دہلی کی تاریخی جامع مسجد کی شکستگی اور خستگی کو دور کرنے کے لئے کون آگے آئے گا؟

اس نے مغلوں کا عروج بھی دیکھا اور زوال بھی۔ جس نے سرمد کو شہید ہوتے ہوئے بھی دیکھا اورنادرشاہ کی فوجوں کے ہاتھوں دہلی والوں کا قتل عام بھی۔ جو 1857ء میں ہندوستانیوں کے جوش و جذبے اور پھر اس پہلی جنگ آزادی کی ناکامی کی گواہ بھی ہے۔

پروفیسر اخترالواسع

دہلی کی تاریخی جامع مسجد جو 1650ء میں مغل بادشاہ اور موجودہ دہلی کے فصیل بند شہر کی شاہجہاں آباد کے سے نام تعمیر کرنے والے شاہجہاں نے تعمیر کرائی تھی اور جس کے لئے بادشاہ نے لال قلعے کے بالکل سامنے پہاڑی بھوجلہ پر تعمیر کا حکم دیا تھا اور گزشتہ تقریباً پانچ سو سال میں جس نے ہماری تاریخ کے کتنے اتار چڑھاو دیکھے ہیں، اس نے مغلوں کا عروج بھی دیکھا اور زوال بھی۔ جس نے سرمد کو شہید ہوتے ہوئے بھی دیکھا اورنادرشاہ کی فوجوں کے ہاتھوں دہلی والوں کا قتل عام بھی۔ جو 1857ء میں ہندوستانیوں کے جوش و جذبے اور پھر اس پہلی جنگ آزادی کی ناکامی کی گواہ بھی ہے۔

جس نے انگریزوں کو ہندوستان میں اقتدار سے بے دخل ہوتے بھی دیکھا اور لال قلعے کی فصیل سے آزاد ہندوستان کے ہر وزیر اعظم کو خطاب کرتے ہوئے بھی دیکھا اور جس کو محکمہ آثارِ قدیمہ کے زیرِ تحفظ 1958ء کے ایکٹ سے مستثنیٰ رکھتے ہوئے گزشتہ75؍سال میں ہر زمانے میں خصوصی فیصلوں کے تحت اس کی دیکھ ریکھ اور تعمیری ضرورتوں کے لئے مرکزی حکومت نے کبھی کوئی کوتاہی نہیں کی لیکن یہ عجیب اتفاق ہے کہ اِدھر اچانک مرکزی حکومت کے رویے میں ایک غیرمعمولی تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے، جس کا ثبوت راجیہ سبھا میں جناب پی وی عبدالوہاب، ایم پی کے 8؍دسمبر، 2021ء کو پوچھے گئے سوال کے جواب میں مرکزی وزیر مملکت محترمہ میناکشی لیکھی نے کہا کہ کیوں کہ جامع مسجد قدیم عمارتوں سے متعلق آثار قدیمہ کے 1958ء کے ایکٹ کے تحت نہیں آتی ہے اس لئے اس میں ضروری مرمت کا کام سرکار نہیں کرے گی۔

جب کہ ابھی تک پنڈت جواہر لال نہرو سے لے کر ڈاکٹر منموہن سنگھ اور شری نریندر مودی تک کی سرکاروں نے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا۔ 5جنوری2021ء کو اے ایس آئی کے پرانا قلعہ سب سرکل کے آر ٹی آئی کے ذریعے فراہم کردہ اطلاع کے مطابق سرکار نے جامع مسجد میں تعمیراتی دیکھ ریکھ اور مرمت کے کام پر پچھلے پانچ سال میں جو کچھ خرچ کیااس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے: سال 18-2017 میں 13,20,598.00روپئے، سال 19-2018میں 13,89,794.00اور سال20-2019 و 21-2020 میں 13,48,476.00روپئے۔

