امبارکیشن پوائنٹس میں کمی، مشکل ہوا حج کاسفر

کورونا وبا کے طویل وقفے کے بعد ایک بار پھر حج 2022 کا اعلان اہل ایمان کے لئے یقیناً راحت بھری خبر ہے، لیکن سرکار کی پالیسی اور انتظامی اصلاحات کے نام پر تبدیلی عازمین کے لئے کانٹوں بھری راہ سے کم نہیں ہے۔

پروفیسر اخترالواسع

حج فرض عبادت کے ساتھ ایک مذہبی خواہش اور دیرینہ تمنا بھی ہے۔ استطاعت نہ رکھنے والا مسلمان بھی عمر بھر کی جمع پونجی اس راہ میں لگانے کو اپنی سعادت سمجھتا ہے، لیکن ہندوستانی حکومت کی غلط حج پالیسی اور من مانی سے عازمین کیلئے یہ مقدس سفر اب ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔ ہماری سرکار نے انتظامی اصلاحات کے نام پر جو فیصلے کئے ہیں اس نے حج کو مزید مہنگا اور سفر کو مشکلات سے بھر دیا ہے۔

کورونا وبا کے طویل وقفے کے بعد ایک بار پھر حج 2022 کا اعلان اہل ایمان کے لئے یقیناً راحت بھری خبر ہے، لیکن سرکار کی پالیسی اور انتظامی اصلاحات کے نام پر تبدیلی عازمین کے لئے کانٹوں بھری راہ سے کم نہیں ہے۔ سرکار کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ عوام کے لئے آسانیاں پیدا کرے لیکن ہندوستان کی موجودہ سرکار نے اصلاحات کے نام پر مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔ حکومت تو دعویٰ کر رہی ہے کہ اس نے حج کے غیرضروری اخراجات ختم کرکے سفر کو آسان بنانے کی پیش رفت کی ہے۔

حج کے عمل کو سو فیصد ڈیجیٹل بنانے کے لیے حج موبائل ایپ اپ گریڈ کیا ہے۔ اب عازمین درخواستیں، آن لائن اور جدید سہولیات سے آراستہ ’حج موبائل ایپ‘ کے ذریعہ کر سکتے ہیں۔ سبھی عازمین حج کو ’ای مسیحا‘ ڈیجیٹل ہیلتھ کارڈ، مکہ- مدینہ میں ٹھہرنے کی بلڈنگ/ ٹرانسپورٹیشن کی جانکاری ’ای-لگیج ٹیگنگ‘ کے توسط سے ہوگی۔ کورونا پروٹوکول اور ہیلتھ اور ہائجین سے متعلق خصوصی ٹریننگ کا نظم ہوگا۔ ان تمام کے باوجود دعویٰ اوربہلاوے کی عمارت پر کھڑی ہماری حکومت نے جس طرح امبارکیشن پوائنٹس میں کمی کا اعلان کیا ہے اس نے پورے ملک کے مسلمانوں میں بے چینی کی لہر دوڑا دی ہے۔

سرکار نے حج 2022 کے لئے 21کی جگہ 10امبارکیشن پوائنٹس طے کئے ہیں، جن میں احمدآباد، بنگلورو، کوچی، دہلی، گوہاٹی، حیدرآباد، کولکاتا، لکھنو، ممبئی اور سری نگر شامل ہیں۔ جب کہ وارانسی، گوہاٹی، پٹنہ، گیا، سری نگر، رانچی، اندور، ناگپور، اورنگ آباد اور دوسرے تمام امبارکیشن پوائنٹس بند کر نے کا اعلان کر دیا ہے۔ ظاہر سی بات ہے امبار کیشن پوائنٹس میں کمی کا راست اثر عازمین پر پڑے گا، ہوائی اڈّوں کی تخفیف سے کرایے میں اضافہ ہوگا۔

حج سبسڈی کے خاتمے کی مار جھیل رہے دور دراز کے رہنے والے عازمین کو اپنی ریاست اور اپنے شہروں سے جانے کی جو آسانیاں تھیں وہ بھی ختم ہو گئیں۔ جن علاقوں سے پروازیں بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے وہاں عازمین میں مایوسی اور سرد مہری دیکھی جا رہی ہے۔ مرکزی حج کمیٹی نے رواں برس سفر حج کے اخراجات فی کس3لاکھ 42ہزار994 روپئے چالیس پیسے مقرر کر دیئے ہیں، امبارکیشن پوائنٹس کی کمی سے نہ صرف اخراجات میں اضافہ ہوگا، بلکہ مشکلات بھی بڑھ جائیں گی۔ حج کو سستا کرنا اور مشکلات سے آسان بنا نا حکومت کی ذمہ داری ہے، وہ اس کا دعویٰ بھی کر تی ہے، لیکن زمینی سچائی کچھ اور ہی کہانی بیاں کرتی نظر آرہی ہے۔

