جوہر یونیورسٹی پر یوگی سرکار کی یلغار

ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ اعظم خان کی یونیورسٹی ہے اسی لیئے وہی اسکا دفاع کرلیں ہم کو اس تنگ نظری سے نکلنے کی ضرورت ہے ہاں بات بالکل درست ہے کہ اعظم خان نے اسکی بنیاد رکھی لیکن اس یونیورسٹی کا جو اثاثہ ہے وہ قومی املاک ہے جو دیش کے ہر نوجوان کا خواب پورا کرنے کی حیثیت رکھتی ہے، جو دیش کا تابناک مستقبل ہے اس لئے ہماری بھی یہ قومی ذمہ داری ہے کہ اسکی حفاظت کیلئے کمر کس لیں مسلمانوں میں شعور بیدار کریں ۔

جھلکیاں
  • ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ اعظم خان کی یونیورسٹی ہے اسی لیئے وہی اسکا دفاع کرلیں ہم کو اس تنگ نظری سے نکلنے کی ضرورت ہے ۔
  • یوگی حکومت کے انصاف کی گرتی خصوصیت یہ رہی کہ ہر اچھے کام کرنے والے کو سزادیتے ہوئےجیل بھیج دیتے ہیں ،میری مراد ڈاکٹر کفیل خان کی ہے۔

نسلوں کی ترقی و عروج تعلیم پر منحصر ہے کسی بھی قوم کو اخلاقیات اور ترقی میں پیچھے رکھنا ہوتو ان کے تعلیمی ادراوں میں رکاوٹیں ہی کافی ہیں۔

دراصل تعلیم و ہ شعبہ ہے جس میں انسان تراشے جاتے ہیں جس سے انسان اخلاق کے اعلی مرتبہ تک پہنچ سکتا ہے تعلیم ہی سے انسانوں کے درمیان کے امتیاز کو پرکھا جاسکتا ہے اگر ایک جاہل اور ایک تعلیم یافتہ انسان آمنے سامنے آجائیں تو بلا کسی جھجھک جاہل کی جہالت کی حقیقت عیاں ہو ہی جاتی ہے چاہے اسکے پاس دولت کے انبار لگے ہوں یا وہ کسی بھی بڑی سیاسی جماعت کی قیادت ہی کیوں نہیں کرتا ہو جبکہ تعلیم ایک ایسا شعبۂ حیات ہے۔

جس میں کسی بھی قسم کا بھید بھاؤ نہیں کیا جانا چاہیئے اور نہ ہی تعلیمی شعبہ جات سے نہ تعلیمی قلعوں سے، یہی نہیں بلکہ سیاسی مفاد یا سیاسی دشمنی سے بھی دور رہنا چاہیئے چونکہ یہ وہ نظام ہے جس سے مستقبل کے معمار تیار ہوتے ہیں جو دیش کی ترقی کے ضامن ہوتے ہیں ناکہ کسی مخصوص قوم کی اگر کوئی اپنے سیاسی مفاد کیلئے یا سیاسی انتقام کیلئے تعلیمی قلعوں پر حملہ کرتا ہے تو وہ اس قلعہ پر نہیں بلکہ دیش کے مستقبل پر حملہ کررہا ہے۔

وہ اس ادارے پر نہیں بلکہ انسان کو انسانی سانچے میں ڈھالنے والے شعبہ پر حملہ کررہا ہے اور یہ کام وہی کرسکتا جس کو تعلیم جیسی نعمت سے عدم واقفیت ہو یا سرے سے ہی اسکا تعلق تعلیم سے نہ ہو کچھ ایسا ہی معاملہ یوپی میں جوہر یونیورسٹی کے ساتھ پیش آرہا ہے یوگی سرکار نے جوہر یونیورسٹی کے چانسلر اعظم خان کو تو پھنسایا ہی ہے ساتھ ہی ساتھ جوہر یونیورسٹی سے بھی اپنی انتقامی سیاست کا کھیل کھیل رہی ہے یوگی سرکار نے یونیورسٹی کی اراضی قبضہ میں لے کر تعلیم کے قلعہ اورمستقبل کی آنے والی نسلوں کے املاک واثاثہ پر حملہ کیا ہے ۔ـ

یوگی حکومت اور مودی حکومت اپنی اپنی تانا شاہی میں قدم بہ قدم ساتھ چل رہے ہیں کبھی یوگی آگے رہتے ہیں تو کبھی مودی اب دونوں کے آپسی کیا معاملات ہیں وہ الگ مسئلہ ہے یوگی حکومت کے انصاف کی گرتی خصوصیت یہ رہی کہ ہر اچھے کام کرنے والے کو سزادیتے ہوئےجیل بھیج دیتے ہیں۔

