قدم کیوں ڈگمگارہے ہیں

یو پی میں یوگی سرکار کی پچھلی قریب قریب پانچ سالہ کارکردگی عوام کے سامنے ہے یوگی سرکار نے اپنے دور ِحکمرانی میں آنے سے قبل جتنی باتیں یوپی کے وکاس کی تھیں جس کا عملی دائرہ کار ‘دور ِ حکمرانی میں صفر کے برابر رہا ہے اب انتخابات کے خوف نے یوگی سرکار کی نیندیں حرام کر رکھی ہے ہر موڑ پر یوگی کی اپنی ناقص کارکردگی سے انکے قدم ڈگمگارہے ہیں۔

سید سرفراز احمد (بھینسہ)

انتخابات کا موسم جب سر پر آجاتا ہے تو سیاسی پارٹیوں میں ایک عجیب سا اضطراب پیدا ہوجاتا ہے اور وہ تذبذب کا شکار ہوجاتی ہیں بالخصوص برسرِ اقتدار پارٹی بھی بوکھلاہٹ کا شکار ہوجاتی ہے۔ کیونکہ اس حکومت کو اپنے دورِ حکمرانی کی کار کردگی اور جوابدہی کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے جو عوام کو مطلوب ہوتی ہے اور اپوزیشن بھی اپنے شکنجہ میں کستے ہوئے سیاسی حملے کرنا شروع کردیتی ہےکبھی عوام کے تیکھے سوالوں سے گذرنا پڑتا ہے تو کبھی اپوزیشن کے گھیراؤ سے اگر حکمران جماعت کی کارکرگی بہتر ہوتو پھر کوئی سوال کھڑا نہیں ہوسکتا ‘لہٰذا عوام کے آگے وہی حکمران جھکتے ہیں جو اپنی حکومت چلانے میں یکسر ناکام ہوجاتے ہیں ۔

کارکردگی چاہے بہتر ہو یا نہ ہو لیکن عوام سے اوجھل نہیں رہتی دراصل حکومتوں کی شناخت انکی اپنی کارکردگی کی بناء پر ہوتی ہے جنھیں یہ ضرورت نہیں پڑتی کہ اپنی مقبولیت کےجھوٹے دعوے عوام کے سامنے پیش کرنے پڑیں بلکہ عوام خود ہر کس ونا کس کا امتیاز کرلیتی ہے لیکن پھر بھی کوئی حکومت جب اپنی حکمرانی میں ناکام ہوجاتی ہے اور آئندہ حکمرانی سے بے دخل کئیے جانے کا خطرہ منڈلاتا رہتا ہے تو ایسے حکمرانوں پر دیوانگی راج کرنے لگتی ہے وہ آپے سے باہر ہوجاتے ہیں ابھی ملک کی پانچ ریاستوں کے انتخابات ہونے جارہے ہیں جس میں ریاست اترپردیش بھی شامل ہے جو ملک کی سب سے بڑی ریاست مانی جاتی ہے پورے ملک کی نظریں یوپی پر مرکوز ہیں جہاں کی کرسی ملک کا تاج ماناجاتا ہے اسی کرسی اور تخت و تاج کو حاصل کرنے ہر سیاسی پارٹی میدان میں اپنا دم بھر رہی ہے ـ۔

یو پی میں یوگی سرکار کی پچھلی قریب قریب پانچ سالہ کارکردگی عوام کے سامنے ہے یوگی سرکار نے اپنے دور ِحکمرانی میں آنے سے قبل جتنی باتیں یوپی کے وکاس کی تھیں جس کا عملی دائرہ کار ‘دور ِ حکمرانی میں صفر کے برابر رہا ہے اب انتخابات کے خوف نے یوگی سرکار کی نیندیں حرام کر رکھی ہے ہر موڑ پر یوگی کی اپنی ناقص کارکردگی سے انکے قدم ڈگمگارہے ہیں نہ صرف یوگی بلکہ مودی بھی خوف کے عالم میں مبتلاء ہیں انتخابات جیتنے کی امیدیں کم اورہارنے کا خوف زیادہ لاحق ہوگیا ہے ظاہر سی بات ہے پچھلے چناؤ میں جو آس اور وکاس کی باتیں یوپی کی عوام کو بہلا پھسلا کر ہتھیلی میں جنت دکھائی گئی تھی۔

