’’سگریٹ نوشی منع ہے!‘‘

حمید عادل

9849856178

ہم ہوٹل میں بیٹھے گرما گرم چائے کی چسکیاں لے رہے تھے کہ عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر جرمانہ کرنے والے عملے کے ایک فرد نے غصے سے تھر تھر کانپتے ہوئے سوال کیا’’ یہ دھواں کہاں سے اٹھ رہا ہے ؟ ‘‘ سگریٹ پینے والا شخص گھبرا کر سگریٹ اپنی جیب میں ٹھونستے ہوئے کہا ’’یہ تو میرا دل جل رہا ہے !‘‘

سرکاری عہدہ دار نے مسکرا کر کہا ’’ کیوں جھوٹ بولتاہے یار،چل نکال ، ایک سگریٹ مجھے بھی دے۔‘‘ اور دوسرے ہی لمحے سگریٹ پینے والا اور سگریٹ نوشی پر جرمانہ عائدکرنے والا دونوں ساتھ ساتھ سگریٹ کا دھواں اڑا رہے تھے!

مذکورہ واقعہ محض ہمارا تخیل ہے ، لیکن ایسا ہوبھی سکتا ہے ۔آخرقانون کی دھجیاں اڑاتے ہمیں کتنی دیر لگتی ہے؟ اور پھر رشوت کے معاملے میں توہمارے ملک کے درجے کافی بلند ہیں ۔ حکومت کی جانب سے عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی عائد کرنے پر گھوڑے خاں کو شکایت ہے کہ’’ حکومت سگریٹ بنانے والی کمپنیوں پر تو کوئی پابندی عائد نہیں کرتی لیکن سگریٹ جلا کر ’’ ہر فکر کو دھویں میں اڑاتا چلا گیا‘‘ کا سریلا نغمہ گنگنانے والوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے کا ارادہ رکھتی ہے!جب کہ بیرون ملک میں پان کھاکر سڑک پر تھوکنے والے سے زائد جرمانہ ، پان فروخت کرنے والے پر کیا جاتا ہے ، لیکن ہمارے ہاں تو گنگا شاید الٹی بہنے کے لیے ہی نمودار ہوئی ہے۔ ‘‘

سگریٹ نوشی کے بارے میں مشکوک حیدرآبادی کہتے ہیں ’’سگریٹ کی ڈبی پر انسانی کھوپڑی اتاری جائے یا پھر رامسے بردارس کا بھوت! تمباکو نوشی کے شوقین حضرات کے سر سے سگریٹ کا بھوت اترے گا نہیں!‘‘

جی کیا فرمایا؟ سگریٹ کے بارے میں ہمارا نظریہ کیا ہے؟اجی جناب !سگریٹ کے بارے میں ہمارا نظریہ ذرا ہٹ کے ہے ۔ہمیں توساری دنیا ایک ایش ٹرے نظر آتی ہے اور اس دنیا میں بسنے والا ہر شخص مسائل کی مختلف دیا سلائیوں سے لمحہ لمحہ جلتاہوا سگریٹ !

جب حکومت نے عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پرپابندی عائد کی تو سب سے زیادہ پریشان چمن بیگ ہوئے تھے… کیوں کہ موصوف کی بیگم گھر میں سگریٹ نوشی کرنے پر انہیں بھاری جرمانہ عائد کرنے لگی تھیں۔ اس سے قبل کہ ہم چمن بیگ کی سگریٹ نوشی کے بارے میں کچھ عرض کریں ہم ان کے نام کے بارے میں بتانا چاہیں گے۔ ویسے تو چمن بیگ کا اصلی نام کچھ اور ہے لیکن چونکہ ان کا مکان بلدیہ چمن کے قریب ہے اور وہ خود ’’ باغ و بہار‘‘ شخصیت ہیں ،اس لیے ہم نے ان کا نام ہی ’’ چمن بیگ‘‘ رکھ چھوڑا ہے۔ آپ تو جانتے ہیں ہمارے ہاں احمقانہ حرکتیں کرنے والا بھی ’’ چمن‘‘ ہی کہلاتا ہے، ہمارے چمن بیگ بھی ایسے ہی ایک ’’ چمن‘‘ ہیں۔

خیر! ہم عرض کررہے تھے کہ چمن بیگ کی بیگم نے گھر پر سگریٹ نوشی سے انہیں منع کردیا تھا… مسز چمن بیگ کا استدلال تھا کہ چمن بیگ کے شوق کی خاطر ہم کیوں اپنی زندگی خطرے میں ڈالیں؟ حالات اس قدر ابتر ہوچکے تھے کہ بیچارے چمن بیگ اپنا زیادہ تر وقت ڈرائنگ روم کی بجائے باتھ روم میں گزارنے لگے تھے۔طویل عرصے بعد ہماری ان سے ملاقات ہوئی تو ہم نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ میں ویسے تو سگریٹ جل رہا ہے لیکن وہ خودکافی بجھے بجھے سے ہیں۔ہم نے پوچھا ’’ کیا بات ہے چمن؟ سگریٹ ہاتھ میںجل رہا ہے اور تم اداس ہو؟‘‘

