افغانستان میں طالبان کے خلاف تانیثیت کا نیا محاذ

بہرحال افغانستان میں میکشوں کے مقابل فاقہ کش ملاؤں کی فتح اور جیت ایک حقیقت ہے۔ جلد یا بدیر دنیا کو اس حقیقت کو قبول کرنا ہی ہوگا۔ لیکن چونکہ دنیا ابھی تک طالبان کی معجزاتی اور کرشماتی فتح کو قبول نہیں کرپائی ہے اور نہ ہی اپنی ہزیمت کا اعتراف کرنے کی ہمت کرپائی ہے۔ اس لئے اس کی جانب سے غم و غصہ کا اظہار اور غیض و غضب کی پھنکار ایک فطری بات ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی بھڑاس طالبان پر نکال رہی ہے ان کے خلاف زبان درازی کررہی ہے ہفوات اور مغلظات کی بوچھاڑ کررہی ہے اس طرح مشرق سے لیکر مغرب اور شمال سے لے کر جنوب تک جو ہنگامہ، واویلا اور شور و غوغا برپا ہے یہ دراصل دنیا کا طالبان کے سامنے اپنی بے بسی و لاچاری کا ایک واضح اعلان اور اظہار ہے۔

جھلکیاں
  • مختلف مغرب نواز افغان خواتین کے انٹرویوز بڑی اہمیت کے ساتھ دکھائے جارہے ہیں جن میں وہ طالبان کا خوفناک خاکہ پیش کررہی ہیں جھوٹے اور فرضی واقعات سنا رہی ہیں اور دنیا کو یہ تاثر دے رہی ہیں کہ اب افغانستان میں موجود خواتین کے تحفظ کے لئے اگر دنیا مداخلت نہیں کرلے گی تو ان خواتین کا طالبان کے شر اور شکنجے سے بچنا ناممکن ہوجائے گا۔
  • طالبان کو بغیر کسی ہچکچاہٹ کے دنیا کو یہ باور کرانا ہوگا کہ اسلامی نظام کوئی ظالمانہ سرمایہ دارانہ نظام کی طرح نہیں ہے کہ عورت کو اس نظام کے خلاف کھڑا کرکے اس کی آزادی اور حقوق کا مطالبہ کیا جائے بلکہ اسلامی نظام تو ایسا منصفانہ نظام ہے جس نے عورتوں کو بغیر کسی مطالبہ کے چودہ سو سال پہلے ہی وہ سارے حقوق فراہم کردیئے ہیں جو اس کی عزت و وقار کی ضمانت دیتے ہیں ۔

ڈاکٹر ظل ھما بنت عبدالعلیم اصلاحی

15؍اگست 2021ء نہ صرف افغانستان بلکہ دنیا کی تاریخ کا ایک نہایت اہم دن بن گیا ہے۔ جس دن تاریخ کی آنکھوں نے دیکھا کہ کیسے تہذیب جدید کے نمرود و فرعون اپنے غرور و تکبر سمیت ذلت و رسوائی کی چادر میں منہ چھپائے اس سرزمین سے فرار پر مجبور ہوئے جہاں وہ بیس برس قبل اس دعوی سے آئے تھے کہ ان فاقہ کش، تہذیب جدید سے عاری، سائنس و ٹیکنالوجی کی ابجد سے ناواقف دقیانوسی ملاؤں کو تہہ خاک کرکے کوہ و دمن سے نکال باہر کریں گے کیونکہ ایسے دقیانوسی ملاؤں کو سزاء دینا اور انہیں ساری دنیا کے لئے نشان عبرت بنانا لازمی تھا جو اس ترقی یافتہ دور میں بھی چودہ سو سالہ پرانے دین اور تہذیب کے ذریعہ جدید نظام عالم، وقت کے نمرود و فرعون کی حیثیت اور ان کی تہذیب نو کو چیلنج کرنے کی ہمت کررہے تھے۔

لیکن بیس سال بعد ان نظریات، عقیدوں اور تہذیبوں کے تصادم اور جنگ کا جو نتیجہ نکلا وہ اس نتیجہ کا بالکل برعکس تھا جس کی آس دنیا لگائے بیٹھی تھی اور جس کے لئے اس نے ایک طویل اور صبر آزما انتظار کیا تھا۔

