علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سازشوں کے نرغہ میں

ملک کی تاریخی ونامور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی جسکے بانی سر سید احمد خاں ہیں۔ انھوں نے اس یونیورسٹی کے خواب کو پورا کرنے کیلئے ایک معمولی سے مدرسہ کے ذریعہ آغاز کیا جسکا 24مئی 1875 کو باقاعدہ آغاز ہوا ۔

سید سرفراز احمد (بھینسہ)

کسی بھی جمہوری ملک کی سالمیت کی بقاءبین مذاہب کا اتحاد ہے جب اسی اتحاد کو کمزور کرنے یا توڑنے کی کوششیں کی جاتی ہے یا اس ملک کے حکمران اپنی سیاسی طاقت سے کسی ایک مخصوص طبقہ کے خلاف سازشوں کے ڈھیر بنانے لگتے ہیں اور فاشزم کو سیکولرزم پر فوقیت دی جاتی ہے ‘عبادت گاہوں کے نام پر نفرت کی سیاست کھیلی جاتی ہے‘ معصوموں پر ظلم کی کراری ضربیں لگائی جاتی ہیں‘ فرقہ پرستی کو بڑھاوا دے کر بامِ عروج پر پہنچادیا جاتا ہے ‘تعلیمی قلعوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔

ملک کے اثاثوں کو فروخت کیا جاتا ہےاور جب وہ اپنے مقصد کے تئیں عملی اقدامات کو بروئے کار لاتے ہیں تو بلا جھجک یہ سمجھناچائیے کہ اس ملک کی جمہوریت کو کچلا جارہا ہے اسکے آئین کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں اور اس ملک کی بنیادی طاقت کی جڑ اتحاد بین المذاہب کو منظم و منصوبہ بند طریقے سے توڑنے کی کوشش کی جارہی ہےجی ہاں دوستو جو منظر اوپر پیش کیا گیا ہے وہ کسی اور ملک کا نہیں بلکہ خود ہمارے ملک بھارت کا موجودہ منظر نامہ ہے جو ملک کے حکمران ملک میں سیاسی قوت کے ذریعہ انجام دے رہے ہیں جو نہیں چاہتے کہ ملک کا مسلمان خوش رہے جو نہیں چاہتے کہ مسلمانوں کا اس ملک میں وجود برقرار رہے ‘جو نہیں چاہتے کہ مسلمانوں کی تاریخ کو آنے والی نسلیں پڑھیں جو نہیں چاہتے کہ مسلمان ترقی کریں جو صرف یہی چاہتے کہ مسلمان ہندوتوا کا غلام بنکر دوسرے درجہ کے شہری کے طور پر اس ملک میں رہتے ہوئے زندگی گزارے۔

ملک کے اندر ہندوتوایجنڈہ کو اتنی تیزی سے پھیلا یاجارہا ہے کہ ہر روزگودی میڈیا کے پلیٹ فارم سے ان ہی کی خوشامدی کے قصیدے سنائے جاتے ہیں اورتعریفوں کے پل باندھنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جاتی۔ نفرتوں کی وباء کو خوش دلی سے ایسے پیش کیا جارہا ہے گویا کہ ملک اور قوم کا مفاد اسی میں ہے کیونکہ ہندوتوا کا نشہ ،نشہ آور ڈرگس ہیروئین سے بھی زیادہ خطرناک ہوگیا ہے سنگھ پریوار کا کوئی بھی فردجب زبان سے کچھ اگلتا ہے تو اسکو خود یہ بات ہضم نہیں ہوپاتی کہ وہ کیا کچھ کہہ رہا ہے جسکی زندہ مثالیں ملک کی عوام نے حال ہی میں دیکھی اور سنی بھی ہے ۔