میری مراد ڈاکٹر کفیل خان کی ہے جنہوں نے معصوم بچوں کی جانوں کو بچانے کیلئے آکسیجن کا انتظام کیا اور حکومت کی لاپرواہی کی قلعی کھول دی جس کی پاداش میں انہےں جیل بھیج دیا گیا ایسے ہی پھر یوگی سرکار نے اعظم خان کا پیچھا کیا بہر حال شروع سے ہی یوگی سرکار اپنی مقبولیت کیلئے مسلمانوں کو نشانہ بناتی رہی سماج وادی پارٹی کے قائد اعظم خان جو ملک کی مشہور ہستیوں میں سے ہیں ان کا سب سے عظیم کارنامہ رامپور کی محمد علی جوہر یونیورسٹی کا قیام ہے جو بہت ہی وسیع و عریض ہے۔

جس کے قیام کیلئے اعظم خان نے کافی دوڑ و دھوپ بھی کی تھی بالآخر بہت سی اور مشقتوں انتھک جدوجہد کے بعد اس یونیورسٹی کا قیام عمل میں آیا لیکن ان سنگھیوں کو اعظم خان کی مقبولیت اور انکا دبدبہ دیکھا نہیں گیا یوگی سرکار نے اپنی طاقت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اعظم خان اور انکے بیٹے عبداللہ خان اعظم کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈھکیل دیا جن پر کئی کیسیس دائر کیئے گئے۔

جن میں یونیورسٹی کی اراضی پر قبضہ کا بھی الزام ہےجو آج بھی سیتا پورجیل کی صعوبتیں مشقتیں برداشت کررہے ہیں بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی کیونکہ یوگی سرکار کو جوہر یونیورسٹی کو ہدف بنانا تھا پھر یوگی سرکار نے اپنی تانا شاہی چلاتے ہوئے 9/ستمبر کوجوہر یونیورسٹی جسکی بنیاد 2006میں رکھی گئی تھی اس یونیورسٹی کی 170ایکر اراضی اپنے قبضہ میں لے لی جو سمٹ کر 12.5ایکر پر ہی باقی رہ گئی جس کے وائس چانسلر خود اعظم خان تھے۔

 سوال یہ پیدا ہوتا ہیکہ یوگی سرکار کو اس یونیورسٹی سے اتنی تعصبیت کیوں ہوگئی کیا اس لئے کہ اسکا نام محمد علی جوہر یونیورسٹی ہے یا اسلیئے کہ یہ یونیورسٹی اعظم خان کی کاوشوں کا نتیجہ ہے وہیں پر اسکے دوسرے پہلو پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے14/ستمبر بروزمنگل کو علی گڑھ میں راجہ مہیندر پرتاپ سنگھ کے نام پر یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھا اتر پردیش سرکار نےستمبر 2019میں علی گڑھ میں راجہ مہیندر پرتاپ سنگھ کے نام پر ایک ریاستی سطح کی یونیورسٹی کھولنے کااعلان کیا تھا۔

یوگی سرکار کے سیاسی مفاد کا یہ کھلا تضاد ہے ایک طرف ایک یونیورسٹی پر حملہ دوسری طرف ایک یونیورسٹی کا سنگِ بنیاد ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ راجہ مہیندر پرتاب سنگھ کے نام کی ہی یونیورسٹی کیوں کھولی جارہی ہے اور نہ ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ یونیورسٹی کیوں کھولی جارہی ہے۔

یونیورسٹی کا کھولنا تعلیم کو فروغ دینا ہے لیکن یونیورسٹیوں کے مابین امتیاز کرنا یہ سراسر سیاست پر مبنی ہے جس طرح سے یوگی سرکار نے جوہر یونیورسٹی کے ساتھ کیا ہے جو حکمران ملک کی ترقی ملک کا معیارِ تعلیم نہیں چاہتے یا جنکو مذہبِ اسلام سے گھٹن ہوتی ہویا مسلمانوں کو آگے بڑھتا نہیں دیکھ سکتے تووہی حکمران ایسے تعلیمی ڈھانچوں کو مسمار کرنا چاہتے ہیں اگر یوگی سرکار انتقامی کاروائی کیلئے یا سیاسی دشمنی کیلئے اس یونیورسٹی کو یو پی کی زمین پر تنگ کرنا چاہتی ہو تو یوگی سرکار کا یہ قومی جرم بھی کہلائے گا ۔

ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ اعظم خان کی یونیورسٹی ہے اسی لیئے وہی اسکا دفاع کرلیں ہم کو اس تنگ نظری سے نکلنے کی ضرورت ہے ہاں بات بالکل درست ہیکہ اعظم خان نے اسکی بنیاد رکھی لیکن اس یونیورسٹی کا جو اثاثہ ہے وہ قومی املاک ہے جو دیش کے ہر نوجوان کا خواب پورا کرنے کی حیثیت رکھتی ہے، جو دیش کا تابناک مستقبل ہے اس لئے ہماری بھی یہ قومی ذمہ داری ہے کہ اسکی حفاظت کیلئے کمر کس لیں مسلمانوں میں شعور بیدار کریں ۔

اعظم خان جس پارٹی سے آتے ہیں انہوں نے اس پارٹی کو مضبوط کرنے اور یوپی اقلیتوں پر اپنا دبدبہ قائم رکھتے ہوئے اپنی طاقت کے ذریعہ اس پارٹی کو کئی بار اقتدار تک پہنچایا باپ بیٹے کے اختلافات کو اپنی ذاتی کوشش سے پارٹی کی شبیہ کو متاثر ہونے سے بچائے رکھا لیکن آج وہی سماج وادی پارٹی اعظم خان کو بچانے کیلئے کچھ خاص رول بھی ادا نہیں کیا اور نہ یونیورسٹی کے کے تحفظ کیلئے کچھ کر دکھایا جب نام نہاد سیکولر جماعتیں ہی مسلمانوں کی ہمنوا ثابت نہیں ہوسکتیں تو بھلا فاشسٹ طاقتوں سے کیا امید رکھی جاسکتی ہے۔

جو قومی اثاثہ جات کو فروخت کرسکتے ہیں ان کیلئے جوہر یونیورسٹی سے کھلواڑ کرنا معمولی سی بات ہے ابھی فسطائی طاقتیں یوپی ہی نہیں بلکہ پورے بھارت میں فرقہ پرستی کا جال بچھادیا ہے کیونکہ یہ ایک ہی واحد ذریعہ ہے جس سے ہندوتوا اپنے اقتدار پر واپس قدم جماسکتی ابھی یو پی میں عملاً انتخابی بگل کا آغاز ہوچکا ہے جہاں بی جے پی کے پاس منشور جاری کرنے کیلئے کوئی ترقیاتی کام نہیں ہے لہٰذا وہ پھر سے فرقہ پرستی کی سیاست کا جم کر ڈنکا بجا سکتی ہے تاکہ دوبارہ اقتدار کی کرسی پر بیٹھ کر تاناشاہی کا راج کرسکے جوہر یونیورسٹی کی اراضی کو یوپی سرکار کا اپنے قبضہ میں لینا یہ بھی فرقہ پرستی کا مظہر ہے جس سے یوپی چناؤ میں یوگی سرکار کو فائدہ حاصل ہوسکتا ہے۔

لہٰذا مسلمانانِ ہند بالخصوص ملک کے دانشواران علماء اور مذہبی جماعتوں کو جاگنا اور جگانا ہوگا قوت اور دانائی فہم و فراست کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے متحدہ طور پر سیاسی جماعتوں پر اپنی گرفت جمانی ہوگی تمام سیاسی پارٹیوں کو چاہے وہ کوئی بھی سیکولر پارٹی ہو اسے صرف ہمارے ووٹوں سے سروکار رکھنے والی نہ ہونے دیا جائے بلکہ اپنے مطالبات اور مسلمانوں کی ترقی کے معاہدے کیئے جائیں تب ہی مسلمان اپنی قومی شناخت برقرار رکھ سکتا ورنہ یہ فسطائی طاقتیں آج جوہر یونیورسٹی کی اراضی پر قابض ہیں۔

کل اس کو مسمار بھی کرنے سے باز نہیں آسکتیں ۔ مسلمانوں کو بھی اپنی فکر کو بدلنا چاہیئے اللہ کی عطا کی گئی صلاحیتوں کو خود کی ذات کے علاوہ قوم و ملت پر بھی لگانا چاہیئے ہر شعبہ اوراسکے عہدوں پر ہمارے نوجوانوں کو عبور حاصل کرنا ہونا ہوگا اور اس کیلئے ہر نوجوان کو کوشش کرنی ہوگی تاکہ ہم ملک کے اعلی عہدوں پر فائز ہوتے ہوئے مظلوموں کو انصاف دلاسکیں ۔ دیش کی ترقی میں مثالی کردار بن کے دکھا سکیں‘ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچاسکیں۔

ہمارا کردار فسطائی طاقتوں کے مدمقابل بہترین متبادل بھی ہے کیونکہ تعلیم کا زور اور اسکی طاقت کبھی رائیگاں نہیں جاتی بلکہ ایسے افراد دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت میں بھی سرخرو ہوجاتے ہیں جس سے فسطائی طاقتوں کی ہر حال میں شکست ہوگی ۔

سید سرفراز احمد (بھینسہ)

9666914213

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.