موسیقی:اسٹروک کے مریضوں کیلئے فائدہ بخش

ایک جائزے میں اس بات کا مشورہ دیا گیا ہے کہ موسیقی کا سننا دماغی و ذہنی سکون مہیاکرنے میں معاون و مددگار ثابت ہو تا ہے۔ کینیڈین سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے ایم آر آئی اسکین کے استعمال کے ذریعے اس بات کا پتہ لگایا کہ جب لوگ پہلی مرتبہ کوئی گیت یا گانہ سنتے ہیں تو ان کے دماغ میں موجود انعام مرکز فعال اور متحرک ہو جاتا ہے۔

ایک نئی تحقیق کے مطابق، ”موسیقی سے اسٹروک کے مریضوں کو روبہ صحت ہونے میں مدد مل سکتی ہے“۔ اسٹروک کے لاحق ہونے کے بعد ابتدائی مرحلہ میں موسیقی کا سننا اسٹروک کے مریضوں کو جلد روبہ صحت ہونے میں معاون و مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ محققین نے ایسے مریضوں کے درمیان موازنہ عمل میں لایا جو ایک دن میں مسلسل دوگھنٹوں تک موسیقی سنا کرتے ہیں، اور ایسے مریض جو صرف آڈیو بکس سناکرتے ہیں یا پھرکچھ بھی نہیں کرتے۔

میوزک گروپ نے یہ ظاہرکیا ہے کہ موسیقی کے سننے سے یادداشت و قوتِ حافظہ میں اور صلاحیتوں میں اضافہ ہوتاہے اور ذہنی کیفیت زیادہ مثبت رہتی ہے۔ جرنل برین میں فنش ٹیم کی جانب سے یہ بات تحریرکی گئی ہے، جنہوں نے 60 مریضوں پر جائزہ عمل میں لایا ہے کہاکہ موسیقی تھراپی یعنی (موسیقی کاکسی طریقے یا نوعیت کا علاج)کے لئے ایک کارآ مد و مفیداضافی عمل ہو سکتی ہے۔ یونیورسٹی آف ہیلسنکی کے کارگزار محقق ٹیپوسارکاموکاکہنا ہے کہ موسیقی اسٹروک کے مریضوں کے لئے مخصوص طورپر فائدہ بخش ہو سکتی ہے۔
فوری ردعمل
اسٹروک کے مرض میں مبتلاء ہونے والے مریضوں کے ہسپتال میں شریک ہونے کے فوری بعدان 60اسٹروک کے مریضوں پر یہ جائزہ عمل میں لایا گیا جنہوں نے اس تحقیق میں حصہ لیا۔ اس جائزہ کا مقصد دماغ میں ہونے والی تبدیلیوں سے قبل میوزک تھراپی کی پیشکش تھا جو اسٹروک کے نتائج میں رونماء ہوسکتا ہے اور جس کو کک کرنے کا موقع دیا جا سکے۔ زیادہ تر مریضوں میں توجہ، انہماک اور یادداشت جیسے ادراک و وجدانی طریقِ عمل کے اور نقل و حرکت کے مسائل درپیش رہتے ہیں۔

میوزک گروپ میں مریضوں کوکسی بھی قسم کی موسیقی کا انتخاب کرنے کی اجازت حاصل رہی جوکہ وہ سننا چاہتے ہوں۔ تاہم ان تمام مریضوں میں معیاری طورپراسٹروک میں بحالی و سدھار پایا گیا۔
اس کے تین ماہ بعد، موازنہ کئے جانے والے مریضوں میں موسیقی کے گروپ میں شامل اسٹروک کے مریضوں میں 60فیصد تک وربل میموری یعنی(لفظی یادداشت و قوتِ حافظہ) میں اضافہ ہوا، جبکہ آڈیوبک گروپ میں شامل مریضوں کی یادداشت میں 18 فیصد تک کا اضافہ ہوا، اور بلکلیہ طورپر موسیقی نہ سننے والے مریضوں میں 29 فیصدکا اضافہ ہوا۔

اس کے علاوہ موسیقی کے گروپ میں دماغی کاموں کا مظاہرہ،ان پر قابو پانے اور مشکلات و تنازعات کو حل کرنے کی قابلیت و صلاحیت میں 17فیصدکا اضافہ ہوا، لیکن دیگر دو گروپوں میں کسی میں بھی کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ علاوہ ازیں، میوزک گروپ میں شریک مریضوں میں بے چینی کی کیفیت تناؤ یا الجھن ہونے کا امکان بھی کم پایا گیا۔

سارکامو نے کہا! ”دیگر تحقیق میں یہ ظاہر کیاگیا ہے کہ اسٹروک کے لاحق ہونے کے بعد پہلے ہفتے اور ماہ کے دوران مریض ہر دن اپنا تقریباً تین سے زیادہ حصے وقت مخصوص طورپر نان تھراپیٹک یعنی بناعلاجی کاموں میں گزاراکرتے ہیں۔

