بنیاد پرستوں کو ہیرو تسلیم کروانے کی کوششیں

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہاکہ ساورکر نے انگریزوں کی قید سے رہائی کے لئے مہاتماگاندھی کے کہنے پر رحم کی درخواست کی تھی – وزیرموصوف نے یہ بھی کہاکہ ساورکر ملک کی تاریخ کا روشن ستارہ ہیں اور رہیں گے

محمداعظم شاہد

ان دنوں ملک میں روز بروز بڑھتی مہنگائی کی مار اور تقریباً ایک سال سے چل رہے کسانوں کے احتجاج کے درمیان ملک کی تاریخ کی متنازعہ شخصیت ساورکر کو لے کر ایک بارپھر بیان بازی کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے – کچھ روز قبل نئی دہلی میں ونائیک دامودر ساورکر پر انفارمیشن کمشنر اودے ہوکر اورچرایوپنڈت کی انگریزی کتاب ویرساورکرلکھی -وہ شخص جو ملک کی تقسیم روک سکتا تھا، کا اجراء کرتے ہوئے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہاکہ ساورکر نے انگریزوں کی قید سے رہائی کے لئے مہاتماگاندھی کے کہنے پر رحم کی درخواست کی تھی – وزیرموصوف نے یہ بھی کہاکہ ساورکر ملک کی تاریخ کا روشن ستارہ ہیں اور رہیں گے –

ان (ساورکر) سے متعلق غلط بیانی کرنے والے بائیں بازو کی آئیڈیالوجی(طرزفکر) کے مورخین ہیں -ساورکر سے متعلق نفرت پھیلائی گئی ہے -دراصل وہ (ساورکر) ملک کے ہیروہیں – ساورکرکی بصیرت اور دوراندیشی کی ستائش کرتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے مزید کہاکہ وہ (ساورکر) چاہتے تھے کہ پڑوسی ممالک کے ساتھ ہمارے ملک کے تعلقات قائم کرتے ہوئے سب سے پہلے ملک کا تحفظ اورمفادات کو مقدم رکھنا ہے – اس طرح ساورکر کو بیسویں صدی کا ملک کا دفاع اور خارجی معاملات کا پہلا ماہر سمجھناچاہئے- اس پروگرام میں آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے بتایا کہ ساورکر سے متعلق حقیقی معلومات کی کمی کے باعث انہیں (ساورکر) بدنام کیا جاتا رہا ہے –

بھاگوت جی نے یہ انکشاف کیا کہ ساورکرکے نزدیک مذہبی منافرت کبھی بھی نہیں تھی ، وہ ہندواورمسلمان کو مادروطن کی اولاد مانتے تھے – اس لئے وہ کہتے تھے مذہب کے نام پر تعصب برتنا ملک کے خلاف ہے -ہندوؤں اور مسلمانوں نے ایک ساتھ مل کر ملک کی آزادی کیلئے دشمنوں کے خلاف لڑتے رہے ہیں -بتایا گیا کہ ساورکر اردو زبان کے دلدادہ تھے، اردو میں غزلیں بھی لکھا کرتے تھے -ساورکر گاندھی جی کی صحت سے متعلق بہت فکرمند رہاکرتے تھے –

اس لئے کہ ملک کو گاندھی جی کی بہت ضرورت تھی وغیرہ وغیرہ -اب تک ساورکر کو ویر(بہادر) ساورکر جتاتے ہوئے انگریزی اورملک کی دیگر زبانوں میں ہندوتوا کے ہیروکاروں نے کئی کتابیں لکھی ہیں -اب یہ تازہ ترین کتاب آئی ہے جس کا ذکر سطور بالا میں کیا گیا ہے -اس دوران کرناٹک سے تعلق رکھنے والے مصنف وکرم سمیت جو خود کو تاریخ دان کہتے ہیں انہوں نے بھی ایک کتاب ’’ساورکرکی متنازعہ وارثت لکھی ہے-اس سے پہلے انہوں نے ’’ساورکر-گزرے ماضی کی گونج‘‘ کتاب لکھ کر ثابت کیا تھا کہ ساورکر قومی ہیروہیں –۔

