طالبان نے جرائم کی شرح صفر کردی

انٹیلی جنس اور سکیورٹی نیٹ ورک پورے افغانستان میں کارگزار‘ چوری‘ ڈکیتی او ر اغوا پر فوری سزا سنائی جارہی ہے رشوت اور بھتہ خوری بند ہونے سے کاروباری طبقہ خوش‘ امن کیلئے بدری 313 بٹالین کے خصوصی آپریشنز جاری۔

علی مسعود اعظمی

قندھار جلال آبا‘ ہرات‘ مزار شریف‘ شبر غان اور ننگر ہار سمیت دارالحکومت کا بل میں بھی طالبان مجاہدین کی بہترین حکمت عملی کے سبب جرائم کا جن قابو میں آگیا۔ چوری‘ ڈکیتی‘ اغوا برائے تاوان ‘ بھتہ خوری سمیت قتل و غارت گری اور بالخصوص ٹارگٹ کلنگ کی وارداتیں صفر ہو چکی ہیں۔

طالبان انٹیلی جنس اور سکیورٹی نیٹ ورک پورے افغانستان میں کارگزار ہے۔ چیک پوسٹوں پر بھی کسی مسافر کو بلا وجہ روکا نہیں جارہا۔ دو ہفتوں کی مسلسل اسکریننگ ‘سکیورٹی سیٹ اپ کے قیام اور بدری بٹالین کی تعیناتی نے مختلف علاقوں کو امن کا گہوارا بنا دیا ہے۔

جبکہ سرحدی گزرگاہوں سمیت بین الریاستی چیک پوائنٹس اور اہم شاہراہوں اور بازاروں میں کاروبار بتدریج عروج پر پہنچ رہا ہے۔ ادھر کابل سے دہلی پہنچنے والے ہندوستانی اہلکار تمل بھٹا چاریہ نے کہا ہے کہ طالبان کے کابل میں داخلے کے بعد صرف ایئر پورٹ پر افرا تفری تھی۔ جبکہ پورے شہر میں سکون تھا اور کوئی بد نظمی نہیں تھی۔ کابل سمیت قندھار ‘ خوست اور چنیدہ اضلاع میں سکیورٹی اور کلیئرنگ آپریشنز کیلئے بدی 313 بٹالین کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ طالبان قیادت کے احکامات پر تمام اہم شہروں اور اضلاع میں تاجروں اور کاروباری افراد کو امن کی یقین دہانی کرادی گئی ہے۔

جبکہ طالبان کے اسپیشل دستوں نے کم و بیش 100 چوروں اور ڈکیتوں کو گرفتار کر کے ان کے منہ پر سیاہی مل کر گدھے کی سواری کرا کے مختلف جیلوں میں قیدکر دیا ہے۔ جہا ں ان کے خلاف مقدمات کیلئے طالبان کے مقرر کر دہ علماء دین اورقاضی حضرات فیصلہ کریں گے۔ طالبان رہنما احمد اللہ متقی کا کہنا ہے کہ خصوصی دستوں کو شہری سکیوریٹی کیلئے تعینات کیا گیا ہے۔

جو امن و امان کے قیام سمیت مجرموں کے خلاف کارروائیوں کے علاوہ کلیئرنگ آپریشنز بھی کر رہے ہیں۔ ہلمند سے ملی مصدقہ اطلاعات میں قاری سعید خوستی نے بتایا کہ ضلع میں جولائی 2021ء کو طالبان نے والدین کی شکایات پر ایک کارروائی میں چار سالہ معصوم بچے کو اغوا برائے تاوان کیلئے اٹھانے والے دو مجرموں کو گرفتار کیا۔ ان کا کیس قاضی کی عدالت میں پیش کیا۔

جہاں دونوں اغوا کاروں کو سر عام پھانسی دی گئی اور تین دن تک لاشوں کو عبرت کیلئے لٹکا نے کا حکم دیا گیا۔ اس ایک پھانسی کی سزا نے ہلمند ضلع میں جرائم اور بالخصوص اغوا برائے تاوان کی وارداتیں ختم کردی ہیں۔ ادھر طالبان کی جانب سے ایران‘ تاجکستان‘ ازبکستان ‘ چین ‘ پاکستان اور تمام سرحدوں پر تجارتی سامان محصول کی شرح 25فیصد کم کردی گئی ہے۔