ہماری تحقیق میں پہلی مرتبہ یہ بتایاگیا ہے کہ فیصلہ کن یا قطعی مدت کے دوران موسیقی کا سننا ذہنی عمل و ادراک کو بحال کرسکتا ہے اور منفی ذہنی کیفیت سے باز رکھتا ہے“۔اگرچہ انہوں نے یہ بھی کہاکہ جائزہ کی تصدیق کے لئے مزید کام انجام دیئے جانے کی ضرورت ہے، اور اس میں یہ بات یقینی طورپر نہیں کہی گئی ہے کہ میوزک تھراپی تمام مریضوں پر اپنا اثرکرے گی۔

اس کے متبادل کسی حد تک موسیقی کے سننے کو تھراپی کی دیگر متحرک ہئیتوں جیسے کہ اسپیچ تھراپی (یعنی بولنے کے نقص کا علاج) یا نیوروسائیکولوجیکل ری ہیبیلیٹیشن (یعنی اعصابی حیاتیاتی بحالی) میں ایک اضافہ کے طورپر مانا جانا چاہئیے۔

محققین نے کہا،یہ ممکن ہے کہ موسیقی دماغ کے متاثرہ حصوں میں سدھار اور بحالی لانے میں براہ راست تحرک پیدا کرتی ہے۔متبادل طورپر، یہ غالباً ذہنی قابلیت و صلاحیت سے متعلق زیادہ عام میکانیزم میں تحرک پیداکرتی ہے تاکہ دماغ کے متاثر ہونے کے بعد اسکے مرکزی نظام اعصاب سے متعلق مربوط نظاموں کو درست حالت میں لایا جاسکے اورانہیں بحال کیا جا سکے۔یا غالباً یہ مخصوص طورپر نظام اعصاب کے حصہ پر اثرکرتا ہے جو اطمینان و خوش دلی کی کیفیات میں، حسن کارکردگی اور یادداشت میں ملوث ہوتا ہے۔
موسیقی کا سننا دماغی و ذہنی سکون بھی مہیا کرتا ہے
ایک جائزے میں اس بات کا مشورہ دیا گیا ہے کہ موسیقی کا سننا دماغی و ذہنی سکون مہیاکرنے میں معاون و مددگار ثابت ہو تا ہے۔ کینیڈین سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے ایم آر آئی اسکین کے استعمال کے ذریعے اس بات کا پتہ لگایا کہ جب لوگ پہلی مرتبہ کوئی گیت یا گانہ سنتے ہیں تو ان کے دماغ میں موجود انعام مرکز فعال اور متحرک ہو جاتا ہے۔

موسیقی سننے والا شخص کوئی گیت یا گانے سے جس حد تک لطف اندوز ہوتا ہے، اس کے دماغ کے وہ حصے جنہیں نیوکلیئس اکیومبنزکہا جاتا ہے، میں کنکشنس اتنے ہی زیادہ مضبوط ہوجاتے ہیں۔ اس جائزے کو جرنل سائنس میں شائع کیاگیا ہے۔
ٹورانٹو میں واقع روٹمین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹرویلوری سلیمپورنے ایک ایکشن پروگرام میں بی بی سی کے سائنس کو بتایا کہ ”ہم اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں کہ نیوکلیئس اکیومبنز موسیقی سے متحرک ہوتا ہے۔ لیکن موسیقی تجریدی ہے اور اس طرح کی چیز نہیں ہے جیسے کہ آپ کو بھوک لگی ہے اور اس بات کیلئے آپ کافی پر جوش ہوں کہ آپ کوجلد کھانا ملنے والا ہے، یا اس کا اطلاق دولت پر بھی ہوتاہے کہ جب آپ اس میں عام طورپر نیوکلیئس اکیومبنزکو سرگرم و متحرک پاتے ہیں۔

لیکن اس ضمن میں سب سے دلچسپ امر یہ ہے کہ آپ آواز جیسی مکمل تجریدی چیز کی توقع سے بھی کافی پر جوش ہوجاتے ہیں“۔میک گل یونیورسٹی کے مونٹریل نیورو لو جیکل انسٹی ٹیوٹ میں عمل میں لائے جانے والے اس جائزے کیلئے سائنسدانوں نے 19 رضا کاروں کو ان کی پسند پر مبنی نئی موسیقی کے60 حصے سننے کوکہا۔ جیسے ہی انہوں نے 30 سیکنڈ کی طویل ٹریک سنی اس دوران ان کے پاس یہ موقع تھاکہ وہ ایک فرضی آن لائن میوزک اسٹور سے اپنی پسند کی موسیقی خرید سکیں۔ یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب تمام رضا کارایک ایم آر آئی مشین پرلیٹے ہوئے تھے۔
ایم آر آئی اسکین کے تجزیے کے ذریعے سائنسدانوں نے اس بات کا پتہ لگایا کہ نیو کلیئس اکیومبنز حرکت میں آجاتا ہے اور اس کی فعالت کی بنیاد پر محققین کو اس بات کا بھی اندازہ ہوجاتا ہے کہ آیا کوئی رضا کار اپنی پسند کا گیت یا گانہ خریدے گا یا نہیں۔ ڈاکٹر سلیمپور کاکہناہے کہ ”جیسے ہی انہوں نے یہ موسیقی سنی تو اس دوران ہم ان کے دماغ کی فعالت کودیکھ سکے اور ان کے کچھ کہے بغیر ہی اس بات کا بھی اندازہ لگا سکے کہ وہ کس حد تک موسیقی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