بہرکیف تاریخ کو اپنی سہولت اوراپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے اپنے مفادات کے مطابق لکھنا ہمارے ہاں کوئی نیا چلن نہیں ہے – اچھوں کو براثابت کرنا اورناکارہ لوگوں کو بہادراورہیرو تسلیم کروانے کی روش ہمارے ہاں بہت پرانی ہے – حالیہ دنوں میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ اپنی سوانح حیات میں ساورکر نے خود کو ’’ویر‘‘ (بہادر) کہلوایا ہے -ملک میں ساورکر سے متعلق بحث ومباحثے برسوں سے چلے رہے ہیں –

حقائق پر مبنی تاریخ کے حوالے سے تاریخ کو پرکھنے والے روشن خیال مورخوں نے ایک بارپھر ساورکر کی حقیقت کو ملک کے سامنے پیش کیا ہے -ساورکر جنہیں انگریزوں نے کئی مقدمات میں گرفتارکیا تھا -جیل سے فرارہونے کی ناکام کوشش کے بعد ساورکر کو انڈومان (کالاپانی) جیل منتقل کردیا گیا تھا-جولائی 1911 میں کالاپانی کی سزا سنائی جانے کے بعد دوسرے ہی مہینے اگست 1911 میں ساورکر نے انگریزی حکومت سے رحم کی درخواست کرتے ہوئے رہائی کی گزارش کی تھی -اس کے بعد 1911سے 1915 تک پانچ مرتبہ رحم کی درخواست داخل کی گئی –

ساورکر نے انگریز حکومت کولکھا تھا کہ وہ انگریز حکومت کے حامی ہیں -درخواست میں وعدہ کیا گیا تھاکہ رہائی کے بعد وہ انگریزوں کی خدمت میں خود کو وقف کردیں گے -جو ذمہ داری دی جائے گی وہ قبول کرلیں گے – مہاتماگاندھی ان دنوں جنوبی آفریقہ میں قیام پذیر تھے – انہیں ساورکر کے حالات کا علم نہیں تھا وہ 1915 میں ہندوستان واپس ہوئے-گاندھی جی کاانگریزحکومت کے نام ایک خط ضرور لکھا گیا -وہ احباب جو گرفتار ہوکر جیلوں میں بند ہیں ان پر الزام ثابت نہیں ہوئے ہیں تو انہیں رہا کیا جائے -یہ ایک Jeural amnesty سب بے قصور قیدیوں کے لئے خیرخواہی کی اپیل تھی –

گاندھی جی نے ساورکر کی حمایت نہیں کی تھی -ساورکر وہ شخص ہے جو ملک میں ہندوراشٹر کے قیام کیلئے رائٹ ونگ کا طرفدار رہا اورگاندھی جی کے قتل میں ملوث پایا گیا -مگر اس کے خلاف ثبوت نہ ملنے پر رہا ہوا-ایسے شخص کو اب بی جے پی بعدازمرگ بھارت رتن کے اعزاز کا مطالبہ کررہی ہے -ساورکر کے پوتے رنجیت ساورکر نے بیان دیا ہے کہ اتنے بڑے ملک کی عظیم تاریخ میں صرف ایک شخص گاندھی ہی کو بابائے قوم کہا نہیں جاسکتا – کئی عظیم ہستیاں اس ملک میں ہیں -ساورکر کو ہندوراشٹرکا خواب دیکھنے والے اپنا ہیرو تسلیم کرتے ہیں – وہ شخص جس نے تحریک آزادی سے خود کو دور رکھا اور اسی سے اپنی عافیت سمجھی -انگریزوں کی وفاداری میں وظیفہ پاتا رہا – اس کو ہیروتسلیم کروانے کی کوششیں زوروں پر ہیں۔

۰۰۰٭٭٭۰۰۰

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.