ملک کے وزیر دفاع نے کہہ دیا کہ ساورکر نے گاندھی کے کہنے پر انگریزوں سے معافی مانگی اور ہندو توا کی پوسٹر گرل کنگنا رناؤت نے کہہ دیا کہ ملک 1947میں نہیں بلکہ 2014میں آزاد ہوا 1947کی آزادی نہیں بلکہ بھیک تھی انکی یہی دیش مخالف غداری کا عملی نمونہ یہ خود پیش کررہے ہیں جو انکے اپنے آقاؤں کے نقشِ قدم پر چل کر ملک کو تباہی کے دہانے کھڑا کردیا ہے اس ہندوتوا ایجنڈہ نے ایک خاص سلسلہ کے تحت الگ الگ طریقے سے صرف ملک کی اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کو ہدف بنا رکھا ہے اسی ایجنڈہ نے سلسلہ وار تعلیمی قلعوں کو بالخصوص ایسے تعلیمی قلعے جسکو ملک کی مسلم ہستیوں نے اپنے خونِ جگر سے سینچ کر تیار کیا ہے آج اسی کو ہندوتوا ایجنڈہ منظم سازشوں کے تحت ان قلعوں پر حاوی ہونے کی مذموم کوشش کررہا ہےـ

ملک کی تاریخی ونامور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی جسکے بانی سر سید احمد خاں ہیں۔ انھوں نے اس یونیورسٹی کے خواب کو پورا کرنے کیلئے ایک معمولی سے مدرسہ کے ذریعہ آغاز کیا جسکا 24مئی 1875 کو باقاعدہ آغاز ہوا بہت ہی قلیل مدت میں ٹھیک دو سال بعد یعنی 1877میں مدرستہ العلوم سے محمڈن اینگلو اورینٹل کالج کی شکل اختیار کرکے ایک قومی سطح کا فعال ادارہ بنکر ابھر ا‘ کہا جاتا ہے کہ جب کوئی انسان تعلیم کو فروغ دینے کے جواں عزائم لیکر اٹھتا ہے اور اس کوشش میں ایک بیج بھی بوتا ہے تو وہ مستقبل میں اپنی مسافت طئے کرتے ہوئے پہلے پہل پودا بنتا ہے اور ایک تناور و سایہ دارخت بنکر مشعلِ راہ ثابت ہوتا ہے بالکل اسی طرح سر سید احمد خاں نے اس کام کو انجام دیا مزید اس کالج کو منزل بہ منزل پہنچانے کیلئے کافی محنتیں و مشقتیں کیں۔ بالآخر برٹش حکومت نے 1920میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو)کا اعلان کیا۔

146سال کا طویل سفر طئے کرنے والا یہ چھوٹا سا مدرسہ اور اپنے سوسالہ مکمل کرنے والی یہ یونیورسٹی کے خلاف آج سرد مہری سےسازشیں رچی جارہی ہیں۔

ان سازشوں کے دو اہم پہلو ہیں ایک تو یہ کہ اے ایم یو کی صد سالہ تقریب میں یونیورسٹی کی جانب سے صدر جمہوریہ ہند کو مدعو کیا گیا تھا کیونکہ ملک کا صدر جمہوریہ تمام مرکزی یونیورسٹیوں کا وزیٹر ہوتا ہے مجلس عاملہ اور انتظامیہ کا ان ہی کے دستخط سے تقرر عمل میں آتا ہے پھر بھی اس صد سالہ تقریب میں وزیر اعظم نریندر مودی نے کیوں شرکت کی؟کیونکہ مودی اس تقریب میں شرکت کرکے عرب ممالک کا دل جیتنا چاہتے تھے اور دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ انھیں مسلم یونیورسٹی اور بھارتی مسلمانوں سے کتنی ہمدردی ہے اسی لیئےمودی حکومت کے لئے ضروری ہوگیا تھا کہ وہ او آئی سی اور اقوام متحدہ میں ہندوستانی مسلمانوں کی حالت زار ان کے ساتھ کیے جانے والے امتیازی سلوک اور مختلف مسلم مخالف قوانین کے بہانے اور انہیں دوسرے درجہ کا شہری بنانے کی کوششوں کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو دبا دیا جائے بہرحال مودی نے گرم لوہے پر ہتھوڑا مارنے کا کام کیا ہے۔