یہی وجہ ہے کہ آج ڈیڑھ ماہ بعد بھی دنیا حیران و ششدر ہے کہ یہ کیسے ہوگیا؟ اس لئے وہ اس نتیجہ کو قبول نہیں کرپارہی ہے۔ قدرتی بات ہے کہ دنیا اس غیر متوقع نتیجہ کو قبول بھی کیسے کرسکتی ہے کہ چوالیس ترقی یافتہ ممالک کی جدید ٹیکنالوجی سے لیس، تربیت یافتہ، ناقابل تسخیر افواج ایک غریب، پسماندہ، نڈھال ملک کے فاقہ کشوں اور ٹوٹی بندوقوں والوں کے آگے ڈھیر ہوجائے۔

’’مَااَغْنَیٰ عَنْہُ مَالُہُ وَمَا کَسَبَ‘‘

کے مصداق امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے دونوں Powers اس کے کچھ کام نہ آئے نہ ٹیکنالوجی اور اسلحہ کی قوت، نہ ڈالر کی قوت۔

’’تَبَّتْ یَدَآ اَبِیْ لَہَبٍ وَّ تَبَّ

کے مصداق ان کے ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ ناکام اور ہلاک ہوگئے۔

بہرحال افغانستان میں میکشوں کے مقابل فاقہ کش ملاؤں کی فتح اور جیت ایک حقیقت ہے۔ جلد یا بدیر دنیا کو اس حقیقت کو قبول کرنا ہی ہوگا۔ لیکن چونکہ دنیا ابھی تک طالبان کی معجزاتی اور کرشماتی فتح کو قبول نہیں کرپائی ہے اور نہ ہی اپنی ہزیمت کا اعتراف کرنے کی ہمت کرپائی ہے۔ اس لئے اس کی جانب سے غم و غصہ کا اظہار اور غیض و غضب کی پھنکار ایک فطری بات ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی بھڑاس طالبان پر نکال رہی ہے ان کے خلاف زبان درازی کررہی ہے ہفوات اور مغلظات کی بوچھاڑ کررہی ہے اس طرح مشرق سے لیکر مغرب اور شمال سے لے کر جنوب تک جو ہنگامہ، واویلا اور شور و غوغا برپا ہے یہ دراصل دنیا کا طالبان کے سامنے اپنی بے بسی و لاچاری کا ایک واضح اعلان اور اظہار ہے۔

طالبان کی فتح کے ساتھ ہی ساری دنیا کو افغانستان میں انسانی حقوق کی پامالی اور خواتین کے حقوق اور ان کی آزادی خطرہ میں نظر آنے لگی۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ ان ممالک کی تشویش بھی بڑھ گئی جو بنیادی انسانی حقوق کی شرمناک پامالی اور خواتین کے استحصال کے لئے بڑے بدنام ہیں ان کی طرف سے بھی یہ پروپگنڈہ کیا جانے لگا کہ طالبان خواتین کے حقوق کا احترام نہیں کرتے، انہیں پردے کی پابندی کراتے ہیں، چہار دیواری میں قید رکھتے ہیں، عورتوں کی تعلیم او رتفریح کے مخالف ہیں۔ اس طرح دنیا افغان خواتین کے لئے پریشان ہورہی ہے۔

پوری دنیا کی جانب سے افغان خواتین سے ہمدردی کا ڈرامہ دراصل ان خواتین کو شہ دینے کے لئے رچایا جارہا ہے جن پر امریکہ نے بیس سال تک محنت کی ہے۔ انہیں آزادی اور ترقی کا جھانسہ دیا ہے۔ انہیں اپنی نام نہاد این جی اوز کے ذریعہ مغربی تہذیب اور آداب کا سبق پڑھایا ہے ان پر ڈالروں کی برسات کرکے مغربی تہذیب کا خوگر بنایا ہے اور مغربی تہذیب کی ظاہری چکاچوند سے ان کی آنکھوں کو خیرہ کردیا ہے۔

