حوصلہ افزائی کرتاہوا بھی دکھایا گیاہے۔ فلم کے ایک سین میںوہ دوڑ لگانا چاہتی ہے مگر وہ ایسا نہیں کرسکتی ۔ ایسے لگتا ہے کہ ا س کے مسائل کا ماخذاپنے سسرال کی مختلف صدیوں پرانی اقدار ہیں۔ پھر وہ یہ فیصلہ کرتی ہے کہ وہ اپنے سسرال کی طرح نہیں رہ سکتی۔ وہ ایک جگہ کہتی ہے کہ مجھے واقعی وہ چیز یں پسند ہیں جو سادہ ہوں، عام سی ہوں، صرف وہ چیزیں جو حقیقی ہوں۔

ایک جگہ وہ یہ بھی کہتی ہے کہ میرے لیے اب کوئی امید نہیں ۔ میں ان ( شاہی خاندان) کے ساتھ نہیں ہوں۔ اس (ڈیانا) کی دوست ، جس کا کردار سیلی ہاکنزنے ادا کیا ہے ، ڈیانا کو بتاتی ہے کہ وہ اس کے ساتھ ہے ۔ مگر پھر بھی ، ڈیانا اپنی طاقت کو اپنے طاقتور خاندان( سسرال) کا مقابلہ کرنے پر قائل نہیں ہوتی۔ ڈیانا ایک سین میں یہ بھی پوچھتی ہے ۔کیا آپ کو لگتا ہے کہ وہ مجھے ماردیںگے؟

واضح رہے کہ برطانوی شہزادوں ولیم اور ہیری کی والدہ اور شہزادہ چارلس کی سابق اہلیہ لیڈی ڈیانا1997 ء میں ایک کار حادثے میں چل بسی تھیں۔ ان کی زندگی کو پہلے بھی چند فلموں میںدکھایا جاچکا ہے۔ لیڈی ڈیانا کی زندگی دنیابھر کے لوگوں کے تجسس کا باعث رہی ہے اوردنیا بھر میں ان کروڑوں مداح ابھی تک ان کی زندگی کے حوالے سے کئی باتیں جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے2013ء میں بھی ڈیانا کی زندگی پر ایک فلم بنائی گئی تھی جس میں نومی واٹسن نے شہزادی کارکردگی ادا کیا تھا۔’’ڈیانا‘‘ نامی فلم میںشہزادی ڈیانا کی زندگی کے آخری دو سالوں کی منظرکشی کی گئی تھی۔ اس فلم میں ایک جانب شہزادی ڈیانا کو ولیم اورہیری کی محبت کرنے والی ماں کے روپ میں پیش کیاگیاتھا تودوسری طرف ان کی زندگی کے اتارچڑھا و اور جذباتی کشمکش کو بھی فلم کا موضوع بنایاگیا تھا۔ فلم میںشہزادی ڈیانا کے قریبی دوستوں مصری رئیس زادے ڈوڈی الفائد اور پاکستانی نژاد برطانوی ڈاکٹر حسنات خان کے ساتھ گہرے مراسم کے حوالے سے کہانی کا تانابانا بناگیاتھا۔ اس طرح شہزادی ڈیانا کی فلاحی تنظیموں کے ساتھ وابستگی اورخاص طورپر تیسری دنیا کے ممالک کیلئے ان کی خدمات کو بھی کہانی کاحصہ بنایا گیاتھا۔

اس فلم کی کہانی میںا ینڈریومورٹن کی لیڈی ڈیانا پر لکھی سوانح عمری سے بھی استفادہ کیاگیا ہے۔ مثلاً شادی سے پہلے ڈیانا کون تھی؟ فلم کی کہانی میں ’’ڈیانا کی سچی کہانی ان کے اپنے الفاظ میں ’’ کے سین بھی شامل کئے گئے ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈیانا نے چارلس سے ملنے سے قبل کیسی زندگی گزاری تھی، وہ ان بیتے ہوئے دنوںکو یاد کرتی ہے اور اپنے دوستوں کے ساتھ اپارٹمنٹ میں رہنے کو اپنی زندگی کا سب سے خوشگوار وقت قرار دیتی ہے۔