ایک اور اہم نکتہ کی طرف آپ کی توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں کہ حکمراں جماعت بی جے پی اور اس کی مربی تنظیم آرایس ایس کے قائدین کو اعتراض ہے کہ ایک سیکولر اور جمہوری ملک میں کسی تعلیمی ادارے کا نام کسی ایک مذہب کے نام پر نہیں ہوسکتاجس کے اخراجات حکومت اداکرتی ہو2015میں ہی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے سپریم کورٹ میں کہا تھا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اقلیتی ادارہ نہیں ہے حالانکہ سابقہ حکومتوں کو کبھی یہ اعتراض نہیں رہا ہے دوسرا اہم پہلو یہ ہیکہ (علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو )کے لوگو سے قرآنی آیت ’’علم الانسان مالم یعلم‘‘ کو حذف کردیا گیا جسکا اردو ترجمہ ہے "ہم نے انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نا جانتا تھا”جبکہ تاریخ کے حوالہ سے یہ بات سامنے آتی ہیکہ آخری مرتبہ لوگو میں تبدیلی 1951میں کی گئی تھی اس وقت یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ذاکر حسین تھے اس وقت کے لوگو میں برٹش کی ملکہ وکٹوریہ کا تاج تھا جسکو ہٹاکر قرآنی آیت علم الانسان مالم یعلم شامل کیا گیا تھا جو واجب الامر تھا لیکن پچھلے کچھ عرصہ سے یونیورسٹی کے لوگومیں قرآنی آیت نظر نہیں آرہی ہے۔

یونیورسٹی کے طلبہ یونین کے سابقہ نائب صدر حمزہ سفیان کا کہنا ہیکہ نا صرف لوگو سے قرآنی آیت کو حذف کیا گیا بلکہ یونیورسٹی میں اردو کو بھی مٹانے کی منظم کوشش کی جارہی ہے اسکے علاوہ یونیورسٹی کی تاریخ کو بھی مسخ کیا جارہا ہے اور یہ سب جانے انجانے میں نہیں بلکہ ایک سازش کے طور پر کیا جارہا ہے بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ یونیورسٹی کے اندر ہونے والے تقریبات ،دعوت نامے،اسنادات،کتابیں حتی کے صد سالہ منائی جانے والی تقریب میں بھی جو لوگو استعمال کیا گیا اسمیں کہیں بھی قرآنی ایت کے لوگو کو نہیں دیکھا گیا وہیں دوسری جانب یونیورسٹی کے ترجمان و پروفیسرشافع قدوائی کا کہنا ہیکہ 2010میں یونیورسٹی کی ایکزیکٹیو کونسل کے مشاورتی اجلاس میں ایک قرار داد کی منظوری عمل میں لائی گئی تھی کہ لوگو کو دو طرح سے بنایا جائے ایسی چیزیں جو زمین پر پھینکی جاتی ہے۔

اس پر قرآنی آیت والے لوگو کی جگہ پانچ ستارے والے لوگو کواستعمال کیا جائے گا سوال یہ ہیکہ جس قرآنی آیت کے لوگو کو آزادی کے بعد سے استعمال کیا جارہا ہے تو یہ خیال اب کیوں آیا؟کیا پچھلے برسوں میں اس لوگو کی بے حرمتی نہیں ہوئی؟ کیا تعلیمی اسنادات یا کتابیں زمین کی نذر ہوسکتی ہیں؟جن دلائل پر کونسل نے جو منظوری دی ہے وہ کوئی ٹھوس نہیں ہے کیونکہ ایک عام مسلمان بھی قرآنی آیت کی ذرا برابر بھی بے ادبی و بے حرمتی ہونے نہیں دیتا یہ تو یونیورسٹی کے طلباء وپروفیسرس ہیں اس طرح کا فیصلہ لیناخود یونیورسٹی کی کونسل اور اسکے پروفیسرس کیلئے لمحہ فکر ہے کہ اسطرح کا فیصلہ آخر کیوں لیا گیا؟