تفریحی و تعلیمی میدان میں ترقی کے نام پر مخلوط کلچر اور بے حیائی و فیشن پرستی کا عادی بنا دیا ہے غرض ہر طرح سے کوشش کرکے انہیں مغربی تہذیب کے رنگ میں رنگنے کی بھرپور کوشش کی اور انہیں ترقی و خوشحالی کے سبز باغ دکھا کر اسلامی اقدار اور تعلیمات دور کردیا ہے اس طرح امریکہ بیس سالوں کی انتھک محنت کے ذریعہ ایک ایسا آزاد خیال ، دین بیزار اور مغرب نواز گروہ تشکیل دینے میں کامیاب ہوچکا ہے جو تربیت یافتہ افواج کے میدان سے بھاگ جانے کے باوجود بھی طالبان اور اسلامی شریعت و اقدار کے خلاف کھڑا ہونے کی ہمت کررہا ہے۔

اس گروہ کے اندر یہ ہمت اس ڈر کا مرہون منت ہے جو اسلامی شریعت اور اس کی تعلیمات کے خلاف ان کے دلوں میں بٹھایا گیا ہے ان کے دل و دماغ میں اسلامی تعلیمات کے خلاف ایک زہر بھر دیا گیا ہے۔ انہیں پردہ اور حجاب سے متنفر کردیا گیا ہے۔ انہیں اسلامی ساترلباس سے نفرت دلائی گئی ہے انہیں فیشن پرستی اور بے حجابی و بے حیائی کا خوگر بنایا گیا ہے اور انہیں یہ باور کرایا گیا ہے کہ اگر اسلامی نظام آگیا تو انہیں اپنی اس آزادی اور عیاشی سے دستبردار ہونا پڑے گا۔

ذہن سازی کی اس مہم میں تیزی اس وقت آئی جب 2019ء میں دوحہ میں امن مذاکرات کی میز سجائی جارہی تھی مارچ، اپریل 2019ء میں بیس سالہ تربیت یافتہ مغرب نواز خواتین کے ٹولہ نے سوشل میڈیا پر افغانستان میں خواتین کے حقوق اور آزادی کے نام پر ’’مائی ریڈ لائن‘‘ کے نام سے ایک مہم کا آغاز کیا جس میں خواتین طالبان حکومت کی واپسی کی صورت پر شب خون مارے جانے کے خطرہ کا اظہار کررہی تھیں۔

یہ مہم افغان صحافی ناز فرح تان نے فیس بک اور ٹوئٹر پر یو این (UN) وومن افغانستان کی مدد سے شروع کی۔ فرح نے AFP کو بتایا کہ ٹویٹر پر ہیش ٹیگ ’’مائی ریڈ لائن‘‘ میں ہزاروں صارفین نے حصہ لیا۔ اسی طرح فیس بک پر بھی اس کا کہنا تھا کہ ’’میری سرخ لکیر میرا قلم اور میری اظہار رائے کی آزادی ہے۔‘‘ سابق صدر اشرف غنی نے بھی ٹویٹ کرکے اس مہم میں جان ڈالنے کی کوشش کی۔

اس نے لکھا کہ ’’امن عمل میں حقوق نسواں کی حفاظت میری حکومت کی سرخ لکیر ہے۔‘‘ اس مہم کو مزید اہمیت اس وقت حاصل ہوئی جب ہالی ووڈ اداکارہ اور اقوام متحدہ کی نمائندہ خصوصی انجلینا جولی نے اس سلسلہ میں ٹائم میگزین میں ایک مضمون لکھا کہ ’’افغان خواتین کو اپنے حقوق کے لئے بولنے کا موقع ملنا چاہئے۔‘‘ اسی طرح سابق خاتون اول نے بھی ’’اپوا بیگمات‘‘ کا رول افغانستان میں ادا کیا اور خواتین کے حقوق کی جدوجہد کو ترقی سے ہمکنار کرنے کی کوشش کی۔

