عرب دنیا کی اسلام سے دوری اور خلافت کا احیاء

کھوکھلے نظریات کا اسیر بن کر اسلام سے دوری اختیار کرنے والی عرب مملکتوں میں سب سے آگے متحدہ عرب امارات ہے مگر سعودی عربیہ بھی اس معاملہ میں پیچھے نہیں ہے۔عرب ممالک میں اصلاحات کے نام پر جو اقدامات کئے گئے ہیں اگران کا تجزیہ کیاجائے تو ہمیں پتہ چلے گا کہ یہ ممالک تیزی سے اسلام سے دوری اختیار کرتے جارہے ہیں۔

اطہر معین
athermoin1@gmail.com

ہمیں ایک زعم تھا کہ عرب دنیا اگرچہ چھوٹی چھوٹی مملکتوں اور سلطنتوں میں تقسیم ہوگئی تو کیا ہوا وہاں کے حکمران اسلام پر عمل پیرا اور جمہوری اور سیکولر اقدار کے دنیا پر غالب آجانے کے باوجود ہنوز شریعت کے تابع قوانین ہیں اور وہاں بسنے والے مسلمانوں کا اسلام سے گہرا تعلق ہے۔ عبادات و معاملات دونوں ہی امور میں شریعت پر عمل پیرا ہونے میں عرب کے مسلمان دنیا کے دیگرخطوں میں بسنے والے مسلمانوں سے زیادہ راسخ ہیں ۔گزشتہ صدی تک بھی عرب ممالک فلسطینی کاز کے سب سے بڑے محرک ، معاون ، مددگار اور حمایتی تھے۔

اقوام متحدہ میں یہی ممالک فلسطینیوں کے فلسطین پر ان کے حق اور اسرائیل کے مظالم کو اٹھاتے رہے تھے مگراکیسویں صدی کے آغاز سے قبل ہی عرب مملکتوں پر یہودیت کا سایہ پڑنا شروع ہوگیا تھا اور یہ دیکھا گیا کہ عیسائیت اور یہودیت کے قدم عرب دنیا کی سمت نئی صدی کے آغاز کے بعدانتہائی تیزی سے بڑھنے لگے ہیں اور ساتھ ہی دنیا کے دیگر خطوں میں دوسرے مذاہب کی غالب آبادی والے ممالک میں بسنے والے مسلمانوں خاص کر فلسطینیوں سے عربوں کی قربت اتنی ہی تیزی سے ختم ہوتی جارہی ہے۔

اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ مسلمانوں کو زوال سے دوچار کرنے کے لئے دشمنان اسلام نے یہ محسوس کیا کہ مسلمانوں کو اپنا اسیر بنانے کے لئے ضروری ہے کہ خلافت کے ادارہ کو کمزور ہی نہیں بلکہ بالکلیہ ختم کردیا جائے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ خلافت راشدہ کے دور کے بعد جوں جوں وقت گزرتا گیا خلیفہ وقت کا تعلق دین سے کم اور دنیا سے زیادہ ہوتا گیا ۔ یہ اور بات ہے کہ درمیان میں کچھ اچھے خلیفہ بھی آئے ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنے ایمان کو مضبوط کیا بلکہ خلافت کو پھر سے اسلامی منہج پر لانے کی بھرپور کوشش کی مگر ان کے بعد آنے والے جانشین ایک بار پھر دنیاوی خباثتوں میں مبتلا ہوتے گئے چونکہ اسلامی نقطۂ نظر سے یہ خلافت نہیں بلکہ ملوکیت ہی تھی۔

دشمنان اسلام نے خلافت کے اس ادارہ کوکمزور کرنے کے لئے شاہی محلات تک رسائی حاصل کی ہے۔ شاہی محلات کی اصطلاح اسی لئے استعمال کی جارہی ہے کہ مسلم حکمراں خود کو خلیفہ کہلانے کے باوجود وہ حقیقت میں بادشاہ ہی بن کر رہ گیاتھا۔ شاہی محلات تک رسائی حاصل کرنے کے لئے جہاں دشمنان اسلام نے مختلف فنون کے ماہرین کو مقتدر طبقہ کے قریب لایا وہیں اپنی خواتین کو شاہوں کے حرم میں داخل کروایا اور حکمرانوں پر ایسی گرفت حاصل کرلی کہ مملکت کے اہم فیصلے وہ جیسا چاہتے تھے کروانے لگے ۔