متعلقہ

وہیں اب صورتحال اسکے بالکل متضاد ہوگئی ہے نہ آس کا وکاس ہوا نہ ہی نہ کسی کا وشواس جیتا گیا بلکہ یوگی سرکار تو یوپی میں وکاس کے جھوٹے تصاویر بتاکر یوپی کے رائے دہندہ گان کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کررہی تھی بنگال کے ماں فلائی اوور پر یوگی بڑی شان سے ٹھہر کر یوپی کے وکاس کا کھوکھلا ثبوت دے رہے تھے شائد یوگی دیدی کے فلائی اوور کو گود لیکر یوپی کا وکاس کرنا چاہتے تھے دوسری طرف تلنگانہ و آندھرا کے پراجیکٹ کی تصویر کو بھاجپا کے ارکان اسمبلی و اراکین لوک سبھا نےیوپی کا "بندیل کھنڈ” بتاکر وکاس کے نمونہ کیلئے استعمال کیا گیا دراصل یہ پراجیکٹ سری سیلم کا ہے جو تلنگانہ کے ناگر کرنول اور آندھرا کے ناگر کرنول سرحد پر واقع ہے یوگی کا یہ بھی پردہ فاش ہوگیا۔

اب جیسے الیکشن کا وقت قریب آرہا ہے تو مودی اور یوگی کو یوپی کے وکاس کی فکر ہوگئی بار بار مودی یوگی کے پردیش میں اپنی حاضری دے رہے ہیں تاکہ ایک دو وکاس کے کام کردیں اورپھر سے عوام کو میٹھے لڈو کی آس بتاکر اور بہلا پھسلا کر ووٹ بٹور لیں وزیراعظم نریندر مودی 25/نومبر کو مغربی اترپردیش کے ضلع گوتم بدھ نگر میں نوئیڈا کے جیور پہنچے اور یوپی عوام کیلئے سوغات کے طور پر چالیس ایکر پر مشتمل اور ایشیاء کا سب سے بڑا نوئیڈا ایرپورٹ کا سنگِ بنیاد رکھا۔

یوگی حکومت کی طرف سے یہ دعوی کیا جارہا ہیکہ یہ ایر پورٹ دنیا کا چوتھا سب سے بڑا ایرپورٹ ہوگا اور یوپی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہواکہ وہ ملک کی پہلی ریاست بن گئی جسکے پاس پانچ بین الاقوامی ایر پورٹس ہیں وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ یہ ایرپورٹ سال 2024میں اپنی آمد ورفت کا آغاز کردے گا اور ساتھ ہی ساتھ آلودگی سے بھی پاک رہے گا جو 35ہزار کروڑ کی لاگت سے تعمیر ہوگا بڑا ہی خوش آئند اقدام ہے اس ایر پورٹ سے پردیش کے عوام کی ترقی بھی ہوگی لیکن سوال یہ ہیکہ کیا پچھلے ساڑھے چار سالوں میں مودی یوگی نے پردیش کی عام عوام کیلئے کیا وکاس کیا؟

اگر ہم ماضی پر نظر ڈالتے ہیں تو وکاس صرف نفرت کی سیاست،ہجومی تشدد، گنگا ندی کی لاشیں، بے روزگاری،بھڑکاؤ بھاشن،اور مہنگائی کا ہی ہواپتہ نہیں اچھے دن کا وکاس کب ہوگا؟ لیکن ہم اتنا ضرور بتا سکتے ہیں کہ پردیش کی غافل حکومت کے تازہ جھوٹ کا ایک اور پردہ فاش ہوگیا کیونکہ جس ایرپورٹ کا سنگِ بنیاد مودی جی نے رکھا تھا اس سے قبل مودی کے قدآور و تعلیم یافتہ مرکزی و ریاستی وزراء مودی کو خوش کرنے کیلئے سوشیل میڈیا کے ٹوئٹر پر نوئیڈا ایر پورٹ کی تصویر وائرل کرتے نظر آئے مودی کے قابل وزراء جو تصویر وائرل کررہے تھے۔