’’ کیا کہوں یار! بیگم نے میرا جینا بلکہ میرا پیناحرام کررکھا ہے؟‘‘

’’تم نے ’’ پینا‘‘ کب سے شروع کردیا؟ ‘ ‘ ہم نے حیران ہوکر سوال داغا۔

’’میں شربت غالب کی نہیں ، سگریٹ کی بات کر رہا ہوں یار۔ ‘‘چمن بیگ نے وضاحت کی۔

’’اچھا! لیکن تمہاری سگریٹ نوشی پر بھابی کو کیا اعتراض ہے؟‘‘

’’سخت اعتراض ہے بھائی!بیگم نے مجھے سخت الفاظ میں دھمکی دی ہے کہ اگر میں نے گھر میں سگریٹ پینا ترک نہیں کیا تو پھر وہ مجھ پر قتل کی کوشش کا مقدمہ ٹھونک دیں گی!‘‘

’’ وہ کس طرح؟‘‘ہم نے چونک کر پوچھا۔

’’ بیگم کا خیال ہے کہ میں انہیں منصوبہ بند طریقے سے سگریٹ کا دھواں پلا پلا کر جان سے مارڈالنا چاہتا ہوں ۔‘‘

’’ ارے واہ! یہ بڑی اچھی دلیل ڈھونڈ نکالی ہے بھابی نے! سگریٹ پی پی کر تم خود ’’ کانٹا ‘‘ بن چکے ہو، اس کی انہیں کوئی فکر نہیں، فکر ہے تو انہیں صرف اپنی فکر ہے؟ ‘‘ اور پھر ہم نے قدرے توقف سے کہا ’’تم کوئی ایسا ہتھکنڈہ کیوں نہیںاپناتے جس سے بھابی بھی مرجائیں ہمارا مطلب ہے سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے؟‘‘

’’ میرے بھائی! میں نے ایک سے بڑھ کر ایک ہتھکنڈے اپنائے لیکن سارے ہتھکنڈے کام آنے کی بجائے کام آگئے!‘‘

’’ مثلاً ؟‘‘

’’ میں نے سگریٹ کے دھوئیں کو اپنے پھیپھڑوںمیں اتارنے کے لیے ایک دن سگریٹ کے تمباکو ، کو کاغذ میں لپیٹ کربیگم سے کہا کہ بیگم! جھٹ پٹ بابا کا کہنا ہے کہ مجھ پرجنات کا خونخوارسردار قابض ہوچکا ہے، چنانچہ انہوں نے مجھے کچھ پلیتے دیے ہیں، جنہیں صبح شام جلا کر مجھے دھواں لینا ہوگا ۔ میںایک دو دن تو صبح شام کاغذ میں لپٹا تمباکو جلاکر مزے سے اس کا دھواں اپنے اندر کھینچتا رہا، لیکن تیسرے دن کاغذ میں لپٹے تمباکو جلتے ہوئے کوئلے پر ڈالنے ہی والاتھاکہ بیگم نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔‘‘

’’ پھر کیا ہوا؟‘‘

’’ ہونا کیا تھا، دو سو روپئے جرمانہ ادا کرنا پڑا۔‘‘

’’چمن بیگ !تم سگریٹ کے حد درجہ شوقین ہو لیکن تم نے ایک بہت بڑی غلطی کی!‘‘

’’ وہ کیا؟‘‘

’’ تم نے بھابی کو سگریٹ نوشی کا عادی نہیں بنایا!‘‘

’’ہاں یار! یہ بات تو تم نے ٹھیک کہی !‘‘ چمن بیگ نے کف افسوس ملتے ہوئے کہا۔

’’ لیکن چمن بیگ ! ابھی دیر نہیں ہوئی ہے ! تم آج بھی بھابی کو سگریٹ نوشی کی لت میں مبتلا کرسکتے ہو!‘‘ہم نے شرارت آمیز لہجے میں کہا۔

’’ اچھا ! وہ کیسے؟‘‘چمن بیگ نے’’ چمن‘‘ بنتے ہوئے کہا۔

’’پہلے توتم بھابی سے ڈرنا بالکل ترک کر دو ، جان بوجھ کر ان کے آگے پیچھے گھوم گھوم کر سگریٹ پیا کرو، چند دنوں میں بھابی خود تم سے سگریٹ مانگ کر پینا شروع کردیں گی !