اس بار کے حج میں مودی حکومت کے ’ووکل فار لوکل‘ کی چھاپ بھی دکھائی دے گی اور یہ قابل قدر بات ہے کہ اب ملک میں تیار کئے گئے سامان کے ساتھ ہی عازمین حج سفر پرجائیں گے۔ اس سے قبل چادر، تکیے، تولیے، چھتری اور دیگر سامان عازمین حج سعودی عرب میں غیر ملکی کرنسی میں خریدتے تھے۔ دوسری طرف ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہو گا کہ بغیر کسی محرم کے خواتین بھی اس بار حج کے لئے جائیں گی۔ گزشتہ برس درخواست دینے والی تین ہزار خواتین، اور اس بار درخواست دینے والی بنا محرم کے خواتین کو سفر حج پر جانے کا موقع ملے گا۔ عالمی وبا کے چیلنجوں کے تمام پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے عازمین کے سلیکشن کاعمل کورونا ویکسین کے دونوں ڈوز لئے جانے اور کورونا پروٹوکول، قواعد وضوابط اور پیرامیٹرز کے تحت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

غور کرنے والی بات یہ ہے کہ پہلے لوگ حج کمیٹی کے توسط سے اس لیے حج کرناچاہتے تھے، کیونکہ پرائیویٹ ٹور آپریٹروں کے مقابلے وہ کافی سستا پڑتا تھا، مگر حکومت کی نئی پالیسی اور نئے انتظامات نے سب برابر کر دیا ہے۔ سہولتوں کی کمی کے باوجود عازمین حج کمیٹی سے جانے کو ترجیح دیتے تھے، وجہ تھی آسانی اور کم خرچ۔ نئی الٹ پھیر کی ایک وجہ یہ بھی سمجھ میں آتی ہے کہ سفر حج کی ذمہ داری اقلیتی امور کی وزارت کے حوالے کر دی گئی ہے جبکہ کسی بھی ملک کی طرح سعودی عرب میں بھی جب کوئی مسئلہ پیش آتاہے تو اسے وزارت خارجہ ہی دیکھتی ہے۔ ایسی صورت میں مسئلے کی شدت بڑھ جاتی ہے، اس لیے جیسے دیگر غیرملکی یاتراؤں کی ذمہ داری وزارت خارجہ کے سپرد ہے، اسی طرح سفر حج کی پوری ذمہ داری بھی وزارت خارجہ کے پاس رہنی چاہیے تھی، اس سے عازمین کی مشکلات کم ہوتیں۔

اخراجات کی کمی کے پیش نظر گزشتہ برس سرکار نے بحری سفر دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا، اس سلسلے میں بھی حکومت کی حکمت عملی ابھی تک کا کوئی پتہ نہیں۔ خیال رہے کہ 1992-94ء کے درمیان مرکزی حکومت کی ایما پر سمندر کے راستے حج کے سفر پر جانے پر مکمل پابندی لگا دی گئی تھی۔ 1995ء میں ممبئی اور جدّہ کے درمیان ایم وی اکبر جہاز کو بند کردیا گیا تھا، جس میں10-15دن سفر میں لگ جاتے تھے۔

انڈین سرکار نے پھر بحری سفر شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزارت برائے جہازرانی نے اس فیصلہ کو منظوری دے دی ہے اور سعودی عرب نے بھی اس فیصلہ کاخیر مقدم کیا ہے۔ سبسڈی ختم ہونے کے بعد ہوائی سفر کا خرچ کافی بڑھ گیا ہے اوربحری سفر کے اخراجات60ہزار روپئے ہی ہوں گے جو کہ معاشی طور پر کمزور ایک بڑے طبقے کے لئے راحت رسانی کا سبب ہوں گے۔ہندوستان میں سرکار نے حج سبسیڈی یعنی حج کے لیے دی جانے والی سرکاری امداد بند کردی، مسلمانوں کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