وہ دراصل جیور ایرپورٹ کی نہیں بلکہ چین کے بیجنگ کے ڈیکسنگ انٹر نیشنل ایر پورٹ کی تصویر ہے اس بات کا انکشاف چین کے شین شیوئی نے کیا جنھوں نے ٹوئٹر پر غلطی کی نشاندہی کرواتے ہوئے لکھا کہ مجھے یہ دیکھ کر تعجب ہورہا ہیکہ حکومت ہند کے قائدین اپنے مفادات کی تکمیل کیلئے چین کے ایرپورٹ کا سہارا لے رہے ہیں سوال یہ ہے کہ کیا یوگی حکومت نے جیور ایر پورٹ کا کوئی نقشہ بھی تیار نہیں کیا یا پھر چین کے ایر پورٹ کو ہی جانتے بوجتھے ہوئے یوپی کا ایر پورٹ بتایا گیا اب اس بات کا خلاصہ یوگی سرکار ہی بہتر کرسکتی اب ذرا غور کیجئے کہ عالمی سطح پر بھارت کی کیا بساط باقی رہ گئی ـ۔

12؍دسمبر بروز پیر کو وزیر اعظم ہند نے پھر سے یو پی کا دورہ کیا اور کاشی وشوناتھ کاریڈور جو 800کروڑ کی لاگت سے تعمیر ہواجسکا افتتاح کیا مزدوروں کے ساتھ کھانا کھایا اور گنگا ندی بھی پہنچے پھر اپنے حلقہ وارانسی کی ترقیاتی کاموں کا وزیر اعلی یوگی کے ساتھ جائزہ لیا رات کے تقریباً ایک بجے ریلوئے اسٹیشن بنارس کا بھی دورہ کیا دراصل وشواناتھ کاریڈور کا عین یوپی کے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر افتتاح کیا گیا حالانکہ اسکا کام بھی کافی سست روی سے کیا گیا مودی نے موقع پاکر بالکل گرم لوہے پر ہتھوڑا مارنے کا کام کیا ہے اب مودی اس وشواناتھ کو یوپی کی ترقی بتاکر ووٹ بٹورنے کا حربہ استعمال کریں گے لیکن پھر بھی یہ جوڑی یوپی کو لیکر کافی بے چین ہے جو بڑے بڑے ترقی کے کام کا آغاز تو کررہے ہیں وہ بھی الیکشن کے قریب لیکن عوام کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے سے قاصر ہیں جو اتنے کم عرصہ میں اگر کرنا بھی چاہے تو ناممکن ہے ۔

مودی اور یوگی کو آخر اتنا خوف کیوں ہوگیا ہے جو راتوں میں بھی سرخیوں میں رہنا چاہتے ہیں اور پھرآخر کیا وجہ ہیکہ مودی یوپی کی عوام کیلئے ہر روز ایک نیا تحفہ لیکر پہنچ رہے ہیں؟جس برق رفتار سے یو پی میں مودی یوگی کی جوڑی سنگِ بنیاد اور افتتاح کو اپنا مشغلہ بنالیا ہے کہیں یہ سیاسی حربہ تو نہیں ہے؟یا پھر یو پی کے ہارنے کے خوف سے مودی اور یوگی کے قدم ڈگمگا رہے ہوں یقیناً یوپی کے انتخابات نے مودی یوگی کو پریشان کر رکھا ہے اسی الیکشن کی خاطر مودی نے زرعی سیاہ قوانین کو واپس لیا لیکن ہوا یوں کہ مودی اند بھکت بھی اب مودی مخالف میں آگئے ہیں رپورٹ کے مطابق زرعی قوانین کی واپسی کے بعد سے مودی اور یوگی کی مقبولیت گھٹتی جارہی ہے جسکا اثر یوپی الیکشن پر نمایاں ہوسکتا ہے اب مودی اپنے نام پر یوپی جیتنا چاہتے ہیں ۔