’’ اچھا! کیا ایسا سچ مچ ہوگا؟‘‘ چمن بیگ نے اپنی مینڈک جیسی آنکھیں مٹکاتے ہوئے پوچھا۔

’’ ضرور ہوگا چمن بیگ ضرور ہوگا۔ذرا سوچو تم اور بھابی قریب قریب بیٹھے ہوئے ہیں،تم نے جیب سے اپنے پسندیدہ برانڈ کا سگریٹ نکا ل کر ہونٹوں سے لگایا اور بھابی نے فوراً ماچس کی جلتی ہوئی تیلی سے تمہارے سگریٹ کو روشن کردیا! تم نے ایک طویل کش کھینچا اور پھر سگریٹ بھابی کے حوالے کردیا۔بھابی نے بھی ایک طویل کش لیا اور پھر سے سگریٹ تمہارے پاس آگیا۔‘‘

’’ اور میں نے ایک اور زور دار کش کھینچا اور سگریٹ پھر سے بیگم کے حوالے کردیا۔‘‘چمن بیگ نے تصورات کی دنیا میں غرق ہوتے ہوئے کہا۔

’’ بالکل، بالکل!‘‘

’’ اس سے ہم میاں بیوی میں محبت بھی بڑھے گی نا؟‘‘چمن بیگ نے ایک احمقانہ سوال داغا۔

’’ ہاں ہاں کیوں نہیں؟‘‘

’’ تو پھر ٹھیک ہے،میں آج ہی تمہارے کہنے کے مطابق بیگم کے سامنے سگریٹ جلاؤں گا۔‘‘چمن بیگ نے شان بے نیازی سے کہا۔

دوسرے دن چمن بیگ سے ملاقات ہوئی تو ان کا چہرہ فق تھا، ہم نے اپنی ہنسی پر قابو پاتے ہوئے استفسار کیا’’ تمہارے چہرے کو کیا ہوا چمن؟‘‘

’’کیا کہوں یار!میںنے تمہارے کہنے کے مطابق بے خوف و خطربیگم کی موجودگی کی پرواہ کیے بغیر میں نے سگریٹ سلگایا، لیکن ایک کش لے کر جیسے ہی سگریٹ کا کثیف دھواں فضا میں چھوڑا ، بیگم کا ایسا زور دار چانٹا دھوئیں کو چیرتا ہوا میرے گال پر پڑا کہ مجھے ہر سو دھواں ہی دھواں نظر آنے لگا۔‘‘

’’ پھر کیا ہوا؟‘‘

’’ ہونا کیا تھا، بیگم نے حقارت سے میری جانب دیکھتے ہوئے کہا ’’ ایک سے بڑھ ایک بے شرم میں نے دیکھے ہیں لیکن تم سابے شرم میں نے آج تک نہیں دیکھا؟‘‘

’’ اور تم نے کیا کہا؟‘‘

’’ میں نے دلیپ کمارنہ انداز میںکہا :میں نے ایسا کونسا کارنامہ سر انجام دیا کہ جس سے مجھے شرمندہ ہونا پڑا؟اس دنیا میں ایسے کئی ہیں جو شراب تو کیا انسان کا لہو تک پی جاتے ہیں… ارے بیگم میں تو صرف ایک سگریٹ پی رہا ہوں!‘‘

’’بہت اچھے چمن بہت اچھے، تم نے تو مشاعرہ لوٹ لیا۔‘‘ہم نے شاباشی دیتے ہوئے پوچھا ’’ پھر کیا ہوا؟‘‘

’’ بیگم نے تنک کر کہا: بند کرو یہ شاعری اور سیدھے سیدھے جرمانہ ادا کرو!‘‘

’’ پھر؟‘‘

’’پھرکیا ؟میں نے ایک مطیع و فرمانبردار شوہر کی طرح جرمانہ ادا کردیا! ‘‘ اور پھرقدرے توقف سے چمن بیگ اپنا گال سہلاتے ہوئے بولے ’’لیکن یار! آخر کب تک میں بیگم کے چانٹے کھاتا رہوں گا؟ سوچ رہا ہوں سگریٹ نوشی ترک ہی کردوں!‘‘

’’بہت ہی درست فیصلہ کیا ہے تم نے ۔ دیکھو جب بھی تم لوگوں کے درمیان سگریٹ جلانا چاہو تو یہ سوچو کہ تم ایک سگریٹ نہیںبلکہ اپنے ساتھ کئی زندگیوں کو جلا رہے ہو…کیا تم ایسا سنگین جرم کرنا چاہوگے؟‘‘

’’نہیں! ہرگزنہیں !تم نے تو یار! زندگیوں کو جلانے کی بات کرکے مجھے پھر ایک بار’’ وٹولی‘‘ کا دلخراش واقعہ یاد دلا دیا!‘‘ چمن بیگ نے اپنے اشکوں کو پونچھتے ہوئے کہا۔

۰۰۰٭٭٭۰۰۰

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.