مسلم کمیونٹی نے کبھی بھی سبسیڈی کی مانگ نہیں کی۔ سابق ایم پی مرحوم سید شہاب الدین سے لے کر مولانا محمود مدنی اور اسد الدین اویسی سے لے کر ظفرالاسلام خان اور ہم جیسے نہ جانے کتنے لوگوں سمیت انگنت مسلم رہنما اور عالم مسلسل حج سبسیڈی کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ دوسرے یہ کہ سالوں سے حج کے نام پر دی جانے والی سبسیڈی براہ راست کسی مسلمان حاجی کو نہیں ملی۔ ہندوستانی حکومت سعودی عرب کی پرواز کے لیے ایئر ٹکٹوں پر ایئر انڈیا کو سبسیڈی دیتی رہی۔

انڈیا سے حج کے لیے جانے والے ہر ایک شخص کو سبسیڈی کے نام پر دی جانے والی رقم تقریباً دس ہزار روپے تھی۔ لیکن عملی طور پر یہ کبھی بھی حاجیوں کو نہیں دی گئی بلکہ ایئر انڈیا کو منتقل کر دی گئی۔ دوسرے الفاظ میں، اس مالی امداد کو ایئر انڈیا کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا،نہ کہ حاجیوں کے سفر کے لیے۔ یہ وہ وقت تھا جب تیل کے عالمی بحران کے باعث حج کا ہوائی سفر بہت زیادہ مہنگا ہو گیا تھا اور طیارے کا کرایہ آسمان سے باتیں کرنے لگا تھا اور ایسے میں اس سبسیڈی کو سٹاپ گیپ کے طور پر متعارف کرایا گیا لیکن اس پر ہمیشہ کے لیے اقلیتوں کی خوشامد کا لیبل چسپاں ہوگیا۔

سیاسی عینک سے دیکھیں تو کہہ سکتے ہیں کہ حج سبسیڈی کانگریس پارٹی کے ذہن کی اختراع تھی جسے اس نے بابری مسجد کی شہادت کے بعد کے زمانے میں مسلم ووٹ بینک کو اپنے حق میں متحد کرنے کے لیے استعمال کیا۔ جیسے ہی دائیں بازو کے نظریات نے تیزی سے پاؤں پھیلانے شروع کیے اس نے حج سبسیڈی کو مسلمانوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے دی جانے والی مراعات کے طور پر پیش کیا۔ افواہوں اور سرگوشیوں کے ذریعے، واٹس ایپ پیغامات اور پیمفلٹ کے ذریعے یہ باتیں پھیلائی گئیں کہ سیکولر پارٹیاں، قحط، تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے ٹیکس دہندگان کے پیسے حج سبسڈی دینے پر لٹاتی ہیں۔

حج سبسڈی کے خاتمے پر عام مسلمانوں کو کو ئی اعتراض نہیں ہوا، لیکن انتظامی اصلاحات کے نام پر سرکار عازمین حج کی راہوں میں جو مشکلات کھڑی کر رہی ہے، اس سے مسلم سماج میں کافی بر ہمی اور مایوسی دیکھی جا رہی ہے۔ امبارکیشن پوائنٹس کو کم کر نا کسی بھی طور پر عازمین کے مفاد میں نہیں ہے۔ اس سے مقدس سفر پر جانے والوں کی پر یشانیاں بڑھیں گی۔

سرکار کے اونچی کرسیوں پر بیٹھے لیڈران اور افسران کو چاہیے کہ وہ زمینی سچائی کو سمجھیں اور کسی بھی پالیسی کو زبردستی تھوپنے کی بجائے عوام کی رائے اور ان کے جذبات کا خیال کریں۔ جن ریاستوں اور شہروں سے حج کی پروازیں منسوخ کر نے کا اعلان کیا گیا ہے، وہ ہندوستان کے ایسے علاقے ہیں جہاں سے ساٹھ فیصد سے زائد عازمین حج کے لئے جاتے ہیں، ان کے ساتھ روانہ کرنے والے قافلے ہو تے ہیں۔ امبارکیشن پوائنٹس دور ہو نے کی وجہ سے انہیں کافی مشکلات کا سامناکرنا ہوگا، عازمین کی تعداد پر بھی اس کا منفی اثر پڑے گا۔ عازمین کی سہولتوں کے پیش نظر سرکار کو اس پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔

مضمون نگار جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر ایمریٹس (اسلامک اسٹڈیز)ہیں۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.