ماں کا دودھ بچے میں دن اور رات کا شعور بھی پیدا کرتاہے

رات کے وقت ماں کے دودھ میں ڈی این اے کے بعض ایسے اجزا بھی پیدا ہوتے ہیں جو بچے کی نیند کو بڑھاتے ہیں۔ پھر دوپہر کے دودھ میں فولاد ہوتاہے تو شام میں وٹامن ای کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ صبح کے وقت ماں کے دودھ میں میگنیشیم، جست، پوٹاشیم اور سوڈیم وغیرہ کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے۔ ماہرین نے اس بناء پر ماں کے دودھ کو نومولود کیلئے بہت اہم قرار دیاہے۔

ماں کا دودھ بچے کیلئے اہم ترین غذا سے زیادہ کا درجہ رکھتا ہے اور اب اسے بچے کیلئے گھڑی کا درجہ حاصل ہوچکاہے۔ کیونکہ یہ نومولود کو دن اور رات کا شعورفراہم کرتاہے۔ ماہرین نے یہ دلچسپ بات بتائی ہے کہ ماں کے دودھ کی ترکیب اور اجزا پورے دن تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ دن کو دودھ بچے کو توانائی دیتا ہے اور شام میں بچے کو سکون پہنچاتا ہے۔

سائنسدانوں نے اسے ’کرونونیوٹریشن‘ یا ’وقت والی غذائیت‘ کا نام دیاہے۔ ان کا خیال ہے کہ اس طرح شیرِ مادر بچوں میں ابتدائی ایام میں ہی بچے کے جسمانی گھڑی کا تعین کردیتا ہے اور وہ دن اور رات کا شعور کرنے لگتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ماں کا دودھ دن اور رات کے مختلف اوقات میں سینے میں جمع ہوتا رہتاہے اور مختلف اوقات میں دودھ کی کیفیت بھی بدلتی ریتی ہے۔

اس پر پہلے غورنہیں کیاگیا تھا لیکن اب اس کے دور رس اثرات سامنے آئے ہیں۔ کیلیفورنیا میں واقع چپمئن یونیورسٹی کی ڈاکٹر لورا گلائن، کیرولِن اسٹیل اور کیرولِن بگسبی نے یہ دودھ میں قدرتی جسمانی گھڑی دریافت کی ہے۔ ہمیں وقت پر بھوک لگتی ہے اور سونے اور جاگنے کا بھی ایک وقت ہوتاہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے جسم میں وقت کو بھانپنے اور محسوس کرنے کا قدرتی نظام ہے جسے سرکاڈئین گھڑی کہا جاتاہے۔ دنیا میں آنے والے بچے اس صلاحیت سے عاری ہوتے ہیں۔

ابتدائی ہفتوں اور پہلے چند ماہ میں انہیں شب و روز کا احساس ہونے لگتا ہے۔ اس کی ایک وجہ دھوپ اور رات کا اندھیرا ہے تو دوسری وجہ ماں کے دودھ کی انمول نعمت بھی ہے۔ بالفرض اگر بچے میں جسمانی گھڑی نہیں چل پاتی تو اس سے کھانے پینے سمیت کئی مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ اس تحقیق سے یہ پتہ لگانے میں بھی مدد ملے گی کہ بعض بچے کیوں سوتے ہیں اور کچھ والدین کو ساری رات کیوں جگائے رکھتے ہیں۔ کیا بچوں کی جسمانی گھڑی میں کوئی اتار چڑھاؤ ہوتا بھی ہے نہیں۔

ماں کے دودھ کی کیفیت دن بھر ڈرامائی انداز میں بدلتی رہتی ہے۔ مثلاً چاق و چوبند رکھنے والا ایک ہارمون، کارٹیسول دن میں تین گنا زائد ہوتاہے اور رات کو کم ہوجاتا ہے۔ اسی طرح ہاضمہ اور نیند لانے والا ایک اور ہارمون میلاٹونِن دودھ میں دن کے وقت نہیں پایا جاتا لیکن شام اور رات کے وقت اس کی مقدار غیرمعمولی طور پر بڑھ جاتی ہے۔

رات کے وقت ماں کے دودھ میں ڈی این اے کے بعض ایسے اجزا بھی پیدا ہوتے ہیں جو بچے کی نیند کو بڑھاتے ہیں۔ پھر دوپہر کے دودھ میں فولاد ہوتاہے تو شام میں وٹامن ای کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ صبح کے وقت ماں کے دودھ میں میگنیشیم، جست، پوٹاشیم اور سوڈیم وغیرہ کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے۔ ماہرین نے اس بناء پر ماں کے دودھ کو نومولود کیلئے بہت اہم قرار دیاہے۔

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.