خواتین کو اپنی بھرپور مزاحمت اور مدد کا یقین دلاتے ہوئے اس نے امن مذاکرات کے موقع پر کہا کہ وہ افغان خواتین کے لئے ڈھال کی طرح کھڑی رہیں گی اور کسی صورت ہتھیار نہیں ڈالیں گی۔ اسی طرح زلمے خلیل زاد امریکی نمائندۂ خصوصی کی امریکی وائف چیرل بینیرڈ نے اپنے ایک اخباری کالم میں افغان خواتین کو اکسایا کہ ’’افغان خواتین کو اپنے حقوق کے لئے خود جدوجہد کرنی ہوگی جیسا کہ مغربی خو اتین کرتی ہیں۔

اس طرح افغان خواتین کو تیار کیا گیا کہ وہ اسلامی نظام اور اس کو نافذ کرنے والوں کے خلاف اُٹھ کھڑی ہو،یہ ساری کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ امریکہ اگرچیکہ افغانستان میں اپنی سیاسی فوجی برتری قائم رکھنے میں بری طرح ناکام ہوگیا ہے لیکن وہ ابھی اپنی تہذیبی و ثقافتی برتری کی جنگ سے دستبردار نہیں ہوا ہے اور وہ اس جنگ کو ویمن پاور کے ذریعہ لڑنے کی کوشش کررہا ہے۔ وہ عورتوں کو ایک ہتھیار بناکر انہیں طالبان کے خلاف استعمال کرکے انہیں اپنے ایجنڈہ سے ہٹانے کی کوشش کررہا ہے۔ اس بات کی سچائی اور حقیقت عالمی اداروں اور میڈیا کے رویہ سے صاف ظاہر ہورہی ہے۔

اس ڈیڑھ ماہ کے عرصہ میں طالبان کی فتح اور امریکی افواج کے انخلاء کے تذکرہ کے ساتھ ساتھ میڈیا چیخ چیخ کر جو پروپگنڈہ کررہا ہے اور عالمی قائدین، مبصرین، تجزیہ نگار، دانشوران، مفکرین، ماہرین اور حقوق اور آزادیٔ نسواں کی علمبردار خواتین افغان خواتین کے تئیں جس تشویش کا اظہار کررہے ہیں اسے دیکھ کر اس سن کر ایسا لگ رہا ہے کہ طالبان کتنے بڑے خونخوار درندے اور اژدھے ہیں جو خواتین کو سالم نگل لینے اور ان کا خون پی لینے کے لئے تیار ہیں۔

کچھ بیانیوں کا ذکر کیا جارہا ہے جس سے اس پوری مکروہ منصوبہ بندی اور گھناؤنی سازش کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

  • امریکی افواج کا انخلا : افغان خواتین خوف کا شکار کیوں؟
  • طالبان کی حکومت میں خدشہ ہے کہ خواتین کو چھپ کر رہنا پڑے گا۔
  • افغانستان میں عورت ہونا آسان نہیں سب کچھ کھو دینے کے قریب ہے۔
  • طالبان کے افغانستان میں خواتین کا کیا بنے گا؟
  • ہمارے خواب بکھر چکے ہیں۔
  • افغانی خواتین طالبان سے سخت خوفزدہ ہیں۔
  • افغان بحران میں سب سے زیادہ ذہنی کشمکش کا شکار افغان خواتین ہیں۔
  • جن لڑکیوں کو مستقبل کے خوبصورت خواب دکھائی دینے لگے تھے انہیں آج دن کے اجالے میں بھی برے خواب ہی نظر آرہے ہیں۔
  • یہ لڑکیاں جنہوں نے آزادی کا سورج قریب قریب دیکھ ہی لیا تھا کہ طالبان کی اندھیری رات پھر ان کے خواب کچلنے لگی۔
مختلف مغرب نواز افغان خواتین کے انٹرویوز بڑی اہمیت کے ساتھ دکھائے جارہے ہیں جن میں وہ طالبان کا خوفناک خاکہ پیش کررہی ہیں جھوٹے اور فرضی واقعات سنا رہی ہیں اور دنیا کو یہ تاثر دے رہی ہیں کہ اب افغانستان میں موجود خواتین کے تحفظ کے لئے اگر دنیا مداخلت نہیں کرلے گی تو ان خواتین کا طالبان کے شر اور شکنجے سے بچنا ناممکن ہوجائے گا۔