متعلقہ

اب کون کس سے پوچھے کہ اگر جامع مسجد محکمہ آثار قدیمہ کے تحت زیر تحفظ عمارتوں میںشامل نہیں ہونے کی بِنا پر محترمہ میناکشی لیکھی کے بقول سرکاری خرچے پر دیکھ ریکھ اور ضروری مرمت کے دائرے میں نہیں آتی تو پھر 1956ء سے2021ء تک کس زمرے کے تحت سرکار عمارت کی دیکھ ریکھ اور مرمت پر پیسہ خرچ کرتی رہی؟ اگر تھوڑا پیچھے جائیں تو موجودہ شاہی امام سید احمد بخاری کے دادا مرحوم سید حمید بخاری جو اس وقت کے شاہی امام تھے، ایک وفد کے ساتھ اس وقت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو سے ملے تھے اور ان سے درخواست کی تھی کہ یہ عبادت گاہ جس میں ہزاروں نمازیوں کے علاوہ حکومت ہند کے غیرملکی خصوصی مہمان اور بے شمار ملکی و غیر ملکی سیاح زیارت کو آتے ہیں، وہ نہایت خستہ حالت میں ہے، اس کی حالت کو دیکھتے ہوئے ضروری ہے کہ حکومت ہند اس کی مرمت کرانے کی ذمہ داری لے لے اور اگر سرکار کو کوئی اس میں امر معنی ہو تو پھر ہم عوامی چندے سے اس کی خود مرمت کرا لیں گے۔

اس پر وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے اس عبادت گاہ کی مرمت کے کام کو خصوصی زمرے میں کرانے کے احکامات جاری کئے اور انہوں نے کہا کہ یہ عبادت گاہ ملک کا سرمایہ ہے۔ اگر عوامی چندے سے اس کی مرمت کرائی گئی تو اس سے دنیا میں ہمارے ملک کی بدنامی ہوگی۔ یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ 10اگست 2004ء کو شاہی امام جناب سید احمد بخاری نے اس وقت کے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کو اسی ضمن میں ایک خط لکھا کہ ’’مجھے افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ محکمہ آثار قدیمہ نے گزشتہ چند سالوں سے جامع مسجددہلی کے مرمت کے کام کو بالکل روک دیا ہے۔ اور مجھے اے ایس آئی کی طرف سے تحریری طور پر مطلع کیا گیا کہ محکمہ آثار قدیمہ کسی تاریخی عمارت کے تحفظ و مرمت کا کام تبھی کر سکتا ہے جب اس عمارت کو Protected Monument ڈکلیر کر دیا جائے۔

‘‘جس کے جواب میں20اکتوبر 2004ء کو ڈاکٹر منموہن سنگھ صاحب نے شاہی امام صاحب کو ان کے خط کے جواب میں لکھاکہ میں نے وزارت ثقافت اور اے ایس آئی کو متعینہ مدت میں جامع مسجد کی مکمل مرمت کے لئے ہدایت کر دی ہے اور یہ بھی طے ہوا ہے کہ وزارت ثقافت جامع مسجد کو 1958ء کے آثار قدیمہ کے ایکٹ کے تحت زیر تحفظ عمارت قرار نہیں دے گی۔

جیسا کہ اوپر کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم شری نریندر مودی کے برسراقتدار رہتے ہوئے تقریباً 6سال سے جس جامع مسجد میں عمارت کی دیکھ ریکھ اور مرمت کا کام ہوتا رہا، اچانک ایسی کون سی مصیبت آ گئی کہ اس پر ایک دم پابندی لگا دی گئی؟ افسوس یہ ہے کہ محکمہ آثار قدیمہ یہ کہہ کر جامع مسجد کی عمارت کی مرمت سے دامن کشاں اور گریزاں ہے کہ اس کے پاس ضروری فنڈ نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا مضحکہ خیز عذر ہے جس پر کوئی یقین نہیں کر سکتا۔ کیا ہندوستان میں جو قدیم عمارتیں آثار قدیمہ کے تحت ہیں نیز دیگر مذہبی عبادت گاہوں کی دیکھ ریکھ اور مرمت پر پیسہ خرچ نہیں ہو رہا ہے۔

