زعفرانی حکومت ملک میں مسلم مخالف ماحول پیدا کرکے یونیفارم سیول کوڈ کے نفاذ کی راہ ہموار کررہی ہے

2014ء کے تین انتخابی وعدوں کی تکمیل یو۔پی الیکشن سے پہلے ہوجائے گی

جھلکیاں
  • تین وعدوں میں آرٹیکل370 کی منسوخی۔ رام مندر کی تعمیر یعنی دو وعدوں کی تکمیل ہوچکی ۔
  • اب ایک اور وعدہ کی تکمیل باقی ہے یعنی یکساں سیول کوڈ کا نفاذ۔
  • اس تیسرے وعدے کی تکمیل شائد رواں سال ہوجائے گی۔ مخالف مسلم ماحول تیار ہوچکا ہے۔
  • ووٹوں کی تقسیم مذہبی اساس پر کروانے کی مذموم سازش کی جارہی ہے۔

محمد ضیاء الحق

ایڈوکیٹ ہائیکورٹ آف حیدرآباد۔ مرادنگر۔ فاطمہ مانور۔ سڑک روبرو چھوٹی مسجد۔حیدرآباد۔تلنگانہ

2014ء میں ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگیوں کا دور شروع ہوا اور رفتہ رفتہ شمالی ہند کے مختلف ہندی ریاستوں میں فرقہ وارانہ فساد شروع ہوئے۔ برسرِاقتدار زعفرانی پارٹی کی مختلف ہم خیال چھوٹی غیر سیاسی لیکن دھارمک پارٹیوں نے بھی اپنی کارکردگی شروع کی اور فرقہ وارانہ منافرت کا سلسلہ جاری رکھا یعنی اس آگ کو ٹھنڈا ہونے نہیں دیا۔

کبھی ماب لنچنگ ‘ کبھی گائے کے گوشت پر فسادات‘ آگ زنی سب کچھ ہوتی رہی لیکن حکومت نے کوئی ایسا عملی اقدام نہیں کیا کہ جس سے اس لاقانونیت اور بربریت میں کمی ہو۔ گویا قیاس کیا جاسکتا ہے کہ ان فسادات کے پس پشت حکمراں پارٹی‘ ہی سرگرمِ عمل تھی۔

اس زہر کو شہر شہر ‘ قصبہ قصبہ‘ قریہ قریہ ایک بیماری کی طرح پھیلادیا گیا اور رفتہ رفتہ ہندوستان کی دو قدیم قومیں ایک دوسرے سے دور ہونے لگیں۔ عوام الناس کو یاد ہوگا کہ نریندر مودی نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ آتنک وادی اپنے کپڑوں سے پہچان لئے جاتے ہیں۔

لیکن کورونا وائرس کی ہلاکت خیزیوں ‘ بے پناہ بے روزگاری‘ کمر توڑ مہنگائی اور کارپوریٹ دنیا پر مرکزی حکومت کی مہربانیوں کے بعد ہندوستانی عوام کے سامنے زعفرانی حکومت کا حقیقی چہرہ ظاہر ہونے لگا اور عوام نے حکومت میں تبدیلی کا ارادہ کرلیا تھا ۔

اس کے چند وجوہات میں سے زرعی قوانین کا نفاذ اور کارپورین دنیا کے ہاتھوں کسانوں کی لوٹ کھسوٹ‘ کارپوریٹ اژدہوں کے بینک قرض کی معافی ہیں۔

اب اگر آئندہ ریاستی انتخابات ہوں اور کوئی نیا سیاسی یا دھارمک حربہ استعمال نہ کیا جائے تو یہ بات بہ آسانی سمجھ میں آسکتی ہے کہ ان تمام ریاستوں بشمول اترپردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی شکست سے دوچار ہوجائے گی اور خصوصاً اترپردیش میں حکمراں پارٹی کی شکست 2024ء کے پارلیمنٹ الیکشن میں زعفرانی پارٹی کی شکست کی نقیب ہوگی لہٰذا کوئی ایسی ترکیب چلائی جائے یا کوئی ایسا زہر میں بجھا ہوا حربہ استعمال کیا جائے کہ ووٹرس کے رجحانات میں ایسی تبدیلی آئے کہ وہ پھر دوبارہ زعفرانی حکومت کو مرکز میں برسرِاقتدار لے آئیں۔

ہریانہ ‘ پنجاب‘ اترپردیش‘ راجستھان اور بہار کے کسان گذشتہ انتخابات میں زعفرانی پارٹی کو برسرِاقتدار لانے میں سرفہرست رہے۔ تمام بڑے کسان لیڈروں نے گذشتہ دنوں اس بات کا اعلان کیا تھا کہ سابقہ انتخابات یعنی2014ء اور 2017ء میں انہوں نے زعفرانی پارٹی کو ووٹ دیا تھا اوراب ان تین متنازعہ قوانین کے ذریعہ زعفرانی حکومت انہیں برباد کررہی ہے اور غذائی اجناس کی اقل ترین قیمت کا اعلان کرنے سے گریز کررہی ہے ۔ 

