انسانی لاش پر جنون کا رقص

یہاں مجھے پولیس اور گودی میڈیا کی بہادری اور ظلم و بربریت کا امتزاج نظر آیا۔ اب یہاں کوئی ملک یا میڈیا انسانی ہمدردی یا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات نہیں کرے گا کیونکہ یہ افغانستان نہیں بلکہ بھارت ہے، یہ آسام ہے!

مسعود محبوب خان(ممبئی)

اسٹیٹ ٹیررازم کے ذریعے اپنے ہی ملک میں مسلمانوں کو نفرت، تعصب، عدم برداشت، انتہا پسندی اور تلخیوں سے بھری سازشوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ملک کی ریاستوں کو وحشیانہ ریاستوں میں تبدیل کیا جارہا ہے۔

آج سوشل میڈیا پر ایک متنازع ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ملکی حکام عالمی سطح پر شدید تنقید کی زد میں ہیں۔

ریاست آسام اور دیگر مشرقی ریاستوں میں لاکھوں مسلمانوں کی شہریت منسوخ کرکے انہیں بے دخل کرنے کا آغاز ہوگیا ہے۔ اسی ضمن میں آسام کے ضلع دارنگ میں جہاں ایک بڑی تعداد بنگلہ دیشی نژاد مسلمانوں کی ہیں۔

گنجان انسانی آبادی اور ماحولیاتی تبدیلی سے آسام کی 11 فیصد زمین ندیوں کی نذر ہوگئی ہیں، کیونکہ ریاستی آبادی کا ایک حصّہ ندیوں کے قریب اپنی زندگی گذارتا ہے جس کے نتیجے میں وہاں کی تقریباً 37 لاکھ آبادی اپنی زمین سے بےدخل ہوگئی ہے۔ یہ آبادیاں زمین سے بے دخل ہونے کے بعد قریب میں سرکاری زمینوں میں اپنی زندگی گزارتے ہیں۔ اسی طرح کے ایک علاقے میں مسلمانوں کے 800 گھروں کو غیر قانونی قرار دے کر مسمار کر دیئے گئے ہیں۔

غیر قانونی تجاوزات کو ہٹانے کی مہم کے دوران ضلع درنگ کے علاقے سِپاجھر میں پیش کردہ واقعہ، جس کے نتیجے میں قریباً 5 ہزار سے زائد لوگ حکومت کی جانب سے کی جانے والی مہم کے خلاف احتجاج کے لیے جمع ہوئے تھے۔ جہاں پولس اہلکاروں کی فائرنگ سے 2 مسلمان جاں بحق ہوگئے، جاں بحق ہونے والوں کی شناخت صدام حسین اور شیخ فرید کے نام سے ہوئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایک بڑی تعداد شدید زخمی بھی ہے۔

اس واقعے میں مسلمان بھارتی شہری کی لاش کی بےحرمتی کی ویڈیو بھی وائرل ہوگئی۔ ویڈیو میں دیکھا گیا کہ پولیس اہلکار اندھا دھند فائرنگ کر رہے ہیں اور ایک شخص جس کے ہاتھ میں لکڑی کا ٹکڑا ہے قریب آتے ہی پولس اس کے سینے پر گولی چلاتی ہے اور پولس کا ہی ایک جم غفیر اس ادھ مرے انسان پر حملہ کرکے اسے جان سے مار دیتے ہیں۔ 
  • ذرائع کے مطابق پولیس کے ہاتھوں جاں بحق ہونے والے فرد کے والد کا کہنا ہے کہ میرے بیٹے کو مار ڈالنے کے بعد JCB کے ذریعہ اس کی لاش کو الٹا لٹکا کر پولیس والوں نے گھسیٹا۔ ایک تو مارتے وقت ظلم و بربریت کی حدیں توڑ دی گئیں لیکن جاں بحق ہونے کے بعد بھی نعش کی اس قدر بے حرمتی بتاتی ہے کہ مسلمانوں کی تئیں پولیس کا رویہ مکمل طور پر زعفرانی ہوچکا ہے۔
  • ویسے یہ تو کوئی نئی تصویر نہیں تھی، تصویر کا دوسرا اور اصل پہلو یہ ہے کہ ایک گودی میڈیا کا صحافی شاید اپنی پراچین سبھیتا کی عکاسی کرتے ہوئے اس لاش کی طرف دوڑتے ہوئے آتا ہے، اس مرے ہوئے انسان پر بندروں کی طرح حیوانیت کا رقص کرتے ہوئے تشدد کرتا ہے۔
یہاں مجھے پولیس اور گودی میڈیا کی بہادری اور ظلم و بربریت کا امتزاج نظر آیا۔ اب یہاں کوئی ملک یا میڈیا انسانی ہمدردی یا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات نہیں کرے گا کیونکہ یہ افغانستان نہیں بلکہ بھارت ہے، یہ آسام ہے!
  • مظلوم مسلمانوں کے حق میں "انسانی حقوق” کے نام نہاد اداروں کی آوازیں گنگ ہیں، انہیں نہ یہاں دہشت گردی نظر آتی ہے، نہ شدت پسندی نظر آتی ہے اور نہ ہی انسانیت کا کوئی مسئلہ نظر آرہا ہے، اس لیے کہ مرنے والے مسلمان ہیں۔
  • ہمیں نہیں معلوم کہ دانش صدیقی کی لاش کو افغانستان میں کس طرح مسخ کیا گیا تھا لیکن کیا یہ ان کے اپنے ملک کے باشندے کی بدنامی کا لیبل لگانے کے لیے کافی ہے؟ انسان جو بوتا ہے وہی کاٹتا ہے۔ ہمارے ملک میں نفرتوں و عداوتوں کے بیج اپنی جڑوں میں گہرائیوں سے سفر کر رہی ہیں۔
  • سینکڑوں پولیس اہلکاروں کی حفاظت میں جنونی اور درندہ صحافی جس کی شناخت بیجے شنکر بنیا کے نام سے ہوئی ہے۔ جس کی تصاویر میں ایک گاڑی نظر آرہی ہے جس پر پروٹوکول آفیسر، جنرل آبزرور، اسمبلی الیکشن 2021ء تحریر کردہ ہے۔
سانحۂ آسام کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر وائرل ہونے کے بعد انصاف پسندوں، سیاستدانوں، صحافیوں اور کارکنوں کی جانب سے حکام پر سخت تنقید کی گئی۔ ملک کی اپوزیشن پارٹی کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے آسام کے لوگوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تشدد کے لیے ریاستی انتظامیہ ذمہ دار ہے۔

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.