دہلی کی جامع مسجد صرف ایک مسجدنہیں بلکہ پورے ایشیاء میں نہ صرف یہ کہ تاریخی اہمیت کی حامل ہے بلکہ ہندوستان کے سیکولر کردار اور مذہبی رواداری کا جیتا جاگتا ثبوت بھی ہے۔ یہاں یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ1956ء کے بعد آثار قدیمہ کا ایک دفتر مع ضروری عملے کے جامع مسجد میں ابھی کچھ برسوں پہلے تک رہا ہے۔

آج یہ تاریخی عمارت خطرناک حد تک جس شکستگی سے دوچار ہے اور شاہی امام سید احمد بخاری صاحب نے6جون2021ء کو وزیر اعظم کو ایک خط کے ذریعے مطلع بھی کر دیا لیکن پتا نہیں کیوں آج تک اس پر کوئی ضروری کارروائی نہیں ہوئی؟ شاہی امام صاحب نے اس خط میں یہ بڑی وضاحت سے لکھ دیا تھا کہ اس شکستگی اور خستہ حالت کی وجہ سے کبھی بھی کوئی بڑا حادثہ پیش آ سکتا ہے۔ شاہی امام صاحب نے ایک بیان میںیہ بھی کہا ہے کہ اگر حکومت اس سلسلے میں معاشی طور پر معذور ہے تو آغا خاں فاؤنڈیشن کو مسجد کے اندر ضروری مرمت کا کام کرنے کی اجازت دے دی جائے۔

دہلی کی اس شاہجہانی مسجد کی موجودہ حالت نے جو تشویشناک صورتحال پیدا کی ہے اس کی سنگینی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ دہلی وقف بورڈ کے موجودہ چیئرمین جناب امانت اللہ خاں نے شاہی امام صاحب کی رہنمائی میں مسجد کے کونے کونے کا معائنہ کیا، بعد میں تعمیرات کے ماہرین کی ایک ٹیم کو اگلے دن جائزہ لینے کو بھی بھیجا اور اس نے بھی شاہی امام صاحب کے ذریعے عمارت کی شکستگی اور خستگی سے متعلق جو خدشات ظاہر کئے گئے ہیں ان کی توثیق کر دی۔ اس کے علاوہ سابق مرکزی وزیر ششی تھرور صاحب نے بھی مرکزی وزیرِ ثقافت اور ڈائریکٹر جنرل اے۔ ایس۔ آئی کو اس بارے میں خط لکھا ہے۔

ہمیں امید ہے کہ مرکزی حکومت اس سلسلے میں ضروری اقدامات اٹھائے گی، اس کی بجا طور پر توقع کی جانی چاہیے اور اگر سرکار اس کے لئے تیار نہیں ہے تو پھر اسے مسلمانوں سے صاف دو ٹوک لفظوں میں یہ کہہ دینا چاہیے کہ وہ اپنے ذرائع اور اثرات سے کام لیتے ہوئے اس تاریخی مسجد کو محفوظ رکھنے اور بچائے رکھنے کے لئے جو کوششیں کر سکتے ہوں، خود کریں لیکن ہمیں امید ہے کہ ایسی نوبت نہیں آئے گی کیوں کہ مسئلہ صرف مسلمانوں کی ایک عبادت گاہ کا نہیں بلکہ ہندوستان کی تاریخی وراثت کو بچانے اور سرکار کی فراخ دلی کا بھی ہے کیوں کہ اگر مسلمان عوامی چندے سے اس کی مرمت خود کرانے کے لئے آگے آئیں گے تو بقول جواہر لال نہرو کے ’’تو اس سے دنیا میں ہمارے ملک کی بدنامی ہوگی۔‘‘

ہم مرکزی سرکار اور خاص طور سے اپنے وزیر اعظم شری نریندر مودی جنہوں نے ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس اور سب کا وشواس‘‘ کی بات کہی ان سے یہ پوری توقع رکھتے ہیں کہ وہ اس معاملے میں بغیر کسی تاخیر کے مناسب اور مثبت اقدامات کریں گے۔

(مضمون نگار جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر ایمریٹس (اسلامک اسٹڈیز) ہیں۔)

۰۰۰٭٭٭۰۰۰

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.