یہ خلافتیں چاہے وہ اموی، عباسی ہو یا پھر عثمانی بہت سی خباثتوں کے باوجود آج کے مسلم مملکتوں سے لاکھ درجہ بہتر تھیں اور خلافت کی ایک طاقت یہ تھی کہ خلیفہ ٔ وقت اگر جہاد کا اعلان کردے تو دارالخلافہ سے ہزاروں کیلومیٹردور بسنے والامسلمان اپنی جانوں کی قربانی دینے پر آمادہ ہوجاتاتھا۔ خلافت عثمانی تین براعظموں (جنوب مشرقی یورپ، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے بیشتر علاقہ) پر مشتمل تھی اور شام، مصر، لبنان، عراق، لیبیا، سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات وغیرہ اس ایک خلافت کے جھنڈے تلے متحد تھے۔

ان کے وسائل اورمسائل یکساں تھے ، کوئی ان کے خلاف آنکھ اٹھانے کی جرأت نہیں کرسکتاتھا۔ اب تک ہمیں یہی باور کروایا جاتا رہا کہ خلافت عثمانی کے زیر نگین بعض علاقوں میں سیال سونے (پٹرولیم) پر قبضہ کے لئے یورپ کے ٹھگوں نے خلافت کا خاتمہ کیا مگر آج دنیا خاص کر عرب دنیا کے حالات پر نظر ڈالی جائے تو یہ واشگاف ہوگا کہ خلافت کے خاتمہ کا اصل مقصد عرب کی سرزمین میں پوشیدہ خزانے پر قبضہ کرتے ہوئے دولت حاصل کرنا ہی نہ تھا بلکہ اس کا اصل مقصد اسلام اور مسلمانوں کو کمزور کرنا تھا۔ ایک طرف پاپائیت ،مسیح کی آمد کے ساتھ ساری دنیا پر عیسائیت کے غلبہ کی امید میں مسلمانوں کے ایمان کو کمزور کرنے کے درپے ہے تو دوسری طرف مسیح دجال کی ساری دنیا پر حکمرانی کی آس میں اپنے منصوبوں کو روبہ عمل لانے کوشاں ہیں جس کے لئے وہ عظیم تر اسرائیل کے قیام کو ضروری سمجھتے ہیں۔

مسلسل سازشیں کرتے ہوئے بالآخر 3؍مارچ 1924کو خلافت عثمانی کوختم کردیا گیا اور اس طرح 1331سال سے جاری خلافت کے ادارہ کو زوال سے دوچار کرتے ہوئے اسلامی دنیا کی مرکزیت کو ختم کردیا گیا اور اس کے ملبہ پر 14کمزور مملکتوں کو وجود میں لایا گیا۔خلافت کے خاتمہ میں جہاں ترکی نژاد یہودی جودونمہ کہلاتے ہیں اور مشرقی یورپ کے یہودی جو اشنکیا کہلاتے ہیں نہایت اہم رول ادا کیا وہیں عیسائی حکمرانوں خاص کر برطانوی شاہوں نے بھی اہم رول ادا کیا۔ خلافت کے خاتمہ میں یہودیوں کی ہی قائم کردہ بدنام زمانہ تحریک فری میسن کو رول کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔

اس تحریک سے جڑے اہم لوگوں میں ترکی کے مصطفیٰ کمال پاشاہ، ایران کے آخری شاہ رضاشاہ پہلوی، مصر کے صدر انور سادات اور ایران کے وزیراعظم امیر عباس ہویدا بھی فری میسن تحریک کے سرگرم رکن تھے ۔خلافت کے خاتمہ کے بعد سیکولر مسلمانوں کو یہ باور کروایا گیا کہ ایک کٹر مذہبی حکومت تھی جس کا خاتمہ ہوگیا تاکہ وہ ایک آزادانہ ماحول میں دیگر لوگوں کی طرح زندگی بسر کرنے کے مواقع حاصل ہوں گے جہاں مساوات ہوگی وہیں جزیرۃ العرب کے مسلمانوں کو یہ باور کروایا گیا کہ شیخ عبداللہ بن وہاب کی سرپرستی میں آل سعود ایک بہتر اسلامی حکومت فراہم کریں گے اور شریعت کے احکام کو سختی سے لاگو کریں گے۔ عرب اور دیگر خطوں کے مسلمانوں کو یہ بھی باور کروایا گیا تھا کہ دراصل تم ترکوں کے غلام تھے اور اب تمہیں جو آزادی ملی ہے اس میں تمہارے لئے خوشی کا ہی سامان ہے۔