کیونکہ ایک قرآنی آیت کو یوں ہی ہٹایا نہیں جا سکتا اسطرح کا اقدام اٹھانا اپنے آپ میں کئی سوالات پیدا کرتا ہے کہ آخر اس سازش کے پیچھے کسکا ہاتھ ہے کس کے کہنے پر یونیورسٹی کی کونسل نے اسطرح کا فیصلہ لیا ہے یقیناً بات ہضم ہونے والی نہیں ہے دال میں ضرور کچھ کالا ہے بھلا ایک مسلمان جو خود کو مومن کہتا ہے وہ خود کی ذات سے ذیادہ عزیز خدا اور اسکے کلام کو رکھتا ہے بھلا وہ کیسے رتی برابربھی اسکی عزت پامال کرسکتا ہے یہی نہیں بلکہ یونیورسٹی میں اردو کی شناخت کو بھی مٹایا جارہا ہے یونیورسٹی کی تاریخ کو مسخ کیا جارہا ہے طلبہ یونین کے سابقہ لیڈر نے اسطرح کے نہ صرف الزامات لگایا ہے بلکہ ملک کی قوم وملت اسلامیہ کے دانشواران و مذہبی ملی جماعتوں کو جگانے کا بھی کام کیا ہے ـ۔

ملک میں تعلیمی قلعوں کو بالخصوص مسلم یونیورسٹیوں کو وقفہ وقفہ سے نشانہ بنایا جارہا ہے محمد علی جوہر یونیورسٹی کو نشانہ بنایا گیا، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباء کو نشانہ بنایا گیا، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے مسلم طلباء کو نشانہ بنایا گیا اور اب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو نشانہ بناکر سازشوں کے تحت لوگو سے قرآنی آیت کو ہٹا دیا گیا یہ انتہائی شرمناک اقدام ہے دراصل اس قرآنی آیت کو نہیں ہٹایا گیا بلکہ یونیورسٹی سے اسلام کی شناخت کو مٹایا گیا اس یونیورسٹی کو مسلمانوں سے دور کرنے کیلئے ہٹایا گیا جو یقیناً منظم سازشوں کے ذریعہ ان کاموں کو انجام دیا جارہا ہے ہوسکتا ہے۔

آج یہ سازشیں رائی کے دانہ برابر لگ رہی ہوں لیکن یہی سازشیں کل پہاڑ کی شکل بھی اختیار کرسکتی کیونکہ ملک میں ہر روز سازشوں کا سیلاب امڈ رہا ہے اور اگر اب ہم اسکا دفاع نہیں کریں گے تو ہماری نسلوں کو اسکی سزا بھگتنی پڑے گی کیونکہ تعلیمی قلعے انسانی زندگی کے مستقبل کا اہم حصہ ہوتے ہیں جس سے نسلیں استفادہ حاصل کرتے ہوئے ترقیوں کے منازل طئے کرتی ہیں ‘ جس پر ایک ملک کو فخر وناز ہوتا ہے اور جب بات اس یونیورسٹی کی کی جائے تو لاکھوں طلباء اس سے فیضیاب ہوکر دنیا کے کونے کونے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا کر مہتاب اور آفتاب کی مانند جگمگا رہے۔

ہیں جس تعلیمی قلعہ کو سر سید نے یہاں تک پہنچایا ہے اب امت مسلمہ کی یہ زمہ داری بنتی ہے کہ اسکو تا قیامت اسی تسلسل سے نسل در نسل قائم رکھا جائے آنے والی نسلوں کو مسلمانوں کی تاریخ سے روشناس کروایا جائے مسلمانوں کے تعلیمی قلعوں اور اردو کی بقاء کو یقینی بنانے کیلئے مسلم تنظیمیوں کو آگے آنا چاہیئے اور اسطرح کی مسلم مخالف ہورہی سازشوں کا پوری قوت سے دفاع کرنا چاہیئے اور واپس قرآنی آیت کو یونیورسٹی کے لوگو میں شامل کرواکر ہی دم لینا چاہیئے ورنہ اگرخاموشی اختیار کی جائے گی توانجام بھگتنے کیلئے تیار بھی رہنا ہوگا ۔ـ

۰۰۰٭٭٭۰۰۰

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.