یوںلگتا ہے کہ ڈیانا ہمیشہ کیلئے ایک بار پھر اسی طرح زندہ رہ کرماضی والی خوشیاں حاصل کرنے کی خواہاں تھی۔ فلم میں اس بات کو چھپایا نہیںگیا کہ ڈیانا خود کو شاہی خاندان سے الگ قرار دیتی رہی ، حالانکہ وہ اس خاندان کی بہو اور ایک اہم فرد بن چکی تھی۔ اگر آپ کو پسندیدہ فلمیں رونے دھونے والی فلمیں ہیں تو یہ فلم آپ کیلئے ایک تحفظ ثابت ہوگی۔ اس لیے اسپینسر نامی اس فلم کو ایک (تاریک کرسمس) فلم کے استعارے کے طور پر بھی لیاجاسکتا ہے۔

سی این این کے مطابق انہوں نے اپنے سابق بٹلرپال بیرل کو ایک خط میں لکھا تھاکوئی میری گاڑی کے حادثے کی منصوبہ بندی کررہا ہے، اس حادثے میں گاڑی کی بریکیں فیل کردی جائیں گی اور میرے چوٹ لگنے سے چارلس کی شادی کاراستہ کھل جائے گا۔ یہ خط انہوں نے اپنی موت سے 10ماہ قبل تحریر کیاتھا اوراس کی تحریر میں موجود نام کو میڈیا میں سامنے سے آنے سے پہلےسے بدل دیاگیا تھا۔

پال بیرل نے یہ خط2003ء تک چھپا کررکھا اوراس کا انکشاف اپنی کتاب اے رائل ڈیوٹی میں کیا جس میںدعویٰ کیاگیا کہ شہزادی ڈیانا نے یہ خط انہیں ایک انشورنس پالیسی کے طور پردیا تھا۔ اس خط میں مزید لکھا تھاکہ شہزادی ڈیانا کا مانناتھا کہ شہزادہ چارلس کا میلاسے شادی نہیں کریں گے بلکہ ان کے بیٹوں کی سابق آیا ٹیکی لیگی بروک سے شادی کریں گے۔

واضح رہے کہ ڈیانا اورڈوڈی الفائد اپنے ڈرائیور سمیت اکتیس اگست1997ء میں پیرس انڈربائی پاس میں ایک کارحادثے میں ہلاک ہوگئے ۔ خیال رہے کہ2013ء میں برطانوی پولیس نے کہاتھا کہ1997ء میںشہزادی ڈیانا کی ہلاکت کے بارے میںتحقیقات ختم ہوگئی ہیں، لیکن اس بات کے کوئی قابل اعتبار شواہد حاصل نہیںہوئے ہیں کہ انہیںقتل کیاگیاتھا۔

شہزادی کی موت کے حوالے سےپراسراریت اب تک قائم ہے

19 جولائی1981 کو لیڈی ڈیانا کی شادی شہزادہ چارلس سے ہوئی جسے دنیا بھر کے میڈیا نے دکھایا ۔ وہ دوبچوں کی ماں بنی۔ بچوں کی پیدائش کے بعد شہزادہ چارلس کی سردمہری سے لیڈی ڈیانا کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی اورشادی کے مقدس بندھن میں دراڑ پیداہونے لگی۔ 20 دسمبر1995 میں شہزادی ڈیانا اوران کے شوہر شہزادہ چارلس کے درمیان علیحدگی ہوگئی ، مگر اس سے زندگی میں کوئی آسانی نہیںہوئی۔ علیحدگی کے بعد سے شہزادی ڈیانا کومحسوس ہوا کہ ان کی ہر وقت جاسوسی ہوتی ہے جبکہ اس کو پولیس کاتحفظ بھی حاصل تھا۔ مگراس سے بھی حیران کن بات یہ ہے کہ1996ء میں انہوں نے اپنی موت کی پیشگوئی بھی کردی تھی ،در حقیقت انہوں نے ایک قاتلانہ حملے کا اشارہ دیاتھا۔

٭٭٭

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.