اس کے باوجود مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ خلافت کے خاتمہ پر عالم اسلام میں غیر معمولی دکھ کا اظہار کیا گیامگر مسلم ممالک کے سیاسی زعمااپنے ذاتی مفادات کی وجہ سے کبھی اس بات کی کوشش نہیں کی کہ ایک بارخلافت کا احیاء ہوجائے۔ خلافت کے خاتمہ کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ 56مسلم ممالک ہونے کے باوجود عالم اسلام لامرکزیت کا شکا ہوگیااور مسلمان ، اسلام کے نظریہ ملت سے بے بہرہ ہوگیا، جس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ مسلمانوں میں قومیت کے جذبات پروان چڑھ گئے ۔ ہر مسلم مملکت اپنی اپنی اکائی میں اپنے مسائل سے دوچار ہے اور اسے عالم اسلام کے مسلمانوں کی کوئی فکر نہیں ہے۔ مسلمانوں کی اپنی کوئی متحدہ طاقت تو ہے نہیں ، اس کے برخلاف بہت سے مسلم ممالک اپنے اپنے سیاسی و معاشی مسائل کو پیش نظر رکھتے ہوئے آپس میں ہی دست گریباں ہیں۔

اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ عددی برتری کے باوجود اقوام عالم میں مسلمانوں کی کوئی آواز ہے اور نہ کوئی مرکزی قائد۔ دنیا کے مختلف خطوں میں مسلمانوں کی نسل کشی کے باوجود یہ مسلم مملکتیں اقوام متحدہ میں آواز اٹھانے سے قاصر ہیں اور مسلمانوں پر ظلم کرنے والوں کو ڈرانے کی جرأت کرپاتے ہیں۔ سعودی فرماں روا جو خود کو خادم الحرمین الشریفین کہلانا پسند کرتے ہیں ان میں بھی یہ کشش باقی نہیں رہی کہ وہ عالم اسلام کو متحد کرسکیں اور دنیا میں مسلمانوں کی آواز بن کر ابھریں۔ عرب دنیا میں اب زبردست تبدیلیاں پیش آرہی ہیں اور حکومت اور معاشرت کے نظام کو ہی بدل کر رکھ دینے کی کوشش کی جارہی ہے اور اسلام کے نظام حکومت اور معاشرت کو ہی بدل کر رکھ دینے کے لئے عرب حکمرانوں کو آمادہ کرلیا گیا ۔

ان میں اب اتنی بھی ایمانی غیرت باقی نہیں رہی کہ وہ اسلامی اصولوں کی دھجیاں اڑاتے ہوئے عار محسوس کریں۔ اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ تیل کی دولت کے بل بوتے پر عرب قوم کو عیاشیوں اور مستیوں کا اس قدر دل دادہ بنادیا گیا کہ وہ دنیا میں ہی جنت کے مزے حاصل کرنا چاہتے ہیں جس کے لئے اب وہ اسلام سے اپنے تعلق خاطر کو بھی توڑ دینا چاہتے ہیں۔ خلافت عثمانی کے زوال کے بعد خطہ عرب میں وجود میں آنے والی چھوٹی چھوٹی مملکتوں میں تیل کے دستیاب ہونے سے جو دولت ملی تھی اب اس کے کھوجانے کا عربوں کو یقین دلا دیا گیا ۔

صرف تیل کی دولت پر انحصار کرنے والی ان مملکتوںکو اب یہ لگنے لگا ہے کہ واقعی اگر تیل کی طلب کم ہوجائے تو ان کی اقتصادیات کمزور ہوسکتی ہیں اور وہ پھر سےکنگال ہوکر رہ جائیں گے۔ انہیں یہ باور کروایا گیا ہے کہ اگروہ ان ہی مستیوں میں مگن رہنا چاہتے ہیں تو انہیں معاشی اصلاحات لانا ہوگا اور ساری دنیا کے متمول لوگوں کو اپنی طرف راغب کرنا ہوگا تاکہ وہ سیاحت کے نام پر عرب دنیا کا رخ کریں اور مہمان نوازی کے شعبہ کو مستحکم بناتے ہوئے ہی اس کو یقینی بناسکتے ہیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی قیامت سے متعلق یہ پیشین گوئی بھی ہے کہ عرب دولت پانے کے بعد پھر سے غریب ہوجائیں گے۔ شائد عرب حکمراں اس صورت حال کو ٹالنے کے لئے ہی وہ اسلامی احکام سے روگردانی کرنے لگے ہیں۔