کیونکہ یوگی کا تو کچھ دبدبہ رہا نہیں اسی نسبت سے ہر چند روز میں مودی یو پی کی سرخیوں میں رہنا چاہتے ہیں مودی کی ایک خاص خصوصیت رہی ہیکہ وہ جس ریاست میں جاتے ہیں وہاں کی ثقافت میں ڈھل کر عوام کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتے ہیں یو پی میں ہی دیکھیئے مودی ایک ہی دن میں چار الگ الگ لباس میں نظر آئے اکثریتی طبقہ کے رائے دہندوں کو اپنی طرف راغب کرنے کیلئے پورے ہندو لباس میں دھوتی پہن کر نظر آئے لیکن اس دوران مودی نے اپنی سیاست چمکانے میں کوئی کسر بھی نہیں چھوڑی اورنگ زیب اور شیواجی کا نام لیکر ایک نیا تنازعہ چھیڑ دیا اور کہا کہ اورنگ زیب جیسے غیر ملکیوں نے ہندوستان پر حملہ کرکے ہندوستانی سنسکرتی کو تباہ کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ جب بھی کوئی اورنگ زیب آیا تب تب اس مٹی سے شیواجی نمودار ہوئے شائد مودی اس دور کا خود کو شیواجی مان رہے ہوں مودی نے اورنگ زیب کی تاریخ نہیں پڑھی ہوگی اگر ہم اورنگ زیب دورِ حکومت کی جی ڈی پی اور مودی حکومت کی جی ڈی پی کا تقابل کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ اورنگ زیب عالمگیر کے دور میں ہندوستان دنیا کا امیر ترین ملک تھا اور دنیا کی کل جی ڈی پی کا ایک چوتھائی حصہ پیدا کرتا تھا۔

اب بھارت کی صورتحال یہ ہیکہ مودی حکومت میں جی ڈی پی گھٹتی ہوئی منفی 24سے 20فیصد ہوچکی ہے یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ ابھی مودی کی مقبولیت بھی بھارت کی جی ڈی پی کی طرح گھٹتی جارہی ہے جو بھاجپا کیلئے تشویش کا باعث ہے لیکن مودی اورنگ زیب اور شیواجی کا نام لیکر یوپی کے اکثریتی فرقہ کا دل جیتنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ پھر سے فرقہ پرستی کی کو طاقت مل جائے اور بھاجپا دوبارہ اقتدار پر بیٹھ جائے کیونکہ مودی کے پاس یوپی کی عوام کو بتانے کیلئے وکاس تو کچھ ہے نہیں لہٰذا وہ پھر سےاپنی من پسند سیاست فرقہ پرستی کی سیاست کھیل رہے ہیں۔ لیکن سروےرپورٹوں سے یوپی کی یہ بات سامنے کھل کر آگئی ہے کہ یوپی کی عوام چاہے وہ کسی بھی طبقہ سے تعلق رکھتی ہو وہ یوگی حکومت سے بد ظن ہوچکی ہے بے روزگاری، بڑھتی مہنگائی،پکوان گیس کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ،پٹرول ڈیزل کی قیمتیں آسمان کو چھوتی ہوئی یو پی میں ترقی کے جھوٹے دعوے ان سب سے عوام پریشان حال ہے اب یوپی کی عوام کو مندر مسجد اور ہندو مسلم کی نہ سیاست چاہیئے اور نہ ہی فرقہ پرستی کی کیونکہ یہ سب غریب عوام کا پیٹ نہیں بھر سکتی اور نہ ہی ترقی دلا سکتی بلکہ یو پی کی عوام کو ایک بہترین وکاس کی ضرورت ہے جو یو پی کی عوام کے نوجوانوں کو تعلیم و روزگار دے غریبی کو دور کرے مہنگائی کا خاتمہ کرے عوام کےیہی مطلوبہ مقاصد سے مودی اور یوگی جوڑی بوکھلاہٹ کا شکار ہے یو پی کی عوام اس جوڑی کی پالیسیوں سے اچھی طرح واقف ہوچکی ہے ۔ لہٰذا اب عوام کو جھوٹا وکاس بتاکر وشواس ہرگز بھی نہیں جیتا جا سکتا بہرحال دیکھنا یہ ہیکہ یوپی کی عوام اس بار کس پارٹی کو یوپی کا تخت و تاج سونپے گی یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا ۔ـ

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.