عام نزلہ زکام سے مقابلہ کس طرح کیاجائے؟

نزلہ زکام ایک فرد سے دوسرے فرد تک کس طرح منتقل ہوتا ہے؟ آسانی سے یعنی وائرس آلودہ لعاب اور بلغم سے۔ قریب کھڑے ہوئے یا بیٹھے ہوئے کسی بھی فرد کی چھینک اس بات کے لیے کافی ہوتی ہے کہ چند جرثومے ہمارے سسٹم میں داخل ہوجائیں اور ہمیں ایک ہفتے کے لئے پریشانی میں مبتلا کردیں۔

عام نزلہ زکام بے حد عام ہے۔ یہ فرد سے دوسرے فرد تک صرف مصافحہ کرنے سے بھی منتقل ہوسکتا ہے۔ اگر آپ کے حلق میں خراش ہے ناک بہہ رہی ہے‘ آپ درد اور تکلیف میں مبتلا ہیں تو پھر یقین کرلیں کہ نزلہ زکام شروع ہوگیا ہے۔ نزلہ زکام ایک فرد سے دوسرے فرد تک کس طرح منتقل ہوتا ہے؟ آسانی سے یعنی وائرس آلودہ لعاب اور بلغم سے۔ قریب کھڑے ہوئے یا بیٹھے ہوئے کسی بھی فرد کی چھینک اس بات کے لیے کافی ہوتی ہے کہ چند جرثومے ہمارے سسٹم میں داخل ہوجائیں اور ہمیں ایک ہفتے کے لئے پریشانی میں مبتلا کردیں۔ غذا علاماتی کیفیت کو آرام پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

وٹامن سی سے بھرپور غذائیں سترسی پھل جیسے کہ اورنج‘ سویٹ لائم اور لیمن‘ امرود اسٹرابیری‘ گریپ فروٹ‘ کیوی فروٹ‘ ٹماٹر‘ بروکولی‘ بندگوبھی‘ پپیتا اور کرم کلا عام نزلہ زکام کی شدت کو گھٹانے اور اس کی مدت کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اگرہم وٹامن سی پر نوبل انعام یافتہ اور محقق لائنس پالنگ کے مقولے پر عمل کریں تو اس کے مطابق یہ غذائیں نزلہ زکام سے بچاؤ بھی کرتی ہیں۔
یونیورسٹی آف وسکلسن‘میڈیسن‘ یو ایس اے کے ایک مطالعہ کے مطابق نصف مریضوں کو وٹامن سی چار خوراکوں میں کل 2000ملی گرام مقدار میں دئیے گئے اور بقیہ نصف تعداد کو نام نہاد دوا دی گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وٹامن سی نے عام نزلہ زکام کے اثرات کو کمزور کردیا ور جسم کے انتہائی قوی دفاعی یعنی وائٹ بلدسیلز کو سہارا دیا۔ ایک اور کلیدی جنگجو زنک Zincہے۔

ہر ایک جاندار خلیہ کا جزو زنک ہمارے 200سے زیادہ حیاتیاتی انزائمز کی کارکردگی کے لئے لازمی ہے۔ یہ باڈی پروٹینز اور جینٹیک میٹیریل کی تشکیل میں مدد دیتا ہے اور مضبوط امیون سسٹم کو برقرار رکھنے کیلئے کارآمد ہے۔ نزلہ زکام کے خلاف جنگ میں زنک کلیدی دفاع کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ علامات کی شدت کو گھٹاتا ہے اوراس کے وقفے کو مختصر کردیتا ہے۔ لیکن اگر وٹامن سی اور زنک کو منہ کے ذریعے ایک ساتھ لے لیا جائے تو وٹامن سی زنک کو بے عمل اور غیر موثر کردیتا ہے۔

زنک زیادہ تر گوشت اور گوشت کی پروڈکٹس پولٹری کستورا مچھلی Oysterکیکڑوں‘ٹرکی کے علاوہ دیگر میں بھی پایا جاتا ہے۔ سبزیوں کی اشیاء میں کدو پیٹھے کے بیج‘سالم اناج کے جرثوموں کی تہ خشک مٹر پھلیاں اور مغزیات نزلہ زکام کے خلاف ہماری جنگ کو قوت فراہم کرتے ہیں۔ جیسا کہ بارہویں صدی میں دریافت کیا گیا تھا۔ گرم سوپ بھی نزلہ زکام سے نجات دلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

