مانسون میں وبائی امراض سے کیسے بچا جائے ؟

طبی ماہرین کے مطابق مانسون موسم کے دوران پیدا ہونے والی بیماریوں میں موسمی زکام، ملیریا، ڈینگی بخار، ہیضہ اور پیلا یرقان سرفہرست ہیں، ان سب میں سے زیادہ وبائی زکام، ہیضہ اور جِلدی بیماریاں بچوں اور بڑوں کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہیں۔

ملک بھر میں جون کے وسط سے گرمی کی شدت میں کمی اورمانسون موسم کا آغاز ہو جاتا ہے، جہاں یہ خوشگوار موسم خوشی کا سبب بنتا ہے وہیں ساتھ میں بے شمار وبائی امراض بھی لاتا ہے جن سے بچنا ضروری ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق مانسون موسم کے دوران پیدا ہونے والی بیماریوں میں ’سیزنل انفلوائنزا‘ یعنی کہ موسمی زکام، ملیریا، ٹائیفائیڈ، ڈینگی بخار، ہیضہ اور ہیپاٹائٹس اے (پیلا یرقان) سرفہرست ہیں، ان سب میں سے زیادہ وبائی زکام، ہیضہ اور جِلدی بیماریاں بچوں اور بڑوں کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق مانسون کے موسم میں پھیلنے والی عام شکایت زکام، ’انفلوائنزا وائرس‘ہوا کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے اور ناک، گلے اور پھیپڑوں کو متاثر کرتا ہے، یہ وائرس کھلی فضا میں موجود ہوتا ہے اس لیے یہ جلدی سے ایک فرد سے دوسرے میں با آسانی منتقل ہو کر بڑی تعداد میں عوام کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے، اس شکایت کی نشانیوں میں بہتی ہوئی ناک، جسم اور گلے میں شدید درد اور بخار شامل ہے۔طبی ماہرین کے مطابق مندرجہ بالا سب ہی وبائی امراض سے بچاؤ کے لیے بہتر اور مثبت غذا کا استعمال کرنا لازمی ہے۔

السی کا استعمال خواتین کیلئےحیرت انگیز فوائد کا حامل

غذ ائی ماہرین کے مطابق وبائی امراض اور اینٹی بائیوٹک دوا لینے سے بچنے کے لیے ہر گھر میں موجود اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات سے بھرپور لہسن، ادرک، پودینہ، میتھی دانہ، موسمی پھلوں، زیرہ، پپیتا، الائچی، اجوائن، کلونجی، سونف اور لیموں کا استعمال روز مرہ کی روٹین میں بڑھا دینا چاہیے۔
مندرجہ بالا سب ہی غذاؤں کے استعمال کے نتیجے میں قوت مدافعت مضبوط ہوتا اور موسمی وائرسز سے نجات حاصل ہوتی ہے۔

ایکنی، کیل مہاسوں سے چھٹکارا کیسے پائیں؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ مانسون کے دوران بیماریاں پھیلنے کا سب سے زیادہ خطرہ گندے علاقوں اور صفائی کا خیال نہ رکھنے والے افراد میں پایا جاتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق مانسون کے دوران اپنے گھروں اور گھروں کے آس پاس کے علاقے کی صفائی کا خاص خیال رکھنا چاہیے، کھانا کھانے سے قبل ہاتھ لازمی دھونے چاہئیں۔

مانسون کے آتے ہی جگہ جگہ پانی کے کھڑے ہونے کے سبب مچھروں کی افزائش میں اضافہ ہوتا ہے جس کے نتیجے میں ڈینگی، ٹائیفائیڈ اور ملیریا عام ہو جاتا ہے۔

ڈینگی، ملیریا اور ٹائیفائیڈ سے بچاؤ کے لیے گھر میں یا گھر سے باہر پانی جمع نہ ہونے دیں اور رات سونے سے قبل مچھر مار اسپرے یا مچھروں سے بچاؤ کے لیے استعمال کی جانے والے لوشنز کا استعمال لازمی کریں۔

٭٭٭

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.