کسانوں کا خیال ہے کہ اگر ان قوانین پر عمل درآمد ہو تو تین سال پہلے تعمیر ہوئے سینکڑوں گوداموں میں کسانوں کی اجناس کوڑیوں کے مول خرید کر ان کا ذخیرہ کیا جائے گا اور ان اناج کے ذخائر کو من مانی قیمتوں پر فروخت کیا جائے گا اور غذائی اجناس کی قیمت آج کے بالمقابل دوگنی تگنی ہوجائے گی ۔

عوام بھی اس بات کو سمجھ چکے ہیں جس طرح کے سوشیل میڈیا کی خبروں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کیوں کہ تمام گودی میڈیا اس معاملہ میں مہر بہ لب ہے۔ قصہ مختصر اب یہ ذہن بن چکا ہے کہ آئندہ ریاستی انتخابات میں حکمران زعفرانی پارٹی کواکھاڑ کر پھینک دیا جائے گا۔

لیکن ایسی صورت پیدا ہونے سے پہلے ایک زبردست سیاسی حربہ استعمال کئے جانے کے انتظامات ہورہے ہیں۔ اترپردیش کے چیف منسٹر کو اجازت دیدی گئی ہے کہ وہ مخالف مسلم بیانات دے ‘ لہٰذا ’اباجان‘ والا اعلان اس سمت میں پہلا قدم ہے۔ گویا سابقہ سماج وادی اور بہوجن سماج پارٹی کی حکومت میں سارا اناج ‘ غلہ صرف مسلمانوں کو دیا جاتا رہا اور غریب ہندو حکومت کی اسکیم سے کوئی فائدہ نہ اٹھاسکے۔

یوگی کو کھلی چھوٹ دیدی گئی ہے اور گودی میڈیا اس بات کو اپنے زہریلے پروپگنڈہ کا جزو بنارہا ہے۔ اب جو اقدام کیا جائے گا جس سے وسیع پیمانے میں مسلمانوں کی جانب سے احتجاجات ہوں گے وہ یہ ہوگا کہ پارلیمنٹ کے قانون یا آرڈیننس کے ذریعہ یکساں سیول کوڈ نافذ کردیا جائے گا جس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہندوستان کے تمام عوام کا عائلی قانون کوئی حیثیت نہیں رہے گا اور تمام کے تمام یکساں سیول کوڈ کے تابع ہوں گے جس میں حسبِ ذیل قوانین ہوں گے۔

-شادی بیاہ‘ طلاق‘ خلع‘ بچوں کی (Custody) ‘ وراثت کے تمام اسلامی اصولوں کی کوئی اہمیت نہیں رہے گی۔ قانون کے نفاذ سے چند دن پہلے بعض ایمان فروش برقعہ پوش مسلم نما عورتوں کو ٹیلی ویژن پر لایا جائے گا اور چند روپیہ دے کر ان سے اسلام کے قوانین پر اعتراض کروائے جائیں گے اور ان کی سرپرستی اور پشت پناہی ہوگی۔ یہ سلسلہ ہر گودی میڈیا کے ٹیلی ویژن سیٹ پر جاری رہے گا اور ان زرخرید ذرائع ابلاغ کو اس مسئلہ کے علاوہ کوئی اور مسئلہ ایسا نہیں ملے گا جس پر مباحث ہوسکیں۔

اس کا اثر یہ ہوگا کہ مسلم جذبات بھڑک جائیں گے ‘ جلوس نکالے جائیں گے‘ احتجاجات ہوں گے‘ راستے روکے جائیں گے جیسا کہ (NRC) اور (CAA) کے وقت ہوا جس کا نتیجہ 2020ء کے دہلی کے دنگوں کی شکل میں نکلا۔ قانون پاس کرنے سے پہلے نریندر مودی کہیں گے ‘ میری پیاری بے بس مسلم بہنوں کے کہنے پر ہی یہ قانون بنا۔ میں کیا کرسکتا ہوں‘ سب کا ساتھ ‘ سب کا وشواں اور سب کا وکاس ہونا چاہیے۔ قانون سب کو ایک نظر سے دیکھتا ہے۔ اس میں سب کا بھلا ہے ۔

قانون کے نفاذ کے فوری بعد ملک گیر احتجاج ہوگا جو حق بجانب ہوگا۔ ایسے میں زعفرانی حکومت کو دھارمک کارڈ کھیلنے کا موقع مل جائے گا ۔ وسیع فرقہ وارانہ فسادات کروائے جائیں گے اور نتیجہ یہ نکلے گا کہ ووٹ کی تقسیم ہندو۔ مسلم اساس پر ہوگی یعنی ووٹنگ Polarize ہوجائے گی جس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ بھارتیہ جنتاپارٹی کی جیت ہوکر وہ دوبارہ ریاستوں اورمرکز میں برسرِاقتدار آجائے گی ۔

فرقہ وارانہ فسادات کو آگ دینے کے لئے کپل مشراؤں اور انوراگ ٹھاکروں کی کمی نہیں ہے جو وزارت پر فائز ہوتے ہوئے مسلمانوں کو گولی مارو کا نعرہ لگاتے ہیں۔