پھیپھڑوں کے اسپیشلسٹ اور یوسی ایل اے UCLAاسکول آف میڈیسن کے پروفیسر ڈاکٹر ارون زمنٹ کا مشورہ ہے کہ تیز چبھنے والی بو کے حامل اجزاء اگر سوپ میں شامل کردئیے جائیں جیسے کہ لہسن لال مرچ اور کری مصالحے تو اس سوپ کا بھی وہی اثر ہوگا جو دافع بلغم اور کھانسی دور کرنے والی دواؤں کا ہوتا ہے۔ یہ بلغم کو باہر نکالنے‘سینے کی جکڑن کو صاف کرنے اور سوزشی کیفیت کو دور کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ پس اس طرح سے سانس لینے میں آسانی پیدا ہوجاتی ہے۔

آپ سوپ میں جتنا زیادہ لہسن اور گرم مصالحے شامل کریں گے‘ وہ سوپ آپ کے پھیپھڑوں کو صاف کرنے کے لئے اتناہی زیادہ بہتر ہوجائے گا۔ نزلہ زکام کی ابتدائی علامات کے ظاہر ہوتے ہی آپ لہسن کے جتنے جوے کھاسکتے ہیں‘ کھالیں۔ اگر آپ کو اس کا ذائقہ خاص طورپر ناپسند ہے تو اس کے ٹکڑے کاٹ لیں اور گولیوں کی طرح سے نگل لیں۔

لہسن جسے روسی پینسلین بھی کہا جاتا ہے پرانے زمانے ہی سے وجوہی دوا علاج کے طورپر استعمال میں رہا ہے۔ پانی وہ مائع ہے جو نزلہ زکام کی علامات سے نجات دلانے میں مدد کرتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ بیماریاں جو ڈی ہائیدریشن کا سبب بنتی ہیں اور وائرس جو ڈی ہائیڈریشن کا سبب بنتی ہیں اور وائرس جو ڈی ہائیڈریشن کے ماحول میں فروغ پاتے ہیں‘ پانی ان سے چھٹکارا دلانے میں بھی مدددیتا ہے۔

جب گرم مائع حلق کے راستے اپنا راستہ بناتے ہوئے نیچے جاتے ہیں تو وہ حلق میں بلغم کے استر کو گیلا کردیتے ہیں اور وائرسوں کو اپنے چنگل میں لیتے ہوئے انہیں نیچے معدے میں پہنچادیتے ہیں جہاں پر طاقتور ہاضمہ کرنے والے تیزاب (ایسڈز) انہیں تباہ کردیتے ہیں۔
لہٰذا جب کبھی آپ نزلہ زکام میں مبتلا ہوں تو بس ڈھیروں پانی پئیں اور ان پروڈکٹس سے گریز کریں جن میں کیفین شامل ہوتی ہے جو ڈی ہائیڈریشن کا سبب بنتی ہے۔

جب آپ کا سینہ جکڑا ہو تو ایک غذائی شے جس سے گریز کریں وہ دودھ ہے۔ کیونکہ یہ Congestion کی علامات کو بدترین بنادیتا ہے۔ اس ادراک کے برخلاف دودھ بلغم کا سبب نہیں بنتا۔

یہ گرم تیز مصالحہ دار غذاؤں کے مخالف اثر کرتا ہے۔ دودھ منہ اور معدہ کے Sensory Receptorsکو سکون پہنچاتا ہے اور Congestionکو طوالت دیتا ہے۔

پیاز ایک اور سبزی ہے جو نزلہ زکام کے دوران اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جارج واشنگٹن نے بہ ذات خود اس بات کی سفارش کی ہے کہ جو لوگ نزلہ زکام کا شکار ہوں انہیں سونے سے پیشتر بھنی ہوئی پیاز کھانی چاہئے دہی بھی مامونیت (بیماری کے اثر سے محفوظ ہونے کی کیفیت) یعنی امیونٹی کو بڑھانے میں مدد دیتا ہے۔

روزانہ دہی کا تین چوتھائی کپ کھانے سے عام نزلہ زکام اور تپ کاہی Hayfeverکے امکانات نمایاں طورپر گھٹ جاتے ہیں۔ حرف آخر یہ کہ نزلہ زکام سے بچاؤ کے لئے دادی امان کے ٹوٹکے جیسی کوئی بھی شے نہیں۔ ہر کھانے سے پہلے ہاتھوں کو دھوئیں‘ رنگ برنگی سبزیوں اور پھلوں کے ساتھ متوازن غذا کھائیں اور اپنی مامونیت کو بڑھانے میں مدد لیں جب نقصان پہنچانے والے جرثومے چوری چھپے آپ کے نظام میں درآئیں۔

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.