انہو ں نے یہ بھی کہا کہ یہ نیورو سائنس کا ایک نیا شعبہ ہے جس میں دماغ کی فعالت کے ذریعے لوگوں کی سوچ اور ان کے خیالات کو سمجھنے کی کوشش کی جارہی ہے اورجس سے ان کے جذبات، خیالات اور رویے کا بھی بہتر طورپر اندازہ لگایا جاتا ہے۔
محققین نے اس بات کا بھی پتہ لگایاکہ نیوکلیئس اکیومبنزدماغ کے ایک دوسرے حصے جس کو آڈیٹری کورٹیکل اسٹورس کہا جاتا ہے، کے ساتھ بھی رابطے میں رہتا ہے۔ ڈاکٹر سلیمپورنے اس بات کی وضاحت کی،کہ ”یہ ایک ایسا حصہ ہوتا ہے جس میں پہلے سے سنی گئی موسیقی کی معلومات جمع ہوتی ہیں“۔ محققین اب یہ پتہ لگانے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں کہ اس کا ہمارے موسیقی سننے کے ذوق و شوق پر کتنا اثر ہوتا ہے، اور کیا دماغ کی فعالت اس بات کی وضاحت کرسکتی ہے کہ کیوں لوگ مختلف قسم کی موسیقی سننے کی جانب زیادہ راغب و مائل ہوتے ہیں۔
موسیقی سماعت کو متاثر بھی کر سکتی ہے
اس سے قبل عمل میں لائے جانے والے جائزے میں اس بات کا انکشاف کیاگیا تھاکہ زیادہ یا تیزآوازمیں موسیقی کا سننا سماعت کو متاثرکرسکتا ہے۔ آرکائیو آف انٹر نل میڈیسن میں شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جس انداز میں ہم ان دنوں موسیقی سنتے ہیں، وہ بھی اس کی ذمہ دار ہے۔ جاپان کے اسکول آف میڈیسن کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر فرینک آرلن کا کہنا ہے کہ سماعت کو متاثرکرنے میں یقینا جینیات اور بڑھاپا کسی حد تک کردار اداکرتے ہیں۔ لیکن اب ہمیں یہ معلوم ہوچکا ہے کہ ماحولیاتی ایکسپوژر مثلاً بہت تیزآواز میں موسیقی سننے سے بھی کچھ عرصے بعد سماعت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

جو لوگ سروں پر ہیڈ فون لگائے پورا والیوم کھول کر اپنی پسندیدہ موسیقی سنتے ہیں اس موسیقی کی آوازکی لہریں کان میں داخل ہوتی ہیں اورکان کے راستے اندرونی کان میں موجود انتہائی چھوٹے بالوں جیسے خلیات (ہئیر سیلز) تک پہنچتی ہیں۔ یہ بالوں جیسے خلیات آوازکی توانائی کو برقی پیغامات میں تبدیل کرکے دماغ تک بھیجتے ہیں۔

اس عمل کے نتیجے میں ہم موسیقی واضح طورپر سننے کے قابل ہوتے ہیں۔لیکن اگر آواز بہت زیادہ تیز ہوجائے تو ان بالوں جیسے خلیات کو نقصان پہنچتا ہے اور یہ پھر کبھی دوبارہ نہیں بنتے۔ ڈاکٹر فرینک کے بقول تیز آواز سے سماعت کو پہنچانے والا نقصان اس حوالے سے خطرناک ہے کہ برسوں لوگ تیز موسیقی سنتے رہتے ہیں اور انہیں بالکل پتہ نہیں چلتاکہ ان کے کان کے اندرونی حصے میں کیا خرابی پیدا ہورہی ہے۔

لیکن جب خرابی اپنی انتہاکو پہنچ جاتی ہے اس وقت انہیں اس بات کا علم ہوتا ہے اور تب تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سماعت کو نقصان مرحلہ وار پہنچتا ہے۔ اگر ایک اوسط ایم پی تھری پلیئر پر 100 ڈیسی بل آوازمیں پندرہ منٹ تک موسیقی سنی جائے تو اس سے سماعت کو نقصان پہنچ سکتاہے جبکہ85ڈیسی بل آواز میں بھی اگر بہت دیر تک اور بار بار موسیقی سنی جائے تو اس سے بھی بہرے پن کا امکان ہو سکتا ہے۔ تاہم اس سلسلے میں جو اہم ترین بات یاد رکھنی چاہئیے وہ یہ ہے کہ والیوم کم رکھیں اور ہیڈ فون استعمال کریں جوکانوں کے اوپر لگائے جاتے ہیں اور نہ کہ کانوں کے اندرگھسائے جانے والے ایئر بڈس کو ترجیح دیں۔
٭٭٭

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.