کھوکھلے نظریات کا اسیر بن کر اسلام سے دوری اختیار کرنے والی عرب مملکتوں میںسب سے آگے متحدہ عرب امارات ہے مگر سعودی عربیہ بھی اس معاملہ میں پیچھے نہیں ہے۔عرب ممالک میں اصلاحات کے نام پر جو اقدامات کئے گئے ہیں اگران کا تجزیہ کیاجائے تو ہمیں پتہ چلے گا کہ یہ ممالک تیزی سے اسلام سے دوری اختیار کرتے جارہے ہیں۔ عرب ممالک کے کئی شہر خاص کر دبئی کو دیکھ کر یہ پتہ نہیں چلتا کہ یہ کسی مسلم مملکت کا حصہ ہے۔ یورپ میں جتنی بدقماشیاںپائی جاتی ہیں وہ سب کچھ یہاں دیکھنے کو ملیں گی۔یوں تو متحدہ عرب امارات نے 70کے دہے سے ہی آزاد روش کو اختیار کرنا شروع کردیا تھا مگر دشمنان اسلام کے دباؤ کے نتیجہ میں حال ہی میںاس نے اپنے گولڈن جوبلی جشن کے دوران تقریباً 40قوانین میںترمیمات کی ہیں ،جسے اصلاحات کا نام دے دیا گیا۔ جو بڑی تبدیلیاں لائی گئیں ان میں ایک قانون جنسی تعلقات اور شراب نوشی سے متعلق ہے۔

یہ قانونی ترمیم وہاں بود و باش اختیار کرنے والے غیر ملکیوںکے نکاح (شادی) کے باہر باہمی رضا مندی سے جنسی ملاپ کو قانونی جواز عطا کردیا ہےاور اس جنسی ملاپ کی صورت میں جو اولاد پیدا ہوگیاس کو ولدالزنا نہیں سمجھا جائے گا بلکہ اس کو تسلیم کیا جائے گا اور اس کی دیکھ بھال کی جائے گی۔ شادی سے قبل بچے پیدا کرلینے والے جوڑوں کو لئے صرف یہ ضروری ہوگا کہ وہ آپس میں شادی کرلیں یا پھر دونوں مل کریا دونوں میں سے کوئی ایسے بچہ کو اپنا تسلیم کرتے ہوئے اپنی شناخت دے دےاور ان کے لئے یہ لازمی ہوگا کہ وہ اپنے اپنے ملک کے قوانین کی موافقت میں شناختی و سفری دستاویزات فراہم کرے بصورت دیگرانہیں دو سال کی قید ہوگی۔

اسی طرح 21برس سےکم عمر نوجوان کو شراب فروخت کرنے یا فراہم کرنے کو بھی جرم مانا گیا اور عوامی مقامات یا غیر لائسنس یافتہ مقامات پر شراب نوشی پر امتناع عائد کردیا گیا۔ البتہ جنسی زیادتیوں کے قوانین کو کچھ سخت کیا گیا مگر یہ سزائیں کسی بھی طرح اسلامی تعزیرات سے میل نہیں رکھتیں۔اسی طرح سعودی عرب کی اقصادیت کو مستحکم بنانے کے لئے بہت سے اقدامات کئے جارہے ہیں جس کے لئے اسلامی شریعت کا پاس و لحاظ نہیں رکھا جارہا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ سعودی عربیہ کے مملکتی امور ولی عہد پرنس سلمان ہی سنبھال رہے ہیں اور وہ بہت زیادہ ترقی پسندی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔

سعودی عربیہ میں اقتصادیات کو فروغ دینے سیاحت کو اصل ٹول کے طور پر استعمال کیا جانے لگا ہے اور ’نیوم سٹی ‘کا قیام اور دیگر پالیسیاں اس بات کی غماز ہے کہ اب سعودی عرب بھی روایتی عرب معاشرہ کی اپنی شناخت کھودے گا۔ ان حالات کے پیش نظر اگر ہم غور کریں تو ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ عظیم تر اسرائیل کے قیام کی راہیں تیار ہوچکی ہیں چونکہ اب اسرائیل ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے آغاز کے لئے بھی پوری طرح تیار ہوچکا ہے اور ممکن ہے کہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے لئے اسے تابوت سکینہ بھی مل جائے اور سرخ گائے بھی۔اس کے باوجود ہمیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں کہ وہ دن ضرور آئے گا کہ ایک بار پھر خلافت قائم ہوگی جس کے لئے یہ ضروری نہیں کہ داراَحلافہ مدینہ منورہ ہی ہو۔ ماضی میں بھی مدینہ منورہ کے بعد دمشق، بغداد، مصر اور قسطنطنیہ سے بھی خلافتیں چلائی گئیں۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.