ادھر ان خواتین کے انٹرویوز اور بیانات کے ذریعہ طالبان پر دباؤ بنانے کی بیرونی کوششیں کی جارہی ہیں ادھر اندرونی دباؤ بنانے کے لئے اپنے سنہرے مستقبل کے سپنے سجائے مٹھی بھر خواتین عالمی شہ پا کر اپنے حقوق کے مطالبات کے ساتھ سڑکوں پر آنے کی کوشش کررہی ہیں۔ ابھی پچھلے دنوں کابل میں کچھ آزادیٔ نسواں کی علمبردار خواتین نے جو مارچ کیا تھا وہ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی تھی۔ اسی مارچ کو بہانہ بنا کر ساری دنیا نے طالبان پر نصیحتوں کی بوچھاڑ کردی کہ خواتین کے حقوق میں کمی نہیں ہونی چاہئے۔

خواتین کے تئیں طالبان کو اپنی دقیانوسی سوچ اور پالیسی بدلنی ہوگی اور طالبان کی مدد اسی وقت کی جائے جب وہ خواتین کو حقوق اور آزادی دینے کے لئے تیار ہوجائیں جبکہ طالبان نے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں یہ اعلان کردیا تھا کہ اسلامی قانون کے دائرے میں خواتین کے حقوق کا احترام کیا جائے گا۔ خواتین کو پڑھنے اور کام کرنے کی اجازت دی جائے گی اور وہ معاشرہ میں بہت فعال ہوں گی لیکن اسلام کے دائرہ میں۔

اس اعلان کے باوجود بھی خواتین کے مسئلہ کو ایک ایسا بڑا مسئلہ بنا کر پیش کیا جارہا ہے کہ جیسے افغانستان میں خواتین کی آزادی سے بڑا کوئی مسئلہ ہی نہ ہو جبکہ وہاں بھوک، افلاس اور اغذیہ و ادویہ کا بحران ایک بڑے مسئلہ کی صورت میں پہلے ہی سے موجود ہے۔ تمام دوسرے مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے خواتین کے حقوق کو لیکر طالبان حکومت پر دباؤ بنانے کی کوشش دراصل افغانستان میں مغربی تہذیب کی موجودگی کو برقرار رکھنے اور مکمل اسلامی نظام کے نفاذ کی راہ میں روڑے اٹکانے کی آخری کوشش ہے۔

 غور کیجئے کہ آج دنیا قرآن و سنت کے کسی ایک حکم کو بھی قانون ماننے پر بھی آمادہ نہیں ہے تو وہ پورے اسلامی نظام کو کیسے برداشت کرسکتی ہے۔ اب جبکہ افغان جہاد کامیابی سے ہمکنار ہوچکا ہے اس جہاد اور اس کے نتیجہ میں قائم ہونے والے نظام اسلامی کی برکات سے سماج اور معاشرہ کو محروم کرنے کے لئے ساری دنیا ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے کہ اگر آج دنیا افغانستان میں نظام اسلامی کی برکات اور امن حقیقی کا نظارہ کرلے تو کل دنیا کے کونے کونے سے جدید نظام ہائے باطل کے خلاف للکاریں بلند ہونے لگیں گی اور نظام اسلامی کے نفاذ کے مطالبات سامنے آنے لگیں گے اور اس کے لئے جدوجہد شروع ہوجائے گی۔

اس لئے افغانستان میں اسلامی امارت کے قیام سے ساری دنیا کے نظام ہائے باطل کے ہوش اڑ گئے ہیں اور انہیں اپنے وجود اور بقاء کا خطرہ لاحق ہوگیا ہے اسی خطرہ کے ادراک کے پیش نظر وہ یہ منصوبہ بندی کررہے ہیں کہ وہ طالبان کے خلاف تانیثیت کا محاذ کھول دیں تاکہ خواتین کی آزادی اور حقوق کی آڑ میں وہ معاشرہ میں فساد برپا کرکے افغان معاشرہ کو مکمل اسلامی معاشرہ نہ بننے دیں۔