تجارتی سامان لانے لے جانے والے ڈرائیورز اور کلینرز بے حد خوش ہیں کہ ان کی غنی حکومت کے کرپٹ افسران اور افغان فوج کو اضافی رقم نہیں دینی پڑرہی اور محصول بھی کم ہو چکا ہے۔ کابل سے ملی اطلاعات میں تصدیق ہوئی ہے کہ حالات بہترین ہیں۔ کابل میں اسپیشل فورس بدری 313 کے کمانڈرز سکیوریٹی فراہم کر رہے ہیں اور ان کا رویہ عوام وخواص کے ساتھ بہت دوستانہ ہے۔ کابل کے مختلف علاقوں سے مغربی میڈیا نے 43 کاریں چوری ہونے کی جھوٹی خبریں شائع ونشر کی تھیں۔

لیکن طالبان سکیوریٹی اور انٹیلی جنس کی تفتیش میں یہ خبر جھوٹ ثابت ہوئی۔ کابل کے مرکزی اسپتال میں سے ایک وارڈ سے بلڈ پریشر کا آلہ چوری کرنے والے شخص کو طالبان سکیوریٹی نے موقع پر دھر لیا ۔ اس سے توبہ کروائی اور ان کا نام پتہ لکھ کر اس کے گھر والوں کو وارننگ دے دی گئی ہے کہ آئندہ اس سے ایسی کوئی حرکت سرزد نہ ہو۔ کابل سے پاکستان کا سفر کرنے والے حاجی ہیبت خان کا غیر ملکی ایجنسی کو انٹرویو میں کہنا تھا کہ ’’طالبان کا دور بہترین ہے۔ ہماری آزادانہ نقل وحرکت میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ پہلے ہم سے دوران سفر بات بات پر پوچھ گچھ کی جاتی تھی ۔

رشوت خور افسر اور سپاہی گالیاں دیکر سوالات پوچھتے تھے کہ کہا ں جارہا ہے‘ کہاں سے آرہا ہے؟ لیکن اب ہم بالکل پر سکون ہیں۔ پہلے افغانستان بھر میں دھماکے اور فائرنگ ہوتی تھی۔ اب جب سے طالبان آئے ہیں ‘ ایسا کچھ بھی نہیں۔ میں گزشتہ رات کابل سے قندھار اپنی گاڑی میں گیا تھا۔ مجھے کہیں سکیورٹی چیک پوسٹ پر بلا وجہ روکا نہیں گیا۔کوئی سوال کیا نہ گالی دی‘‘ امین خان نے بھی میڈیا سے انٹرویو میں کہا کہ ’’ہمیں تو اب کوئی ڈر وخوف نہیں ہے۔ طالبان کو چیک پوسٹوں پر دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ ماضی میں ہماری آمد ورفت کا حساب کتاب رکھا جاتا تھا۔

لیکن اب ہم ایک آزاد اسلامی ریاست کے شہری ہیں۔ ‘‘ عالمی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کا آنکھوں دیکھی رپورٹ میں کہنا ہے کہ جلا ل آباد میں طالبان کی آمد و حکومت کے بعد اب صورتحال مکمل پر سکون ہے اور کاروباری زندگے رواں دواں ہے۔ شہر میں تمام شہری وسول ادارے اور سکیورٹی اپنا اپنا کام کر رہے ہیں۔ گزشتہ ایک ہفتے میں شہر میں ایک بھی چوری‘ ڈکیتی یا کوئی اور جرم ریکارڈ نہیں کیا گیا۔ اے ایف پی سے گفتگو میں جلال آباد کے شہریوں کا کہنا تھا کہ جب سے طالبان شہر میں آئے ہیں‘ چوری ‘ ڈکیتی یا اغوا کا خدشہ ختم ہو چکا ہے۔

جلال آباد کے ایک مقامی طالب علم اور شاگرد پیشہ ملازم نعیم الرحمن کا ماننا ہے کہ دو کیس میں طالبان نے چوری کرنے والوں کو پکڑ کر موقع پر ایسی سزا دی کہ دیکھنے والوں نے بھی عبرت پکڑی ہے۔ دکانداروں ‘ چھابڑی والوں اور خوانچہ فروشوں نے شکر ادا کیا ہے کہ ان کی جان پولیس کی بد معاشی اور بھتہ خوری سے چھوٹ چکی ہے اور اب وہ سکون کا کاروبار کر رہے ہیں۔طالبان نے دکانداروں اور خوانچہ فروشوں کو Whatsappنمبر دیا ہے‘ جس پر کسی بھی قسم کی شکایت کی اطلاع دینے کیلئے کہا گیا ہے۔