یونیفارم سیول کوڈ بی جے پی کے ترکش کا آخری تیر ہے۔

یونیفارم سیول کوڈ کے اثرات مسلمانوں پر کیا ہوں گے
  • طلاق‘ خلع‘ عبادات ماضی کی بات بن جائے گی۔
  • ہر طلاق کے لئے عورت یا مرد کو عدالت سے رجوع ہونا پڑے گا۔ از خود طلاق نہ دی جاسکے گی اور نہ ہی لی جاسکے گی۔ عدالت اگر محسوس کرے کہ علاحدگی ضروری نہیں تو درخواست مسترد کردی جائے گی جیسا کہ ہندوؤں اور عیسائیوں‘ سکھوں کے مقدمات میں ہوتا ہے۔
  • سب سے زیادہ متاثر مسلمانوں کا قانونِ وراثت ہوگا۔ جائیداد چاہے موروثی ہو یا خود کی کمائی ہوئی ‘ اس کے حقدار بیٹا بیٹی ‘ بیوی سب برابر برابر ہوجائیں گے۔
  • عورت اور مرد کا حق مساوی ہوگا۔اسلامی قانونِ وراثت میں عورت کا حق بمقابلہ ٔ مرد نصف ہے۔
  • قانون کے نفاذ کے بعد اسلامی قانونِ زبانی ہبہ کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہے گی لہٰذا بروقت اقدام کی ضرورت ہے۔

خدانخواستہ قانون (یونیفارم سیول کوڈ) اگر نافذ ہوجائے تو ہندوستان میں مسلمانوں میں ایک ہیجانی صورت پیدا ہوجائے گی۔ اس بات کے امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ ایک ملک گیراحتجاج ہوگا اور کبھی کبھی ایسے احتجاجات پرتشدد ہوجاتے ہیں یا بنادیئے جاتے ہیں۔ قانون کے نفاذ کے بعد بیٹا یا بیٹی ماں باپ کی زندگی ہی میں جائیداد پر اپنا حق جتانا شروع کردیں گے۔ باپ اپنی جائیداد اپنی مرضی سے فروخت نہیں کرسکے گا اور اگر ایسی صورت ہو تو اسے اپنے تمام بیٹوں اور بیٹیوں کے ساتھ مل کر فروخت کرنا ہوگا جیسا کہ ہندوؤں کے ساتھ ہوتا ہے۔

ایسی صورت پیش آنے سے پہلے ہی موجودہ قانونِ ہبہ کو ہی غنیمت سمجھنا چاہیے اور اس قانونی موقف کا بہتر سے بہتر استعمال کرنا چاہیے ورنہ بہت دیر ہوجائے گی کیوں کہ وقت کے تیور بدلے ہوئے ہیں۔ Signs of Times Are Omenous

زیرِ خرید پلاٹس حکومتی اراضی کا حصہ ہیں، خرید سے گریز کا مشورہ

سوال:- السلام علیکم۔ براہِ کرم منسلک لے آؤٹ کا مطالعہ فرمائیں جس میں اراضی کے مالک ۔ لے آؤٹ کی منظوری اور300 مربع گز کے پلاٹس کا نقشہ ہے۔ وینچر کرنے والوں نے کچھ کاغذات اور کمپنی کا بروشر بھی بھیجا ہے جو اس سوال سے منسلک ہے۔ اس اراضی کے سروے نمبر میں60 پلاٹس ہیں۔ ہر پلاٹ کی قیمت ساٹھ لاکھ روپیہ بتائی جارہی ہے جو تین سال میں اقسام میں قابل ادائیگی ہے۔ وینچر والوں نے یقین دلایا ہے کہ یقینی طور پر تعمیری اجازت دلادیں گے بشرطیکہ ساری رقم ابھی ادا کردی جائے ۔

پٹہ پاس بک ۔ پہانی پترک کی نقل بھی منسلک ہے۔ ہمارا ایک بزنس گروپ ہے جو فی الوقت ایک خلیجی ملک میں قیام پذیر ہے لیکن سال میں دو تین بار ہندوستان آتا جاتا رہتاہے۔ ہمارا ارادہ اس وینچر میں طویل مدتی سرمایہ کاری ہے اور وینچر والوں نے یقین دہانی کی ہے کہ تین چار سال بعد یہاں زمین کی قیمت تین چار گنا بڑھ جائے گی ۔ ابھی تک ہم لوگوں نے کوئی اڈوانس نہیں ادا کیا ہے ۔ آپ سے اس ضمن میں رائے طلب کی جارہی ہے ۔ براہِ کرم ہمارے نام کی اشاعت کے بغیر اپنی رائے سے ممنون فرمائیں۔

X-Y-Z ایک خلیجی ملک

جواب:- ہماری اطلاعات و معلومات کے مطابق یہ اراضی Ceiling Surplus ہے اور لازمی طور پر ایسی اراضی کو حکومتی اراضی کے زمرے میں رکھاک جاتا ہے۔آپ کو رائے دی جاتی ہے کہ اس معاملت سے گریز کریں ہی تو بہتر ہوگا۔

۰۰۰٭٭٭۰۰۰

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.