لیکن اس منصوبہ بندی کو وہ خواتین ناکام بنانے کے لئے میدان میں اتر آئی ہیں جو دین و شریعت کی علمبردار ہیں جو اسلامی شریعت کا نفاذ چاہتی ہیں جو لادین مذہب بیزار مغرب نواز خواتین کا مقابلہ کرنا جانتی ہیں آج سارے افغانستان میں ایسی دیندار باحجاب خواتین کے بڑے بڑے جلسے، سمینار اور ریلیاں ہورہی ہیں جن میں خواتین یہ نعرے لگارہی ہیں اور یہ اعلان کررہی ہیں کہ ہم اسلامی نظام چاہتے ہیں۔ ہم اسلامی شریعت چاہتے ہیں۔ ہماری قربانیاں اسلامی شریعت کے نفاذ کے لئے تھیں ہمیں پردہ اور حجاب چاہئے۔

اس موقع پر عالمی میڈیا اداروں کا دہرے معیار پر نظر ڈالئے کہ وہ کس طرح ایسی خواتین جن کی تعداد ایک فیصد کو بھی نہیں پہنچی ہوئی ہے بلکہ جنہیں انگلیوں پر گنا جاسکتا ہے۔ ان کے بیانیے کی تشہیر کررہی ہیں ان کی منشاء مرضی اور آزادی کی تائید کرتے ہیں اور ان کی حمایت پر سینہ تان کر ہر پلیٹ فارم پر کھڑے ہورہے ہیں لیکن دوسری طرف ایمان، پردہ، شریعت، اسلامی تعلیمات اور اخلاقی اقدار سے محبت کرنے والی حیادار خواتین کی اکثریت جب اپنی منشاء اور مرضی کا اظہار کرتی ہیں تو ان کی آواز ان عالمی میڈیا اداروں کے نزدیک کوئی معنی نہیں رکھتی۔

ان کی بڑی تعداد کے جلوس اور ریلیوں کو میڈیا کوریج دینے کے لئے تیار نہیں ہوتا لیکن کسی کونے میں مغرب نواز ایک دو خواتین بھی کھڑی ہوکر کوئی نعرہ لگا دیتی ہیں تو عالمی میڈیا کے تمام کیمروں اور مائیکوں کا رخ ان کی طرف ہوجاتا ہے۔

پوری دنیا میں کہرام مچ جاتا ہے کہ طالبان کے افغانستان میں خواتین کے حقوق کو کچلا جارہا ہے۔ دہائیاں دینی شروع ہوجاتی ہیں۔ تبصروں کی قطار لگ جاتی ہے۔ مگر مچھ کے آنسو بہانے والی نام نہاد آزادیٔ نسواں کی علمبردار خواتین کی نمائش لگ جاتی ہے۔ تجزیات کی گٹھریاں کھولی جانے لگتی ہیں خو ردبینیں لگا لگا کر طالبان کے رویوں کو جانچا جانے لگتا ہے یہ سب اس وقت تک چلتا ہے جب تک اس نتیجہ تک نہیں پہنچ جاتے کہ پہلے کے طالبان اور اب کے طالبان میں کوئی فرق محسوس نہیں کیا جارہا ہے۔ یہ اب بھی اسی دقیانوسی اور پرانی سوچ کے حامل ہیں جیسے وہ 2001ء سے پہلے تھے۔

یہ دو ہرا معیار صرف اِس موجودہ عالمی طاغوتی نظام کی برقراری کے لئے اختیار کیا جارہا ہے جس کے بنیادی ستونوں میں سے ایک عورت کی مادر پدر آزادی، بے حجابی، عریانیت اور جنسی استحصال بھی ہے یہ سارا نظام شاخ نازک پر ٹکا ہوا ہے اور انہیں اس کی ناپائیداری کا بھی بخوبی احساس ہے اور انہیں اس بات کابھی بخوبی اندازہ ہے کہ اگر یہ نظام ناکام ہوگیا تو اکیسویں صدی کے نظریات کا وارث صرف اسلام ہوگا۔