لیکن خوش قسمتی سے اب تک ایسی کوئی بھی واقعہ شہر میں پیش ہی نہیں آیا کہ وہ شکایات کریں۔ ایک مقامی دکاندار داد خان کاکہنا تھا کہ ’’ میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ طالبان کی حکومت سے قبل یہاں نہ تو کاروبار کا اتنا رش تھا نا سکیوریٹی کااحساس ‘ جلال آباد میں ایک چیک پوسٹ پر موجود طالبان کمانڈر نے کہا کہ ’’ عوام بے فکر ہو جائیں ۔ ہم نصف رات کو بھی یہیں موجود رہیں گے۔ یہ اسلامی امارات کی حکومت ہے۔ کسی کوکوئی شکایت نہیں ہوگی۔ کوئی مسئلہ درپیش ہو بھی تو کچھ نہ کریں۔

بس قریب چوک پر موجود طالبان کمانڈر کو بتائیں ۔ وہ آپ کا مسئلہ فوری حل کرے گا۔ جلال آباد کے پاکستانی قونصل جنرل عابد خان نے بھی تسلیم کیا ہے کہ طالبان کی حکومت کے بعد القاعدہ‘ داعش یا ٹی ٹی پی جیسی تنظیموں کا وجود ماضی کا خواب بن جائے گا۔ کیونکہ طالبان سکیوریٹی پر بھر پور توجہ دے رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اعداد وشمار کے مطابق افغانستان میں ٹارگٹ کلنگ ‘ اغوا برائے تاوان ‘ دھماکوں سمیت چوری ڈکیتی جیتے واقعات میں نمایا کمی ہوئی ہے۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ گزشتہ ایک ہفتے میں ایسے جرائم کے واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوئے تو غلط نہ ہوگا۔ یاد رہے کہ ماضی کی امریکی کٹھ پتلی غنی حکومت کے دور میں کابل سمیت ملک بھر میں امن وامان کی صورتحال بد ترین تھی اور کسی کی جان مال‘ عزت و آبرو محفوظ نہ تھی۔

برطانوی جریدے انڈی پنڈینٹ کی دس جنوری 2021 ء کو شائع ہونے والی رپورٹ میں افغان صحافی فریدوں آژندنے کٹھ پتلی حکومت میں امن وامان کی بدترین کیفیت کو تنقید کا نشانہ بنا کر لکھا تھا کہ جرائم کی جڑ کا ٹنے میں پولیس اور وزارت داخلہ ناکام ہے۔ کیونکہ جن مجرموں کو گرفتار کیا جاتا ہے۔ ان کو اگلے چند گھنٹوں یا دنوں میں رہائی دیدی جاتی ہے۔ ادھر طالبان قیادت کی گزارش پر ایرانی حکومت کی جانب سے ملک میں ایندھن کی فراہمی سے کاروباری سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں اور پٹرول کی قیمتیں بھی کم ہو رہی ہیں‘ جو غیر یقینی کیفیت میں 900 افغانی فی لٹر تک جا پہنچا تھا۔

طالبان کمانڈر ز اور گورنرز نے تمام ذخیرہ اندوزوں کو وارننگ دی ہے کہ اگر کسی نے بھی منافع خوری کی خاطر ذخیرہ اندوزی کی تو اس کی خیر نہیں ہوگی۔ کابل ‘قندھار‘ ہرات ‘ خوست‘ جلال آباد اور تخار سمیت دیگر اضلاع سے ملی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ طالبان قیادت کے احکامات پر تمام سڑکوں کی رکاوٹوں کو دور کیا جارہا ہے۔ جبکہ کابل ‘قندھار شاہراہ پر تعمیراتی کام دوبارہ سے شروع کر دیا گیا ہے۔ طالبان قیادت نے تمام اضلاع میں اسکول و کالجز کھولنے کے احکامات دے دئیے ہیں اوربچیوں کو بھی تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
۰۰۰٭٭٭۰۰۰

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.