طالبان کے خلاف تانیثیت کا جو یہ نیا محاذ کھولا گیا ہے اس محاذ پر کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ طالبان اس بات کا جائزہ لیں کہ کس طرح ساری دنیا کے مسلمان ایک Soft War میں ڈھکیل دیئے گئے ہیں جس نے ان کے معاشروں میں فساد برپا کردیا ہے اور ایسے معاشروں کو جنم دیا ہے جو جاہلی معاشرہ کی ہو بہو عکاسی کررہے ہیں جو اسلامی اقدار کے بحران کا شکار ہیں۔

مغرب کی تہذیبی یلغار نے جسے ہر مسلم فرد تک پہنچا دیا ہے جو ایک مسلمان کو دین و ایمان کی بنیادوں سے تک لا تعلق کررہا ہے۔ غور کریں تو معلوم ہوگا کہ اس خرابی اورفساد کی بڑی وجہ تعلیم گاہوں کا مخلوط کلچر اور عورتوں کی بے جا آزادی ہے اگر طالبان عالمی دباؤ قبول کرتے ہوئے ان دونوں شعبوں کو نظر انداز کرنے کی پالیسی اپنائیں گے تو باوجود اسلامی حکومت کے معاشرہ اسلامی نہیں بن پائے گا۔

 لہٰذا عورتوں سے متعلق اسلامی قوانین میں نرمی برتنے اور گنجائشیں فراہم کرنے کے بجائے اسے مزید سخت بنانے کی ضرورت ہے تاکہ نسلوں کی صحیح اسلامی نہج پر تعلیم و تربیت ہوسکے ورنہ آنے والی نئی نسل لادینیت کا شکار ہوجائے گی اور اس نسل کے مشابہ ہوگی جو آج ساری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے۔ پاکستان جیسے ملک سے بھی عبرت پکڑنی چاہئے جو لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر قائم ہوا تھا لیکن اب اس کا حال یہ ہے کہ وہاں پردے سے متعلق ان کے وزیراعظم کے ایک بیان پر ہا ہا کار مچ جاتی ہے اور حدود اللہ میں ترمیم کے بل علی الاعلان پاس ہوتے ہیں اور اس پر جشن منائے جاتے ہیں۔

لہٰذا طالبان کو بغیر کسی ہچکچاہٹ کے دنیا کو یہ باور کرانا ہوگا کہ اسلامی نظام کوئی ظالمانہ سرمایہ دارانہ نظام کی طرح نہیں ہے کہ عورت کو اس نظام کے خلاف کھڑا کرکے اس کی آزادی اور حقوق کا مطالبہ کیا جائے بلکہ اسلامی نظام تو ایسا منصفانہ نظام ہے جس نے عورتوں کو بغیر کسی مطالبہ کے چودہ سو سال پہلے ہی وہ سارے حقوق فراہم کردیئے ہیں جو اس کی عزت و وقار کی ضمانت دیتے ہیں۔

اور اس کے تحفظ کے لئے اس نے ہر وہ کارگر تدابیر اختیار کی ہیں جس کے ذریعہ عورت کی کسی بھی حیثیت سے پامالی کا تصور تک محال ہوجاتا ہے اگر طالبان واقعی اسلامی تعلیمات کے مطابق اور شریعت کے دائرے میں عورتوں کے ساتھ معاملہ روا رکھیں گے تو انشاء اللہ ضرور افغان خواتین باقی دنیا کی خواتین کے مقابلہ میں زیادہ باعزت، محفوظ اور پرسکون ہوں گی اور طالبان تانیثیت کے خلاف جنگ بھی جیت لیں گے۔

۰۰۰٭٭٭۰۰۰

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

ایک تبصرہ

  1. بھائی صاحب آپ نے مضون تو لکھا ہے مگر یہ زمانہ ١٤٠٠ سال پرانا نہں ہے یہ ٢٠٢١ کا سال ہے ، افغان گورنمنٹ کو عورتوں کو حقوق اور ملازمتیں دینی پڑینگی ورنہ طالبان حکومت زیادہ عرصہ نہں چل سکے گی

تبصرہ کریں

Back to top button
%d bloggers like this:

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.